عبد اللہ بن عبد الرحمن سراج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن عبد الرحمن سراج
تفصیل=

Prime Minister of Transjordan
مدت منصب
22 فروری 1931 – 18 اکتوبر 1933
بادشاہ عبداللہ اول بن حسین
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حسن خالد عبد الھدی
ابراہیم ہاشم Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر اعظم حجاز
مدت منصب
اکتوبر 1924 – نومبر 1925
بادشاہ علی بن حسین حجازی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png علی بن حسین حجازی
محمد الطوال Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
حجاز کے نائب وزیر اعظم
مدت منصب
اکتوبر 1916 – اکتوبر 1924
بادشاہ حسین ابن علی
وزیر اعظم علی بن حسین حجازی
مکہ کے حنفی مفتی
مدت منصب
ت 8 نومبر 1907 – اکتوبر 1924
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبد اللہ ابن عباس
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1876  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1949 (72–73 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اردن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اہل سنت
عملی زندگی
پیشہ منصف،  سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عبد الله بن عبد الرحمن سراج ایک عرب سیاست دان اور عالم دین جو مملکت حجاز اور بعد میں امارت شرق اردن دونوں جگہ وزیر اعظم سمیت مختلف عہدوں پر فائر رہے۔ مکہ میں 1876ء میں پیدا ہوئے اور دینی تعلیم مدرسہ صولتیہ اور بعد میں جامعہ الازہر قاہرہ میں حاصل کی۔ 1907ء میں انہیں شریف علی عبد اللہ کی طرف سے مکہ میں احناف کا مفتی مقرر کیا گیا۔ عبد اللہ سراج کو 1908ء میں عثمانی پارلیمان میں مکہ کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا۔ لیکن انھوں نے اس عہد پر ایک دن بھی کام نہیں کیا اور استعفا دے دیا۔ بعد میں شریف مکہ نے 1916ء میں سلطنت عثمانیہ سے آزادی کا اعلان کر دیا اور عبد اللہ سراج کو حجاز کی حکومت کا نائب وزیر اعظم اور منصف اعلیٰ مقرر کیا۔ عبد اللہ سراج نے 1918ء تک امیر علی بن حسین حجازی کی جگہ قائم مقام وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1924ء میں حسین کے تخت سے سبکدوش ہونے کے بعد، سراج علی کے مختصر دور حکومت کے دوران میں سب سے زیادہ عرصہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے، سعودی سلطنت نجد کے سامنے بادشاہت کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ 1925ء میں خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے اردن ہجرت کی، وہاں پر عبداللہ اول بن حسین کے ماتحت 1931 تا 1933 تک وزیر اعظم رہے بیک وقت متعدد محکموں کا انعقاد کرتے ہوئے وزیر خزانہ، وزارت داخلہاور اس کے ساتھ ساتھ منصف اعلیٰ کے عہدے پر خدمات سر انجام دیں۔[1][2][3][4][5][6][7][8][9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ‘Abd al-Wahhāb Abū Sulaymān۔ "الإفتاء في مكة المكرمة والمدينة المنورة ما قبل الحكم السعودي"۔ alhejaz.org۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Ṭālīb Muḥammad Wahīm۔ مملكة الحجاز 1916–1925 : دراسة في الاوضاع السياسية / Mamlakat al-Ḥijāz (1916–1925): dirāsah fī al-awḍāʻ al-sīyāsīyah۔ al-Baṣrah [Basra, Iraq]: Markaz Dirāsāt al-Khalīj al-ʻArabī bī-Jāmiʻat al-Baṣrah۔
  3. Mahmoud Abdul-Ghani Sabbagh۔ "Modernity in Makkah: History at a glance"۔ Arab News۔ |archive-url= is malformed: save command (معاونت)
  4. al-‘Ajrash، Ḥaydar Ḥātim Fāliḥ (6 مئی 2011). الملك علي بن الشريف حسين / al-Malik ‘Alī ibn ash-Sharīf Ḥusayn. University of Babylon Repository of Open Access Papers. http://repository.uobabylon.edu.iq/papers/publication.aspx?pubid=1640. 
  5. Rida، Muhammad Rashid (11 فروری 1918). "الحالة السياسية في الحجاز في أواخر سنة 1334". al-Manār 20 (6): 278–279. http://islamport.com/w/amm/Web/1306/3049.htm. 
  6. "آل سراج / Āl Sirāj"۔ alhejaz.org۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. ‘Abd ar-Raḥman ash-Shubaylī۔ "مجلس الوكلا في مكة المكرمة نواة السلطة التنفيذية (مجلس الوزراء) في عهد الملك عبدالعزيز"۔ Al-Jazirah۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Translation: "The nucleus of the executive branch"۔ Arab News۔ |archive-url= is malformed: save command (معاونت)
  8. Muḥammad ‘Alī Maghribī۔ "عبد الله عبد الرحمن سراج / 'Abd Allāh 'Abd ar-Raḥman Sirāj"۔ أعلام الحجاز في القرن الرابع عشر للهجرة / A‘lām al-Ḥijāz fi qarn ar-rābi‘ ‘ashr lil-hijrah۔ al-Qāhirah [Cairo]: Maṭba‘at al-Madanī۔ صفحات 375–393۔
  9. PRO. FO 195/2286. Monahan to Lowther. Jidda, 15 دسمبر 1908. "He is Mufti at Mecca of the Hanefi sect, as his father was before him. His family is of Indian…origin, but has been residing in Mecca for more than 200 years. His father died in exile in Egypt about 12 years ago, having incurred the displeasure of Grand Sharif Aun ar-Rafik, which would be a fact in his favor, and he himself (he is now about 35) was living in Constantinople in fear of the Grand Sharif for more than ten years, until he returned two years ago to Mecca. He appears to have a good reputation, intellectually, and morally, and knows Turkish well…" Quoted in Hasan Kayalı۔ "A Case Study in Centralization: The Hijaz under Young Turk Rule, 1908–1914"۔ Arabs and Young Turks: Ottomanism, Arabism, and Islamism in the Ottoman Empire, 1908–1918۔ Berkeley: University of California Press۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔