مندرجات کا رخ کریں

عبد الغنی نابلسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
عبد الغني النابلسي
(عربی میں: عبد الغني بن إسماعيل بن عبد الغني بن إسماعيل ابن أحمد بن إبراهيم النابلسي)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
اصل نام عبد الغني بن إسماعيل بن عبد الغني بن إسماعيل ابن أحمد بن إبراهيم النابلسي
پیدائش 19 مارچ 1641ء [1][2][3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دمشق   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 5 مارچ 1731ء (90 سال)[1][2][3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دمشق   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت عثمانیہ [6]  ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام [6]  ویکی ڈیٹا پر  (P140) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مؤلفات مقتضى الشهادتين
إيضاح المقصود من وحدة الوجود
رائحة الجنة شرح إضاءة الدجنة في عقائد أهل السنة
نمایاں شاگرد مصطفی بن کمال الدین بکری ،  عبد الرحمن بعلی   ویکی ڈیٹا پر  (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ متصوف ،  مصنف [6]،  شاعر [7][8]،  مفسر قرآن ،  الٰہیات دان [9]،  صوفی [9][8]،  سائنس دان [8]  ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی [1][6]،  ترکی [6]  ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تصوف   ویکی ڈیٹا پر  (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ شہرت نسبه ينتهي إلى الخليفة عمر بن الخطاب
مؤثر ابو حنيفہ
عبد القادر جيلانی
بہاء الدين نقشبند
محي الدين بن عربي
متاثر عبد اللہ ہرری

علامہ عبد الغنی نابلسی (ولادت: 10 ذی الحجہ 1050ھ/1641ء — وفات: 24 شعبان 1143ھ/1731ء) شام سے تعلق رکھنے والے ایک صوفی، فقہ حنفی کے مایہ ناز فقیہ، جلیل القدر محدث، شاعر و ادیب اور کثیر التصانیف عالم تھے۔ ان کا شمار گیارہویں اور بارہویں صدی ہجری کی ان یکتائے روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے "فقہ الظاہر" (ظاہری علوم) اور "فقہ الباطن" (تصوف و معرفت) دونوں میں کمال حاصل کیا اور اپنے بعد علمی و روحانی تصانیف کا ایک ضخیم ذخیرہ چھوڑا۔ نابلسی نے علم و روحانیت کی ترویج کے لیے متعدد علمی اسفار کیے جن میں مصر، حجاز اور بیت المقدس کے اسفار نمایاں ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف میں "تعطیر الانام فی تعبیر المنام" اور "الحدیقة الندية شرح الطريقة المحمدية" خاصی مشہور ہیں۔

نام و نسب

[ترمیم]

علامہ نابلسی نے اپنی کتاب "تعطیر الانام فی تعبیر المنام" میں اپنا نام و نسب اور سلسلۂ طریقت یوں تحریر کیا ہے: "فایقول العبد الفقیر والعاجز الحقیر عبد الغنی بن اسماعیل الشهیر بابن النابلسی الحنفی مذهباً القادری مشرباً النقشبندی طریقہ"۔[10] ان کا پورا نسب عبد الغنی بن اسماعیل بن عبد الغنی بن اسماعیل بن احمد بن ابراہیم ہے۔ ان کے والد گرامی اسماعیل نابلسی دمشق کے مایہ ناز حنفی عالم تھے، جو ابتدا میں امام شافعی کے مقلد تھے اور انھوں نے علامہ ابن حجر ہیثمی کی کتاب "شرح المنہاج" پر "التحفہ" نامی حاشیہ بھی لکھا تھا، مگر بعد میں وہ حنفی مسلک میں داخل ہو گئے اور بارہ جلدوں پر مشتمل "الاحکام شرح الدرر" تصنیف کی۔

ولادت اور نسبت نابلسی

[ترمیم]

علامہ عبد الغنی کی ولادت 10 ذی الحجہ 1050ھ کو دمشق میں ہوئی۔[11] دمشق میں پیدا ہونے کی وجہ سے وہ دمشقی کہلاتے ہیں، جبکہ "نابلسی" کی نسبت ان کے آبا و اجداد کے فلسطین کے مشہور شہر نابلس سے تعلق کی بنا پر ہے۔ یاقوت حموی نے "معجم البلدان" میں لکھا ہے کہ اس علاقے کی ایک وادی میں "لس" نامی ایک بہت بڑا سانپ تھا، جسے لوگوں نے مار کر اس کے دانت شہر کے دروازے پر لٹکا دیے تھے، جس سے یہ شہر "ناب لس" (سانپ کا دانت) اور بعد میں کثرتِ استعمال سے "نابلس" کہلانے لگا۔[12]

ولادت سے قبل بشارت

[ترمیم]

عبد الغنی نابلسی کی ولادت سے قبل جب ان کے والد سفرِ روم پر تھے، ایک صالح مجذوب شیخ محمود (مدفون قاسيون) نے ان کی والدہ کو چاندی کا ایک درہم دیا اور تاکید کی کہ "اس کا نام عبد الغنی رکھنا کیونکہ یہ نصرت یافتہ (منصور) ہے"۔[13]

ان کی والدہ کا نام زینب بنت شیخ محمد بن شیخ برہان الدین ابراهیم دمشقی تھا۔ وہ ایک انتہائی نیک، صالحہ اور صوم و صلوۃ کی پابند خاتون تھیں۔ ان کا وصال دمشق میں پھیلے طاعون کی وجہ سے 1104ھ میں ہوا اور وہ حضرت معاویہ کے مزار کے قریب دفن ہوئیں۔

تعلیم و تربیت اور اساتذہ

[ترمیم]

علامہ عبد الغنی کے والد نے بچپن ہی سے ان میں فضیلت کے انوار دیکھے اور ان کی خصوصی تربیت کی۔ کم عمری میں ہی انھوں نے قرآن مجید حفظ کر لیا۔ اور بعد ازاں اپنے دور کے جید اساتذہ سے علم حاصل کیا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

  • فقہ و اصول فقہ: شیخ احمد قلعی حنفی سے
  • عربی ادب (نحو، معانی، بیان): شیخ محمود کردی سے
  • حدیث و اصولِ حدیث: شیخ عبد الباقی حنبلی سے
  • علمِ تفسیر: مدرسہ سلیمیہ میں۔

علاوہ ازیں انھوں نے علامہ نجم غزی، شیخ محمد بن احمد اسطوانی اور سید محمد بن کمال الدین حسنی (نقیب الاشراف) سے بھی اکتسابِ فیض کیا۔

روایتِ حدیث

[ترمیم]

نابلسی نے اپنے دور کے بہت سے محدثین سے احادیث کی سماعت کی اور اجازتِ حدیث حاصل کی۔ ان کے شیوخِ حدیث میں شیخ نجم غزی، ابو الحسن علی شبراملسی، ابو المواہب حنبلی اور شیخ عبد الباقی حنبلی نمایاں ہیں۔[14]

فقہی مذہب اور سلسلۂ طریقت

[ترمیم]

فقہی مسائل میں علامہ عبد الغنی نابلسی امام ابو حنیفہ کے مقلد تھے، جبکہ تصوف و سلوک میں وہ سلسلہ قادریہ اور سلسلہ نقشبندیہ دونوں سے وابستہ تھے۔ انھوں نے قادریہ کے اسباق شیخ سید عبد الرزاق حموی گیلانی سے اور نقشبندیہ کے اسباق شیخ سعید بلخی سے حاصل کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ شیخ محی الدین ابن العربی، ابن سبعین اور عفیف تلمسانی کی کتب کے گہرے مطالعے کے باعث علمِ لدنی کے حامل بھی سمجھے جاتے تھے۔[15]

شاعری

[ترمیم]

علامہ نابلسی نثر کے ساتھ نظم پر بھی بلا کا عبور رکھتے تھے۔ انھوں نے باقاعدہ شاعری کا آغاز پچیس برس کی عمر میں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت و نعت میں ان کے تین دیوان موجود ہیں: "ملیح البدیع فی مدح الشفیع"، "نسیمات الاسحار فی مدح النبی المختار" اور "نفحة القبول فی مدحة الرسول"۔[16] ابتدا میں کچھ منکرین نے ان کے کلام کی فصاحت دیکھ کر شک کیا تو انھوں نے محض ایک ماہ کے اندر اپنے قصیدے کی ایک جامع جلد میں شرح لکھ کر ان کو حیران کر دیا۔[17]

علمی اسفار

[ترمیم]

نابلسی نے علم اور روحانی بالیدگی کے لیے متعدد اسفار کیے:

  • 1075ھ: دار الخلافہ (استنبول) کا سفر کیا۔
  • 1100ھ: جبلِ لبنان کا سفر۔
  • 1101ھ: بیت المقدس اور خلیل (حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مزار) کا سفر، جس کے احوال "الحضرة الأنسيه فی رحلة القدسيه" میں قلمبند کیے۔
  • 1105ھ: حج کا طویل سفر کیا اور شام، مصر و حجاز کے احوال سفر پر مشتمل معرکہ آرا کتاب "الحقيقة والمجاز فی رحلة بلاد الشام ومصر والحجاز" تصنیف فرمائی۔

اولاد

[ترمیم]

ان کے بڑے صاحبزادے اسماعیل بن عبد الغنی نابلسی (ولادت: 1079ھ — وفات: 1163ھ) ایک جید عالم تھے جنھوں نے تفسیرِ بیضاوی پر حاشیہ لکھا۔ ان کے پہلو میں دفن اسماعیل نابلسی کے پانچ بیٹے تھے جو خود بھی بلند علمی مرتبے پر فائز تھے: عز الدین طاہر، شمس الدین مصطفیٰ، محی الدین عبد القادر، برہان الدین ابراہیم اور ضیاء الدین عبد الغنی۔[18]

تدریسی خدمات اور تلامذہ

[ترمیم]

علامہ نابلسی نے جامع اموی دمشق میں صبح کے وقت مختلف علوم و فنون کا درس شروع کیا، جبکہ عصر کے بعد "الجامع الصغیر"، "اربعین نووی" اور "اذکارِ نوویہ" کا درس دیتے تھے۔[19] ان کے حلقۂ درس سے فیض پانے والے جلیل القدر علما میں درج ذیل نام نمایاں ہیں:

  • شیخ مصطفیٰ بن محمد ایوبی انصاری دمشقی (مشہور فقیہ)
  • شیخ مصطفیٰ بن عبد اللہ کردی دمشقی شافعی (الکاتب)[20]
  • ابو الفدا اسماعیل بن محمد جراحی (صاحبِ "کشف الخفاء")
  • شیخ محمد بن عبد الرحمن دمشقی شافعی (محدث و مؤرخ)
  • علامہ ابو العون شمس الدین محمد بن احمد سفارینی

وفات

[ترمیم]

علامہ عبد الغنی نابلسی نے 93 برس کی طویل عمر پائی۔ وہ 16 شعبان 1143ھ کو بیمار ہوئے اور 24 شعبان 1143ھ بروز اتوار عصر کے وقت دمشق میں وصال فرما گئے۔ پیر کے روز ان کی نمازِ جنازہ میں خلقت کا ایک جم غفیر شریک ہوا۔ ان کی تدفین اسی قبے میں کی گئی جو انھوں نے 1126ھ میں خود تعمیر کروایا تھا۔ عیسوی تقویم کے مطابق ان کا سالِ وفات 1731ء بنتا ہے۔

تصنیفات

[ترمیم]
  • مقتضى الشهادتين۔
  • نور الأفئدة في شرح المرشدة۔
  • إيضاح المقصود من وحدة الوجود۔
  • الحضرة الأنسية في الرحلة القدسية۔
  • تعطير الأنام في تعبير المنام۔
  • ديوان الدواوين وهو مجموعة شعرہ۔
  • فضائل الشهور والأيام۔
  • أسرار الشريعة۔
  • التعبير في تفسير الأحلام۔
  • منظومة أسماء اللہ الحسنى۔
  • الفتح الرباني والفيض الرحماني۔
  • خمرة الحان ورنة الألحان شرح رسالة الشيخ أرسلان۔
  • الوجود الحق والخطاب الصدق۔
  • ذخائر المواريث في الدلالة على مواضع الحديث۔
  • إيضاح الدلالات في سماع الآلات۔
  • رائحة الجنة شرح إضاءة الدجنة في عقائد أهل السنة۔
  • كتاب رشحات الأقلام شرح كفاية الغلام۔ تصنیف کیں[21]

اہم تصانیف کا تعارف

[ترمیم]

علامہ نابلسی کی دو سو سے زائد تصانیف کا تذکرہ ملتا ہے، جن میں سے چند اہم مطبوعہ کتب کا تعارف درج ذیل ہے۔

کشف النور عن اصحاب القبور

[ترمیم]

یہ چوالیس صفحات کا ایک رسالہ ہے جس میں اولیاء اللہ کی بعد از موت کرامات، مزارات پر قبے بنانے اور چادریں چڑھانے کے جواز پر مدلل اور فلسفیانہ بحث کی گئی ہے۔ انھوں نے ثابت کیا ہے کہ کرامات کا ظہور وفات کے بعد بھی اسی طرح برحق ہے جیسے زندگی میں تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے امام خبازی کی "مختصر محیط السرخی" کے حوالے سے امام ابو حنیفہ کا یہ قول نقل کیا کہ قبر کی توہین (اس پر سونے، چلنے یا پیشاب کرنے) کی وجہ سے ممانعت آئی ہے، نہ کہ تعظیمِ صالحین سے۔[22] انھوں نے بقیع شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کرنے کی سنت سے استدلال کرتے ہوئے اہل قبور کے سماع اور حیات پر روشنی ڈالی ہے۔[23] مزاراتِ مشائخ و سادات پر قبہ بنانے کے جواز میں انھوں نے "جامع الفتاویٰ" کا حوالہ دیا ہے[24] اور ثابت بنانی کا قبر میں نماز پڑھنے والا واقعہ "حلیة الاولیاء" کے حوالے سے نقل کیا ہے۔[25]

الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية

[ترمیم]

یہ کتاب علامہ محمد بن پیر علی برکلی (متوفی 981ھ) کی مشہور کتاب "الطریقۃ المحمدیہ" کی عمدہ ترین شرح ہے۔ علامہ نابلسی نے اس کے مقدمے میں دین کو تین اجزا شریعت، طریقت اور حقیقت کا مجموعہ قرار دیا ہے۔ یہ کتاب فقہ اور تصوف کا ایک بہترین امتزاج ہے، جس میں ایک طرف بدعت کی اقسام اور اصولِ شرع جیسی فقیہانہ ابحاث ہیں، تو دوسری طرف الہام کی شرعی حیثیت اور شریعت و طریقت کے باہمی ربط جیسے صوفیانہ مضامین ہیں۔

ذخائر المواريث فى الدلالة على مواضع الاحاديث

[ترمیم]

یہ حدیث کی مشہور کتابوں (صحاح ستہ) کی روایات کی ایک انوکھی فہرست (کتاب الاطراف) ہے۔ چونکہ مشرقی علما کے نزدیک چھٹی کتاب "سنن ابن ماجہ" ہے اور مغربی علما کے نزدیک "موطا امام مالک"، اس لیے علامہ نابلسی نے دونوں کتابوں کے اطراف اس میں جمع کر دیے۔ انھوں نے کلمات کی بجائے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے حروفِ تہجی کی ترتیب پر رموز کے ساتھ احادیث کے مقامات کی نشان دہی کی ہے۔[26] یہ کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے، جس میں صحابہ، کنیت والے صحابہ، مبہم نام والے راویوں، صحابیات اور مرسل روایات کو الگ الگ ابواب میں ترتیب دیا گیا ہے۔

الحقيقة والمجاز فى رحلة بلاد الشام ومصر والحجاز

[ترمیم]

یہ علامہ نابلسی کا ایک ضخیم اور جامع سفرنامہ ہے جو تین حصوں (اقسام) پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ شام کے ننانوے ایام کے احوال سفر پر، دوسرا حصہ مصر کے 83 دنوں کے تجربات پر اور تیسرا حصہ حجازِ مقدس کے 206 دنوں کے احوال، حاضریِ مدینہ و مکہ اور مناسکِ حج کی ادائیگی پر مشتمل ہے۔[27] اس کتاب میں نثر کے ساتھ ساتھ ان کے کہے گئے قصائد بھی شامل ہیں اور یہ تاریخی و جغرافیائی معلومات کا ایک تحقیقی مآخذ ہے۔

تعطير الأنام فى تعبير المنام

[ترمیم]

علم تعبیر الرویا (خوابوں کی تعبیر) پر یہ علامہ نابلسی کی ایک مایہ ناز اور بے مثال تصنیف ہے۔ کتاب کے مقدمے میں قرآن و سنت کی روشنی میں خواب کی اہمیت، قابلِ تعبیر خوابوں کی اقسام اور تعبیر کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔[28] انھوں نے اس کتاب کو حروفِ تہجی پر مرتب کیا ہے، مگر ذواتِ مقدسہ کے احترام میں ہر حرف کے آغاز میں ان ہستیوں کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر لکھی ہے (مثلاً باب الالف کا آغاز لفظ "اللہ" سے کیا)۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ "خواب اور تعبیر" کے نام سے ادارہ اسلامیات لاہور نے شائع کیا ہے۔

ايضاح الدلالات فى سماع الآلات

[ترمیم]

یہ کتاب اسلام میں سماع اور آلاتِ موسیقی کے حکم کے متعلق ہے۔ علامہ نابلسی نے اس کتاب میں فقہائے کاملین اور اصولوں سے ناواقف فقہائے قاصرین کا فرق واضح کیا ہے۔ انھوں نے حنفی فقہ کی کتب کی روشنی میں "لہو" (جو بذاتِ خود حرام ہو) اور "ملاہی" (جو حرام کام کا ذریعہ بنے) کی تشریح کی ہے۔ ان کے نزدیک سماع کا حکم مطلق نہیں بلکہ نیت اور کیفیت کے اعتبار سے تین اقسام پر مشتمل ہے:

  1. حرام: ان لوگوں کا سماع جو شہواتِ نفسانیہ کے مغلوب ہوں۔
  2. مباح: کسی فوت شدہ یا غائب شخص کی یاد تازہ کرنے کے لیے سماع۔
  3. مندوب: اس شخص کا سماع جس پر حبِ الٰہی کا غلبہ ہو۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb14477234d — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
  2. 1 2 ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w62b9p2g — بنام: Abd al-Ghani al-Nabulsi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. 1 2 عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Abd-al-Ghani-al-Nabulusi — بنام: Abd al-Ghani al-Nabulusi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. 1 2 عنوان : Brockhaus Enzyklopädie — Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/abd-al-ghani-an-nabulusi — بنام: Abd al-Ghani an-Nabulusi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. 1 2 Diamond Catalog ID for persons and organisations: https://opac.diamond-ils.org/agent/13064 — بنام: ʿAbd al-Ġanī ibn Ismāʿīl al-Nābulsī
  6. 1 2 3 4 5 https://islamansiklopedisi.org.tr/nablusi-abdulgani-b-ismail
  7. ↑ https://islamansiklopedisi.org.tr/nablusi-abdulgani-b-ismail
  8. 1 2 3 مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام — ناشر: دار العلم للملایین —  : اشاعت 15 — جلد: 4 — صفحہ: 32 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
  9. 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119344408 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
  10. ↑ نابلسی، عبد الغنی بن اسماعیل بن عبد الغنى، تعطير الانام فى تعبير المنام (بيروت: دار الفكر، سن)، 4
  11. ↑ کحالہ، عمر بن رضا بن محمد راغب، معجم المؤلفین (بيروت: دار احياء التراث العربي)، 2: 277
  12. ↑ الحموی، شہاب الدین ابو عبد اللہ یاقوت بن عبد اللہ، معجم البلدان (بیروت: دار صادر، 1995ء)، 5: 248
  13. ↑ الحسینی، محمد خلیل بن علی بن محمد بن محمد، سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر، (بیروت: دار البشائر الإسلامية، دار ابن حزم، 1408ھ)، 3: 31
  14. ↑ الکتانی، محمد عبد الحی بن عبد الکبیر، فهرس الفهارس والأثبات ومعجم المعاجم والمشيخات والمسلسلات (بيروت: دار الغرب الإسلامي، 1982ء)، 2: 257
  15. ↑ الحسینی، سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر، 3: 31
  16. ↑ درنیقہ، محمد احمد، معجم اعلام شعرا المدح النبوی (بیروت: دار ومکتبة الهلال، سن)، 235
  17. ↑ الحسینی، سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر، 3: 31
  18. ↑ العامری، محمد کمال الدین الغزی، الورد الانسی والوارد القدسی فی ترجمة العارف عبد الغنی النابلسی (لیڈن: دار بریل للنشر، 2012ء)، 545-546
  19. ↑ الحسینی، سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر، 3: 31
  20. ↑ البیطار، عبد الرزاق بن حسن بن إبراهيم، حلیة البشر فی تاریخ القرن الثالث عشر (بیروت: دار صادر، 1993ء)، 1543
  21. ↑ حدائق الحنفیہ: صفحہ 458، مولوی فقیر محمد جہلمی : مکتبہ حسن سہیل لاہور
  22. ↑ نابلسی، عبد الغنی، کشف النور عن اصحاب القبور (قاهرة: دارة الكرز، سن)، 5
  23. ↑ ایضاً، 7
  24. ↑ ایضاً، 8
  25. ↑ ایضاً، 14
  26. ↑ عبد المہدی بن عبد القادر، طرق تخریج حدیث رسول اللہ (لاہور: المكتبة الاسلامیہ، 1434ھ)، 128
  27. ↑ العامری، الورد الانسی والوارد القدسی فی ترجمة العارف عبد الغنی النابلسی، 107
  28. ↑ نابلسی، تعطير الانام فى تعبير المنام، 9-10