ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن قشیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن قشیری
(عربی میں: عبد الكريم القشيري خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 1 اگست 986  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
استو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 30 دسمبر 1072 (86 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نیشاپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاد ابن طاہر البغدادی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلسفی،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ،  تصوف،  علم کلام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں رسالہ قشیریہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

امام القشیری یا امام ابوالقاسم عبد الکریم بن ہوازن القشیری (پیدائش: اگست 986ء— وفات: 30 دسمبر 1072ء) محدث، مفسر اور ماہر علم الکلام تھے۔ دنیائے تصوف میں صاحب رسالہ قشیریہ کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ اسلامی تصوف میں اِن کی تصنیف رسالہ قشیریہ مشہور ہے۔

پورا نام[ترمیم]

امام ابوالقاسم عبد الکریم بن ہوازن بن عبد الملک بن طلحہ بن محمد استوائی قشیری نیشاپوری شافعی

نسبت[ترمیم]

قشیر بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے قشیری کہا جاتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

ان کی ولادت ربیع الاول 376ھ نیشا پور کے قریب استواء نامی بستی میں ہوئی اسی وجہ سے نیشاپوری اوراستوائی کہلاتے ہیں۔ ابھی بچے ہی تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور یتیم کی حیثیت میں پرورش پائی۔

بیعت[ترمیم]

شیخ ابو علی دقاق کے وعظ میں جانے کا اتفاق ہوا جو اپنے زمانے کے مشہور واعظ تھے جب ان کے اخلاص کو دیکھا تو ان کے حلقہ مریدین میں شامل ہو گئے اور پھر کچھ ہی عرصہ بعد ان سے خرقہ تصوف حاصل کیا۔ خراسان میں علم و فضل کے امام اور تصوف کے شیخ تھے۔

حصول علم[ترمیم]

فقہ ابوبکر الطوسی سے پڑھی ابوبکر بن فورک سے علم اصول حاصل کیا۔

وفات[ترمیم]

16 ربیع الاول بروز اتوار 465ھ بمطابق 1072ء نیشا پور میں وفات پائی اور اپنے مرشد کے پہلو میں دفن ہوئے۔

تصنیفات[ترمیم]

  • اربعون فِي الحَدِيث۔
  • استفاضة المرادات۔
  • بلغَة الْمَقَاصِد فِي التصوف۔
  • التخبير فِي علم التَّذْكِير فِي مَعَاني اسْم الله تَعَالَى.
  • التَّيْسِير فِي علم التَّفْسِير۔
  • عُيُون الاجوبۃ فِي فنون الاسئلۃ۔
  • الْفُصُول فِي الاصول۔
  • كتاب الْمِعْرَاج۔
  • لطائف الاشارات فِي تَفْسِير الْقُرْآن۔
  • الْمُنْتَهى فِي نكت اولى النهى.
  • نَاسخ الحَدِيث ومنسوخہ۔
  • نَحْو الْقُلُوب۔
  • حَيَاة الارواح وَالدَّلِيل إِلَى طَرِيق الصّلاح۔
  • شكاية اهل السّنۃ بحكایۃ مَا نالہم من المحنۃ۔
  • منثور الْخطاب فِي شُهُود الالباب۔
  • ’’الرسالۃ القشیریہ‘‘[3]


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12224170m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6z6248k — بنام: Abd al-Karīm ibn Hawāzin Qushayri — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. هدیۃ العارفين أسماء المؤلفين وآثار المصنفين المؤلف: إسماعيل بن محمد أمين بن مير سليم البابانی البغدادی دار إحياء التراث العربي بيروت لبنان