ذوالنون مصری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ذوالنون مصری مقبرہ

ذوالنون مصری: صوفی بزرگ،اولیاء میں اہم مقام پر فائز تھے

نام[ترمیم]

ثوبان بن ابراہیم نام۔ کچھ نے الفیض بن ابراہیم بھی لکھا ہے۔ابو الفیض کنیت۔ آپ کے والد نوبہ کے رہنے والے تھے

پیدائش[ترمیم]

ذوالنون مصری کی والادت 796ء میں ہوئی

وفات[ترمیم]

آپ 859ء:245ھ میں قاہرہ کے قریب خبیرہ کے مقام پر انتقال کیا اور وہیں مدفون ہوئے۔

علم و زہد[ترمیم]

طبقہ صوفیہ میں اعلی مقام رکھتے تھے، علم و تقویٰ اور حال و ادب میں نمایاں مقام پر فائز تھے۔ تفصیلی حالات معلوم نہیں۔ صرف اتنا معلوم ہے کہ آپ نے علم کی جستجو میں دوردراز کے سفر کیے۔ آخر قاہرہ میں قیام کیا جہاں معتزلی عقیدے کی مخالفت میں گرفتاری کرکے بغداد بھیج دیئے گئے وہاں کچھ عرصہ قیدرہے مگر بعد میں رہا کر دئیے گئے ۔ صوفیا کے نزدیک ان کا مرتبہ بہت بلند ہے ۔ معرفت کے متعلق انہوں نے ہی مختلف مدارج مقرر کیے۔ جن کو مقامات کہتے ہیں۔ چند کتابیں بھی تصنیف کیں جو اب نایاب ہیں۔ کسی نے خلیفہ وقت متوکل کے پاس آپ کی شکایت کی تو اس نے آپ کو مصر بلوا بھیجا۔ آپ نے آتے ہی اسے وعظ و تذکیر شروع کر دی وہ رو پڑا اور باعزت طور پر آپ کو مصر روانہ کر دیا۔ خلیفہ متوکل کے پاس جب بھی متقی لوگوں کا ذکر ہوتا تو وہ رونے لگتے تھے اور کہتے تھے کہ جب بھی پرہیزگار لوگوں کا ذکر کرو تو ذوالنون کا ذکر ضرور کیا کرو۔ یوسف بن حسین فرماتے ہیں کہ میں ایک دن ذوالنون مصری کی مجلس میں حاضر ہوا اتنے میں آپ کے ہاں سالم مغربی آپہنچے اور ذوالنون سے پوچھا کہ آپ نے کس بنا پر توبہ کی تھی؟ انہوں نے کہا یہ ایک عجیب کہانی تم مانو گے نہیں! سالم نے کہا: آپ کو اپنے معبود کی قسم ضرور بتائیے۔ ذوالنون نے کہا: میں مصر سے کسی بستی کا ارادہ لیے نکل کھڑا ہوا۔ جنگل میں پہنچا تو راستے میں ہی سو گیا۔ میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک گھونسلے میں سے اندھی چڑیا زمین پر آگری میرے دیکھتے زمین میں شگاف ہو گیا کیا دیکھتا ہوں دو کوزے تھے ایک سونے کا دوسرا چاندی کا ایک میں تو تل تھے اور دوسرے میں پانی چڑیا تل کھائے جا رہی تھی اور پانی پیتی جا رہی تھی۔ یہ ماجرا دیکھ کر میں نے خیال کیا کہ اس سے زیادہ اور کیا دیکھوں چنانچہ میں نے برے ارادوں سے توبہ کر لی اور ذکر الہی شروع کر دیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے شرف قبولیت سے نواز دیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الرسالہ القشیریہ فی علم التصوف