نصیر الدین محمود چراغ دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید نصیر الدین چراغ دہلوی
Chiraghdehlidargah.jpg
مذہب اسلام، سلسلہ چشتیہ کے صوفی
دیگر اسما چراغ دہلوی
ذاتی تفصیل
پیدائش 673ھ/ 1274ء
ایودھیا، بھارت
انتقال منگل 17 رمضان المبارک 757ھ/ 13 ستمبر 1356ء
(عمر: 82 سال )
دہلی، دہلی سلطنت، موجودہ بھارت
مزید معلومات
شہر دہلی
خطاب چراغِ دہلی
دور ابتدائی چودہویں صدی
پیشرو نظام الدین اولیاء
جانشین خواجہ کمال الدین علامہ چشتی، بندہ نواز گیسو دراز

خواجہ نصیر الدین محمود چراغ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے ممتاز صوفی بزرگ ہیں جنہیں چراغِ سلسلۂ چشت کہا جاتا ہے۔

نام و نسب[ترمیم]

نصیر الدین چراغ اودھ میں پیدا ہوئے۔والد کا نام شیخ یحیی تھا۔ آپ کے دادا سید عبد اللطیف سب سے پہلے ہندوستان آئے اور کچھ عرصہ لاہور میں قیام کے بعد اودھ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ یہیں فیض آباد میں نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی پیدائش ہوئی۔ آپ ابھی نو برس کے تھے کہ والد بزرگوار انتقال فرما گئے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ کی والدہ نے دینی تعلیم کے لیے آپ کو عبد الکریم شیروانی کے پاس بٹھایا۔ ان کی وفات کے بعد آپ افتخار الدین گیلانی کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے اور ان سے علوم ظاہری حاصل کیے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

چالیس برس کی عمر میں پیر و مرشد کی تلاش میں نکلے۔ دہلی پہنچ کر نظام الدین اولیاء کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ شیخ و مربی نے اپنے ہونہار مرید کو علوم باطنی سے نوازا اور جب آپ کو شرعی احکام کی سختی کے ساتھ پابندی فرماتے دیکھا تو خلعت خلافت سے نوازا۔ محبوب الہی نے آپ کو چراغ دہلی کے خطاب سے بھی نوازا۔

زہد و تقوی[ترمیم]

چراغ دہلوی اکثر روزے سے رہتے۔ قوالی کو خلاف سنت قرار دیتے۔ سیر الاولیاء کے مصنف لکھتے ہیں کہ مجھے شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی کی مجلس سے وہی خوشبو آتی کہ جس طرح کی خوشبو محبوب الہی کی مجلس سے آتی تھی۔[1]

ولایت و قطبیت[ترمیم]

شیخ طریقت سُلطان المشائخ، محبوبِ الٰہی خواجہ سیّد محمد نظام الدین اولیاء کی وفات کے بعد دہلی کی ولایت و قطبیت آپ کو منتقل کی گئی۔

وفات و تدفین[ترمیم]

نصیر الدین چراغ کا وصال - 18رمضان 757ھ بمطابق 1356ء کو دہلی میں ہوا، جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو شیخ رکن الدین کو فرمایا:

تمہیں چاہیے کہ مجھے قبر میں اتارتے وقت خرقہ میرے سینے پر، کاسہ سر کے نیچے، تسبیح زیرِ انگشت اور میری پشت کی ایک جانب نعلین اور دوسری جانب عصہ رکھ دینا۔

چنانچہ مریدین نے ایسا ہی کیا۔
آپ کا مزار دہلی کی ایک بستی چراغ دہلی میں مرجع خلائق ہے۔

مضامین بسلسلہ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

مشہور خلفاء[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]