شمس تبریزی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شاہ شمس تبریزی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
شمس تبریزی
Shamse Tabrizi.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1185  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تبریز  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1248 (62–63 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خوی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iran.svg ایران  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر، فلسفی، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Disambigua compass.svg یہ صفحہ شمس الدین تبریزی پیرِ تبریز کے متعلق ہے۔ اس نام سے مشابہت رکھنے والے دیگر صفحات کے لیے ← شمس الدین سبزواری ملاحظہ فرمائیں۔

شمس تبریزی یا شمس الدین محمد (1185ء – 1248ء) ایران کے مشہور صوفی اور مولانا روم کے روحانی استاد تھے۔ روایت ہے کہ شمس تبریزی نے مولانا روم کو قونیہ میں چالیس دن خلوت میں تعلیم دی اور دمشق روانہ ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں ان کے مقبرے کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ کے لیے نامزد کیا ہے۔

ولادت[ترمیم]

15 شعبان المعظم 560ھ کو ایران کے شہر سبزوار میں ہوئی۔ آپ کا شجرہ مبارک امام جعفر سے ہوتا ہوا انیسویں پشت پر حضرت علی سے جا ملتا ہے۔ اُس وقت سبزوار ایران کا مشہور شہر تھا۔

والد کا نام[ترمیم]

ان کے والد کا نام علاؤ الدین اور نفحات الانس میں علی بن ملک داؤد تبریزی لکھا ہے۔

پیر و مرشد[ترمیم]

بابا کمال الدین جندی کے مرید تھے شیخ رکن الدین سنجاسی اور شیخ ابوبکر زنبیل باف تبریزی کو بھی مرشد کہا گیا ۔

مولانا روم سے ملاقات[ترمیم]

شمس تبریزی نے ایک دفعہ دعا کی کہ مجھے وہ بندہ ملے جو میری صحبت کا متحمل ہو یہ دعا قبول ہو گئی اور قونیہ میں مولانا روم کے پاس پہنچ گئے مولانا جلال الدین محمد بلخی رومی ان سے متاثر تھے۔ دوسال ان کی صحبت میں رہے، کہا جاتا ہے کہ مولانا روم کے مریدوں نے حسد کی وجہ سے قتل کیا۔

شاعری[ترمیم]

باکمال صوفی بزرگ اور شاعر تھے، دیوان شمس تبریزی کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

وفات[ترمیم]

نفحات الانس میں ان کی وفات 645ھ بمطابق 1247ء ہے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نفحات الانس عبد الرحمن جامی، شبیر برادرز لاہور
  2. سوانح مولانا روم،شبلی نعمانی،صفحہ 7