شمس الدین سبزواری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شمس الدین سبزواری
Shrine of Hazrat Shah Shams ud din Sabzwari.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1165  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سبزوار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 مارچ 1276 (110–111 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ملتان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مبلغ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

شمس الدین محمد سبزواری (پیدائش: 1165ء— وفات: 3 مارچ 1276ء) ایک مسلمان صوفی مبلغ تھے۔آپ کا شمار ملتان کے بزرگ ترین اولیائے کرام میں ہوتا ہے۔

ملتان میں واقع شمس الدین سبزواری کا مزار

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام شمس الدین محمد سبزواری ہے جبکہ لقب شمس الفقراء ہے۔ والد کا نام سید صلاح الدین تھا۔ سلسلہ نسب امام جعفر الصادق تک جا ملتا ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے:

  • شمس الدین محمد سبزواری بن سید صلاح الدین بن سید علی ملقب بہ اسلام الدین بن سید عبدالمومن (خلیفہ دولت موحدین) بن سید علی خالد الدین بن سید محمد محب الدین بن سید محمود سبزواری بن سید محمد بن ہاشم علی بن سید احمد ہادی بن سید منتظر باللہ بن سید عبدالمجید بن سید غالب الدین بن سید محمد منصور بن اسماعیل ثانی بن سید محمد علفی بن سید اسماعیل اعراج اکبر بن امام جعفر الصادق۔[1]

پیدائش اور تعلیم[ترمیم]

آپ کی پیدائش 560ھ مطابق 1165ء میں غزنی کے قریبی مقام سبزوار میں ہوئی جس کی نسبت سے سبزواری کہلائے۔ہوش سنبھالنے کے بعد آپ کو چچا عبدالہادی کے سپرد کر دیا گیا جو عبدالمومن (خلیفہ دولت موحدین) کے پوتے اور متبحر عالم تھے۔ اُنہوں نے آپ کو بڑی توجہ سے تفسیر، حدیث اور دیگر علوم ظاہریہ کی تعلیم دی۔ 579ھ/1183ء میں جب سید صلاح الدین تبلیغ کے لیے بدخشاں روانہ ہوئے تو شمس الدین سبزواری کو بھی اپنے ساتھ لیتے گئے اور اُس وقت ان کی عمر 19 سال تھی۔[1]

تبلیغ[ترمیم]

بدخشاں میں تبلیغ کے بعد تبت کوچک چلے گئے اور لوگوں کو اسماعیلی تبلیغ کا درس دیا۔ وہاں سے کشمیر کا رخ کیا جہاں آفتاب پرستی عام تھی۔ سید صلاح الدین اور شمس الدین سبزواری کی کوششوں سے ہزاروں افراد نے ان کے عقائد کو قبول کر لیا۔ 586ھ/1190ء میں دونوں حضرات واپس سبزوار چلے آئے۔[2]

ازدواج[ترمیم]

586ھ/1190ء میں سبزوار واپسی کے بعد نکاح کیا اور دو فرزند پیدا ہوئے جن کے نام نصیر الدین محمد ااور سید علاؤ الدین احمد تھے۔ علاؤ الدین احمد زندہ پیر کے لقب سے مشہور ہوئے۔[2]

تبریز میں اقامت[ترمیم]

شمس الدین سبزواری کو تبریز نہایت پسند تھا، چنانچہ 600ھ/1204ء میں اپنے والد کی اجازت سے تبریز چلے گئے اور وہاں کے متعدد مقامات پر تبلیغ میں مصروف رہے۔

اسماعلی سرگرمیاں اور ملتان آمد[ترمیم]

1256ء میں تاتاری حکمران ہلاکو خان نے خوارزم کی فتوحات کے دوران قلعہ الموت پر بھی لشکر کشی کی اور رکن الدین خورشاہ، اسماعیلی پیشوا کو قتل کروا دیا جس سے اسماعیلی تبلیغ کی سرگرمیاں ختم ہوگئیں جبکہ 1258ء میں خلافت عباسیہ تاتاریوں کے ہاتھوں ختم ہوئی۔ سیاسی طور پر دنیائے اسلام میں سنی عقائد کی ترجمانی عام تھی اور اِسی عقائد کے برخلاف سید صلاح الدین کو اُن کے اسماعیلی عقائد کی بنا پر 664ھ/1266ء میں قتل کر دیا گیا۔ والد کے قتل کے بعد شمس الدین سبزواری ہجرت پر مجبور ہو گئے اور بغداد چلے آئے جہاں خلافت عباسیہ کے خاتمے کے بعد طوائف الملوکی عام ہوچکی تھی۔ اِن دنوں احمد تکودارفرمانروائے عراق تھا۔بغداد میں علمائے وقت کو آپ کے اسماعیلی عقائد سے اختلافات ہو گئے، چنانچہ علمائے وقت کے اس اختلاف کے پیش نظر احمد تکودار شاہ عراق نے شاہی حکم کے تحت انہیں شہر بدر کر دیا۔ بغداد کے بعد کاظمین چلے آئے اور کچھ عرصہ قیام کرکے ہندوستان کی سرحد سے داخل ہوتے ہوئے 664ھ کے اختتام/1266ء میں ملتان پہنچے۔ ملتان میں اسماعیلوں کا اقتدار کئی برس تک رہا تھا، اگرچہ جن دنوں شمس الدین سبزواری ملتان آئے، تب تک اسماعیلی حکومت ختم ہوچکی تھی لیکن پھر بھی اعتقادی کشش یہاں باقی تھی۔ آپ کی کوشش سے کسی حد تک اسماعیلی رسوم اور ہندو عقائد میں ہم آہنگی کے باعث کئی ہندو گھرانے مسلمان ہو گئے جن کو شمسی کہا جانے لگا۔ یہ لوگ بیسویں صدی کے آغاز تک اپنے ہندوانہ ناموں اور رسوم کے ساتھ شمسی مسلمان سمجھے جاتے تھے۔

وفات[ترمیم]

شمس الدین سبزواری کی وفات 111 سال کی عمر میں15 رمضان 674ھ مطابق 3 مارچ 1276ء کو ملتان میں ہوئی۔ مرقد پر دربار 1330ء میں تعمیر کیا گیا جو مربع نما ہے اور اس کی بلندی 30 فٹ ہے، وسط میں ایک بلند گنبد ہے جس پر سبز کاشی کار مزین کام کیا گیا ہے۔یہ مزار دریائے راوی کی پرانی گزرگاہ کے قریب قلعہ ملتان کے مشرق میں نصف میل کے فاصلہ پر واقع تھا، امتدادِ زمانہ کے باعث دریائے راوی اپنا مقام بدل گیا۔یہ مزارکا علاقہ عام و خاص باغ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

غلط العام روایت[ترمیم]

عوام میں آپ کا نام شاہ شمس تبریزی کی نسبت سے شمس تبریزی مشہور ہے جو صریحاً غلط ہے۔ آپ سبزواری ہیں۔ محمد دین فوق مؤلف کتاب شمس تبریز نے لکھا ہے کہ:

" مولانا شمس تبریز کے والد بزرگوار کا نام علاؤ الدین تھا اور ملتان والے شمس سبزواری ہیں، اُن کا نام شمس تبریزی نام غلط مشہور ہو گیا ہے، دراصل اُن کا نام مخدوم شمس الدین محمد سبزواری تھا، سبزواری سبزوار (علاقہ غزنی) میں امام جعفر الصادق کے بیٹے اسماعیل کی اولاد سے 560ھ میں پیدا ہوئے۔[3][4]

دربار اور عرس[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب امتیاز حسین شاہ: تذکرہ اولیائے ملتان، صفحہ 69، مطبوعہ ملتان۔
  2. ^ ا ب امتیاز حسین شاہ: تذکرہ اولیائے ملتان، صفحہ 70، مطبوعہ ملتان۔
  3. محمد دین فوق: شمس تبریز، صفحہ 5، مطبوعہ لاہور، 1910ء۔
  4. امتیاز حسین شاہ: تذکرہ اولیائے ملتان، صفحہ 73، مطبوعہ ملتان۔