ہلاکو خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہلاکو خان
Hulagu Khan.jpg
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1217  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 8 فروری 1265 (47–48 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مراغہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جزیرہ شاہی  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت یوآن خاندان
Flag of the Mongol Empire.svg منگول سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ دوقوز خاتون  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نسل
والد تولی خان  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ سرقویتی بیگی  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
قبلائی خان،  مونگو خان،  دموگان،  اریق بوقا،  ہدودو،  موگے  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
خان (منگول سلطنت)   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1256  – 8 فروری 1265 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
اباقا خان  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ خان (منگول سلطنت)  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان منگولیائی زبان[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ہلاکو خان (پیدائش 15 اکتوبر 1218ء – وفات 8 فروری 1265ء) ایل خانی حکومت کا بانی اور منگول حکمران چنگیز خان کا پوتا تھا۔ چنگیز خان کے لڑکے تولی خان کے تین بیٹے تھے۔ ان میں ایک منگو خان تھا جو قراقرم میں رہتا تھا اور پوری منگول سلطنت کا خان اعظم تھا، دوسرا بیٹا قبلائی خان تھا جو چین میں منگول سلطنت کا بانی تھا جبکہ تیسرا لڑکا ہلاکو خان تھا۔ منگو خان کے زمانے میں شمال مغربی ایران میں ایک اسماعیلی گروہ حشاشین نے بڑا ہنگامہ اور خونریزی شروع کردی۔ یہ علاقہ منگولوں کے زیر حکومت تھا اس لیے وہاں کے باشندوں نے منگو خان سے اس ظلم و ستم کے خلاف فریاد کی۔ منگو خان نے اس شکایت پر اپنے بھائی ہلاکو خان کو 1256ء میں ایران کا حاکم بناکر روانہ کیا اور اس کو اسماعیلیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ ہلاکو نے اسی سال اسماعیلیوں کے مرکز قلعہ الموت پر قبضہ کرکے اسماعیلی حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا اور ان کے آخری بادشاہ خور شاہ کو قتل کر دیا۔

اسماعیلیوں کا زور توڑنے کے بعد ہلاکو خان نے بغداد کا رخ کیا جو اس زمانے میں شیعہ سنی فساد کا گڑھ بنا ہوا تھا خلیفہ مستعصم باللہ کے شیعہ وزیر ابن علقمی نے ہلاکو خان سے سازباز کرکے ہلاکو کو بغداد پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ 1258ء میں بغداد تباہ کرنے کے بعد ہلاکو خان نے پورے عراق پر قبضہ کر لیا اور بصرہ اور کوفہ کے عظیم شہر تباہ و برباد کردیے۔ اس کے بعد منگول فوجوں نے جزیرہ کر راستے شام پر حملہ کیا۔ منگول فوجیں نصیبین، رہا اور حران کے شہروں کو تباہ کرتے ہوئی حلب پہنچ گئیں جہاں 50 ہزار مرد قتل عام میں مارے گئے اور ہزاروں عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیا گیا۔ منگول فوجیں اسی طرح قتل و غارت کرتی اور بربادی پھیلاتی ہوئی فلسطین پہنچ گئیں لیکن یہاں ناصرہ کے جنوب میں عین جالوت کے مقام پر 25 رمضان 658ھ بمطابق 1260ء کو ایک خونریز جنگ میں مصر کے مملوکوں نے ان کو شکست دے کر پورے شام سے نکال دیا اور اس طرح مصر منگولوں کے ہاتھوں تباہی سے بچ گیا۔

منگو خان کے بعد قراقرم کی حکومت کا اقتدار کمزور پڑ گیا اور ہلاکو خان نے ایران میں اپنی مستقل حکومت قائم کرلی جو ایل خانی حکومت کہلاتی تھی۔ اس نے مراغہ کو جو تبریز سے 70 میل جنوب میں واقع ہے اپنا دار الحکومت بنایا۔ بعد میں دار الحکومت تبریز منتقل کر دیا گیا۔

ہلاکو کے بعد اس کا بیٹا اباقا خان تخت نشین ہوا اس نے بھی اپنے باپ کی اسلام دشمن حکمت عملی جاری رکھی۔ اس نے پوپ اور یورپ کے حکمرانوں سے قریبی تعلقات قائم کیے اور عیسائیوں کو بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اس نے یورپ کی تائید اور اپنی مملکت کے آرمینی اور گرجستانی باشندوں کی مدد سے شام پر حملہ بھی کیا لیکن 1250ء میں حمص کے قریب مملوک حکمران قلاؤن سے شکست کھاکر پسپا ہونے پر مجبور ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2020 — ناشر: Bibliographic Agency for Higher Education

بیرونی روابط[ترمیم]