بخارا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بخارا
(ازبک میں: Buxoro ویکی ڈیٹا پر (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Kalon-Ensemble Buchara.jpg
 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Uzbekistan.svg ازبکستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دارالحکومت برائے
دولت سامانیہ
بخارا صوبہ (15 جنوری 1938–)
امارت بخارا (1753–7 اکتوبر 1920)
بخاری عوامی سوویت جمہوریہ (8 اکتوبر 1920–27 اکتوبر 1924)
ازبک سوویت اشتراکی جمہوریہ (28 اکتوبر 1924–1925)  ویکی ڈیٹا پر (P1376) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تقسیم اعلیٰ بخارا صوبہ،  ازبک سوویت اشتراکی جمہوریہ،  بخاری عوامی سوویت جمہوریہ،  ازبک سوویت اشتراکی جمہوریہ،  امارت بخارا  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 39°46′29″N 64°25′43″E / 39.774722222222°N 64.428611111111°E / 39.774722222222; 64.428611111111  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رقبہ 39.4 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 225 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 272500 (2014)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
جڑواں شہر
اوقات متناسق عالمی وقت+05:00  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گاڑی نمبر پلیٹ 20 (previous to 2008)
80-84 (2008 and newer)
رمزِ ڈاک
2001ХХ  ویکی ڈیٹا پر (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ (+998) 65
قابل ذکر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 1217662  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بخارا کی قدیم عمارات

بخارا ازبکستان کا پانچواں سب سے بڑا شہر اور صوبہ بخارا کا صدر مقام ہے۔ 1999ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی دو لاکھ 37 ہزار 900 ہے۔ بخارا اور سمرقند ازبکستان کی تاجک اقلیت کے دو اہم ترین شہر ہیں۔

بخارا تاریخ میں ایرانی تہذیب کا اہم ترین مرکز تھا۔ اس کا طرز تعمیر اور آثار قدیمہ ایرانی تاریخ اور فن کے ستونوں میں سے ایک ہے۔

بخارا کا قدیم مرکز اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کئی مساجد اور مدرسے قائم ہیں۔

چار مینار مدرسہ، بخارا

تاریخ اسلام میں بخارا پہلی مرتبہ 850ء میں دولت سامانیہ کا دار الحکومت قرار پایا۔ سامانیوں کے دور عروج میں یہ شہر اسلامی دنیا میں علم و ادب کے مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔

مسلم تاریخ کے معروف عالم امام بخاری اسی شہر میں پیدا ہوئے جنهیں پانچ لاکھ 500000 احادیث زبانی مع سند کے یاد تھیں۔ ان کی کتاب صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں۔

یہ شہر 1220ء میں چنگیز خان کی تباہ کاریوں کا نشانہ بنا جس کے بعد یہ چغتائی سلطنت، تیموری سلطنت اور خان بخارا کی حکومت میں شامل ہوا۔ یہاں کی دوسری مشہور شخصیت بو علی سینا ہیں۔

نگار خانہ[ترمیم]

  1.   ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ بخارا في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2020ء. 
  2. http://www.stat.uz/upload/str2.jpg
  3. https://www.izmir.bel.tr/tr/KardesKentler/62