عبد العزیز پرہاروی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حضرت علامہ مولانا عبد العزیز پرہاڑوی رحمۃ اللہ علیہ
معلومات شخصیت
پیدائش 1206ھ / 1792ء
بستی پرہاڑ غربی شریف
تاریخ وفات 1239ھ / 1824ء
مدفن ضلع مظفر گڑھ  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر نام صاحب نبر اس، بحر العلوم و عارف بااللہ، محمد عبد العزيز الفرهاري، حافظ عبدالعزيز پرہاروی، حكيم عبدالعزيز پرہاڑوی، عبد العزیز بن أحمد الفریھاری الملتانیؒ، ابوعبدالرحمن عبدالعزیز بن ابی حفص، عبد العزیز ملتانیؒ، حافظ ابوعبدالرحمن ملتانیؒ
عملی زندگی
پیشہ عالم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

حضرت خواجہ حافظ مولانا عبدالعزیز پرہاڑوی حنفی قریشی چشتی نظامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی رحمتہ اللہ علیہ تیرہویں صدی ھجری کے نامور محقق، عالم، عظیم مجتہد اور حكيم تھے۔ آپ ملتان کے اکابر مشائخ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ النبر اس[1]، شرح شرح عقائد کے مصنف ہیں۔

مضامین بسلسلہ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg
The Holy Grave

نام و نسب[ترمیم]

حضرت علامہ اپنی تصنیف ’’الزمرد[2]‘‘ کے صفحہ 3 پر اپنے نام اور نسب کے متعلق لکھتے ہیں:

’’ابوعبدالرحمن عبدالعزیز بن ابی حفص احمد بن حامد القرشی۔‘‘

حضرت کے والد متقی، صوفی اور بعض علوم شریعہ کے عالم تھے، علم ریاضی میں انہیں خاص درک تھا۔ آپکا تعلق قبیلہ قریش سے تھا۔

القاب[ترمیم]

بحر العلوم و عارف بااللہ، علامۃ الدہر، سلطان العلما، مقدام الفقہا قطب الموحدین شیخ المسلمین،شیخ المشائخ، غیاث العاش، خواجۂ خواجگان، مرجع الفضلاء و الاکابر سلطانُ الفُضَلا، ، امام المتکلمین، زُبدۃ الاولیاء، سَرخیلِ اَصفیاء، عارف بِاللہ، مَنْبَعِ علم و حکمت، صاحبِ علم و عمل، جامعُ المعقول والمنقول، ماہرُ الفروع والاصول، صاحب نبر اس

شجر ٔہ طریقت[ترمیم]

مولانا عبد العزیز پرہاڑوی رحمۃ اللہ علیہ سلاسل اربعہ میں مجاز تھے[3] لیکن سلسلۂ عالیہ چشتیہ سے زیادہ انس رکھتے تھے-

آپ سلسلۂ چشتیہ نظامیہ کے جلیل القدر شیخ ہیں، آپ کا مختصر شجرۂ طریقت یہ ہے- [4]

زُبدۃ الاولیاء، سَرخیلِ اَصفیاء، عارف بِاللہ، مَنْبَعِ علم و حکمت، علّامۃالدہر، سلطانُ الفُضَلا، صاحبِ علم و عمل،جامعُ المعقول والمنقول، ماہرُ الفروع والاصول حضرت علّامہ ابو عبدالرحمٰن عبدالعزیز پرہاڑوی رحمۃ اللہ چشتی نظامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی خلیفہ مجاز خواجہ حافظ محمد جمال الدین ملتانی خلیفہ مجاز غوث العالمین معشوق الہی قبلہ عالم خواجہ نور محمد مہاروی رضی اللہ عنہ خلیفۂ مجاز قطب العالم خواجہ شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رضی اللہ عنہ خلیفہ قطب الاقطاب سید الافراد خواجہ شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی رضی اللہ عنہ خلیفہ قطب مدینہ شیخ محمد یحیی مدنی رضی اللہ عنہ، مولانا مدنی سے یہ سلسلہ ان کے خاندان سے ہوتا ہوا علامہ کمال الدین تک پہنچتا ہے اور وہ شاہ نصیرالدین چراغ دہلوی کے اور سلطان المشایخ نظام الدین اولیاء اور وہ بابا فرید الدین گنج شکر اور وہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی اور وہ شاہ معین الدین چشتی اجمیری کے خلیفہ تھے اور یہ سلسلہ چشتیہ آگے چل کر حضرت ممشاد دینوری، حذیفہ، مرد میدان توحید سلطان ابراہیم بن ادهم رضی اللہ عنہ، امام العارفین خواجہ عبد الواحد بن زید رضی اللہ عنہ، سید الاولیاء خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ، پھر امام الاولیاء حضور سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے واسطے سے سرور کونین حضور سیدنا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

علامۃ الوریٰ حامل لواء شریعت عبد العزیز بن محمد بن حامد صاحبِ نبراس 1206ھ/1792ء[5] میں ایک معروف بستی "بستی پرہاڑ غربی شریف"[6] مضافات کوٹ ادو ( مظفر گڑھ ) میں پیدا ہوئے۔ آپ برصغیر کے علمی لحاظ سے سب سے کم عمر، بے مثال عبقری عالم اور حاذق حکیم بھی تھے۔ ادویات پر ان کی کتابیں کافی شہرت کی حامل اور برصغیر میں سند سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں سے نمایاں "اکسیر اعظم" اور "زمرد اخضر[2]" ہیں"

مناکحت و اولاد[ترمیم]

آپ نے بستی پرہاراں سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر بستی سدھاری کی ایک خاتون سے نکاح کیا ، جس سے ایک فرزند تولد ہوا، جس کا نام آپ نے عبدالرحمن رکھا۔ وہ اڑھائی سال کی عمر میں وفات پاگیا۔[7]

بستی پرھاڑ غربی شریف[ترمیم]

حضرت صاحبِ نبراس بن ابی حفض اپنی کتاب ’’الزمرد‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’بیرھیار‘‘۔جعلھا اللہ دار القرار۔ و ھو موضع عذب الماء، طیب الھواء، بقرب الساحل الشرقی لنھر السند من مضافات قلعۃ أدّو علی نحو أربعۃ و عشرین میلا من دار الامان ملتان الی المغرب مائلا الی الشمال۔‘‘

ترجمہ: ’’بستی پرھاڑ میٹھے پانی اور خوشگوار ہوا کی حامل بستی ہے، جو کوٹ ادُّو کے مضافات میں دریائے سندھ کے مشرقی ساحل کے قریب ملتان سے 24؍ میل دور شمال مغربی جانب واقع ہے۔‘‘

Jamia Mosque In Memory of ALLAMA ABDULAZIZ PIRHARVI R.A.A

تعلیم[ترمیم]

حضرت علامہ مولانا عبدالعزیز پرہاروی نے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز گھر "بستی پرھاڑ غربی شریف" سے ہی کیا جہاں ان کو والد کی شکل میں عظیم استاد ملا جہاں انہوں نے قرآن پاک حفظ کیا۔ اور علم ریاضی سیکھا۔ پھر ملتان تشریف لائے اور خواجہ حافظ محمد جمال الدین چشتی ملتانی ( خلیفۂ مجاز خواجہ نور محمد مہاروی ) اور حضرت محبوب اللہ خواجہ خدابخش ملتانی چشتی سے علوم و فنون کا استفادہ کیا اور ان جیسے جلیل القدر اور علم و حکمت و وجاہت، زُبدۃ الاولیاء عارف بِاللہ، علّامۃالدہر، سلطانُ الفُضَلا اساتذہ ملے جن کے سایہ آفاق میں علم و حکمت و وجاہت کی منزلیں طے کیں۔۔ دوران میں تعلیم درواز بند کر کے مصروف مطالعہ تھے کہ کسی نے دروازہ پر دستک دی۔ آپ نے فرمایا میں مطالعے میں مصروف ہوں مجھے فرصت نہیں ہے۔ آنے والے نے کہا میں خضر ہوں، آپ نے فرمایا اگر آپ خضر (علیہ السلام ) ہیں تو آپ دروازہ کھولے بغیر بھی تشریف لانے پر قدرت رکھتے ہیں، چنانچہ خضر علیہ السلام اندر تشریف لے آئے اور آپ کے کندھوں کے درمیان میں دست اقدس رکھا، اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل سے آپ کا سینہ علم و فضل اور روحانیت کا سمندر بن گیا [8]

اساتذہ کرام[ترمیم]

مولانا عبد العزیز پرہاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ میں تین اساتذہ کا تذکرہ ملتا ہے:

تلامذہ (طلبہ)[ترمیم]

آپ نے حصو ِل علم سے فراغت کے بعد بستی پرہاراں شریف میں درس گاہ قائم کی جس میں آپ نے درس و تدریس کاآغاز کیا۔ آپ کی درس گاہ سے دور دراز کے بے شمار تلامذہ(طلبہ) حاضر ہوکر آپ کے تبحر علمی سے مستفیض و مستفید ہوتے رہے۔ آپ کے حلقہ میں یوں تو متعدد نام سامنے آتے ہیں لیکن آپ کے تین[9] خاص شاگردوں کا ذکر مندرجہ ذیل ہے۔[10]

  • رائے ہوت پرہار
  • نواب شاہنواز خان شہید سدوزئی ملتان
  • موالنا پیر سید امام علی شاہ

علم لدنی[ترمیم]

آپ خود فرماتے ہیں کے مجھے اللہ تعالیٰ نے 370علوم میں مہارت کاملہ عطافرمائی ہے، جن میں قراٰن و اُصولِ قراٰن کے 80، فقہ و حدیث کے 90، علم و ادب کے 20،حکمت و طبیعیات کے 40، ریاضی کے 30، الٰہیات کے 10 اور حکمتِ عملیہ کے3 علوم پر مہارتِ تامّہ حاصل تھی۔ یہ سب کچھ عطائے ربانی ہے۔ آپ کے بیان کے مطابق انگریزوں کو علم اسطر نو میا کا بے حد اشتیاق تھا لیکن تلاش بسیار کے با وجود انہیں یہ علم پڑھانے والا کوئی نہ مل سکا جب کہ آپ نے اس علم میں جلیل القدر کتاب تصنیف فرمائی تھی۔ [11] علامہ پرہاروی ظاہری اور باطنی علوم میں یگانۂ روز گار تھے، علم و فضل کی بدولت اغنیاء اور اہل دنیا کو خاطر میں نہ لاتے جب کہ فقراء و مساکین کا علاج مفت کرتے، ایک دفعہ مظفر خاں والی ٔ ملتان نے آپ کو علاج کے لیے طلب کیا تو آپ نے سختی سے ا نکار کر دیا [12]-

مجدد کبیر شیخ پرہاڑوی رحمتہ اللہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے حامل تھے ۔ آپ کے قلم میں فقہا کی شدت تھی اور محقیقین کی سی تحقیق کی جستجو تھی۔ ذہن مجتہدانہ اور سوچ مفکرانہ تھی۔ آپکے علمی تفوق اور اولہ قاہرہ کے شہ پارے آپکی تصنیف انیق، نبراس اور کبریت احمر میں جابجا نظر آتے ہیں جہاں حکمائے فلاسفہ و متکلمیں بھی بونے نظر آتے ہیں۔ حضرت علامہ عبدالعزیز پرہاروی نے بہت سےعلوم جو مُردہ ہو چکے تھے انہیں زندہ فرمایا اور ان میں مزید اضافہ بھی فرمایا۔ چونکہ آپ کا علم لَدُنِّی تھا اس لیے آپ اپنے ہم عصر علما سے ممتاز تھے۔ علامہ الوری شیخ پرہاڑوی رحمتہ اللہ کا اشہب قلم نہایت ہی سبک رفتار تھا۔ آپ نے یوسف زلیخا جیسی ضخیم کتاب صرف دو جز کم ایک ہی دن میں لکھ ڈالی۔ اسی طرح محقق زماں مولانا فضل حق ڈیرہ غازیخانی علیہ الرحمتہ کے فرزند ارجمند رئیس المتکلمین مولانا محمد صدیق صاحب ڈہروی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں کہ حضرت پرہاروی رحمہ اللہ ایک دفعہ علم نحو میں اپنی کتاب الاوسط تحریر فرما رہے تھے کہ کسی حاجت کے پیش نظر گھر تشریف لے گئے ۔ جب واپس ہوئے تو حیران رہ گئے کہ جہاں کتاب چھوڑی تھی چند اوراق اس سے آگے لکھے رکھے ہیں ۔ کسی حیرانی میں کہ یہ کس نے لکھی ہے اسی اثنا میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے اور کہا کہ جتنی دیر آپ دوسرے امور میں منہک رہے اور لکھائی میں حرج رہا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اتنے اوراق میں نے لکھ دیے جتنے کہ آپ لکھ سکتے تھے ۔ اسی "الاوسط" کے بارے میں مولانا صدیق صاحب فرماتے تھے کہ جو شخص مکمل طور پر اس کتاب کو پڑھ لے اسے علم نحو کی کسی اور کتاب کے پڑھنے کی حاجت نہیں رہتی۔علاوہ ازیں جن علوم پر حضرت شیخ الہند پرہاڑوی رحمتہ اللہ کو اکمل ترین عبور حاصل تھا ان میں بعض قابل ذکر درج ذیل ہیں ۔[13] [14]

  • علم اسطرنومیا
  • علم عقائد
  • علم المیراث
  • علم الاقتصاد
  • علم السیاسیات
  • علم الالہیات
  • علم التذکیر التانیث
  • علم طبقات الارض
  • علم الآثار
  • علم التفسیر
  • علم حروف تہجی
  • علم فلسفہ
  • علم الریاضی
  • علم الاخلاق
  • علم الہّیت جدیدہ
  • علم لغت
  • علم رستینی
  • علم التصوف
  • علم معافی
  • علم التجوید
  • علم الصرف
  • علم النحو
  • علم جدل
  • علم الاصول الفقہ
  • علم الانساب
  • علم الاصول الحدیث
  • علم الاعداد
  • علم التکسیر
  • علم ارثما طیغی
  • علم مثلث کردی
  • علم الزیجات
  • علم الارضیات
  • علم فلکیات
  • علم العروض و القوانی
  • علم تاریخ
  • علم سیر
  • علم تعبیر
  • علم السماء العالم
  • علم سمع الکیان
  • علم منطق
  • علم کلام
  • علم نجوم
  • علم الستین
  • علم حساب
  • علم جدل ثقلیہ
  • علم التطیع
  • علم المجطی
  • علم زیچ
  • علم الاوفاق
  • علم فرسطون
  • علم مرایا
  • علم مناظرہ
  • علم القرآن
  • علم اصول القرآن
  • علم رموز قرآن
  • علم الحدیث
  • علم فقہ
  • علم اصول اجتہاد
  • علم ادب
  • علم اصول حکمت
  • علم الاحکام و الفرائض
  • علم فقہ الحدیث
  • علم اثرات قرآن و غیر ہم

ایجادات[ترمیم]

مشہور مستشرق (orientalist) جی۔ ڈبلیو۔ لائٹنر History of the Indigenous Education in Punjab میں آ پ کے بارے میں یہ رائے دیتے ہیں : " کہا جاتا ہے کہ علامہ عبدالعزیز پرہاروی نے روشن سطح والا ایسا کاغذ ایجاد کیا تھا جس کے اوپر لکھی ہوئی عبارت رات کے اندھیرے میں نظر آتی تھی۔

تصنیف و تالیف[ترمیم]

علامہ کا اشہب قلم نہایت تیز رفتار تھا، کتاب زلیخا دو جز پوری کتاب ایک دن میں لکھ ڈالی تھی۔ آپ نے تقریباً ہر فن میں بلند پایہ کتابیں لکھیں لیکن ابھی تک اکثر و بیشتر کتب زیور طبع سے آراستہ نہیں ہو سکیں، چند تصانیف کے نام یہ ہیں:۔

  • نبراس (شرح، شرح العقائد نسفی)
  • السرالمکتوم مما اخفاہ المتقدمون ( علم اوفاق و تکسیر کے بیان میں)
  • کوثر النبی فی اصول الحدیث النبوی ( اصول حدیث میں)
  • النا ہیہ عن طعن امیر المؤمنین معاویۃ (فضائل امیر معاویہ )
  • نعم الوجیز فی اعجاز القرآن العزیز ( نعم الوجیز فی البیان و البدیع‘)
  • الصمصام فی اصول تفسیر القرآن ( اصول تفسیرمیں)
  • مرام الکلام فی عقائد الاسلام
  • زمر د خفر و یاقوت احمر (الزمرد الأخضر و یاقوت الأحمر)
  • الاکسیر (طب و عملیات میں)
  • نسائخ مجریر صغیر (طبی نسخے)
  • نسائخ مجریر کبیر (طب اور عملیات میں)
  • سر السماء ( علم ہیئت میں)
  • لوح محفوظ (دوجلد ) (تفسیرقرآن، عربی میں)
  • السلسبیل فی تفسیر العزیز (اَلسَّلْسَبِیْل فِی تَفْسِیْرِ التَّنْزِیْل)
  • صرف عزیزی
  • نحو عزیزی
  • الحاشیہ العزیزیۃ
  • ایمانِ کامل(فارسی)
  • مُشْکِ عَنْبَر (عربی، طب)
  • کنز العلوم (اقسام علوم کی تعریف میں، ان کتابوں کا تذکرہ ڈاکٹر شریف سیالوی صاحب نے کیا ہے۔)
  • فضائل رضیۃ ( اس کتاب میں اپنے شیخ کے ملفوظات ذکر کیے ہیں۔)
  • شرح حصن حصین(مخطوطہ)
  • فَنُّ الْاَلْوَاح
  • معجون الجواھر
  • عنبر أشھب
  • السر المکتوم فی علم النجوم
  • عقائد الحرام
  • عقائد الکلام(شرح عقائد کے بعد بعض مسائل پر بحث)
  • مرام الکلام فی عقائد الاسلام (مذہب)
  • کلام الامام (٤٥ منظومات عربی و فارسی)
  • کبریت احمر (مجموعہ علوم ریاضی)
  • تخمین التقویم(اخراج تاریخ)
  • تسہیل السعود(دنیا کے طول و عرض پر بحث)
  • شرح التجرید
  • رسالۃ الأوفاق
  • مرام الکلام فی عقائد الاسلام
  • مناظرۃ الجلی فی علوم الجمیع
  • رسالۃ فی رفع سبابۃ
  • البنطاسیا
  • تعلیقات علی تھذیب الکلام للتفتازانی
  • حب الأصحاب ورد الروافض
  • سدرۃ المنتھی
  • الایمان الکامل (فارسی میں)
  • فرھنگ مصطلحات طیبۃ
  • التریاق
  • الاکسیر
  • الأوقیانوس
  • رسالۃ فی الجفر
  • سیرالسماء (علم ہیئت)، ڈاکٹر شریف صاحب کے بقول یہ مخطوطہ ہے، علامہ روحانی اور سیالوی صاحب نے اس کا نام ’’سر السماء‘‘ لکھا ہے۔
  • تسھیل السیارات
  • الیاقوت، اس کتاب کی تحقیق و دراسہ کرکے محمد شریف سیالوی صاحب نے 1994ھ میں پی، ایچ، ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔
  • رسالۃ فی الکسوف
  • منتھی الکمال، ڈاکٹر شریف صاحب کے بقول یہ مخطوطہ ہے۔
  • کتاب الایمان، مخطوطہ
  • جواھر العلوم، اس میں مختلف علوم کے مختلف مسائل بیان کیے ہیں۔
  • أسطرنومیا الکبیر، اپنی اس کتاب کا تذکرہ ’’مناظرۃ الجلی‘‘، ص: 108 پر کیا ہے۔
  • أسطرنومیا الصغیر
  • رسالۃ فی الخسوف، ان کتابوں کا تذکرہ علامہ محمد موسی روحانی بازی نے کیا ہے۔
  • الخصائل الرضیۃ، مطبوعہ
  • رسالۃ فی السماع، مخطوطہ
  • التمییز بین الفلسۃ و الشریعۃ، مخطوط
  • رسالۃ فی فن الالواح، مخطوطہ
  • رسالۃ فی علم المثال، مخطوطہ
  • رسالۃ فی رفع السبابۃ عند التشھد، مخطوطہ
  • ماغاسطن فی الریاضیۃ
  • منطق الطیر
  • کمال التقویم
  • تسھیل الصعودۃ
  • الانموذج
  • ملخص الاتقان فی علوم القرآن
  • اعجاز التنزیل فی البلاغۃ
  • دستور فی العروض و البحور، عربی اور فارسی
  • ألماس
  • میزان فی عروض العرب و قوافیہ
  • تخمین التقویم فی النجوم
  • رسالۃ الخضاب
  • الوافی فی القوافی
  • التلخیص للمتوسطات فی الھندسۃ
  • تفسیر سورۃ الکوثر
  • رسالۃ أفعلۃ
  • حاشیۃ مدارک
  • حاشیۃ صدرا
  • حاشیۃ شرح جامی
  • غرائب الاتقیاء
  • تسخیر أکبر
  • أسطرنومیا متوسط
  • یاقوت التأویل فی أصول التفسیر
  • الیواقیت فی معرفۃ المواقیت (علامہ عبدالحی ہ نے اس کتاب کا نام ’’ الیواقیت فی علم المواقیت‘‘ لکھا ہے جبکہ علامۃ الوریٰ خود لکھتے ہیں: ’’و ألفنا فیھا رسالۃ سمیناھا الیواقیت فی معرفۃ المواقیت‘‘)- علم توقیت
  • جامع العلم الناموسیۃ و العقلیۃ
  • عماد الاسلام و عمدۃ الاسلام
  • سلسلۃ الذھب
  • کتاب الدوائر
  • اختصار تذکرۃ طوسی
  • انوار جمالیہ (ملفوظات و آداب حافظ جمال اللہ ملتانی)
  • گلزار جمالیہ (حیات جمال اللہ ملتانی)
  • مخزن سلیمانی

نیز علامہ کی کتاب" النبراس"پوری اسلامی دنیا میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن کے فاضل معلم علامہ سید مناظر احسن گیلانی رح اپنی محسن کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے النبراس"کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں "میں اس کا اعتراف کرتا ہوں کہ علم کلام کا تصوف کے نظری حصے سے جو تعلق ہے سب سے پہلے اس کا سراغ مجھے نبراس ہی کے چراغ کی روشنی میں ملا-" ندوۃ العلماء لکھنؤ کے متبحر عالم اور مفکر اسلام علامہ سید ابوالحسن علی ندوی کے والد علامہ سید عبدالحی ندّوی نے اپنی کتاب" نزہتہ الخواطر میں آ پکا تزکرہ انتہائی شاندار الفاظ میں کیا ہے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے آپ کے فلکیات (Astronomy) کے متعلق رسا لے "سرالسماء"کے حصول کے لیے مختلف مشاہیر علم کو سات سے زائد خطوط لکھے۔ " تاریخ ملتان ذیشان" کے مطابق آپ کی تصانیف کی تعداد تین سو اور" تاریخ فقہائے ملتان "کے مطابق آپ کی تصانیف کی تعداد دو سو ہے۔۔ ایسے قرائنی شواہد موجود ہیں کہ آپ کی بعض کتابیں یورپ میں پڑھائی جاتی رہیں بحوالہ تاریخ ملتان۔ یہ ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ جید اہل علم ہمیشہ آپ کے علمی کارنا موں کے مداح اور معترف رہے۔ علامہ اقبال کے ممدوح جن سے علامہ صاحب جدید فقہ مرتب و مدون کروانا چاہتے تھے یعنی امام المحدثین علامہ انور شاہ کاشمیری جب دیوبند سے بہاولپور میں انگریز دور میں مشہور "مقدمہ قادیانیت" میں عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے اسلامی موقف پیش کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو مقدمے کی سماعت کے بعد وہ کوٹ ادو میں علامہ پرہاروی کی مرقد مبارک پر حاضر ہوئے، فاتحہ پڑھی اور وہاں کے اہل علم سےکافی دیر انکا تزکرہ کرتے رہے۔

Jamia Mosque In Memory of ALLAMA ABDULAZIZ PIRHARVI R.A

وصال و مدفن[ترمیم]

علم و فضل کا یہ آفتاب صرف بتیس سال کی عمر میں 1239ھ/1824ء میں غروب ہو گیا، آپ کا مزارِ پُر انوار وہیں(مسجد و مدرسہ کے احاطہ) پر منبعِ انوار ہے جہاں آپ طلبہ کو درس دیتے تھے۔ آپ کی مرقدمبارک آپکی وصیت کے مطابق غیر پختہ حالت میں موجود ہے۔ [15][16]

تذکرہ وفات[ترمیم]

علامہ پرہاروی کی عمر کی تصدیق آپکے زمانہ قریب کے محقیقین نے اپنی تصانیف میں یوں کیا۔ مولوی شمس الدین نے مترجم الاکسیر میں آپکی عمر 32 سال لکھی۔[17] مولوی محمد برخوردار ملتانی نے حاشیہ النبراس میں 32 سال لکھی۔[18] مولوی عبدالحی لکھنوی نے نزہتہ الخواطر میں آپ کی عمر 3٠ سال سے کچھ زیادہ لکھی۔[19] - [20] شیخ عبدالفتاح ابو غدہ نے عالمہ پرہاروی کی وفات کا سال 6016ھ بعمر 30 سال لکھا ہے۔ [21]

نیز تمام محقیقینِ وقت اور قرب و جوار کے معززینِ وقت کا یہی اتفاق تھا کہ علامہ پرہاروی کی عمر 32 سال تھی جب حضرت اقدس کا انتقال پُرملال ہوا۔

Main Gate Leading to Holy Grave (BAB-E-ABDULZIZ)

عرس[ترمیم]

آپ کا عرس 8،9 ذوالحجۃ الحرام کو ہوتا ہے۔ اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

حوالہ جات[ترمیم]

  1. النبراس شرح شرح العقائد. بستی پرھاڑ غربی شریف‎: مولانا عبدالعزیز پرہاروی. 
  2. ^ ا ب الزمرد الأخضر و یاقوت الأحمر. بستی پرھاڑ غربی شریف‎: مولانا عبدالعزیز پرہاڑویہ. صفحہ 3. 
  3. گلزار جمالیہ، صفحہ 18 عبد العزیز پرہاڑوی۔
  4. خلیق احمد نظامی، "تاریخ مشایخ چشت"،بحوالہ مولانا عبدالعزیز پرہاروی, حیات و خدمات (ازاحسان الحق)۔
  5. "احوال و آثار، حضرت علامہ مولانا عبدالعزیز پرہاڑوی". متین کاشمیری. 
  6. "بستی پرھاڑ غربی شریف". 
  7. احوال وآثا ر عالمہ عبد العزیز پرہاروی علیہ الرحمہ، ص 19۔
  8. الیواقیت المہریہ ص 151،غلام مہرعلی،
  9. https://www.researchgate.net/profile/Muhammad-Rao-3/publication/336473709_Allama_Abdul_Aziz_Parharvi_1206_-_1239_Life_and_Services/links/5da218eb45851553ff8c20f0/Allama-Abdul-Aziz-Parharvi-1206-1239-Life-and-Services.pdf
  10. احوال وآثا ر عالمہ عبد العزیز پرہاروی علیہ الرحمہ، ص 92۔ 96۔
  11. کوثر النبی، ج 1۔ ص 105،عبد العزیزپر ہاروی، مطبوعہ مکتبہ قاسمیہ، ملتان
  12. الیواقیت المہریہ ص 152،غلام مہرعلی،
  13. "احوال و آثار، حضرت علامہ مولانا عبدالعزیز پرہاڑوی". متین کاشمیری.
  14. بروایت مولانا محمد ابراہیم فیضی رحمتہ اللہ علیہ تلمیذ رشید، مولانا محمد صدیق علیہ الرحمتہ
  15. حاشیہ نبراس، مولانا بر خور دار ملتانی، ( مطبوعہ لاہور) ص 3
  16. تذکرہ اکابرِاہلسنت صفحہ 230،محمد عبد الکریم شرف قادری، نوری کتب خانہ لاہور
  17. مولوی شمس الدین, مترجم الاکسیر
  18. مولوی محمد برخوردار ملتانی, حاشیہ النبراس
  19. مولوی عبدالحی لکھنوی, نزہتہ الخواطر
  20. نزھة الخواطر وبھجة المسامع والنواظر، ص6267 ،ج9۔
  21. عبدالفتاح ابو غدہ، )المتوفی: 6169ھ(، "تعلیقات الرفع والتکمیل"، دارالسالم ، القاہرۃ، الطبعۃ السابعہ6106ھ / 0222ء، ص 027۔
  1. https://sialsharif.org/golden-chain.html