ابو ہبیرہ بصری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو ہبیرہ بصری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 783  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 اکتوبر 900 (116–117 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ خواجہ حذیفہ مرعشی  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص ممشاد علوی  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ صوفی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

خواجہ امین الدین ابوہبیرہ بصری سلسلہ چشتیہ کی ایک اہم شخصیت ہیں۔

نام[ترمیم]

اکثرمشائخ نے صرف ہبیرہ طور پر ان کا نام لکھا۔ بعض ابو ہبیرہ کہتے ہیں ان کا لقب امین الدین تھا۔

ولادت[ترمیم]

ابو ہبیرہ بصری کی ولادت 167ھ میں ہوئی انکا تعلق بصرہ سے تھا۔ اور اکابر وقت میں سے تھے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

ابو ہبیرہ سترہ سال کی عمر میں علوم ظاہری سے فارغ ہو ئے بعد میں حذیفہ مرعشی کے مرید و خلیفہ اعظم تھے۔ ہر روز دوبار قرآن ختم کرتے حذیفہ مرعشی کے مرید ہونے سے پہلے آپ نے تیس سال ریاضت شاقہ میں گزارے مجاہدہ و ریاضت میں بے مثال تھے ایک دن زارو قطار رو رہے کہ ہاتف غیبی سے آواز آئی ہم نے تمہیں بخش دیا حذیفہ مرعشی کی بارگاہ میں جاؤ مرید ہونے کے بعد ایک ہی ہفتہ میں مقام قرب حاصل ہو گیا اور ایک سال بعد خلافت ملی۔ جس دن خرقہ خلافت عطا ہوا۔

تصوف کی شاخ[ترمیم]

ان کے نام سے ایک شاخ تصوف بھی نکلی جسے ’’ ہبیریہ‘‘ کہا جاتا ہے ان کے بہت سے خلفاء تھے سب سے زیادہ مشہور ممشاد علوی ہیں۔

تقویٰ[ترمیم]

جس دن خلافت ملی اس دن سے نمک اور شکر ترک کردی اور لذت کام ودہن سے دست بردار ہوئے اس قدر روتے تھے کہ بعض اوقات حاضرین کو اندیشہ ہوتا کہ آپ فوت ہو جائیں گے۔ ایک سو تیس سال تک زندہ رہے۔ ہمیشہ باوضو رہتے تھے۔ بلا ضرورت گفتگو نہیں کرتے تھے اور اللہ کے ذکرمیں مشغول رہتے تھے۔ آپ صاحب عالی کرامت و مقاماتِ ارجمند تھے

وفات[ترمیم]

ابو ہبیرہ بصری کی وفات7شوال 278ھ کو ہوئی بعض جگہ 287ھ ہے ان کی عمر 120 سال تھی ۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خزینۃ الاصفیاءجلد دوم،صفحہ 34 مفتی غلام سرور لاہوری
  2. سفینۃ الاولیاء : از شہزادہ دارا شکوہ قادری