آخوندزادہ سیف الرحمن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بانی سلسلہ سیفیہ
حضرت مولانا آخوند زادہ پیر سیف الرحمن المبارک
پیدائش محرم 20، 1344 ہجری، اگست 10، 1925 عیسوی.
وفات رجب 14، 1431 ہجری.، جون 27، 2010 عیسوی.
دور دور جدید
شعبۂ زندگی افغانستان، پاکستان
مذہب اسلام
فقہ حنفی، ماتریدی

آخوند زادہ سیف الرحمن مبارک رحمتہ اللہ علیہ سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ، شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی کی ذات سے منسوب طریقہ کے ایک اسلامی مذہبی اور روحانی رہنما تھے، جن کو عموما حضور مبارک سرکار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[1]

تاریخ پیدائش[ترمیم]

ولادت بروز سومواربمطابق 20 محرم الحرام 1344ھ اور عیسوی سال کے اعتبار سے 10اگست1925ءمیں ہوئی ( یہ تاریخ آپ کے صاحبزادہ احمدسعید یار صاحب نے لکھوائی) جبکہ درۃ البیان سیرت حضرت آخوند زادہ سیف الرحمٰن کے مطابق1349ھ بمطابق عیسوی 1930بنتی ہے افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے ضلع کوٹ، تحصیل قلعہ وال، گاؤں باباکلی میں ہوئی جو جلال آباد سے تقریبا 20 کلو میٹر ہے۔[2]۔السیف الصارم انہی کے نام سے منسوب اور سلسلہ سیفیہ کا نمائندہ ماہنامہ ہے۔[2]

القاب و خطابات[ترمیم]

امام الشریعت ،شیخ الطریقت،مقتدائے اہل حقیقت،معدن معرفت،رہنمائے مذہب اہل سنت، صاحب حُجّتِ قاہرہ،مؤیّد مِلّتِ طاہرہ ،مجمع السعادات، مقتدائے صوفیاں ،پیشوائے عارفاں،اعلم العلماء ،افضل الفضلاء ،اکمل الکملاء، امام العرفاء، شیخ الفقراء،امام العارفین ،شیخ السالکین،، سلطان المتقین،حامیِ دینِ متین،نور بخش قلوبِ مومنین،زہد و اتقا میں یگانہ روزگار اور یکتائے زمانہ، فضیلت پناہ، حقیقت آگاہ،علم و عمل کے شہنشاہ ،مجدد عصر رواں،قیوم زماں ،محبوب سبحاں[2]

بانی سلسلہ[ترمیم]

آپ تصوف میں سلسلہ سیفیہ کے بانی ہیں جو اہلسنت والجماعت کے حنفی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کئی غیر مسلموں نے آپ کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا۔[3] ان کے نام کی نسبت سے ان کے پیرو کاروں کو سیفی کہا جاتا ہے (سیفی) وہ سلسلہ تصوف ہے جس میں اتباع سنت کی پابندی پربہت زور دیا جاتا ہے جبکہ لطائف[4]، جیسے قلب ،روح ،سر، خفی، اخفا کی تعلیمات دوران ذکر خفی[5] وجد کی کیفیات [4] بے اختیاری میں ایسی کیفیات کا ظاہر ہونا جس سے جسم کانپتا ہے مختلف آوازیں نکلتی ہیں اس سلسلہ کی خاص علامات ہیں۔[3] لاکھوں مریدین، ہزاروں خلفاء اور اولاد مبارکہ آج بھی سلسلہ سیفیہ کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے زمانے کے بڑے بڑے اکابرین اہلسنت نے ان کی مدح سرائی فرمائی اور آپ کے علم و اخلاص کو سراہا[6]

آباؤ اجداد[ترمیم]

آپ کے والدکانام حافظ قاری محمد سرفراز خان ہے۔ دادا کا نام محمد حیدر خان اورپردادا کا نام محمد علی باباہے۔ آپ کا تعلق پشتونوں کے معزز قبیلہ مہمند سے ہے۔ مہمند قبائل افغانستان اور پاکستان میں ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف آباد ہیں۔ پاکستان کے مشہور و معروف قبائلی علاقے مہمند ایجنسی ،شبقدراور ضلع چارسدہ کے کچھ علاقوں میں آج بھی مہمند قبائل آباد ہیں جبکہ ڈیورنڈلائن کے اس پار افغانستان میں بھی ننگر ہار کے اکثر علاقوں میں مہمند قبائل بستے ہیں۔[2]

قبیلہ[ترمیم]

آپ مہمند قبائل کی ذیلی شاخ موسیٰ خیل سے تعلق رکھتے ہیں آپ کا خاندان اپنے علاقے کے اہل دین، صاحب ثروت اور اعلیٰ حیثیت کا مالک ہے۔ جس کے پاس قبیلے کی ذیلی شاخ موسیٰ خیل کی سربراہی بھی ہے۔[2]

گاؤں کی وجہ تسمیہ[ترمیم]

آپ کے جد امجد پردادا محمد علی بابا کے نام کی وجہ سے گاوں کا نام باباکلی پڑ گیا اور آپ کی اولاد کی کثرت اور جائداد و ثروت کی بنیاد پر علاقے کے اس گاؤں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیاجسے بابا کلی پائیں (نیچے والا)اور باباکلی بالا(اوپر والا)کے ناموں سے پہچانا جاتا ہے۔ آپ کے پردادا کی وفات کے بعد آپ کے دادا محمد حیدر خان اپنے قبیلے کی ذیلی شاخ کے سربراہ بن گئے ۔[2]

والد گرامی[ترمیم]

آپ کے والد قاری سرفراز خان قادری سلسلۂ قادریہ کے ایک عظیمبزرگ تھے۔[7]قاری محمد سرفرازخان کو ان کے والد نے دینی علوم سے کے لیے داخل کرایا حفظ قرآن کا شرف حاصل کیا اور ابتدائی کتابیں علمائے کرام سے پڑھنا بھی شروع کیں لیکن اپنے والد گرامی کے انتقال کی وجہ سے انہیں پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے کیونکہ والد بزرگوارم کی جانشینی نے آپ کے کندھوں پر بہت بوجھ ڈال دیا تھا جن میں گھریلو ذمہ داریوں کے علاوہ قبیلے کی سربراہی اور اس کے ساتھ پنچائت کے فیصلے اور دیگر مصروفیات نے انہیں مروجہ علوم کی تکمیل نہ کرنے دی۔[2]

والدہ محترمہ کی رحلت[ترمیم]

عہد طفلی ہی میں آپ کی والدہ صاحبہ کا انتقال1357ھ میں ہوا۔ اس وقت والدہ محترمہ قندوزمیں موجود تھیں ایک صحیح اورقابل اعتبار روایت کے مطابق جب آپ کی عمر مبارک 12بارہ سال کی تھی کہ جناب کی والدہ محترمہ اس دار فانی سے پردہ فرما گئیں۔ جبکہ8آٹھ سال کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اور یہی اختلاف آپ کی تاریخ پیدائش میں بھی موجود ہے۔ جناب کی والدہ محترمہ کو (سہ درک ) قندوز میں دفن کیا گیا۔[2]

برادران[ترمیم]

آپ کے چار بھائی ہیں ۔

  1. سب سے بڑے بھائی کا اسم گرامی مولانا عبد الباسط المعروف باچہ لالہ ہے۔ جو آپ کے ابتدائی اساتذہ میں سے بھی ہیں جن سے آپ نے بوستاں تک اسباق پڑھے جن کا وصال ہو چکا ہے۔
  2. دوسرے بڑے بھائی کا نام نامی مولانا باچہ محمد صادق بھی وصال فرما چکے ہیں۔
  3. تیسرے آپ سے چھوٹے بھائی فضل الرحمٰن المعروف معاون صاحب تھے جوجہاد افغانستان کے ابتدائی دور میں روسی افواج کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں ۔
  4. چوتھے سب سے چھوٹے مفتی غلام الرحمٰن المعروف مولوی صاحب حیات ہیں جو جلال آباد میں کوٹ بابا کلی میں اپنی آبائی زمینوں میں کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ درس و تدریس میں مشغول ہیں۔ اور ساتھ ہی صوبہ جلال آباد میں میں صوبائی جج کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔[2]

صاحبزادگان[ترمیم]

1۔ حضرت علامہ صاحبزادہ پیر سعید حیدری سیفی صاحب

2۔ جانشین و منظور نظر امام خراسان، شیخ الحدیث حضرت صاحبزادہ مولانامحمد حمید جان سیفی صاحب|مدظلہ مدظلہ العالی

3۔ حضرت علامہ صاحبزادہ قاری پیر حبیب جان سیفی صاحب

4۔ حضرت علامہ صاحبزادہ پیر احمد سعید یار سیفی صاحب

5۔ حضرت صاحبزادہ علامہ پیر احمد حسین پاچاسیفی صاحب

6۔ حضرت صاحبزادہ علامہ پیر عبید الرحمن پاچا سیفی صاحب

7۔ حضرت صاحبزادہ علامہ پیر احمد حسن پاچا سیفی صاحب

8۔ حضرت صاحبزادہ علامہ پیر محمد محسن پاچاسیفی صاحب

حصول علم کے مقامات[ترمیم]

آپ نے افغانستان و ہندوستان (موجودہ پاکستان)کے مختلف شہروں میں سفر کرکے دینی علوم کی تحصیل فرمائی آپؒ نے 16بڑے نقلیہ و عقلیہ علوم، ترجمہ قرآن مجید و تفسیر ،علم صرف ونحو،علم فقہ، اصول علم معانی وبیان علم ریاضی و تاریخ علم حکمت و فلسفہ علم منطق و عقائد علم تفسیر ،اصول تفسیر علم حدیث و اصول حدیث میں استفادہ اور مکمل دسترس حاصل کی۔[8] جن علاقوں میں اس وقت آپ علم حاصل کرنے کے لیے تشریف لے گئے درۃ البیان سیرت حضرت آخوند زادہ سیف الرحمن کے مطابق مندرجہ ذیل ہیں

  1. ماشو خیل یہ پشاور کے مضافات میں باڑہ کی طرف واقع ہے ۔
  2. شہاب خیل یہ باڑہ کے جنوب میں واقع ہے ۔
  3. بھانہ ماڑی یہ پشاور شہر کے جنوب میں ہے ۔
  4. تہکال پایاں یہ پشاور کے مغرب میں تھا جو اب پشاور شہر کا حصہ بن چکا ہے ۔
  5. چار پریزہ یہ پشاور شہر سے شمال مغرب میں واقع ہے جو پشاور سے چند میل دور ہے۔
  6. مازو کلی یہ مردان شہر کے مشرق میں چند میل کے فاصلے پرموجود ہے۔[2]

اساتذہ کرام کے اسمائے گرامی[ترمیم]

  • آپ کے پہلے استادآپ کے والد گرامی حافظ قاری محمد سرفراز خانؒ تھے ان کے علاوہ اساتذہ کرام کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں
  • مولانا محمد آدم خان (امازو گڑھی)
  • شیخ القرآن محمد اسلام بابا صاحبؒ ( بابا کلی کوٹ)
  • شیخ القرآن والحدیث مولانا ولید صاحب صاحب المعروف وزیر ملّا صاحب ؒ( کوٹ حیدر خیل)
  • مولوی محمد اسلم صاحبؒ ( کوٹ حیدر خیل)
  • مولوی محمد فقیر صاحب سرے غنڈے (فرید کلا جات)
  • مولانا محمد حسین صاحبؒ(مترالی گاؤں)
  • مولانا عبد الباسط المعروف باچہ لالہ صاحبؒ (بڑے بھائی جن سے آپ نے بوستاں وغیرہ پڑھی)
  • سید عبد اﷲ شاہ صاحبؒ ( سید احمد خیل گاؤں )
  • مولانا مولوی صاحب لوگر باغ سری پایا ن صاحبؒ(ضلع قندوز)۔[2]

آخوندزادہ کی تحقیق[ترمیم]

آخوند زادہ ایک لقب ہے جو استاد یا معلم کے بیٹے کے لیے بولا جاتا ہے یہ پہلے وسطی ایشیا میں علما کے لیے کہا جاتا تھا جس سے مراد ایک مخصوص دینی منصب ہوتا تھامشرقی ترکستان میں یہ لفظ آفندی (sir)کی جگہ استعمال ہوتا ہے جس سے مراد بلند مرتبہ علما ہوتے ہیں (اردو دائرہ معارف اسلامیہ) تاریخ الاولیاء میں ابو الاسفار علی محمد البلخی تحریر کرتے ہیں۔ ایں لفظ را فارسی آخوند تحریر میکنند وبہ افغانی اخون میباشد وآخند لغتے ست در آخوند کہ بسیار شائع میباشد یہ لفظ فارسی میں آخوند تحریر کیا جاتا ہے اور افغانی زبان میں اسے اخون کہتے ہیں جو کثرت استعمال سے آخوند آخند ہو گیا ۔[2]

بیعت[ترمیم]

  • آپ نے اپنے وقت کے شیخ المشائخ مولانا شاہ رسول طالقانی رحمتہ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ مرشد کے وصال کے بعد ان کے خلیفہ اعظم حضرت مولانا محمد ہاشم سمنگانی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت فرما کر ان کی زیر تربیت رہے۔ مرشد نے آپ کی تربیت فرما کر خلافت مطلقہ عنایت فرمائی۔ محمد ہاشم سمنگانی نے آخوند سیف الرحمن کے متعلق فرمایا کہ:
آخوندزادہ مثل سورج کے ہیں جس طرف بھی جائیں گے، تاریکی کو ختم کریں گے‘‘ ۔ حضرت مرشد کامل مکمل نے خلافت عنایت فرمائی تو خلافت نامہ پر لکھا ’’جو (آخوندزادہ مبارک) کا مقبول ہے وہ میرا بھی مقبول ہے اور جو ان کا مردود ہے وہ میرا بھی مردود ہے

۔[9]

عقائد اپنی زبان سے[ترمیم]

کئی مرتبہ ان کے اپنے الفاظ یہ تھے ’’کہ بحمدﷲ میں اﷲ کا عاجز بندہ ہوں کہ تمام سرزمین پر اپنے آپ سے بااعتبار ذوق کوئی مجھے ادنیٰ ترین نظر نہیں آتا اور خاتم النبیین حضرت محمد رسول اﷲﷺ کا امتی ہوں اور حضور اکرمﷺ کی ختم نبوت پر اعتقاد رکھتا ہوں اور فروع و فقہ میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کوفی رحمتہ اﷲ علیہ کا مقلد ہوں اور اصول و عقائد میں اہل سنت و جماعت کے عظیم پیشوا حضرت امام ابو منصور ماتریدی رحمتہ اﷲ علیہ کا تابع ہوں اور تصوف و طریقت میں حضرت خواجہ بزرگ محمد بہاء الدین شاہ نقشبند رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت الشیخ سیدنا عبد القادر جیلانی رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت شیخ شہاب الدین الصدیقی سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت خواجہ سید معین الدین اجمیری رحمتہ اﷲ علیہ کی تعلیمات کا تابع اور انہی بزرگان دین کا بالواسطہ مرید ہوں ‘‘[10]

چار سلاسل طریقت[ترمیم]

آپ چاروں سلسلہ ہائے تصوف نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ اور سہروردیہ کے باقاعدہ خلافت و اجازت یافتہ ہیں اور ان سلاسل کے تمام اسباق اپنے مریدین کو درجہ بدرجہ سکھاتے ہیں اور خلافت مطلق انہی خلفا ءکو ملتی ہے جو ان چاروں سلاسل کے تمام اسباق مکمل کر لیں۔ ان سلاسل اربعہ میں وہ خلفاء جن کو باقاعدہ طور پرسند خلافت جاری کی چا چکی ہے ان کی تعداد 40 ہزار سے متجاوزہے۔[11]

وصال[ترمیم]

آخوند زادہ سیف الرحمن رحمتہ اللہ علیہ کی وفات 27 جون بروز اتوار 2010ء بمطابق 15 رجب 1431 ھ کو ہوئی۔[12]

مزار پر انوار

آپ کا مزار مبارک مرکزی آستانہ عالیہ نقشبندیہ سیفیہ، فقیر آباد شریف، لکھو ڈھیر، لاہور،صوبہ پنجاب، پاکستان میں ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.sunniforum.com/forum/showthread.php?70159-Naqshbandi-Saifi-Pakistan
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ماہنامہ السیف الصارم فروی 2009 ادارہ محمدیہ سیفیہ روای ریان لاہور
  3. ^ ا ب Ken Lizzio, Ph.D., Ritual and Charisma in Naqshbandi Sufi Mysticism page 16
  4. ^ ا ب تحفہ نقشبندیہ شیخ محمد بن سلیمان بغدادی صفحہ71 دارالاخلاص مرکز تحقیق اسلامی لاہور
  5. تحفہ نقشبندیہ شیخ محمد بن سلیمان بغدادی صفحہ76 دارالاخلاص مرکز تحقیق اسلامی لاہور
  6. Welcome sunniforum.net - BlueHost.com
  7. Quarterly Anwar-e-Riza, 3rd Quarter, 2008 (سہ ماہی، انوار رضا، 2008 كا تيسرا شماره)
  8. سلسلہ سیفیہ کے سربراہ۔ ۔۔ ۔۔۔ تحریر :ڈاکٹر غلام مرتضیٰ محمدی سیفی « Daily Saltanat Online Edition
  9. بدرۃ البیان فی سیرت آخوند زادہ سیف الرحمن صفحہ 57مطبوعہ المکتبۃ الرحیمیہ پشاور
  10. پیر طریقت علامہ پیر سیف الرحمن علیہ الرحمہ ایک عہد ساز شخصیت Pioneers of Islamic Beliefs And Protection. Islamic Magazine Tahaffuz Karachi, Pakistan
  11. سہ ماہی انوار رضا جوہر آباد صفحہ 84 حضرت آخوند زادہ مبارک نمبر
  12. روزنامہ خبریں 30جون 2010