محمد شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو الفتح نصیر الدین روشن اختر محمد شاہ
محمد شاہ

Flag of the Mughal Empire (triangular).svg بارہواں مغل شہنشاہ
دور حکومت 27 ستمبر 1719ء26 اپریل 1748ء
(دورِ حکومت: 28 سال 6 ماہ 29 دن)
تاج پوشی 29 ستمبر 1719 بمقام تاجپور
حاکم سید برادران (1719ء1722ء)
معلومات شخصیت
اصل نام روشن اختر بہادر
پیدائش جمعہ 24 ربیع الاول 1114ھ/ 18 اگست 1702ء

فتح پور، مغلیہ سلطنت
وفات جمعرات 27 ربیع الثانی 1161ھ/ 25 اپریل 1748ء
(عمر: 45 سال شمسی، 47 سال قمری)

لال قلعہ، دہلی، مغلیہ سلطنت، موجودہ بھارت
مدفن مقبرہ محمد شاہ، نظام الدین اولیاء، دہلی، موجودہ بھارت
مذہب سنی اسلام
زوجہ صاحب محل
صفیہ سلطان بیگم
قدسیہ بیگم
اولاد احمد شاہ بہادر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد جہان شاہ
والدہ قدسیہ بیگم
خاندان تیموری سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
نسل شہریار شاہ بہادر
احمد شاہ بہادر
تاج محمد
انور علی
بادشاہ بیگم
جہان افروز بانو بیگم
حضرت بیگم صاحبہ الزمانی
خاندان تیموری
دیگر معلومات
پیشہ خطاط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

محمد شاہ، المعروف محمد شاہ رنگیلا، روشن اختر، نصیر الدین شاہ، مغلیہ سلطنت کا چودھواں بادشاہ (1719ء – 1748ء)۔ محمد شاہ اورنگ زیب عالمگیر کے بعد قیادت اور سیاسی ابتری کے بحران میں طویل المدت بادشاہ گزرا ہے۔ محمد شاہ رنگیلا نے اپنی مدتِ حکومت کا زیادہ تر وقت عیش و نشاط پرستی میں گزارا۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کا پہیا جو اورنگ زیب عالمگیر کے بعد سے چلنا شروع ہو چکا تھا اس کا سد باب محمد شاہ کے 27 سالہ طویل دور میں کیا جاسکتا تھا۔ مگر بدقسمی کہ بادشاہ کی عیش پسندی اور بے فکری کے سبسب نظم و نسق کی ذمہ داری وزراء کے کاندھوں پر تھی جن کی سیاسی چشمک نے ملک کو سیاسی اور اقتصادی بحران سے دوچار کر رکھا تھا۔ نظام الملک آصف جاہ نے جو ایک مخلص امیر تھا حالات پر قابو پانے کی بہت کوشش کی مگر وہ بھی مایوش ہو کر دکن واپس چلا گیا [1]۔ مرہٹوں اور سکھوں کی بغاوت جسے اورنگ زیب عالمگیر نے کچل کر رکھ دیا تھا دوبارہ سر اٹھانے لگیں تھیں لیکن محمد شاہ ان سے بےخبر عیش و طرب میں وقت گزارتا رہا۔ جب محمد شاہ کو نادر شاہ کے حملہ کی اطلاع ملی تو اس نے نہایت بدحواشی میں زوجہ بہادر شاہ (حضرت مہر پرور) سے مشورہ طلب کیا۔ حادثہ نادر شاہی کے معاصر مولف نے اس معمر خاتون کے جواب کو محفوظ رکھا ہے جو صحیح ترین تجزیے پر مبنی ہے، ملاحظہ ہو:

"شخصی کہ از ایام طفولیت عمر در صحبتِ زنان بسر بردہ باشد، از اور در میدان نبرد چہ دلیری می تواند شد؟ و صریح می دانند کہ جمیع امرایان بنا بر بے خبری و سستی عمل شما ملک پادشاہی را متصرت شدہ، خزانہ و جواہر بے شمار جمع کردہ اند و ہیچ کس تابیع و حکم والا نیست، شما ہمیں چہار دیواری قلعہ ارک را سلطنت خود تصور فرمودہ سیر باغات وصحبت اوباش غنیمت شمردہ، از مملک محروسہ، مطلق بے خبر ہستید۔" [2]

جنگ کرنال اور دہلی کی بربادی[ترمیم]

1738 میں نادر شاہ نے قندھار پر قبضہ کر کے ہوتکی سلطنت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ میر وایس ہوتک نے 1709 میں صفوی سلطنت کو شکست دے کر قندھار میں ہوتکی سلطنت کی بنیاد رکھی جو 1738 نادر شاہ حملہ تک قائم رہی۔ قندھار پر نادر شاہی قبضہ کے بعد افغان باغیوں کی حوالگی کے مطالبے اور اس پر عمل درآمد نہ ہونے پر نادر شاہ کابل کو فتح کرتا ہوا دہلی کی جانب بڑھنا شروع ہوا۔ محمد شاہ اور نادر شاہ کے درمیان جنگ 1739ء   میں کرنال  کے مقام پر  ہوئی جو دلی کے شمال میں تقریباً 110 کلو میٹر پر واقع ہے۔ محمد شاہ کی 100،000 سے زائد فوج نادر شاہ کی 55000 فوج کا مقابلہ نہ کر سکی۔ ایک بات جو اہم تھی وہ یہ کہ نادر شاہ کی فوج جدید توپوں، بندوقوں اور زمبورک (ایک طرح کی کم وزن توپ جسے اونٹوں پر لگا کر داغا جاسکتا ہے) سے لیس تھی جو کم وزن اور آسانی سے منتقل و نسب کی جا سکتی تھیں۔ جبکہ محمد شاہ کی فوج کے ہتیار بھاری بھرکم اور پرانی طرز کے تھے جن کی کثرت نادر شاہ کی چست اور منظم فوجی اقدام کے مقابل بے سود ثابت ہوئی۔ بھاری بھرکم ہتیار اور غیر منظم فوج اگر کثیر ہو تو وہ چست اور متحرک فوج کا آسانی سے نشانہ بن جاتی ہے۔ جنگ کرنال میں بھی یہی ہوا اور محمد شاہ کو اس کی ناتجربہ کاری اور کمزور جنگی حکمت عملی کے سبب شکت فاش ہوئی۔ محمد شاہ گرفتا ہو کر نادر شاہ کے ساتھ دلی میں داخل ہوا، اب مغل خزانوں کی چابی نادر شاہ کے ہاتھ تھی۔ اہلیان شہر کی بغاوت اور نادری فوجیوں کے قتل کے واقع پر نادر شاہ نے قتل عام کا حکم دیا اور دلی میں لوٹ مار اور غارت گری شروع ہوئی۔ نادر شاہ جب دلی سے لوٹا تو اس کے ہمراہ بیش بہا دولت تھی، دریائے نور، کوہِ نور، تختِ طاؤس ہزاروں ہاتھی اور جنگی گھوڑے اور جواہرات اس میں شامل تھے۔ جو مال و جواہر اس کے ہاتھ لگا اس کی قیمت کروڑوں کے قریب بتائی جاتی ہے، اس کی قیمت کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نادر شاہ نے اپنی سلطنت میں 3 سال تک ٹیکس وصول نہ کیا۔  نادر شاہ کے ہاتھوں مغل سلطنت کو شکست کے بعد پھر سنبھلنے کا موقع نہیں ملا، بتدریج حالات دگرگوں ہوتے چلے گئے۔

افسوس کہ سلطنت مغلیہ کے جانشین اس قدر نا اہل اور کند ذہن ہو چکے تھے کہ اس شکست سے زرا بھی سبق نہ سیکھا چہ جائیکہ ملک کا نظم و نسق سنبھالتے۔ نیز یہ کہ مغل امراء کی سیاسی کشمکش نے بھی سلطنت کو خاصہ نقصان پہنچایا، ان کی زاتی مفاد و خود غرضی پر مبنی گروہبندیوں  نے رہی سہی کسر بھی نہ چھوڑی لحٰذا بادشاہوں کی کم عقلی اور بے خبری کا فائدہ رزیل اور کم ظرف لوگ شاہی دربار میں مصائب و امراء کی جگہ پاتے رہے اور مخلص اور قابل امراء بے اثر ہوتے چلے گئے۔


وارد تہرانی نے لکھا ہے کہ محمد شاہ اپنے ستائیس سالوں میں سوائے سیر و شکار کے دہلی سے باہر نہیں نکلا[3]۔ اورنگ زیب نے جن خلاف شریعت رسوم کو ختم کر دیا تھا ان بے پروا بادشاہوں کے دور میں پھر شروع ہو گئی تھیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مقاماتِ مظہری - تالیف: حضرت شاہ غلام علی دہلوی، تحقیق وتعلیق وترجمہ: محمد اقبال مجدّدی
  2. حادثہ نادر شاہی مرتبہ رضا شعبانی، ص 46۔
  3. وارد تہرانی - تاریخ نادر شاہی (نادر نامہ) مرتبہ رضا شعبانی


پیشرو 
شاہجہان ثانی
مغل شہنشاہ
1719–1748
جانشین 
احمد شاہ بہادر