شاہ جہاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شاہجہان سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
شاہ جہاں
Umbrella-china2-lg.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 5 جنوری 1592[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قلعۂ لاہور[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 22 جنوری 1666 (74 سال)[1][2][3][4][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قلعہ آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن تاج محل،  آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت[7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ ممتاز محل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد دارا شکوہ،  اورنگزیب عالمگیر،  جہاں آرا بیگم،  شاهزادی روشن آرا بیگم،  پرہیز بانو بیگم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد نورالدین جہانگیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ شہزادی مانمتی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
خاندان تیموری خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
مغل شہنشاہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
19 جنوری 1628  – 31 جولا‎ئی 1658 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نورالدین جہانگیر 
اورنگزیب عالمگیر  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ بادشاہ[8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

شہاب الدین شاہ جہاں اول (پیدائش: 5 جنوری 1592ء— وفات: 22 جنوری 1666ء) سلطنت مغلیہ کا پانچواں شہنشاہ تھا جس نے 1628ء سے 1658ء تک حکومت کی۔ 1658ء میں شاہ جہاں کو اُس کے بیٹے اورنگزیب عالمگیر نے معزول کر دیا۔اُسے ماہر تعمیرات شہنشاہ بھی کہا جاتا ہے۔

نام و القابات[ترمیم]

شاہجہاں کا اصل نام خرم ہے جبکہ کنیت ابو المظف رہے۔ لقب اعلیٰ حضرت صاحبِ قرآنِ ثانی ہے۔ مورخین نے اِختصار سے کام لیتے ہوئے یہ نام تاریخ میں لکھا ہے: اعلیٰ حضرت صاحب قرآنِ ثانی ابو المظفر شہاب الدین محمد خرم شاہجہاں اول۔مکمل نام مع القابات یوں ہے:

شاہنشاہ السلطان الاعظم والخاقان المکرم ملک السلطنت اعلیٰ حضرت ابو المظفر شہاب الدین محمد شاہجہاں اول صاحب قرآنِ ثانی پادشاہ غازی ظل اللہ فردوسِ آشیانی شہنشاہِ سلطنت الہِندیۃ والمُغلیۃ۔

شجرہ نسب[ترمیم]

شاہجہاں کے والد جہانگیر تھے، دادا اکبراعظم اور پردادا ہمایوں تھے جبکہ سکردادا بابر تھے۔

شاہجہاں کا شجرہ نسب یوں ہے:

شہاب الدین محمد شاہجہاں ابن نور الدین جہانگیر ابن جلال الدین محمد اکبر بادشاہ ابن نصیر الدین محمد ہمایوں بادشاہ ابن ظہیر الدین محمد بابر۔

والدین[ترمیم]

شاہجہاں کے والد مغل شہنشاہ جہانگیر تھے۔ شاہجہاں کی والدہ شہزادی مانمتی تھیں جو تاج بی بی بلقیس مکانی بیگم کے لقب سے مشہور تھیں۔ ہندو مورخین نے شہزادی مانمتی کا نام جگت گوسائیں بھی لکھا ہے جس کی تائید اکثر مسلم مورخین نے بھی کی ہے۔

ولادت[ترمیم]

شاہجہاں کی ولادت بروز بدھ 30 ربیع الاول 1000ھ مطابق 15 جنوری 1592ء کو دارالسلطنت لاہور میں ہوئی۔[9] شاہجہاں کی ولادت اُن کے دادا اکبر اعظم کی حکومت کے 36 ویں سال میں ہوئی۔ اُس وقت لاہور مغل سلطنت کا دارالسلطنت تھا اور مغل شہنشاہ اکبر اعظم 1586ء سے مع مغل شاہی خاندان کے یہیں مقیم تھا۔

1628ء کا نوروز[ترمیم]

1628ء میں شاہجہاں نے نوروز کا جشن بڑے تزک و اِحتشام کے ساتھ منایا۔ اِس تہوار کی تقدیس و احترام میں اضافہ کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ 4 شہزادے تخت کے چاروں اطراف کھڑے ہوئے اور شاہجہاں نے خاندان کو بیش بہا تحائف دیے۔ اِن تحائف کی مالت لاکھوں روپوں میں تھی۔ آصف خان کے منصب کو بڑھا کر نو ہزار ذات سے نو ہزار سوار کر دیا گیا۔ درباریوں کو بھی گراں قدر انعامات دیے گئے۔

بطور شہنشاہِ ہند تخت سے معزولی[ترمیم]

اورنگ زیب نے جنگِ تخت نشینی کے دوران باقاعدہ اعلان جاری کیا تھا کہ اُس کی لڑائی صرف دارا شکوہ سے ہے اور باپ سے اُسے کوئی پرخاش نہیں۔ لیکن اورنگ زیب کی تخت نشینی سے لے کر 1666ء تک شاہجہاں قلعہ آگرہ میں قیام پزیر رہا۔

آخری ایام کے معمولات[ترمیم]

ملا صالح کمبوہ نے شہنشاہ شاہجہاں کے اُن اواخر ایام کا تذکرہ "عمل صالح میں کیا ہے جو شاہجہاں نے سنہ 1658ء سے 1666ء تک آگرہ کے قلعہ میں نظر بندی کی مدت میں گزارے۔

" شاہجہاں قلعہ آگرہ میں نظر بند تھے، اِس کے باوجود اُن کے فیض و کرم کا دروازہ کھلا رہا۔ ضرورت مند ہمیشہ اُن تک پہنچ کر اُن کے جود و اِحسان سے فیض یاب ہوئے۔ سید محمد قنوجی سال 32 جلوس کے آغاز سے ہی ہمیشہ شاہجہاں کی مجلسِ خاصہ میں حاضر رہتا، قرآن کریم کے نکتے اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرکے حاضرین کو مستفید کیا کرتا۔ اِس مدت میں شاہجہاں صبر و قناعت کے ساتھ قلعہ آگرہ میں گوشہ نشیں تھے۔ دِن رات کا زیادہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرض و سنت نمازیں ادا کرنے، کلام اللہ کی تلاوت و کتابت میں بسر ہوتا۔ بزرگوں کے اقوال اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنا کرتے تھے، فیض و بخشش اور سخاوت کا دروازہ کھلا رہتا تھا۔[10]

تعمیرات[ترمیم]

سِکے[ترمیم]

1629ء میں شاہجہاں نے نئے سکے بنوائے۔ یہ سکے چاندی، سونا، کانسہ اور تانبے کے بنائے گئے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119006693 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Shah-Jahan — بنام: Shah Jahan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6kd24rh — بنام: Shah Jahan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب دائرۃ المعارف یونیورسل آن لائن آئی ڈی: https://www.universalis.fr/encyclopedie/shah-jahan/ — بنام: SHĀH JAHĀN (1592-1666) grand moghol de l'Inde — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ناشر: Encyclopædia Britannica Inc.
  5. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Шах-Джахан — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  6. فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=3494 — بنام: Shah Jahan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. http://www.getty.edu/vow/ULANFullDisplay?find=&role=&nation=&subjectid=500245103 — اخذ شدہ بتاریخ: 23 اکتوبر 2018
  8. اجازت نامہ: CC0
  9. ملا صالح کمبوہ: عمل صالح (شاہجہاں نامہ)، ص 17۔
  10. ملا صالح کمبوہ : عمل صالح، ص 550/551 ۔
شاہ جہاں
پیدائش: 5 جنوری 1592ء وفات: 22 جنوری 1666ء
شاہی القاب
ماقبل 
نورالدین جہانگیر
مغل شہنشاہ
19 جنوری 1628ء31 جولائی 1658ء
مابعد 
اورنگزیب عالمگیر