عبدالحکیم سیالکوٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیخ عبد الحکیم سیالکوٹی المعروف فاضل لاہوری ایک ممتاز اور نامور مسلم عالم دین تھے ۔

ولادت[ترمیم]

عبد الحکیم سیالکوٹی989ھ بمطابق 1581ء سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔[1]

حالات زندگی[ترمیم]

شیخ عبد الحکیم سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شمس الدین جلال الدین اکبر کے دور میں سرکاری مدرسہ میں علم دین پڑھاتے رہے انہیں فاضل لاہوری کے لقب سے شہرت حاصل ہوئی جہانگیر کے شہزادوں کو تربیت دیتے رہے وہاں سے انہیں ملک العلماء کا خطاب ملا ۔

علمی مقام[ترمیم]

شیخ کمال الدین کشمیری سے کسب علم کیا۔ مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی نئی راہوں کو بروئے کار لائے۔ شاہ جہاں ان کا بہت معترف تھا۔ دو بار ان کو چاندی سے تولا اور سب کی سب ان کو بخش دی۔ ان کا وظیفہ مقرر کر رکھا تھا تاکہ وہ بے نیاز ہو کر اپنی علمی و ادبی مصروفیات جاری رکھ سکیں۔ شاہ جہاں نے ان کو رئیس العلماء کا خطاب دے رکھا تھا اور وہ کوئی اہم کام بغیر ان کی مرضی کے نہیں کرتا تھا۔ ان کو جو شان و عظمت نصیب ہوئی اس دور میں کسی کو نہیں ملی۔ تمام قسم کے علم و فضل ان میں جمع تھے۔ اور وہ اپنے دور کے یکتا تھے۔ انھوں نے اپنی جوانی اور بڑھاپا اہم مسائل کے تفقہہ اور ان کے حل کرنے میں لگا دیا۔

تصانیف[ترمیم]

ان کی تصانیف میں

  • حاشیہ بیضاوی،
  • حاشیہ مطول،
  • حاشیہ شرح المطالعہ،
  • حاشیہ للخیاتی،
  • حاشیہ شرح العقائد
  • رسائل کا مجموعہ وغیرہ ہیں۔
  • اس کے علاوہ اور بھی کچھ کتا بوں کی شرحیں لکھیں۔ ملا عبد الحکیم کا حاشیہ بہت اچھا اور اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے قلمی نسخے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں اور یہ کتاب شائع بھی ہو چکی ہے۔ یہ حاشیہ ان کی علمی قابلیت کے ساتھ ساتھ مذہبی معلومات پر عبور اور فہم قرآنی کی دلیل ہے۔ اس حاشیے کی وجہ سے ان کی بڑی شہرت ہوئی۔ خلاصتہ الاثر میں لکھا ہے کہ علما ہند میں جو مرتبہ ان کا تھا وہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوا۔[2]

مجدد الف ثانی سے نسبت[ترمیم]

آپ مجدد الف ثانی کے ہم سبق تھے اور مجدد الف ثانی ان کا احترام کرتے جس سے ظاہر ہوتا کہ عمر میں ان سے بڑے تھے روایت مشہور ہے کہ آپ نے سب سے پہلے شیخ احمد سرہندی کے لیے مجدد کا لقب استعمال کیا اس کے علاوہ 1023ھ 1614ء کو سیالکوٹ سے سرہند پہنچ کر بیعت کی اور ان کے مجدد الف ثانی کے دلیل میں ایک رسالہ دلائل التجدید لکھا شیخ احمد سرہندی نے انہیں آفتاب پنجاب کے لقب سے نوازا

وفات[ترمیم]

ان کی وفات18 ربیع الاوی 1067ھ بمطابق 1657ء میں ہوئی ان کا مزار شریف موجودہ پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں ہے۔[3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ضیائے طیبہ
  2. ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں مصنف محمد اسلم قدوائی مکتبہ جامع نئی دھلی
  3. اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 12 صفحہ 834 دانش گاہ پنجاب لاہور
  4. حدائق الحنفیہ

بیرونی حوالہ جات[ترمیم]

٭ مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی۔ ایک تبصرہ