ابو یوسف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو یوسف
(عربی میں: أبو يوسف ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 731  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوفہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 ستمبر 798 (66–67 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ
Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ ابو حنیفہ، شعبہ بن حجاج  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص محمد بن حسن شیبانی، احمد بن حنبل  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ قاضی، مجتہد، فلسفی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت کوفہ، بغداد  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ابو یوسف (پیدائش: 113ھ/ 731ء – وفات: 5 ربیع الاول 182ھ/ 26 اپریل 798ء) امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور حنفی مذہب کے ایک امام، یعقوب نام، ابویوسف کنیت، آپ امام ابوحنیفہ کے بعد خلیفہ ہادی، مہدی اور ہارون الرشید کے عہد میں قضا کے محکمے پر فائز رہے اور تاریخ اسلام میں پہلے شخص ہیں جن کو قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کے خطاب سے نوازا گیا‘ لیکن بادشاہ کی ہاں میں ہاں ملاکر نہیں رہے، بلکہ ہرمعاملہ میں شریعت کا اتباع کرتے، یہاں تک کہ بادشاہ کا مزاج درست کر دیا۔ آپ کی مشہور تصنیف کتاب الخراج فقہ حنفی کی مستند کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔

نسب[ترمیم]

ابو یوسف یعقوب بن ابراہم بن حبیب بن سعد بن بحیر بن معاویہ بن قحافہ بن نفیل بن سدوس بن عبد عناف بن اسامہ بن سحمہ بن سعد بن عبد اللہ بن قدار بن معاویہ بن ثعلبہ بن معاویہ بن زید بن العوذ بن بجیلہ انصاری البجلی۔[1] سعد وہی صحابی ہیں جو غزوہ احد میں رافع بن خدیج اور ابن عمر کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے پیش کیے گئے مکر کم عمر ہونے کی وجہ سے جنگ میں شرکت کی اجازت نہیں ملی۔ بعد میں خندق و دیگر غزوات میں شرکت کا موقع ملا، عمر بن خطاب کے دور میں کوفہ مین وفات پائی۔ ابن عبد البر نے استیعاب میں نقل کیا ہے کہ

غزوہ خندق کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سعدکو دیکھا کہ کم عمر ہونے کے باوجود بڑی بہادری سے لڑ رہا ہے ت وپوچھا نوجوان تمہارا نام کیا ہے؟ جواب دیا سعد بن حبتہ' نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہارے دادا کو نیک بخت بنائے ذرا میرے قریب آؤ، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے سر پر اپنا دست شفقت پھیرا۔[2]

تالیفات[ترمیم]

  • 1- كتاب الْآثَار "مُسْند الإِمَام أبي حنيفَة"۔
  • 2- كتاب النَّوَادِر۔
  • 3- اخْتِلَاف الْأَمْصَار۔
  • 4- أدب القَاضِي۔
  • 5- المالي فِي الْفِقْه۔
  • 6- الرَّد على مَالك بن أنس۔
  • 7- الْفَرَائِض۔
  • 8- الْوَصَايَا۔
  • 9- الْوكَالَة۔
  • 10- الْبيُوع۔
  • 11- الصَّيْد والذبائح۔
  • 12- الْغَصْب والاستبراء۔
  • 13- كتاب الْجَوَامِع [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. علامہ زید الکوثری۔ قاضی ابو یوسف حیات اور علمی کارنامے۔ کراچی: دار النعمان۔ صفحہ 15۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت); More than one of |pages= and |page= specified (معاونت)
  2. ابن عبد البر، الاستیعاب، جلد 2، صفحہ 884، تذکرہ 923
  3. الخراج مؤلف : ابو يوسف يعقوب بن ابراہيم بن حبيب بن سعد بن حبتۃ الانصاری ناشر : المكتبۃ الازہریۃ للتراث القاہرہ