محمد بن حسن شیبانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد بن حسن شیبانی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 750[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
واسط[2]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 805 عیسوی
رے[3]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
عملی زندگی
استاذ ابو حنیفہ[3]،  ابو یوسف[3]،  مالک بن انس[3]  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص محمد بن ادریس شافعی[3]  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فقیہ،  قاضی[3]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[4]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں الجامع الكبير،  کتاب الآثار  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ابوحنیفہ
P islam.svg باب اسلام

امام محمد بن حسن شیبانی پورا نام ابو عبد اللہ محمد بن حسن بن فرقد شیبانی، امام ابو حنیفہ کے شاگرد اور مشیر خاص تھے۔امام ابو یوسف کے بعد آپ جید شاگرد تھے۔ استاد کے نظریات کو تدوین کرنے میں ان کی محنت بھی شامل تھی۔ فقہ حنفی کے اولین مرتب،جو امام محمد کے نام سے مشہور ہیں۔

نسب[ترمیم]

محمد بن حسن بن عبد اللہ طاؤس بن ہرمز ملک بنی شیبان۔

شیبان کی نسبت[ترمیم]

نسبت شیبان کے متعلق مختلف آراء ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ قبیلہ کی طرف نسبت ہے اور بعض محققین کے نزدیک نسبت ولائی ہے کیونکہ آپ کے والد بنو شیبان کے غلام تھے۔

پیدائش[ترمیم]

اصل میں ان کا قریہ حرستا ہے یہ غوطہ دمشق کے قریب ہے جبکہ ان کی پیدائش واسط میں ہوئی اور زیادہ زندگی كوفہ میں گزاری۔

ولادت[ترمیم]

ان کا سنہ ولادت 132ھ یا 135ھ ہے۔ان کے والد دمشق کے ایک گاؤں حرستا (ابن سعد نے لکھا ہے کہ یہ جزیرہ کے رہنے والے تھے، ان کے والد فوجی ملازمت کے سلسلہ میں شام آئے اور وہیں سکونت پذیر ہوگئے، خطیب بغدادی کا خیال ہے کہ وہ دمشقی تھے اور وہاں سے واسط چلے آئے تھے، قاضی ابوحازم کا بیان ہے کہ وہ قریۂ رملہ (فلسطین) کے قریب کے رہونے والے تھے [5] ان بیانات میں زیادہ تضاد نہیں ہے، ہوسکتا ہے کہ ان کے والد نے شامی لشکر کی ملازمت کے سلسلہ میں ان تمام مقامات پرقیام کیا ہوا سلیے کہ حرستا اور رملہ دونوں شام کے ملحقہ علاقے ہیں اور جزیرہ بنوشیبان کی چراگاہ تھی اور وہاں برابر ان کی آمدورفت رہا کرتی تھی، اس بناپرامام محمد کے وطن کی نسبت اس طرف ہوجانا کوئی تعجب خیز نہیں ہے؛ لیکن یہ غلط ضروری ہے ہم نے اس سلسلہ میں سمعانی اور امام نووی کے بیانات کوترجیح دی ہے) کے رہنے والے تھے، ترکوطن کرکے یابہ سلسلۂ ملازمت عراق آئے اور وہیں کے ایک گاؤں واسط میں سکونت اختیار کرلی، امام محمد یہیں سنہ132ھ میں پیدا ہوئے (بعض روایتوں میں ان کا سنہ ولادت سنہ135ھ اور بعض میں سنہ131ھ درج ہے؛ لیکن صحیح سنہ132ھ ہے)۔[6]

تعلیم وتربیت واسط[ترمیم]

میں ابھی عمر کے چند ہی سال گذرنے پائے تھے کہ ان کے والد وہاں سے شامی لشکر کے ساتھ کوفہ چلے آئے اور پھروہیں مستقل بودوباش اختیار کرلی، کوفہ اس وقت علم وفن کا مرکز اور علماء ومشائخ کا گہوارہ تھا، علمی اعتبار سے اسے تمام ممالکِ اسلامیہ میں ام البلاد کی حیثیت حاصل تھی؛ اسی مادرِ علمی کی آغوش میں امام محمد رحمہ اللہ کی تعلیم وتربیت کا آغاز ہوا اور اسی ماحول میں انہوں نے نشوونما پائی، سب سے پہلے قرآن کی تعلیم ہوئی، اس کے بعد ادب ولغت کی ابتدا کی گئی [7] ادب ولغت کی ابتدائی تعلیم کے بعد کوفہ کے بڑے بڑے شیوخ کے درس میں شریک ہونے لگے، فطری استعداد وصلاحیت اور کوفہ کے علمی ماحول نے کم سنی ہی میں انہیں ایک جوہر قابل بنادیا۔

امام ابوحنیفہ کی خدمت میں آمد[ترمیم]

ابھی تیرہ چودہ سال کا سن تھا کہ ایک مسئلہ دریافت کرنے کی غرض سے امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ مسئلہ یہ تھا کہ اگرنابالغ عشاء کی کی نماز پڑھ کرسوجائے اور اسی رات میں وہ بالغ ہوتوعشاء کی نماز دہرائے گا یانہیں؟ امام صاحب رحمہ اللہ نے اثبات میں جواب دیا، یہ سوال چونکہ انہوں نے اپنے متعلق کیا تھا، اس لیے وہاں سے فوراً اٹھے وضو کیا اور مسجد کے ایک گوشہ میں جاکر عشاء کی نماز دہرائی، امام صاحب رحمہ اللہ نے یہ دیکھ کرحاضرین سے فرمایا کہ انشاء اللہ یہ لڑکا رشید ہوگا۔[8]

امام صاحب سے شرف تلمذ[ترمیم]

گویہ ایک معمولی واقعہ تھا؛ لیکن یہی واقعہ تحصیل فقہ اور امام صاحب سے ان کی عقیدت وتلمذ کا سبب بن گیا؛ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد وہ پھرامام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حلقہ تلمذ میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کی [9] امام صاحب رحمہ اللہ کا دستور تھا کہ وہ قرآن کومستحضر کیے بغیر کسی کواپنے حلقۂ درس میں بہت کم لیتے تھے، حسب دستور ان سے بھی فرمایا کہ قرآن کوحفظ کرلو؛ پھرمیرے پاس آؤ، ایک ہفتہ کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ دوبارہ امام صاحب کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میں نے قرآن حفظ کرلیا [10] اس کے بعد انہوں نے کوئی مسئلہ دریافت کیا، امام صاحب نے ان سے پوچھاکہ یہ مسئلہ تم کسی سے سن کردریافت کررہے ہو؟ یاتمہارا طبع زاد ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ نے کہا: کہ یہ سوال خود میرے ذہن میں آیا ہے، امام صاحب رحمہ اللہ نے ان سے فرمایا کہ تم توبڑے لوگوں جیسا سوال کرتے ہو، تم برابر میرے حلقۂ درس میں آتے جاتے رہو [11] اس کے بعد امام محمد رحمۃ اللہ علیہ مستقل طور پرامام صاحب کے سلسلۂ تلامذہ میں داخل ہوگئے اور ہمیشہ سفر وحضر میں ان کے ساتھ ساتھ رہے اور ان کی حیات تک کسی دوسرے حلقۂ درس میں نہیں گئے۔[12]

امام ابویوسف کی شاگردی[ترمیم]

امام محمد کوامام صاحب سے صرف چار برس استفادہ کا موقع ملا؛ لیکن یہ مدت فقہ جیسے دقیق اور وسیع فن کے لیے کافی نہیں تھی، اس لیے انہوں نے امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد امام ابویوسف رحمہ اللہ کی طرف رجوع کیا جوامام صاحب کے محبوب اور سب سے زیادہ ذی علم تلامذہ میں تھے اور ان کے حلقہ درس میں جاکر فقہ کی تکمیل کی اور بجز چند آخری سالوں کے (آخری سالوں میں عہدۂ قضا کے معاملہ میں جس کا تذکرہ آگے آئیگا ان سے اور امام ابویوسف سے کچھ شکررنجی ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے دونوں کی ایک دوسرے کے یہاں آمدورفت بند ہوگئی تھی [13] ان سے وہ بہت کم جدا ہوئے، امام ابویوسف علم اور عمردونوں میں امام محمد رحمہ اللہ سے بڑے تھے؛ لیکن اس کے باوجود وہ امام محمد کا کافی لحاظ کرتے تھے، طحاوی نے اسماعیل بن حماد سے روایت کی ہے کہ امام محمد کا دستور تھا کہ وہ بالکل سویرے دوسرے شیوخ کے حدیث کی مجلسِ درس میں چلے جایا کرتے تھے اور ہم لوگ علی الصباح امام ابویوسف کی مجلس فقہ میں پہنچ جاتے تھے، امام محمد جب وہاں سے امام ابویوسف کے درس میں واپس آتے تواس وقت تک بہت سے مسائل گذرچکتے تھے؛ لیکن جب وہ آجاتے توامام ابویوسف رحمہ اللہ ان تمام مسائل کوپھران کے لیے دہراتے۔[14] امام محمد بھی ان کے مرتبہ شناس تھے؛ چنانچہ جب امام ابویوسف رحمہ اللہ بغداد کے قاضی تھے، امام محمد نے کوفہ سے انہیں لکھا کہ میں آپ کی ملاقات کے لیے بغداد آنا چاہتا ہوں؛ لیکن امام ابویوسف رحمہ اللہ نے لکھا کہ اہلِ کوفہ کوآپ سے فائدہ پہنچ رہا ہے؛ یہاں آنے میں ان کا نقصان ہوگا، ان کوفائدہ پہنچائے [15] امام محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ علم کی توقیر کرنی ہمیں امام ابویوسف نے اس طرح سکھائی کہ جب میں پہلی بار امام صاحب کی خدمت میں گیا تومجلس میں پہنچ کرمیں نے پوچھا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کون صاحب ہیں؟ امام ابویوسف رحمہ اللہ نے اشارہ سے مجھ سے کہا کہ بیٹھ جاؤ! جب میں بیٹھ گیا توانہوں نے اشارہ سے بتایا کہ فلاں صاحب ہیں (حنفی فقہاء کی اصطلاح میں امام صاحب اور امام ابویوسف رحمہم اللہ کوشیخین کہا جاتا ہے) سوال کا یہ طریقہ پسندیدہ نہیں تھا، اس لیے انہوں نے ٹوکا۔

تحصیلِ حدیث[ترمیم]

قرآن وفقہ کے علاوہ حدیث کا ذوق بھی امام محمد کوشیخین رحمہم اللہ ہی کی صحبت میں پیدا ہوچکا تھا؛ لیکن اس حلقہ درس کی اصلی خصوصیت فقہ وقرآن تھی اس لیے ان کوکسی ایسے استاد کی ضرورت تھی جوخالص حدیث کا ذوق رکھتا ہو، اس کے لیے انہوں نے دربارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا رُخ کیا اور امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

امام مالک رحمہ اللہ سے سماعِ حدیث[ترمیم]

کوفہ وبصرہ میں بڑے بڑے شیوخ حدیث موجود تھے، مکہ میں سفیان بن عیینہ اور خراسان میں عبداللہ بن مبارک مرجع الخلائق تھے؛ خود مدینہ منورہ میں ابراہیم ابن محمد اور عبیداللہ بن محمد وغیرہ کے حلقہ درس قائم تھے؛ لیکن امام مالک رحمہ اللہ کے درسِ حدیث کی چند ایسی خصوصیتیں تھیں، جن کی وجہ سے حدیث میں وہ ساری دنیائے اسلام کے مرکز توجہ بن گئے تھے اور یہی چیز امام محمد کوکشاں کشاں کوفہ سے کئی سومیل دور مدینہ لے گئی، یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں جس طرح فقہ کی تعلیم کے لیے امام صاحب جیسا استاد ملا؛ اسی طرح حدیث کی تحصیل کے لیے اس وقت کے سب سے بڑے شیخ کی صحبت نصیب ہوئی۔

مدینہ میں قیام کی مدت[ترمیم]

امام محمد تین برس تک دیارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رہے اور بالالتزام امام مالک سے سماع حدیث کرتے رہے؛ انہوں نے کم وبیش سات سو (700) حدیثیں اُن سے سنیں، خود فرماتے ہیں: اقمت علی باب مالک ثلاث سنین اواکثر وسمعت منہ سبعمائۃ حدیث۔[16] ترجمہ:میں امام مالک رحمہ اللہ کے دروازہ پرتین برس یااس سے زیادہ قیام پذیر رہا اور اس مدت میں سات سوحدیثیں ان سے سنیں۔ (یہ بات قابل غور ہے کہ امام محمد مسلسل تین برس تک امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں رہے؛ لیکن ان سے صرف سات سو حدیثیں سماع کیں، آخر اس قلتِ سماع کی کیا وجہ ہے؟)

قلتِ سماع کی وجہ[ترمیم]

(بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس قلتِ سماع کی وجہ یہ تھی کہ امام مالک رحمہ اللہ، امام محمد رحمہ اللہ کے کثرتِ سوال اور مسائل میں زیادہ کرید کرنے کی وجہ سے جوعلمائے عراق کا خاصہ تھا؛ کچھ کبیدہ خاطر ہوگئے تھے، جن کی وجہ سے وہ ان کومؤطاکا سماع نہیں کراتے تھے، وہ مسجد کے ایک گوشہ میں بیٹھے رہتے تھے، لوگ مسجد میں امام مالک سے مسائل دریاف تکرنے آیا کرتے تھے، وہ حدیث وآثار کی روشنی میں جوکچھ جواب دیتے تھے، امام محمد رحمہ اللہ اسے حفظ کرتے جاتے تھے، اس طرح تین برس میں انہوں نے سات سو حدیثیں سنیں، اس روایت کے نقل کرنے کے بعد ابن البزار کردری لکھتے ہیں، وانما کان یفعل ذالک لماکان بینہ وبین الامام، ترجمہ: امام محمدایسا اس لیے کرتے تھے کہ ان کے اور امام مالک کے درمیان کچھ شکررنجی تھی [17] کردری نے یہ روایت حافظ ابوالعلاء کے واسطہ سے نقل کی ہے، روایت کا پورا سلسلۂ سندمعلوم نہیں ہوسکا کہ راویوں کی جرح یاتعدیل کی جاسکے؛ بہرِحال سند کے اعتبار سے روایت کا جوپایہ بھی ہو؛ لیکن اپنے متن اور مفہوم کے اعتبار سے صحیح معلوم ہوتی ہے، اس لیے کہ امام محمد جیسا شخص جوبرسوں امام صاحب اور امام ابویوسف کی مجلس فقہ وحدیث کا خوشہ چین رہ چکا ہے اور جوذکاوت اور قوت ِحافظہ کی بھی غیرمعمولی دولت سے بہرہ ور ہو، اتنی لمبی مدت میں اس کا صرف سات سوحدیثوں کا سماع کرنا تعجب خیز معلوم ہوتا ہے، جب کہ ان سے کم درجہ کے لوگ اس سے کم مدت میں کئی گنا زیادہ حدیثیں سماع اور حفظ کرلیا کرتے تھے اور پھرامام محمدگھربار چھوڑ کرامام مالک کی خدمت میں اسی غرض سے گئے تھے؛ اگریہ روایت صحیح ہے تواس سے امام محمد کے عزم واستقلال اور تحصیل حدیث کے غیرمعمولی شوق کا پتہ چلتا ہے؛ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امام محمد نے مؤطا میں امام مالک کی سند سے جومرفوع یاغیرمرفوع روایتیں نقل کی ہیں ان کی تعداد 1005 ہے)۔ امام مالک رحمہ اللہ کے علاوہ مدینہ منورہ کے دوسرے شیوخِ حدیث سے بھی انہوں نے استفادہ کیا، اس کی تفصیل آگے آئے گی۔

شیوخِ حدیث کی تعداد[ترمیم]

امام صاحب کی صحبت اور امام ابویوسف اور امام مالک سے استفادہ کے بعد کسی دوسرے استاد کی ضرورت نہیں تھی؛ لیکن پھربھی ہرشیخ اور ہراستاد کے درس کی کچھ نہ کچھ علیحدہ خصوصیت ہوتی ہے، جس میں وہ اپنے ہمعصروں سے ممتاز ہوتا ہے؛ نیزاس وقت کا یہ عام دستور بھی تھا کہ طلبہ جس قدر زیادہ سے زیادہ اساتذہ اور شیوخ کی خدمت میں پہنچ سکتے تھے، پہنچ کران سے استفادہ اور روایت کرتے تھے، اس سے یہ فائدہ ہوتا تھا کہ جوعلمی جواہر پارے سیکڑوں گوشوں میں منتشر ہوتے تھے، اس طرح ایک جگہ سمٹ جایا کرتے تھے؛ چنانچہ امام محمد بھی اس غرض سے اس وقت کے تمام قابل الذکر شیوخ کی خدمت میں حاضر ہوئے او ران سے استفادہ کیا۔

امام محمد نے اپنی کتابوں میں جن لوگوں سے روایتیں کی ہیں، ان کی تعداد سو سے متجاوز ہے (صرف کتاب الحج میں جن لوگوں سے روایتیں کی ہیں، ان کی تعداد 108/ہے اور کتاب الآثار میں جن شیوخ سے روایتیں کی ہیں ان کی تعداد 15/ہے؛ لیکن بعض نام دونوں میں مشترک ہیں) لیکن ان سب کا مشار ان کے اساتذہ میں نہیں ہے؛ بلکہ اس میں کافی تعداد ان کے اقران واصاغر کی بھی ہے جن سے انہوں نے روایتیں توکی ہیں؛ لیکن ان کے سامنے زانوے تلمذ تہ نہیں کیا ہے۔ علامہ زاہد الکوثری (انہوں نے عربی میں امام محمد کی سوانح حیات بلوغ الامانی بڑی تحقیق وتدقیق سے لکھی ہے، یہ کتاب مصر سے چھپ کربازار میں آگئی ہے، پہلے میرا ارادہ تھا کہ اسی کاتب کا ترجمہ کردوں؛ مگراس میں بعض باتیں اپنے ذوق اور اعتدال کے خلاف معلوم ہوئیں، اس لیے اس ارادہ سے باز رہا اور اب مآخذسے ان کے حالات لکھ رہا ہوں، جہاں اصل مآخذ کی طرف رجوع نہیں کیاجاسکتا ہے، مصنف کی وسعتِ نظر پراعتماد کرتے ہوئے اس کتاب کا حوالہ دے دیا گیا ہے)نے امام محمد رحمہ اللہ کے شیوخِ حدیث کی تعداد ستربتائی ہے؛ لیکن انہوں نے مآخذ کا حوالہ نہیں دیا ہے؛ مگران کی وسعتِ نظرپراعتماد کرتے ہوئے ہم ان کی دی ہوئی فہرست کویہاں نقل کرتے ہیں، ان میں سے جن ناموں کے مآخذ معلوم ہوسکے ہیں، ان کے حوالے دیدیئے گئے ہیں، مقامات کے لحاظ سے شیوخ کا تذکرہ کیا جاتا ہے: (اس سلسلہ میں کتاب الحج کا ذکر بھی آئے گا؛ لیکن یہ کتاب دارالمصنفین کے کتاب خانہ میں نہیں ہے، قبلہ سیدصاحب کے ساتھ سنہ1945ء میں سورت جانے کا اتفاق ہوا تھا، وہاں مفتی مہدی حسن صاحب کے کتب خانہ میں یہ کتاب مل گئی تھی جس سے میں نے بہت سرسری طور پر ان کے شیوخ کی فہرست تیار کرلی تھی، اس فہرست پراعتماد کرتے ہوئے یہاں کتاب الحج کا حوالہ دیا گیا ہے؛ لیکن اس میں غلطی کا امکان ہے، اس لیے جوصاحب غلطی دیکھیں براہِ کرم مجھے اس سے آگاہ کریں)۔

کوفہ[ترمیم]

امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، اسماعیل بن ابی خالد الاحمسی، سفیان بن سعید الشوریٰ، مسعر بن کدام، مالک بن مغول، قیس بن ربیع، عمربن زر، بکیربن عام، ابوبکر النہشلی، عبداللہ بن قطاف، محل بن محرزابصّنی، ابوکدینہ یحییٰ بن المہلب، عبدالرحمن بن عبداللہ عتبہ، اسرائیل بن یونس، بدر بن عثمان، ابوالاحوص، سلام بن سلیم، سلام بن سلیمان، ابومعاویہ انصریر، محمد بن حازم، امام زفر، اسماعیل بن ابراہیم الجبلی، فضیل بن غزواں، حسن بن عمارہ، یونس بن ابواسحاق السبیعی، عبدالجبار بن العباس، محمد بن ابان الصالح القرشی، سعید بن عبیدالطائی، ابوفروہ عروہ بن الجارث، ابوزہیر العلاء بن زہیر رحمہم اللہ۔

مدینہ[ترمیم]

امام مالک، ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ، عبیداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمر بن حفص، خارجہ بن عبداللہ ابن سلیمان، محمد بن صلال، ضحاک بن عثمان، اسماعیل بن رافع، عطاف بن خالد، اسحاق بن حازم، ہشام ابن سعید، اسامہ بن زیداللیثی، داؤد بن قیس الفراء، عیسیٰ بن ابی عیسیٰ الخیاط، عبدالرحمن بن ابی الزناد، محمد بن عبدالرحمان بن ابی ذئب چشم بن عراک رحمہم اللہ۔

مکہ[ترمیم]

سفیان بن عیینہ، زمعہ بن صالح، اسماعیل بن عبدالملک، طلحہ بن عمرو، سیف بن سلیمان، ابراہیم ابن یزید الاموی، زکریا بن اسحاق، عبداللہ بن عبدالرحمان بن یعلی الثقفی رحمہم اللہ۔

بصرہ[ترمیم]

ابوالعوام عبدالعزیز بن الربیع البصری، ہشام بن ابی عبداللہ الربیع بن الضبی، ابوجرہ واصل ابن عبدالرحمٰن، سعید بن ابی عروبہ، اسماعیل بن ابراہیم البصری، مبارک بن فضالہ رحمہم اللہ۔

واسط[ترمیم]

عباد بن العوام، شعبہ بن الحجاج، ابومالک عبدالملک رحمہم اللہ۔

شام[ترمیم]

ابوعمروعبدالرحمن الاوزاعی، محمد بن راشد المکحولی، اسماعیل بن عیاش الحمصی، ثور بن یزید الدمشقی رحمہم اللہ۔

خراساں[ترمیم]

عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ۔

یمامہ[ترمیم]

ایوب بن عتبۃ الشیمی رحمۃ اللہ علیہ۔ یہاں صرف ان سترشیوخ کا تذکرہ کیا گیا ہے، جو ان کے اکابر میں شمار کیے جاتے ہیں؛ ورنہ اقران واصاغر کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔

مغازی کی تعلیم[ترمیم]

سیرومغازی حدیث ہی کا ایک شعبہ ہے؛ لیکن اس وقت تک یہ ایک علیحدہ فن ہوچکا تھا اور خاص خاص شیوخ کی تعلیم دیتے تھےاور اہلِ علم خصوصیت سے اس فن کی سند حاصل کرتے تھے، امام محمد نے فن مغازی میں محمد بن عمرالواقدی سے جواس فن کے مشہور شیخ تھے، استفادہ کیا تھا، واقدی امام محمد کے تلامذہ میں ہیں اور انہوں نے امام محمد سے جامع صغیر خاص طور سے پڑھی تھی، فن مغازی اور سیر میں واقدی کواس وقت خاص خصوصیت حاصل تھی، اس لیے امام محمد نے ان سے اس فن میں فائدہ اُٹھایا۔[18]

عربیت میں کسائی سے تبادلہ خیالات اور استفادہ[ترمیم]

یہ تونہیں معلوم ہوسکا کہ ادب ولغت کی ابتدائی تعلیم کس سے حاصل کی اور تکمیل کہاں کی؛ لیکن کردری کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مسند درس پرمتمکن ہونے کے بعد تک پھرادب اور لغت میں ائمہ فن سے تبادلۂ خیالات اور استفادہ کرتے رہے، بشربن یحییٰ کا بیان ہے کہ کسائی نحو اورلغت کے مشہور امام، اکثر امام محمد کے پاس آیا کرتے تھے، ایک روز انہوں نے امام محمد سے کہا کہ آپ لوگ یعنی فقہاء اکثر اپنے کلام کے ثبوت میں یہ جملہ کہا کرتے ہیں کہ اسی طرح لوگ بولتے ہیں اور یہی محاورہ ہے، توآپ لوگوں کویہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے، عرب کے محاوروں کوتو اس فن کے حذاق ہی جانتے ہیں، امام محمد نے ان کی بات تسلیم نہیں کی او رکہا کہ ہم لوگ اس چیز کوبہتر طور سے جانتے ہیں؛ لیکن جب کسائی کی آمد ورفت ان کے پاس برابر ہوتی رہی اور امام محمد ان کے مبلغ علم سے واقف ہوئے توایک روز فرمایا کہ بے شک تم لوگ (لغوییں اور نحوییں) زبان اور محاوروں سے زیادہ واقف ہو، اس کے بعد امام محمد نے ان سے عربیت میں انتقاع حاصل کیا، روایت کے الفاظ یہ ہیں: فانتفع محمد فی العربیۃ۔ ترجمہ:پھرامام محمد نے ان سے عربیت میں استفادہ کیا۔ امام سرخسی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ کسائی، امام محمد کے خالہ زاد بھائی تھے، سیر کا جوخاص باب کتاب الاعیان ہے جن میں فقہائے حنیفہ نے کمالِ دقیق سنجی سے کام لیا ہے، اس کے لغوی اور نحوی مسائل میں امام محمد نے کسائی سے خاص طور سے مدد لی۔[19]

طالب علمی میں فراغت قلب[ترمیم]

اکثروبیشتر اہلِ علم اور ائمہ فن کے سوانح حیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا زمانہ طالب علمی بڑی عسرت اور تنگی میں گذرا ہے؛ لیکن امام محمد کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ بڑا فضل شامل حال رہا کہ ان کی طالب علمی کا پورا زمانہ نہایت خوشحالی اور فارغ البالی میں گذرا اور انہیں کبھی کوئی مالی دقت پیش نہیں آئی، جب تک ان کے والد زندہ رہے ان کی کفالت کرتے رہے، جب ان کا انتقال ہوا توانہوں نے ترکہ میں ایک بڑی رقم چھوڑی جس کوامام محمد رحمہ اللہ نے اپنی تعلیم پرصرف کیا، خود فرماتے ہیں، مجھے اپنے والد سے تیس ہزار درہم وراثت میں ملے تھے، 15/ہزار میں نے شعر، ادب، لغت اور نحو کی تحصیل پراور 15/ہزار فقہ وحدیث کے حصول پرصرف کیا۔[20]

علم کا فطری ذوق اور مطالعہ میں انہماک[ترمیم]

علم وفن کا ذوق امام محمد میں فطری تھا، وہ آغازِ شعور ہی سے مسائل میں ایسی باریکیاں پیدا کرتے تھے کہ بڑوں کی نگاہیں بھی وہاں تک کم پہنچتی تھیں، ان کے اسی فطری ذوق اور استعداد کودیکھ کرامام صاحب نے فرمایا تھا کہ انشاء اللہیہ لڑکا رشید ہوگا، ایک روز ان کے ایک سوال پرفرمایا کہ تم توبڑوں جیسا سوال کرتے ہو، میرےپاس آمد ورفت رکھو۔ محمد بن سماعہ جوان کے خاص تلامذہ میں ہیں، فرماتے تھے کہ امام محمد کومطالعہ میں اس قدر انہماک ہوتا تھا کہ اگرکوئی شخص ان کوسلام کرتا تو انہماک وبے خبری میں (جواب دینے کے بجائے) اس کے لیے دُعا کرنے لگتے؛ پھرجب وہ شخص کچھ اور الفاظ زیادہ کرکے دوبارہ سلام کرتا تووہی الفاظ دہرادیتے تھے۔ (بلوغ الامانی) ان کے نواسے فرماتے ہیں کہ (امام محمد کی وفات کے بعد) میں نے اپنی والدہ سے دریافت کیا کہ نانا گھر میں رہتے تھے توکیا کرتے تھے؛ انہوں نے اشارہ کرکے بتایا کہ فلاں کوٹھری میں رہا کرتے تھے اور گردوپیش کتابوں کا انبار لگارہتا تھا، میں نے مطالعہ کے وقت ان کوکبھی بولتے ہوئے نہیں سنا؛ بجز اس کے کہ وہ ابرواور ہاتھ کے اشارہ سے اپنی ضرورت بتلادیا کرتے تھے۔[21] علمی شغف کا یہ حال تھا کہ کپڑے میلے ہوجاتے تھے؛ لیکن جب تک کوئی دوسرا شخص کپڑا نہ بدلوادیتا وہ کپڑے نہیں اُتارتے تھے، گھر میں ایک مرغ پلا ہوا تھا، جورات میں اکثر بانگیں دیا کرتا تھا؛ انہوں نے اہلِ خانہ سے کہا کہ اسے ذبح کردو، اس کی بانگ بے ہنگام کی وجہ سے (علمی) کام میں خلل پڑتا ہے۔[22] آپ نے گھرمیں کہہ رکھا تھا کہ مطالعہ کے وقت مجھ سے دنیا کی کسی ضرورت کا ذکر نہ کیا جائے کہ میرا قلب اس کی طرف متوجہ ہو، جوکچھ کہنا ہو میرے وکیل (منتظم خانہ) سے کہو۔[23]

ذکاوت وذہانت[ترمیم]

نہایت ذکی، ذہین اور طباع تھے، ان کے تمام اساتذہ ان کی ذہانت اور ذکاوت کے قائل تھے، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ان کے بارے میں فرماتے تھے کہ مشرق سے اس نوجوان (امام محمد) جیسا کوئی ذکی اور طباع آدمی میرے پاس نہیں آیا [24] حالانکہ اس وقت ان کے درس میں اہلِ مشرق ہی سے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ، وکیع بن جراح رحمہ اللہ، عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ جیسے ائمہ حدیث موجود تھے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میں نے امام محمد جیسا فربہ اندام، ذکی نہیں دیکھا، دوسری روایت میں ہے کہ میں نے ان کے جیسا عاقل اور فہیم نہیں دیکھا۔[25] امام ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ: وَكَانَ مِنْ أَذكيَاء الْعَالم۔ ترجمہ: دنیا کے ذکی اور فہیم ترانسانوں میں تھے۔

قوتِ حافظہ[ترمیم]

فہم وذکا کے ساتھ ساتھ قوتِ حافظہ کا عطیہ بھی قدرت کی طرف سے انہیں وافر ملا تھا، اوپر ذکر آچکا ہے کہ امام صاحب نے ان سے قرآن حفط کرنے کے لیئے فرمایا توایک ہفتہ کے اندر انہوں نے پورا قرآن حفظ کرلیا۔ ایک مرتبہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے درس میں شریک تھے، امام نے کسی گذشتہ مسئلہ کے متعلق ان سے دریاف تکیا؛ انہوں نے جواب دیا توامام نے فرمایا کہ یہ جواب صحیح نہیں ہے، امام محمد نے اپنے جواب پراصرار کیا، تھوڑی سی ردوقدح کے بعد کتاب کی طرف رجوع کیا گیا، امام محمد کا جواب صحیح نکلا؛ پھرامام ابویوسف رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: ہکذا یکون الحفظ۔[26] ترجمہ: حافظ ایسا ہی ہوتا ہے۔

مجلسِ درس[ترمیم]

اسی ذکاوت وذہانت اور علمی ذوق وانہماک کا نتیجہ تھا کہ بیس ہی برس کی عمر میں مسندِ درس کی زینت بنادئیے گئے اور کوفہ، بصرہ، شام، ہرات، رے، نیشاپور، حلب، بخارا اور اقصائے مغرب؛ غرض دنیائے اسلام کے گوشہ گوشہ سے تشنگانِ علم آکر اس سرچشمۂ علم سے سیراب ہونے لگے۔

تلامذہ[ترمیم]

امام محمد رحمہ اللہ کی عمر کا بیشتر حصہ درس وتدریس اور افادہ وتعلیم کے مشغلہ میں گذرا، سیکڑوں اشخاص نے ان کے سامنے زانوے تلمذ تہ کیا ہوگا، ان سب کے ناموں کا استقصا نہایت دشوار ہے، جن تلامذہ کے ناموں کا پتہ چل گیا ہے، ان کی فہرست بھی کافی لمبی ہے، اس لی یہاں ان مشاہیر تلامذہ کا ذکر کیا جاتا ہے، جنھیں کوئی امتیازی حیثیت حاصل تھی: ابوحفص الکبیر البخاری، یہ امام بخاری کے شیوخ میں ہیں، ابوسلیمان موسیٰ بن سلیمان الجوزجانی انہی کی روایت سے ظاہر الروایۃ کی چھ کتابیں مشرق ومغرب میں پہنچیں، امام شافعی، ابوعبیدہ قاسم بن سلام ہروی اپنے وقت کے مجتہد تھے، عمروبن ابی عمرو الحرانی، محمد بن سماعہ التیمی، علی بن معبد بن شداد جامع کبیر اور جامع صغیر کے ایک راوی یہ بھی ہیں، اسد بن فرات امام مالک رحمہ اللہ کے خاص شاگرد اور ان کے مسلک کے مدون بھی ہیں اور مدد نہ کے مرتب شیخ سحنوں کے استاد بھی، محمد بن مقاتل الرازی، ابن جریر، طبری کے استاد ہیں، یحییٰ بن معین امام جرح وتعدیل ابوجعفر احمد بن محمد بن مہران النسوری، موطا امام محمد کے راوی ہیں، شعیب بن سلیمان الکیسانی کیسانیات کے راوی، علی بن صالح الجرجانی، جرجانیات کے راوی، اسماعیل بن توبۃ القردینی، السیرالکبیر کے خاص راوی، ابوبکر بن ابراہیم نوادر کے راوی، ابوزکریا محی بن صالح، ابوحاتم امام بخاری کے شامی شیوخ میں ہیں، ابوموسیٰ عیسیٰ بن امان البصری، کتاب الحج کے راوی اور کتاب الحج الکبیر اور کتاب الحج الصغیر کے مصنف ہیں، ایک کتاب انہوں نے امام شافعی اور مریسی کے رد میں بھی لکھی تھی، سفیان بن سحبان البصری کتاب العلل کے مصنف ہیں۔

درس کا طریقہ[ترمیم]

اس وقت درس وتدریس کے مختلف طریقے رائج تھے، بعض شیوغ اپنے حافظہ پراعتماد کرکے طلبہ کوزبانی املا کراتے تھے، بعض لوگ، اپنی لکھی ہوئی تحریر تلامذہ میں سے کسی ایک کودیدیتے وہ اس کی قرأت کرتا جاتا اور عام طلبہ اسے لکھتے یاحفظ کرتے جاتے تھے، امام مالکؒ کے درس کا یہی طریقہ تھا، بعض حضرات کا یہ طریقہ تھا کہ انہیں جوکچھ املا کرانا ہوتا تھا وہ پہلے لکھ لیتے تھے اور پھرخود ہی طلبہ کے سامنے اس کی قرأت کرتے اور طلبہ اسے نوٹ کرتے جاتے تھے، امام محمد کا بھی غالباً عام دستور یہی تھا کہ وہ خود قرأت کرتے تھے۔ یحییٰ بن صالح وحاظی (امام محمد رحمہ اللہ کے شاگرد اور امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حج میں محمدبن حسن کا رفیقِ سفرتھا، ایک روز میں نے ان سے کہا کہ اپنی کسی کتاب کی تحدیث کیجئے؛ انھوں نے کہا اس وقت طبیعت موزوں نہیں ہے، میں نے کہا کہ میں قرأت کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ کیا تم اپنی قرأت کومیرے لیے آسان سمجھتے ہو، میں نے کہا ضرور، اس پرانہوں نے فرمایا کہ نہیں میری قرأت زیادہ آسان ہوگی، اس لیے کہ میں قرأت کروں گا تومحض زبان اور آنکھ استعمال کرونگا؛ لیکن جب تم قرأت کروگے تومجھے آنکھ، کان اور ذہن تمام اعضا استعمال کرنے پڑیں گے، اس لیے تمہاری قرأت میرے لیے زیادہ مشکل ہوگی۔[27] اس روایت سے معلوم ہوتا ہ کہ درس میں وہ قرأت کرنا پسند کرتے تھے، اس بن فرأت کا بیان بھی ہے کہ وہ قرأت خود کرتے تھے۔[28] درس میں طلبہ کے سامنے جوتقریر کرتے تھے، وہ نہایت ہی صحیح اور حشووزوائد سے پاک ہوتی تھی، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ یہ دیکھ کرفرماتے تھے کہ امام محمد جب کسی مئلہ کولیتے اور اس پرتقریر کرتے تھے، توکلام میں ایک حرف کی بھی تقدیم وتاخیر نہیں ہوتی تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان پرقرآن کا نزول ہورہا ہے۔[29]

مؤطائے امام مالک کا درس[ترمیم]

اہلِ عراق میں امام محمد غالباً پہلے شخص تھے؛ جنھوں نے مدینہ میں تین برس تک رہ کر امام مالک رحمہ اللہ اور دوسرے شیوخ مدینہ سے استفادہ کیا اور ان کی مرویات کا ایک بڑا سرمایہ اپنے ساتھ عراق لائے، متعدد وجوہ کی بناپر امام مالک کی مرویا کواس وقت ایک خاص خصوصیت حاصل تھی اس لیے امام محمد رحمہ اللہ نے ان کی روایتوں کے درس کے لیئے ایک خاص دن معین کردیا تھا؛ تاکہ وہ لوگ جوامام دارالہجرت کی خدمت میں نہیں پہنچ سکتے تھے، وہ ان کی مرویات سے مستفیض ہوسکیں؛ چنانچہ جس روز وہ امام مالک رحمہ اللہ کی روایتوں کی تحدیث کرتے تھے اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ مجلس میں جگہ ناکافی ہوجاتی تھی؛ چنانچہ ایک مرتبہ امام محمد نے حاضرین سے فرمایا کہ تم لوگ اپنے اصحاب کے بارے میں کتنے برے ہو کہ جب میں امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کرتا ہوں توٹوٹ پڑتے ہو اور جب تمہارے اصحاب حدیث (اہلِ عراق) سے روایت کرتا ہوں توبادلِ ناخواستہ شریک ہوتے ہو۔[30] امام مالک رحمہ اللہ کی وفات کے بعد جب ان سے براہِ راست سماع کی اُمید منقطع ہوگئی تویہ مجمع اور زیادہ بڑھنے لگا، اسد بن فرات کے الفاظ میں اس کی کیفیت سنیے (اسد بن فرات امام مالک اور امام محمد دونوں کے شاگرد ہیں، آگے ان کا تذکرہ آئے گا) فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ امام محمد رحمہ اللہ کے درس میں شریک تھے کہ ایک شخص مجلس میں کودتا پھاندتا ہوا تیزی سے امام محمد کے پاس پہنچا اور اس نے اُن سے کچھ آہستہ سے کہا: ہم نے سنا کہ امام نے إِنَّالِلَّهِ وَإِنَّاإِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور فرمایا کہ کتنی بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی کہ امام مالک رحمہ اللہ امیرالمؤمنین فی الحدیث کی وفات ہوگئی، اس کے بعد تمام مجمع میں ماتم برپا ہوگیا [31] اسد کا بیان ہے کہ اس کے بعد سے امام محمد جس دن امام مدینہ کی مرویات کا درس دیتے تھے، اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ راستہ بند ہوجاتا تھا۔

راستہ کے وقت درس کا سلسلہ[ترمیم]

امام محمد دن کے علاوہ رات کے وقت بھی درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھتے تھے؛ لیکن یہ درس عام نہیں ہوتا تھا؛ بلکہ جوطلبہ دوردراز سے خاص ذوق لے کران کی خدمت میں آتے اور ان کے پاس وقت کم ہوتا تھا توان کے لیے وہ رات کے وقت مجلس درس منعقد کرتے تھے؛ چنانچہ اسد بن فرات قیروان سے ان کی خدمت میں پہنچے توکچھ روز درس میں شرکت کے بعد انہوں نے امام محمد سے عرض کیا کہ میں ایک کم علم اور مسافرآدمی ہوں، آپ کے درس میں اس قدر مجمع ہوتا ہے کہ مجھے پورے طور پراستفادہ کا موقع نہیں ملتا، امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تم دن کے وقت عام اہلِ عراق کے ساتھ سماع کیا کرو اور رات کے وقت میرے یہاں چلے آیاکرو، میں تمھیں وقت دونگا، اسد کا بیان ہے کہ میں روزانہ رات کے وقت ان کے یہاں جایا کرتا تھا، جب میں پہنچتا تووہ ایک پیالہ پانی اپنے ساتھ رکھ لیتے اور قرأت ودرس کا سلسلہ شروع کردیتے، جب رات زیادہ گذرجاتی تومجھے غنودگی طاری ہونے لگتی وہ کہا کرتے کہ پیالہ سے ایک چلو پانی لے کرمیرے چہرے پرچھڑک دیتے؛ پھردرس کا سلسلہ شروع کرتے، جب پھرمجھے غنودگی طاری ہوتی توپھرایسا ہی کرتے؛ یہی روزانہ کا معمول ہوگیا تھا۔[32] اسدبن فرات کے علاوہ امام شافعی رحمہ اللہ اور ابوعبید کے لیے بھی انہوں نے رات کومخصوص طور پروقت نکالا تھا (بلوغ الامانی) اس سے اندازۃ ہوتا ہے کہ امام محمد اپنے تلامذہ کے وقت کوکس قدر عزیز رکھتے تھے اور ان کے افادہ کے لیے خو د کتنی مشقتیں برداشت کرتے تھے۔

عورتوں کا درس[ترمیم]

کبھی کبھی آپ کے پاس عورتیں بھی استفادہ کے لیے آیا کرتی تھیں، ان کے لیے بھی آپ نے رات ہی کا وقت رکھا تھا، محمد بن سماعہ کا بیان ہے کہ ایک بار دس رومی لونڈیاں انشاء اور عربیت میں ماہر ہوکر (غالباً فقہ میں) استفادہ کے لیے آپ کے یہاں آئی ہوئی تھیں۔

تلامذہ کے ساتھ حسنِ سلوک[ترمیم]

تلامذہ کے ساتھ ان کا تلطف اور حسن سلوک صرف درس وتدریس اور وقت کی قربانی ہی تک محدود نہیں تھا؛ بلکہ روپیہ پیسہ کے بارے میں ان کا یہ وصف اور زیادہ نمایاں ہوجاتا تھا ،ایک بار اسد بن فرات کا خرچ چک گیا؛ انہوں نے کسی سے ذکر نہیں کیا، ایک دن امام محمد رحمہ اللہ نے دیکھا کہ وہ پنسرے سے پانی پی رہے ہیں، انہوں نے وجہ دریافت کی اسد نے صرف اتنا کہا میں مسافر آدمی ہوں، امام محمد رحمہ اللہ سمجھ گئے اور پچکے ہورہے اور رات کے وقت خادم کے ذریعہ ان کے پاس اسی دینار بھجوادیے [33] (سونے کے موجودہ بھاؤ کے اعتبار سے دوہزار سے زیادہ روپیے ہوتے ہیں)۔ امام شافی رحمۃ اللہ علیہ کی بھی کئی بار انہوں نے مالی امداد کی، ایک بار انہوں نے پچاس دینار ان کودیئے اور کہا اس میں ننگ وعار محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے، امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا اگر مجھے ننگ وعار ہوتا تومجھ پرآپ جواحسانات کرتے ہیں، ان کا بار میں کیوں اُٹھاتا؟[34] امام محمد دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کے موقع پراس مصرع کے مصداق ہوتے تھے: كَأَنَّكَ تُعْطِيهِ الَّذِي أَنْتَ سَائِلُهُ۔ ترجمہ: جب تم کسی کوکچھ دیتے ہو تواس کے سامنے (اپنی عاجزی وکسرنفسی کی وجہ سے) تم اسیے معلوم ہوتے ہوکہ تم خود اس سے مانگ رہے ہو۔ عراق کے زمانہ قیام میں ایک بار امام شافعی رحمۃاللہ علیہ قرض کے سلسلہ میں نظربند کردیئے گئے تھے، امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے قرض خواہ کا قرضہ ادا کرکے انہیں رہا کرایا۔[35]

امام شافعی رحمہ اللہ سے خاص تعلق[ترمیم]

امام محمد کوامام شافعی سے برا تعلق خاطر تھا، وہ جب آجاتے توضروری سے ضروری کام چھوڑ کران کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے، ایک بار کسی ضرورت سے دارالخلافہ جانے کے لیے تیار ہوچکے تھے کہ امام شافعی رحمہ اللہ آگئے؛ انہوں نے دارالخلافہ جانے کا قصد ترک کردیا اور پورے دن ان کے ساتھ مشغول رہے، ایک مرتبہ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام محمد کے پاس ایک منظوم خط لکھا کہ وہ اپنی کتابیں عاریۃً بھیج دیں، امام محمد نے اپنی تمام کتابیں ہدیۃً بھیج دیں۔[36] اس دور میں جب کہ طباعت وکتابت کے موجودہ طریقے رائج نہیں ہوئے تھے کسی کوکوئی کتاب ہدیۃً دے دینا، موجودہ زمانہ کی مطبوعہ کتابوں کا ایک کتب حانہ دینے سے زیادہ مشکل کام تھا، انہی تمام احسانات اورتعلقات کی بنا پرامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ: لیس علی منۃ فی العلم واسباب الدنیا مالمحمد۔[37] ترجمہ: علم اور دنیاوی اسباب کے سلسلہ میں مجھ پرامام محمد کا جتنااحسان ہے اتنا کسی دوسرے کانہیں ہے۔ انہی احسانات کی بناپر ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ قیامت تک ہرشافعی پرضروی ہے کہ وہ امام محمد کا ممنون رہے اور ان کی مغفرت کی دُعا کرتا رہے۔[38]

طلبہ کے سوالات کا خندہ پیشانی سے جواب دیتے تھے[ترمیم]

اکثر اساتذہ طلبہ کے سوالات اور مسائل میں کرید کرنے سے گھبراتے اور چین بجبیں ہوجاتے ہیں اور بسااوقات غصہ وغضب تک نوبت پہنچ جاتی ہے؛ لیکن امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی یہ خاص خصوصیت تھی وہ عمیق سے عمیق سوال اور دقیق سے دقیق مسائل میں ردوقدح کرنے سے چین بجبیں نہیں ہوتے تھے؛ بلکہ نہایت خندہ پیشانی سے تمام باتوں کا جواب دیتے تھے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے جس سے بھی کوئی مسئلہ دریافت کیا اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا [39] لیکن محمد بن حسن اس سے مستثنیٰ تھے، ایک دوسری روایت میں ہے کہ جس سے بھی کوئی دقیق مسئلہ دریافت کیا میں نے دیکھا کہ اس کی پیشانی پرشکن آگئی؛ لیکن امام محمد کا حال اس سے بالکل جدا تھا۔[40]

علمی مباحثے[ترمیم]

امام محمد شروع ہی سے تفحص اور تعمق کے عادی تھے اور فقہی اور علمی مسائل پران کی نظرہمیشہ مجتہدانہ پڑتی تھی؛ اس لیے بسااوقات انہیں اپنے اساتذہ اور ہمعصروں کے ساتھ بحث ومباحثہ کی نوبت آجاتی تھی، ایک بار کسی مستفتی نے قاضی ابویوسف سے کوئی مسئلہ دریافت کیا، قاضی صاحب نے اس کا جواب دیا، مستفتی وہاں سے امام محمد کے پاس آیا اور وہی مسئلہ دریافت کیا، امام محمد نے نہایت مدلل طور پراس مسئلہ کا کوئی دوسرا جواب دیا، مستفتی نے امام محمد سے کہا کہ اس مسئلہ میں امام ابویوسف کی دوسری رائے ہے؛ اگرآپ دونں صاحبان ایک جگہ جمع ہوکر اس مسئلہ پرگفتگو کرلیتے تومسئلہ صاف ہوجاتا؛ چنانچہ امام محمد اور امام ابویوسف کا کسی مسجد میں اجتماع ہوا اور اس مسئلہ پرگفتگو شروع ہوئی، مستفتی کا بیان ہے کہ تھوڑی دیرتک تومیں نے صاحبین کی گفتگو سمجھی؛ لیکن اس کے بعد گفتگو اس قدر دقیق ہوگئی کہ میں بالکل نہیں سمجھ سکا۔[41] موطا کے سماع سے پہلے ایک مرتبہ امام محمد کوآغازِ شباب میں امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں جانے کا اتفاق ہوا؛ انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ ایک شخص کوغسل کی ضرورت ہے اور مسجد کے اندر پانی رکھا ہوا ہے اور اسے مسجد کے سوا کسی دوسری جگہ پانی میسر نہیں ہے، کیا وہ مسجد جاکر پانی لے سکتا ہے، امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جنبی (ناپاک آدمی) مسجد میں نہیں جاسکتا، امام محمد نے کہا: نماز کا وقت بالکل قریب آگیا ہے اور پانی اس کے سامنے موجود ہے، وہ کیا کرے؟ امام مالک نے پھروہی جواب دیا؛ اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ مکرر سہ کرر یہی فرماتے رہے کہ جنبی مسجد میں نہیں داخل ہوسکتا؛ لیکن جب امام محمد کا اصرار بہت بڑھا توامام مالک رحمہ اللہ نے اُن سے فرمایا کہ اس بارے میں آپ ہی بتائے، امام محمد رحمہ اللہ نے کہا کہ وہ تیمم کرلے اور مسجد میں جاکر پانی لے آئے اور پھرغسل کرلے، اس کے بعد امام مالک رحمہ اللہ اور اُن میں کچھ اور باتیں ہوئیں، جب وہ مجلس سے اُٹھ کرچلے گئے تولوگوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے بتایا کہ یہ محمد بن حسن، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں۔[42] امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب کبھی فقہ وغیرہ کے مسائل میں مباحثہ کا موقع آتا توامام کا دستور تھا کہ وہ ایک حکم مقرر کردیا کرتے تھے؛ تاکہ وہ فریقین کومناسب ہدایت اور فیصلہ کرسکے؛ چنانچہ عموماً ان کی مجلس مباحثہ کے حکم عیسیٰ بن ہارون ہوا کرتے تھے۔[43] امام محمد کے علمی مباحثوں اور مناظروں کے سلسلہ میں بعض غلط روایتیں بھی رواج پاگئی ہیں؛ آگے ہم ان روایتوں پرناقدانہ نظر ڈالیں گے۔

عہدۂ قضا[ترمیم]

اسلاف میں بہت سی ایسی ہستیاں ملیں گی؛ جنہوں نے اپنے فضل وکمال کے باوجود حکومت کا کوئی عہدہ قبول نہیں کیا اور نہ امراء وسلاطین کی صحبت کوپسند کیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ بسااوقات سلاطین اور ارکانِ دولت کے دباؤسے انہیں ایسا کام کرنا پڑتا تھا، جوان کے ضمیر اور حمیت دینی کے خلاف ہوتا تھا اور اس طرح ان کی زندگی کے سارے زہد واتقا پرپانی پھرجاتا تھا؛ لیکن ان میں بعض ایسی شخصیتیں بھی ملیں گی جوکسی دینی مصلحت یاکسی اور مجبوری کی بناپر حکومت سے منسلک ہوگئی تھیں؛ چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے منصور نے عہدۂ قضاقبول کرنے کی درخواست کی توانہوں نے یہ کہہ کرانکار کردیا کہ میں اس عہدہ کی صلاحیت نہیں رکھتا، امام صاحب کے شاگردوں میں امام ابویوسف نے کچھ خاص وجوہ کی بناپر عہدۂ قضا قبول کرلیا تھا؛ لیکن انہی میں امام محمد اور عبداللہ بن مبارک اور امام زفر بھی تھے، جوحکومت سے کوئی تعلق قائم کرنا پسند نہیں کرتے تھے، امام محمد اس بارے میں اتنے سخت تھے کہ جب امام ابویوسف نے عہدۂ قضا قبول کیا توانہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا [44] لیکن بعد میں کچھ ایسے واقعات پیش آگئے کہ امام محمد رحمہ اللہ بھی عہدۂ قضا قبول کرنے پرمجبور ہوگئے۔

امام ابویوسف رحمہ اللہ نے عہدۂ قضا اس مصلحت سے قبول کرلیا تھا کہ اس کے ذریعہ امام صاحب کے مسلک کی ترویج واشاعت ہوگی؛ اسی لیے ان کی خواہش تھی کہ امام محمد رحمہ اللہ بھی اس عہدہ کوقبول کرلیں؛ تاکہ ان کے نقطہ نظر کومزید تقویت ہو، اتفاق سے اسی زمانہ میں (یہ مقام گرمیوں کے زمانہ میں عباسیوں کا دارالخلافہ ہوتا تھا) رقہ میں قاضی کے تقرر کا مسئلہ درپیش ہوا اور اس سلسلہ میں امام ابویوسف سے مشورہ کیا گیاانہوں نے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے انتخاب کا مشورہ دیا، امام محمد اس وقت کوفہ میں تھے، کوفہ سے بغداد بلائے گئے؛ چنانچہ وہ بغداد آئے اور پہلے امام ابویوسف رحمہ اللہ کے پاس گئے اور ان سے اپنے انتخاب کی وجہ دریافت کی، امام ابویوسف رحمہ اللہ نے ان سے پورا واقعہ بیان کردیا اور کہا کہ میں نے یہ مشورہ اس لیے دیا ہے کہ کوفہ اور بصرہ میں توہمارے مسلک کی بہت کافی اشاعت ہوچکی ہے؛ اگرآپ شام میں چلے جائیں گے تووہاں بھی اس کی ترویج کا ذریعہ پیدا ہوجائے گا، امام محمد رحمہ اللہ نے اس مصلحت کواپنے انتخاب کے لیے پسند نہیں کیا اور کہا کہ اس میں براہِ راست مجھ سے گفتگو کرنی چاہیے تھی، اس گفتگو کے بعد امام ابویوسف رحمہ اللہ نے ان سے یحییٰ برمکی کے پاس چلنے کے لیے کہا، دونوں صاحب یحییٰ برمکی کے پاس گئے، امام ابویوسف رحمہ اللہ نے یحییٰ برمکی سے کہا کہ محمد بن حسن سامنے موجود ہیں، ان سے (عہدۂ قضا کے) معاملات طے کرلیجئے، یحییٰ برمکی نے امام محمد پرایسا دباؤ ڈالا کہ وہ عہدۂ قضا قبول کرنے پرمجبور ہوگئے۔[45]

امام محمد رحمہ اللہ نے عہدۂ قضا قبول توکرلیا؛ لیکن یہ بات چونکہ ان کی طبیعت اور ضمیر کے خلاف ہوئی تھی اور اس کا ذریعہ امام ابویوسف رحمہ اللہ ہوئے تھے؛ اس لیے انہوں نے امام ابویوسف رحمہ اللہ سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اس میں اس قدر شدت اختیار کی کہ ان کے یہاں آمدورفت بھی ترک کردی اور مشہور ہے کہ وفات کے بعد ان کے جنازہ میں بھی شرکت نہیں کی [46] (اس سلسلہ میں بعض غلط روایتیں بھی مشہور ہوگئی ہیں، آگے ان پرناقدانہ نظر ڈالی جائے گی) دوسری روایت ہے کہ ہارون رشید نے خود ان کواس عہدہ کے لی منتخب کیا تھا، جب امام محمد کومعلوم ہواتو وہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے پاس گئے اور اپنے گذشتہ تعلقات کویاد دلاکر فرمایا کہ مجھے اس آزمائش میں نہ ڈالیے، امام ابویوسف رحمہ اللہ اُن کولے کریحییٰ برمکی کے پاس گئے، اس نے ان کوہارون رشید کے پاس بھیج دیا اور اس طرح مجبور ہوکر انہیں یہ عہدہ قبول کرلینا پڑا۔[47]

بے لاگ فیصلہ اور عہدۂ قضا سے برطرفی[ترمیم]

امام محمد نے یہ عہدہ بادلِ ناخواستہ قبول کیا تھا، ان کی خواہش کواس میں ذرہ بھی دخل نہیں تھا، اس لیے وہ جب تک اس عہدہ پرفائز رہے، بڑی دیانت داری سے بلاکسی رورعایت کے اس کے فرائض انجام دیتے رہے؛ انہوں نے کبھی اپنے فیصلہ میں خلیفہ وقت یاارکانِ دولت کی پرواہ نہیں کی؛ چنانچہ ان کے قاضی ہونے کے کچھ ہی روز بعد یحییٰ بن عبداللہ کی امان کا قصہ دربار میں پیش ہوا، ہارون نقضِ عہد کرکے یحییٰ برمکی کوسزادینا چاہتا تھا؛ لیکن اس ارادہ کی تکمیل کے لیے قضا کے فیصلہ کی ضرورت تھی؛ چنانچہ تمام قضاۃ دربار میں بلائے گیے، امام محمد بھی موجود تھے، ہارون رشید نے سب سے پہلے امام محمدؒ سے دریافت کیا: انہوں نے فرمایا کہ یحییٰ بن عبداللہ کوجوامان دی جاچکی ہے وہ صحیح ہے اور اس امان کا نقض اور یحییٰ کا قتل کسی طرح جائز نہیں ہے، ان کے بعد ہارون حسن بن زیاد سے مخاطب ہوا؛ انہوں نے کچھ صاف جواب نہیں دیا؛ پھراس نے ابوالبختری وہب بن وہب سے دریافت کیا: انہوں نے ہارون کی مرضی کے مطابق جواب دیا، امام محمد پرعتاب شاہی نازل ہوا اور وہ عہدۂ قضا سے برطرف کردیئے گئے [48] اور انہیں افتا سے بھی روک دیا گیا۔[49]

قیدوبند[ترمیم]

غالباً اسی فتوےٰ کے سلسلہ میں استاد کی سنت کے مطابق انہیں قیدوبند کی مشقت بھی اُٹھانی پڑی، مناقب کردری میں محمد بن سلام (امام محمد کے خاص شاگرد) کا بیان ہے کہ: طلب محمد للقاء فجس ووکل بہ قرین حتی لایطلع علیہ احد ولایدخل علیہ احدوضیق فی السجدالفقہ فرشوت السجان رشوۃ عظیمۃ ودخلت۔[50] ترجمہ: امام محمد فیصلہ کے لیے بلائے گئے اور پھرقید کردیئے گئے اور اُن کوقید تنہائی دے دی گئی؛ گویا علم فقہ کے افادہ کومحبوس کردیا گیا، میں نے دربان کوکچھ دے دلاکر ان کے پاس ایک تھیلی درہم لے کر پہنچا۔

رہائی اور قاضی القضاۃ کا عہدہ[ترمیم]

اتفاق سے اسی زمانہ میں ام جعفر (ہارون کی بی بی) کوکوئی جائداد وقف کرنے کا خیال پیدا ہوا، اس نے امام محمد سے وقف نامہ لکھنے کی درخواست کی، انہوں نے یہ کہہ کرمعذرت کردی کہ مجھے فتویٰ دینے سے روک دیا گیا ہے، ام جعفر نے امام محمد رحمہ اللہ کے معاملہ (غالباً پابندی اُٹھالینے کے بارے میں) میں ہارون رشید سے گفتگو کی، ہارون نے انہیں فتویٰ کی اجازت دیدی اور پھران کوبڑے اعزاز واکرام کے ساتھ قاضی القضاۃ کا عہدہ پیش کیا اور جس پرغالباً وہ آخر وقت تک فائز رہے۔[51]

وفات[ترمیم]

امام محمد کے قاضی القضاۃ ہونے کے کچھ ہی دن بعد ہارون رشید کوکسی ضرورت سے رے جانا پڑا، امام محمد رحمہ اللہ کوبھی وہ اپنے ساتھ لیتا گیا؛ اسی مقام پر سنہ189ھ میں 58/برس کی عمر میں امام فقہ نے داعی اجل کولبیک کہا، اتفاق سے کسائی مشہور امام نحو بھی اس سفر میں ہارون کے ساتھ تھے؛ انہوں نے بھی اسی دن یادودن بعد انتقال کیا، ہارون کوان دونوں ائمہ فن کے پے درپے انتقال کا بڑا رنج ہوا اور اس نے غایتِ افسوس میں کہا کہ فقہ ونحو دونوں کومیں نے رے میں دفن کردیا۔[52]

تدفین[ترمیم]

حیل طبرک جورے کا مشہور قلعہ ہے؛ اسی میں امام فقہ کوسپردِ خاک کیا گیا۔[53] یحییٰ یزیدی، ہارون کے دربار کا مشہور شاعر اور ادیب تھا، اس نے بڑا پردرد اور دلسوز مرثیہ لکھا ہے، جس کے چند اشعار یہ ہیں: تَصَرَّمَتِ الدُّنْيَا فَلَيْسَ خُلُوْدُ قَدْ ترَىٰ مِنْ بجةٍ سَيَبِيْدُ لكل امريء منأ من الموت منہل فَلَيْسَ لَهٗ إِلَّا عَلَيْهِ وَرود ألم تر شيئا شاملا يندر الیليٰ وإن الشباب ليس يعود امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان اشعار کوقاضی ابوحازم عبدالحمید کی طرف منسوب کیا ہے اور چند اشعار نقل کرنے کے بعد لکھا ہےکہ صیرانی نے اس مرثیہ کی نسبت یحییٰ یزیدی کی طرف کی ہے۔[54]

اولاد[ترمیم]

امام محمد رحمہ اللہ نے نکاح اور اولاد کے متعلق تذکروں میں کوئی تفصیل نہیں ملتی، بعض روایتوں میں آپ کے ایک نوآکاذکر آتا ہے، جس سے معلوم وہتا ہے کہ آپ کی شادی ہوئی تھی اور آپ نے ایک صاحبزادی بھی یادگار چھوڑی تھی۔

حلیہ[ترمیم]

بال گھنے، گدازبدن اور نہایت ہی شکیل وجمیل اور خوش لباس آدمی تھے [55] ان کے حسن صورت کے متعلق یہ قصہ مشہور ہے کہ جب ان کے والد تعلیم کی غرض سے ان کوامام صاحب کے پاس لے گئے توامام صاحب نے ان کے حسن وجمال کودیکھ کرفرمایا کہ لڑکے کے سرکےبال اتروادو اور معمولی کپڑے پہناؤ ان کے والد نے اس کی تعمیل کی، بال اترجانے کے بعدان کے جمال میں اور چار چاند لگ گئے؛ چنانچہ اسی ہیئت کودیکھ کر ابونواس نے یہ اشعار کہے تھے ؎ حلقوا رسہ لیکسوہ قبحا غیرہ منہم علیہ وشحا کانہ فی وجہہ صباح لیل نزعو لیلہ وابقوا صبحا ترجمہ: وکیع بیان کرتے ہیں کہ چونکہ محمد بن حسن کم سن اور بہت ہی شکیل وجمیل تھے، اس لیے ہم لوگ حدیث کے درس میں ان کے ساتھ جانا پسند کرتے تھے۔[56]

اخلاق وعادات[ترمیم]

انسان کے شرف کا اصلی معیار، اخلاق وکردار ہے؛ اگراس حیثیت سے اس میں کوئی کمزوری ہے تووہ غیرمعمولی ہوکر بھی معمولی آدمی ہے اور اگراس اعتبار سے اس میں کوئی خوبی ہے تووہ ہماری نظروں میں کتنا ہی ادنی کیوں نہ ہو؛ لیکن حقیقی شرف اس کوحاصل ہے، امام محمد اپنے فضل وکمال کے ساتھ، اخلاق وکردار میں بھی اپنے ہم عصروں سے ممتاز تھے، امام ابوحفص رحمہ اللہ نے ان کے اخلاق ا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ اگران کوکوئی دیکھے تویہ سمجھے کہ یہ صرف علم ہی کے لیے پیداکیے گئے ہیں (ان میں دوسری کوئی خوبی نہیں ہے) لیکن اسی کے ساتھ نہایت صالح، خلیق، مہذب اور عمدہ روش کے آدمی تھے، ان کی زبان سے کبیھ کسی کوکوئی تکلیف نہیں پہنچی؛ ہرشخص سے مدارات اور محبت ان کا شیوہ تھا۔[57] علی بن معبد ان کے حسن خلق کا ایک اپنا ذاتی واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جس زمانہ میں امام محمد رقہ کے قاضی تھے، مجھے رقہ جانے کا اتفاق ہوا، ایک دن میں ان سے ملنے گیا، دروازہ پرپہنچا تودربان نے روک دیا، میں واپس چلا آیا؛ پھردوبارہ ان سے ملنے نہیں گیا ایک روز گذررہا تھا، دیکھا کہ محمد ابن حسن، قضاۃ کے لباس میں شان وشوکت کے ساتھ گھوڑے پرسوار چلے آرہے ہیں، مجھے روکا اور اپنے ساتھ مکان میں لے آئے، مکان پہنچ کرمجھ سے انہوں نے کہا کہ آپ اتنے روز سے رقہ میں ہیں اور کبھی مجھ سے ملنے نہیں آئے؛ انہوں نے گذشتہ واقعہ بتایا، امام محمد نے دربان کا نام پوچھا، انہوں نے اس خیال سے کہ دربان سزاپائے گا، نام نہیں بتایا امام محمد رحمہ اللہ نے تمام دربانوں کوبلاکر ہدایت کی کہ جب یہ آئیں توکوئی نہ روکے؛ چنانچہ اس کے بعد وہ جس وقت چاہتے ان کے پاس چلے آتے تھے، امام صاحب اور ان کے تلامذہ کوجن میں خود امام محمد بھی تھے، لوگ بعض غلط فہمیوں کی بناپر برابھلا کہتے تھے، امام محمد کوجب اس کی اطلاع ہوئی توانہوں نے یہ شعر پڑھا اور خاموش ہوگئے ؎ محسودون وشرالناس منزلۃ من عاش فی الناس لوماً غیرمحسود[58] ترجمہ:یہ وہ لوگ ہیں (امام صاحب رحمہ اللہ اور ان کے تلامذہ) جن پرلوگ حسد کرتے ہیں، مرتبہ کے اعتبار سے سب سے کمتر وہ شخص ہے جس پرکوئی حسد نہ کرے۔

بردباری[ترمیم]

حلم وبردباری کے وہ مجسمہ تھے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، میں نے امام محمد رحمہ اللہ جیسا حلیم آدمی نہیں دیکھا وہ اپنے مزاج کے خلاف بات سنتے اور برداشت کرجاتے تھے۔[59] طلبہ ان سے ہرقسم کے سوالات اور بحث ومباحثہ کرتے تھے؛ مگران کی پیشانی پربل نہیں آتا تھا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ میں نے امام محمد ہی کوایک ایسا آدمی پایا کہ وہ بحث ومباحثہ کے وقت چیں بہ جبیں نہیں ہوتے تھے۔

فیاضی[ترمیم]

نہایت کشادہ دست، فیاض اور سیرچشم تھے، اوپر ذکر آچکا ہے کہ انہیں اپنے والد سے جودولت ملی تھی وہ سب انہوں نے اپنی تعلیم پرخرچ کرڈالی، طلبہ کے ساتھ حسنِ سلوک کے وقت ان کا یہ وصف اور زیادہ نمایاں ہوجاتا تھا، امام شافعی رحمہ اللہ اور اسد بن فرأت کومتعدد بار انہوں نے اسی اسی دینار بطورِ امداد دیئے تھے، بسااوقات اپنے پاس کچھ نہ ہوتا تودوسروں کے ذریعہ اہلِ احتیاج کی ضرورت رفع کرادیا کرتے تھے، اسد بن فرات فقہ کی تکمیل کے بعد جب اپنے وطن قیروان واپس جانے لگے توان کے پاس زادِ سفرنہیں تھا، امام محمد رحمہ اللہ کومعلوم ہوا توانہوں نے کسی شاہزادہ کوغالباً (مامون) لکھا، اس نے دس ہزار کی رقم خزانہ شاہی سے دلوادی اور ان کے سفر خرچ کا انتظام ہوگیا۔[60] محمد بن سماء کا بیان ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کومتعدد بار مالی دقتیں پیش آئیں اور ایک مرتبہ توایسا ہواکہ امام محمد نے اپنے احباب واصحاب سے بڑی بڑی رقمیں ان کے لیے جمع کرائیں۔[61] اس وصف میں امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے بہت کم لوگ شریک نظر آتے ہیں۔ بذلہ سنجی اپنے حلم وسنجیدگی کی وجہ سے کوئی ناملائم یاغیرمہذب الفاظ اپنی زبان سے نہیں نکالتے تھے، کبھی کبھی مزاح کے جملے کہہ دیا کرتے تھے، کوئی مسجد گرپڑکر خراب ہوگئی تھی، لوگوں نے امام ابویوسف سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا، انہوں نے کہا وہ مسجد کے حکم میں ہے، ایک روز ادھر سے امام محمد کا گذر ہوا، مسجد پران کی نظر پڑی کہ کوڑے کرکٹ سے اٹی ہوئی ہے، یہ دیکھ کرانہوں ے مزاحاً فرمایا یہ ابویوسف کی مسجد ہے۔[62]

جرأت وحق گوئی[ترمیم]

آپ کے صحیفۂ اخلاق کا ایک نمایاں باب جرأت وحق گوئی بھی تھا جب کبھی حق بات کے اظہار کا موقع آجاتا توآپ اس میں کسی کی رورعایت اور مداہنت نہیں کرتے تھے، یحییٰ طالبی کا ذکر اوپر آچکا ہے، ہارون نے اس سلسلہ میں بڑی کوشش کی کہ اس کی مرضی کے مطابق وہ فتویٰ دیدیں؛ لیکن انہوں نے اس کے شاہانہ دبدبہ وقار کی پروا کیے بغیر پوری جرأت کے ساتھ حق کا اظہار کیا۔ ایک روز امام محمد رحمہ اللہ دوسرے علماء کے ساتھ ہارون رشید کے محل میں بیٹھے ہوئے تھے (یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ امام محمد رحمہ اللہ اس سے پہلے ایک بار ہارون رشید کے موردعتاب بن چکے تھے اور امام جعفر رحمہ اللہ کی کوشش سے ہارون رشید اور اُن کے درمیان صفائی ہوچکی تھی[63] اتفاق سے اسی وقت ہارون رشید بھی آگیا، تمام حاضرین اس کی تعظیم کے لیئے کھڑے ہوگئے؛ لیکن امام محمد رحمہ اللہ نے اپنی جگہ سے جنبش بھی نہیں کی، تھوڑی دیر بعد ہارون رشید نے امام محمد رحمہ اللہ کوتخلیہ میں بلایا، امام محمد رحمہ اللہ اندر گیے، توہارن نے ان سے کہا کہ بنو تغلب (نصاریٰ) کونقضِ عہد کرکے میں قتل کرانا چاہتا ہوں، امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس شرط پرامان دی تھی کہ وہ اپنے بچوں کا بپتسمہ (عیسائی بنانا) نہ کریں؛ لیکن انہوں نے اس کی خلاف ورزی ہے، امام محمد نے فرمایا کہ انہوں نے بپتسمہ کے باوجود انہیں امان دی تھی، اس پرہارون رشید نے کہا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کوان سے جنگ کا موقع نہ مل سکا، امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگرایسا ہے تواس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کوان سے جنگ کرنا چاہیے تھا؛ حالانکہ ان لوگوں نے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بلاشرط صلح کی تھی، اس پرہارون بہت خفا ہوا اور اُن کومحل سے باہر نکلوادیا، بعض روایتوں میں ہے کہ وہ جب لاجواب ہوگیا تو اس نے پوچھا کہ میرے آنے پرآپ میری تعظیم کے لیے کیوں کھڑے نہیں ہوئے، امام محمد نے جواب دیا کہ یہ خدام کا کام ہے، علماء کے درجہ سے یہ چیز فروتر ہے، آپ کے ابن عم (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جوشخص یہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کی تعظیم کے لیے اسٹیچو کی طرح کھڑے رہیں تواس کا ٹھکانا جہنم ہے۔[64] جب امام محمد تخلیہ سے باہر آئے توحاضرین نے جنھیں یہ خیال تھا کہ آج عدمِ تعظیم کی بناپر امام محمد رحمہ اللہ کوکوئی سخت سزا ملے گی، پوچھا کیا ہوا، امام محمد رحمہ اللہ نے پوری گفتگو دہرائی تولوگ ان کی جرأت پرحیرت زدہ رہ گئے۔[65] اس روایت سے امام محمد رحمہ اللہ کی جرأت وحق گوئی کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک حقوق العباد میں مسلم اور غیرمسلم میں کوئی فرق نہیں ہے؛ یہی وجہ تھی کہ ہارون رشید کوخاموش اور اپنے ارادہ سے باز رہنا پڑا۔ ایک مرتبہ ہارون رشید نے کسی شخص کے بارے میں کوئی امان لکھوائی، غالباً اس خیال سے دوسرے سے لکھوائی کہ ضرورت کے وقت اس سے انکار کی گنجائش نکل سکے؛ چنانچہ اس نے اس امان کے بارے میں امام محمد رحمہ اللہ سے فتویٰ پوچھا کہ میں نے اسے اپنے ہاتھوں سے نہیں لکھا ہے، دوسرے سے لکھوایا ہے توکوئی شخص اگرقسم کھائے کہ وہ کوئی خط یاتحریر اپنے ہاتھ سے نہ لکھے گا لیکن اگردوسرے سے لکھوائے تواس کی قسم ٹوٹے گی یانہیں؟ امام محمد رحمہ اللہ نے اپنی ذکاوت سے مسئلہ کی نوعیت کوسمجھ لیا، فرمایا کہ وہ قسم کھانے والا شخص عوا م میں ہے توجب تک وہ نیت نہ کرے اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی؛ لیکن اگربادشاہ ہے توقسم ضرور ٹوٹ جائے گی، اس لیے کہ باداشہ کے حکم سے جوچیز لکھی جائے گی وہ بادشاہ ہی کی ہوگی، اس پرہارون رشید بہت برافروختہ ہوا۔[66]

سازش کا شبہ[ترمیم]

انہی تمام واقعا تکی بناپر ہارون رشید کویہ شبہ پیدا ہوگیا تھا کہ ہمارے خلاف جوآئے دن طالبیوں کی سازش ہوا کرتی ہے، اس میں امام محمد رحمہ اللہ کا ہاتھ ہے؛ چنانچہ اس نے حکم دیا کہ ان کی کتابوں کا جائزہ لیا جائے کہ ان میں اس قسم کے باغیانہ خیالات تونہیں پائے جاتے، امام محمد رحمہ اللہ کوجب معلوم ہوا توانہوں نے محمد بن سماعہ سے جوان تمام واقعات میں ان کے ساتھ تھے کہا کہ فوراً گھر پرجاکر میری کتابوں کومحفوظ کرلو؛ ورنہ ہوسکتا ہے کہ ایسی کوئی چیز اِن میں شامل کردی جائے جوان میں موجود نہ ہو؛ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد جب ہارون کے سامنے یہ کتابیں پیش ہوئیں توان میں بجز حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل (عام خلفائے عباسیہ مختلف اسباب کی بناپر اس چیز کوبھی ناپسند کرتے تھے) کی حدیثوں کے اور کوئی چیز نہیں ملی؛ اس پرہارون رشید نے کہا کہ اس سے زیادہ توان کے فضائل ہمارے پاس موجود ہیں، یہ کوئی گرفت کی بات نہیں ہے۔[67]

زہد وعبادت[ترمیم]

نہایت صالح، عابد اور شب زندہ دار تھے، رات دن میں ایک ثلث قرآن تلاوت کرڈالتے تھے [68] انہوں نے رات کوتین حصوں میں تقسیم کرلیا تھا، ایک حصہ میں درس وتدریس کا مشغلہ رہتا، دوسرے حصہ میں آرام فرماتے اور تیسرے حصہ میں بارگاہِ قدس میں سجدہ ریز ہوتے تھے۔[69] شیخ عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے بارہا کوشش کی ہے کہ جس خصوع وخشوع کے ساتھ امام محمد رحمہ اللہ معمولاً نماز ادا کرتے ہیں، میں ایک ہی بار اس طرح پڑھ لوں؛ لیکن میں اس سے عاجز رہا [70] بکربن محمد العمی فرماتے تھے کہ محمد بن سماعہ اور عیسیٰ بن ابان (دونوں اپنے وقت کے شیخ اور محدث تھے) نے حسن وخوبی سے نماز پڑھنا امام محمد رحمہ اللہ سے سیکھا تھا [71] محمد بن کامل اکمروزی فرماتے ہیں کہ میں نے زیدودرع میں امام محمد کوبہت زیادہ بلند پایہ پایا (کردری:162) قتیبہ ابن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے انہیں کثیر العبادۃ پایا (کردری:162) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن حسن جیسا زاہد اور پرہیزگار نہیں دیکھا۔[72] آخرت کا خوف نہایت رقیق القلب اور آخرت کے خوف سے لرزاں رہتے تھے، وفات سے کچھ دیرپہلے آپ پربے حدگریہ طاری ہوا، لوگوں نے سبب دریافت کیا توفرمایا کہ جس وقت میں بارگاہِ قدس میں کھڑا کیا جاؤں گا اور مجھ سے سوال ہوگا کہ مقامِ رے تک کون سی چیز لائی؟ رضائے الہٰی کی جستجو اور تلاش یاجہاد فی سبیل اللہ تومیں اس وقت کیا جواب دوں گا (یعنی اس میں سے کوئی چیز بھی نہیں) اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اسلاف کسی نیک مقصد کے بغیر گھر سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتے تھے۔[73]

علم وفضل[ترمیم]

امام محمد رحمہ اللہ کے صحیفہ زندگی میں تمام انسانی اوصاف بدرجہ اتم موجود تھے؛ لیکن علم وفضل کے نقوش ان میں سب سے زیادہ نمایاں اور ظاہر تھے، ان کے علم وفضل کا صحیح اندازہ توان کی کتابوں کے مطالعہ ہی سے ہوسکتا ہے، اس کا موقع ہرشخص کوکہاں نصیب ہوسکتا ہے، اس لیے دوسروں نے ان کی زندگی پر جو روشنی ڈالی ہے، اسے یہاں نقل کیا جاتا ہے، اس آئینہ میں ان کی علمی تصویر کا کچھ نہ کچھ عکس نظر ہی آجائے گا، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگرامام محمد کی صحبت نصیب نہ ہوئی ہوتی تومجھ پرعلم کا دروازہ نہ کھلتا، وہ کسی مسئلہ پرتقریر کرتے توان کی فصاحت لسانی کی وجہ سے معلوم ہوتا تھا کہ قرآن مجید ان ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے [74] فرماتے تھے کہ میں نے ان سے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر علم حاصل کیا ہے [75] امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے یہ دقیق مسائل کہاں سے حاصل کیے ہیں، فرمایا کہ محمد بن حسن کی کتابوں سے (ترجمہ امام محمد:54۔ تاریخ بغداد) امام مزنی کے سامنے کسی نے کہا: قال محمد!، انہوں نے پوچھا: کون محمد؟ قائل نے کہا: محمد بن حسن، انہوں نے فرمایا: مرحباً بمن یملا الآذان سمعاً والقلب فہما۔[76] ترجمہ:مرحباً اس شخص پرجوکان کوسماع اور قلب کوفہم سے بھردیتا ہے۔ امام ابوحفص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ صرف علم کے یلے پیدا کیے گیے ہیں [77] محمد بن سلام فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد کی کتابوں کے حصول پردس ہزار درہم صرف کیے؛ اگرمجھے پہلے ان کتابوں کی اہمیت کااندازۃ ہوگیا ہوتا تومیں دوسری طرف متوجہ ہی نہ ہوا ہوتا [78] امام ذہبی رحمہ اللہ لکتھے ہیں کہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے بعد فقہ کی ریاست امام محمد رحمہ اللہ کی طرف منتہی ہوگئی تھی، ان سے ائمہ کرام نے تفقہ حاصل کیا ہے۔[79] امام مزنی، امام محمد رحمہ اللہ کے تلامذہ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم جب وہ کسی مسئلہ پرگفتگو کرتے تھے توکان کوبھردیتے تھے اور فقہاء پرعلم کے دروازے کھول دیتے تھے [80] ان کے اصحاب نے اس تعریف پرتعجب کا اظہار کیا توانہوں نے فرمایا کہ جتنی تعریف میں نے کی ہے، امام شافعی رحمہ اللہ اس سے زیادہ ان کی تحسین کرتے تھے [81] قاضی کامل امروزی فرماتے تھے کہ میں نے امام محمد رحمہ اللہ جیسا عمدہ املا کرانے والا نہیں دیکھا۔[82]

علم کی ذمہ داری کا احساس[ترمیم]

علمِ دین میں اخلاق اور اس کی ذمہ داری کا احساس کی روح ہے؛ اگریہ چیز نہ ہوتوعلم صاحب علم کے لیے وبال اور باعثِ عذاب ہے، امام محمد رحمہ اللہ کے صحیفہ زندگی میں یہ وصف بہت نمایاں ہے کہ انہیں علم دین میں اخلاص اور اس کی ذمہ داری کا پورا پورا احساس تھا، بہت کم سوتے تھے، رات کا زیادہ حصہ درس وتدریس اور مطالعہ وتصنیف میں گذرتا، گرمیوں میں کرتا اُتاردیتے اور اپنے سامنے ایک طشت میں پانی رکھ لیا کرتے تھے، جب غنودگی طاری ہونے لگتی توبدن پرچھینٹے دیتے تھے، لوگوں نے آپ سے اس کم خوابی اور زحمت کشی کی وجہ دریافت کی، توفرمایا کہ: کیف انام وقد نامت عیون المسلمین توکلا علینا ویقولون اذاوقع لنا امررفعناہ الیہ فیکشفہ لنا فاذانمت ففیہ تضیع اللدین۔[83] میں کیسے سوسکتا ہوں، جب عام مسلمان ہم پراعتماد اور یہ خیال کرکے سورہے ہیں کہ جب ہمارے سامنے کوئی معاملہ یانیامسئلہ پیش آئیگا تواُن کے (امام محمد) پاس لیجائیں گے، وہ اسے واضح کردیں گے تواگر میں سوجاؤں تواس سے دنیا کا نقصان ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے علم کے تمام دروازے ان کے لیے واکردیئے تھے۔

قرآن کی تلاوت اس میں تدبر وتفکر اور استخراج مسائل[ترمیم]

قرآن کے حافظ تھے، روزانہ ایک ثلث قرآن تلاوت کا معمول تھا () قرآن میں تدبروتفکر اور اس سے استخراج مسائل، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کی درسگاہ کی خاص خصوصیت تھی، امام محمد میں وہ خصوصیت بدرجۂ اتم موجود تھی، چنانچہ وہ فرماتے ہیں: استخرجت من کتاب اللہ فیفا والف مسئلۃ۔[84] ترجمہ: میں نے قرآن سے ایک ہزار سے کچھ زیادہ مسئلے مستنبط کئے ہیں۔ ابوعبید فرماتے ہیں، میں نے امام محمد رحمہ اللہ سے بڑھ کرکتاب اللہ کا عالم نہیں دیکھا۔[85] اسی طرح کا ایک مقولہ امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے۔[86] مارأیت اعلم بکتاب اللہ من محمد بن حسن۔[87]

حدیث[ترمیم]

امام محمد رحمہ اللہ نے اس وقت کے تمام ممتاز شیوخ حدیث سے سماع اور استفادہ کیا تھا، خصوصیت سے امام مالک رحمہ اللہ کی روایتوں کے وہ بہترین حافظ وامین سمجھے جاتے تھے، ان کی روایتوں کے درس کے لیے انہوں نے ایک خاص دن مقرر کرلیا تھا، اسد بن فرأت کا بیان ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کی وفات کے بعد جس دن امام محمد رحمہ اللہ نے اُن کی مرویات کا درس دیتے تھے، اس دن اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ راستہ بند ہوجاتا تھا [88] حدیث وآثار میں اُن کی دقتِ نظر اور وسعتِ معلومات کا صحیح اندازہ اس فن میں ان کی تصنیفات ہی سے کیا جاسکتا ہے، جس کی تفصیل تصنیفات کے باب میں آئے گی۔

غلط فہمی[ترمیم]

امام صاحب رحمہ اللہ اور ان کے تلامذہ کے متعلق عام طور پر یہ غلط فہمی تھی کہ وہ حدیث کے مخالف اور قیاس کے دلدادہ ہیں؛ چنانچہ امام محمد بھی اس سوء ظنی کا شکار تھے؛ اسی وجہ سے اکثرمنقول پسند طبیعتیں ان سے گریز کرتی تھیں، محمد بن سماعہ کا بیان ہے کہ میں عیسیٰ بن ابان (شیوخِ حدیث میں تھے) کوبرابر امام محمد کے درس میں شریک ہونے کی ترغیب دیا کرتا تھا؛ لیکن وہ کہا کرتے تھے کہ جس درس میں حدیث کی مخالفت کی جاتی ہو اس میں شریک نہیں ہوسکتا، ایک روز کسی طرح محمد بن سماعہ انہیں امام محمد رحمہ اللہ کے درس میں لے آئے اور ان سے کہا کہ عیسیٰ بن ابان جنھیں حدیث میں بڑا درک ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حدیث کی مخالفت کرتے ہیں، امام محمد رحمہ اللہ نے اُن سے فرمایا کہ آپ لوگوں کوغلط فہمی ہے کہ ہم حدیث کے مخالف ہیں، جب تک آپ ہم سے حدیث کا سماع نہ کرلیں، اس وقت تک آپ کویہ فیصلہ نہ کرنا چاہیے تھا، حدیث کے بارے میں جوکچھ آپ کوپوچھنا ہوپوچھئے، عیسی بن ابان نے احادیث کے کچھ ابواب ومضامین کے متعلق سوالات کیے، امام محمد رحمہ اللہ نے تمام کا یکے بعد دیگرے جواب دیا اور ان کے دلائل وشواہد، ناسخ ومنسوخ کی پوری توضیح کی، محمد بن سماعہ کا بیان ہے کہ عیسیٰ بن ابان جب درس سے اُٹھے توانہوں نے مجھ سے کہا کہ میرے اور اس روشنی (امام محمد رحمہ اللہ) کے درمیان ایک پردہ حائل تھا، جوآج اُٹھ گیا۔[89] اس کے بعد سے عیسیٰ بن ابان کوامام محمد رحمہ اللہ سے اس در تعلق خاطر ہوا کہ وہ حلقہ اصحاب میں داحل ہوگئے اور امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب الحج جوانہوں نے شیوخِ مدینہ کے رد میں لکھی تھی، اہلِ مدینہ تک عیسیٰ بن ابان ہی کے ذریعہ پہنچی، خود امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس غلط فہمی کودور کردیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد رحمہ اللہ کی کتابوں کوساٹھ دینار صرف کرکے حاصل کیا؛ پھران میں غور کیا توہرمسئلہ کی حدیث سے تائید پائی۔[90]

قیاس کے مقابلہ میں حدیث کوترجیح[ترمیم]

حدیث کوقیاس کے مقابلہ میں بہرحال ترجیح ہے، امام صاحب اور ان ے اصحاب وتلامذہ سب اس کے قائل تھے؛ لیکن انہوں نے حدیث احاد کے قبول کرنے کے کچھ شرائط وحدود مقرر کردیئے تھے؛ انہی شرائط کی بنا پرلوگوں نے ان کی طرف سے بہت سی بدگمانیاں قائم کرلی تھیں؛ لیکن اگران کے منشاء ومقصد پرغور کیا جائے توبدگمانی کی کوئی بات باقی نہیں رہ جاتی؛ چنانچہ امام صاحب رحمہ اللہ نے متعدد بار اس غلط فہمی کودورکرنے کی کوشش کی کی، عقود الجمان وغیرہ میں امام صاحب رحمہ اللہ کے بہت سے اقوال منقول ہیں، امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے جوانہوں نے گفتگو کی تھی، اس میں بھی اس خیال کا اظہار کیا تھا۔ امام محمد رحمہ اللہ کی طرف سے بھی یہ بدگمانی تھی اس لیے انہوں نے متعدد جگہ اس غلط فہمی کودور کیا ہے، اس بحث میں کہ نماز میں قہقہ ناقضِ وضو ہے یانہیں؟ لکھتے ہیں: لولاماجاء من الآثار کان القیاس ماقال اہل المدینۃ ولاکن لاقیاس مع اثر ولاینبغی الاان نیقاد للآثار۔[91] ترجمہ:اگرحدیث وآثار سے ثابت نہ ہوتا توقیاس کا فیصلہ وہی ہوتا جواہلِ مدینہ کہتے ہیں؛ لیکن حدیث واثر کی موجودگی میں قیاس کوئی چیز نہیں ہے، ہم کوصرف آثار ہی کی پیروی کرنی چاہیے۔

روایت میں احتیاط[ترمیم]

قبولِ روایت میں امام محمد کی سختی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ وہ اہلِ عدل کے متعلق فرماتے تھے کہ ایسے اہلِ عدل جن کا عقیدہ ہے کہ جوکاذب ہے وہ صرف فاسق ہے، ان کی روایت قبول کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ اہلِ ہوی کی روایت قبول کرلی جائے، جن کاعقیدہ ہے کہ جوکاذب ہے وہ کافر ہے۔[92] کذب سے کوئی کافر نہیں ہوتا؛ مگراس زمانہ میں جھوٹی روایتیوں کی بہتات اور ان کے قبول کرنے میں عدمِ اعتنا کی بناپرامام محمد کی یہ سختی اور احتیاط بالکل درست تھی۔

اپنی کتابوں کی روایت میں قیود[ترمیم]

عموماً ایسا ہوتا ہے کہ لوگ روایت کے منشاومقصد کونہیں سمجھتے؛ لیکن روایت کرنا شروع کردیتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سی غلط باتیں رواج پاجاتی ہیں، امام محمد رحمہ اللہ نے اسی وجہ سے اپنی کتابوں کی روایت کرنے میں یہ قوید لگادی تھیں: لایحل لاحد ان یروی عن کتبنا الاماسمع اوعلم مثل ماعلمنا۔[93] ترجمہ:ہماری کتابوں کی روایت کا حق صرف اس شخص کوہے جوبراہِ راست سنے یاہماری طرح (منشاومقصد کا) علم رکھتا ہو۔

فقہ[ترمیم]

امام محمد رحمہ اللہ کی شہرت اور ان کا اصلی شرف وامتیاز فقہ سے وابستہ ہے، دوسرے علوم میں تواور اہلِ فن کی طرف بھی رجوع کیا جاتاتھا؛ لیکن اقلیم فقہ کے وہ اس وقت تنہا تاجدار تھے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے تفقہ حاصل کیا تھا، اسدبن فرأت، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد، جنہوں نے فقہ مالک کی بنیاد رکھی تھی، امام محمد کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرچکے تھے، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول اوپر نقل کیا جاچکا ہے کہ وہ فرماتے تھے فقہ کے تمام دقیق مسائل میں نے امام محمد رحمہ اللہ سے اخذ کیے ہیں، امام محمد کی ذات کوائمہ اربعہ کی فقہ کا مخرج قرار دینا بے جانہ ہوگا اور اس میں توکسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ مذاہب اربعہ میں جتنی تدوین وتصنیف ہوئی، امام مالک، امام محمد کے استاد ہیں؛ لیکن فقہ میں علماء امام محمد کو امام مالک سے افقہ سمجھتے تھے، یحییٰ بن صالح سے جوشیوخِ بخاری ہیں، پوچھا گیا کہ آپ نے امام مالک اور امام محمد دونں بزرگوں کی رفاقت کی ہے، ان میں کون زیادہ افقہ تھا؛ انہوں نے فرمایا کہ محمد بن حسن افقہ من مالک، امام محمد امام مالک سے زیادہ فقیہ تھے۔[94] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے میری مدد فرمائی کہ حدیث میں ابن عیینہ اور فقہ میں امام محمد کا تلمذ نصیب ہوا (جواہرمضیہ:2/44، 527) فرماتے تھے کہ میں نے امام محمد جیسا فقیہ نہیں دیکھا میں فقہ میں ان کا سب سے زیادہ ممنون ہوں [95] ان کا قول ہے کہ میں نے فقہا میں امام محمد جیسا فقہ میں بصیرت رکھنے والا کسی کونہیں پایا، جن مسائل کے اسباب وعلل کی تلاش سے اکابر عاجز رہ جاتے تھے وہ ان مسائل کو حل کردیتے تھے، ایک مرتبہ کسی نے امام شافعی سے مسئلہ دریافت کیا اور انہوں نے جواب دیا، سائل نے ان سے کہا کہ فقہا آپ کی رائے سے اختلاف رکھتے ہیں، امام نے فرمایا کہ تم نے محمد بن حسن کے علاوہ کسی فقیہ کودیکھا بھی ہے، میں نے ان کے جیسا گداز بدن ذکی آدمی نہیں دیکھا، ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میں نے امام محمد کی صحبت اُٹھائی ہے، اب ان کے مقابلہ میں کسی فقیہ کی رائے وزنی ہوسکتی ہے کہ میں اس کی پرواہ کروں۔[96]

تفریع مسائل[ترمیم]

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے جس فقہ کی تخم ریزی کی تھی اس کی آبیاری اور نشوونما میں تین بزرگوں امام ابویوسف، امام محمد اور امام زفر رحمہم اللہ نے خاص طور سے حصہ لیا تھا؛ لیکن ان میں سے بھی ہرایک کی خصوصیت پربڑی اچھی رائے دی ہے، کسی نے ان سے اہلِ عراق کے بارے میں سوال کیا توانہوں نے فرمایا: ابوحنیفۃ سیدھم وابویوسف اتبعہم للحدیث ومحمد بن حسن الکثرہم تفریعا وزفر احدھم قیاساً۔[97] ترجمہ: امام ابوحنیفہ اہلِ عراق کے سردار ہیں امام ابویوسف ان سب سے زیادہ متبع حدیث ہیں اور امام محمد نے ان سب سے زیادہ مسائل کی تفریع کی ہے امام زفر سب سے زیادہ قیّاس تھے۔ فقہ میں امام محمد کی اصلی خصوصیت یہی تفریع اور تولید مسائل ہے، تفریح کا مطلب یہ ہے کہ مستنبط مسائل کی علت مشترکہ تلاش کرکے اس کی روشنی میں دوسرے مسائل پیدا کیے جائیں، تفریع مسائل ہرشخص کا کام نہیں ہے، اس کے لیے دینی علوم میں تبحر، ادب ولغت سے واقفیت اور غیرمعمولی ذہانت کی ضرورت ہے، امام محمد میں یہ تمام خصوصیتیں بدرجہ اتم موجود تھیں، جن کی تفصیل اوپر آچکی ہے۔

اجتہاد واستنباط[ترمیم]

اجتہاد واستنباط یعنی براہِ راست قرآن وحدیث سے مسائل پیدا کرنا،ی ہتفریع سے زیادہ مشکل کام ہے، استنباط مسائل کے لحاظ سے امام محمد کواجتہاد کا درجہ حاصل تھا اور استنباط واجتہاد کے لیے فقہاء نے جوقیود شرائط لگائے ہیں وہ ان پرپورے اُترتے تھے؛ لیکن اس کے باوجود وہ اپنے کوصاحب مذہب نہیں بلکہ متبعِ امام ابوحنیفہ ہی کہتے رہے؛ اُوپر ذکر آچکا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے ایک ہزار سے زائد مسئلے براہِ راست قرآن سے مستنبط کیے ہیں، ابوعلی فارسی فرماتے ہیں کہ اہلِ بصرہ کوالبیان والتبین، کتاب الحیوان، کتاب سیبویہ اور کتاب العین پرفخر ہے؛ لیکن ہمیں (یعنی اہلِ کوفہ کو) ان 25/ہزار مسئلوں پرناز ہے، جنہیں امام محمد رحمہ اللہ نے مستنبط کیے ہیں، ان کے اجتہاد واستنباط کا پورا اندازہ ان کی کتابوں کے مطالعہ ہی سے ہوسکتا ہے۔

معاملات سے واقفیت پیدا کرنے کے سلسلہ میں کدوکاوش[ترمیم]

معاملات کے بیشتر مسائل کا مدار عرف اور تعامل پرہے؛ لیکن یہ چیزیں ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں، آج جوچیز بھی عرفِ عام اور فقہا کی اصطلاحمیں عمومی بلوی (عام تعامل) میں داخل ہے، ضروری نہیں کہ وہ عرف وتعامل کل بھی باقی رہے، کسی زمانہ میں نبیذ سے وضو کے جواز وعدمِ جواز کا سوال تھا؛ لیکن آج سوڈا واٹر کی قسم کی چیزوں کے متعلق سوال کیاجاتاہے، اس لیے ایک مجتہد کے لیے ضروری ہے کہ وہ عرفِ قدیم اور عرفِ جدیدسے واقف وتعامل کوسمجھنے کی کوشش کرتے اور اُن سے واقفیت پیدا کرنے کے لیے جواہلِ حرفہ اور پیشہ وروں کے پاس جاتے تھے، حسن بن شہوب فرماتے ہیں کہ: رائیت محمداً یذہب الی الصباغین ویسئال عن معاملاتہم ومایدیرونہا فیما بینہم۔[98] ترجمہ: میں نے امام محمد رحمہ اللہ کودیکھا کہ وہ رنگریزوں کے پاس خود جاتے اور اُن سے مل کران کے معاملات اور معاملات میں وہ جوکچھ تبدیلی پیدا کرتے رہتے تھے اس کے متعلق معلومات حاصل کرتے تھے۔ ایک مجتہد کے لیئےیہ بھی ضروری ہے کہ قرآن وحدیث پراس حیثیت سے نظر رکھے کہ کون سی آیت یاحدیث منسوخ اور کون سی ناسخ ہے اور اس بات کا بھی پورا علم ہوکہ قرآن وحدیث میں جوچیزیں حرام یاحلال کی گئی ہیں، ان کی علت مشترکہ کیا ہے؛ تاکہ دوسری چیزیں جن کی حلت یاحرمت کے متعلق کوئی تصریح نہیں ہے، ان پرحلال یاحرام ہونے کا حکم لگایا جاسکے، امام محمد اس حیثیت سے بھی قرآن وحدیث پرمجتہدانہ نظر رکھتے تھے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، میں نے امام محمد جیسا ناسخ ومنسوخ اور حلال وحرام اور ان کی علتوں کا جاننے والا نہیں دیکھا۔[99]

اہلِ اجتہاد کے بارے میں ان کی رائے[ترمیم]

اہلِ اجتہاد کے خطا وصواب کے بارے میں امام محمد نے اپنے تلامذہ کویہ اصول لکھوادیا تھا کہ جب کسی مسئلہ کی حلت وحرمت میں مجتہدین کا اختلاف ہوتا ہے اور ایک ہی چیز کوایک مجتہد حرام اور دوسرا حلال بتاتا ہے تواللہ تعالیٰ کے نزدیک صحیح اور حق توایک ہی ہوگا، یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی وقت میں کوئی چیز حلال وحرام دونوں ہو، اب جومجتہد اپنے اجتہاد میں مصیب ہوگا اسے اپنے خلوص اور فرض کی ادائیگی کدوکاش اور اصابت رائے کا جر ملے گا اور جومصیب نہ ہوگا اس کوبھی اپنے خلوص اور محنت کا اجر ملے گا؛ لیکن ماجور ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کا قول اللہ تعالیٰ کے نزدیک حق بھی ہوگا۔ اس اصول کے اعلان کرنے کے بعد آپ نے تلامذہ سے فرمایا کہ اس بارے میں امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور میری سب کی ایک ہی رائے ہے۔[100] جولوگ امام صاحب اور ان کے اصحاب پرمصوبہ (یعنی وہ لوگ جودونوں صورتوں کی تصویب کرتے تھے) ہونے کا الزام لگاتے ہیں، اس اصول سے ان کے الزام کی پورے طور پرتردید ہوجاتی ہے۔

دوسرے علوم[ترمیم]

ان دینی علوم کے علاوہ ادب ولغت، ریاضی اور نحو میں بھی انہیں پورا تبحر حاصل تھا، جواہرمضیہ میں ہے کہ وہ عربیت، نحو اور ریاضی میں ماہر امام تھے [101] امام ابوبکر رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابوعلی فارسی (مشہور نحوی) سے امام محمد کی جامع کبیر پڑھا کرتا تھا وہ اکثر فرماتے تھے کہ مجھے حیرت ہے کہ محمد بن حسن کوفن نحو میں کس قدر یدطولیٰ حاصل تھا، جمہور علماء اور خصوصاً امام ابنِ تیمیہ نے ان کی عربیت کا بے حداعتراف کیا ہے، فرائض کے مسائل میں انہوں نے جوتدقیق وتفصیل کی ہے اس سے ان کی ریاضی دانی کا پورا پورا اندازہ ہوجاتا ہے۔

فصاحت وبلاغت[ترمیم]

گووہ عربی النسل نہیں تھے؛ لیکن ان کی فصاحت وبلاغت اور عربیت کا تمام ائمہ فن کواعتراف تھا، امام شافعی رحمہ اللہ جن کی عربی دانی مسلم ہے، فرماتے ہیں کہ محمد بن حسن کی فصاحتِ زبان کی وجہ سے اگر میں یہ کہوں کہ قرآن ان ہی زبان میں نازَ ہوا ہے توبیجا نہ ہوگا، ایک دوسرا مقولہ ہے کہ میں نے ان کے جیسا فیصح نہیں دیکھا [102] فرماتے تھے کہ میں پہلی بار جب ان کی خدمت میں حاضر ہوا توایک ایک اختلافی مسئلہ پوچھا؛ انہوں نے مسئلہ کی توضیح شروع کی، تومیں اس خیال میں تھا کہ وہ زبان کی کوئی غلطی ضرور کریں گے؛ لیکن وہ تیر کی طرح صفائی سے نکل گئے اور کوئی معمولی سی بھی غلطی نہیں کی [103] جب وہ مسائل پرگفتگو کرتے تھے توایسا معلوم ہوتا تھا کہ قرآن کا نزول ہورہا ہے۔[104]

مسلک[ترمیم]

امام محمد رحمہ اللہ نے زمانہ سے پہلے ہی عجمیوں کے اثر سے مسلمانوں میں بھی ذات وصفات وغیرہ کے بارے میں بہت سے فرقے پیدا ہوگئے تھے، ان میں معتزلہ، خوارج، شیعہ، مرجیہ، قدریہ اور جہمیہ وغیرہ بہت زیادہ مشہور تھے، ہرفرقہ نے اپنے خیالات اورنظریات کوثابت کرنے کے لیے قرآن وحدیث کی آڑلی تھی اور اسی کواپنا ماخذ قرار دیا تھا اس لیے فقہا ومحدثین کوبھی اپنے درس میں ضمناً اس مسائل پربحث اور ردوقدح کرنی پڑتی تھی؛ چونکہ ان مسائل میں سے ہرمسئلہ کی بنیاد قرآن کی کوئی آیت یاحدیث نبوی ہی تھی؛ اس لیے اس بارے میں ہرفقیہ اور ہرمحدث کی رائے ایک نہیں ہوسکتی تھی، اس بناپر خود علماء مختلف جماعتوں میں بٹ گئے تھےاور ہرجماعت اپنی رائے کوصواب اور دوسرے کی رائے کوناصواب کہتی تھی؛ بلکہ بسااوقات اس اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے کوفاسق، فاجر اور متبدع بھی ٹھہراتی تھی؛ لیکن ان میں بعض مسائل بالکل فروعی اور ان میں بھی اختلاف نزاع لفظی یاغلط فہمی پرمبنی تھا، مثلاً اس مسئلہ میں کہ قرآن حادث ہے یاقدیم، علماء کے درمیان بڑی معرکہ آرائیاں ہوئیں؛ لیکن اگرغور سے دیکھا جائے تویہ اختلاف سراسر غلط فہمی پرمبنی ہے، جولوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قدیم ہے، اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ خدا کی صفت کلام جس کا ایک مظہر قرآن ہے، کلام الہٰی کی حیثیت سے وہ قدیم ہے؛ لیکن یہ قرآن جوہمارے سامنے کاغذپرلکھا ہوا موجود ہے، وہ مخلوق وحادث ہے (بعض لوگوں نے بہت زیادہ مبالغہ سے کام لیا ہے اور اس کے حروف والفاظ کی قدامت کے بھی قائل ہیں؛ لیکن ان کا خیال عقلی وشرعی کسی حیثیت سے صحیح نہیں ہے) اور اس میں کوئی عقلی اور شرعی قباحت نہیں ہے۔

جولوگ اس کے مخلوق اور حادث ہونے کے قائل ہیں، اس سے ان کامطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا کی صفت خلق اور صفت علم کے مظاہر (انسان وحیوان) مخلوق وحادث ہیں؛ اسی طرح اس کی صفت کلام کا مظہر یہ قرآن ہے، اس لیے ایک مظہر کی حیثیت سے وہ بھی حادث ومخلوق ہے؛ ورنہ اس کی اصل صفت کلام توقدیم ہے ،اس میں کوئی قباحت نہیں ہے دونوں راویوں کا حاصل ایک ہی ہے، صرف طریقہ تعبیر میں فرق ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے سامنے بھی یہ مسائل پیش کیے گئے؛ لیکن امام صاحب رحمہ اللہ کی طرح انہوں نے بھی ہمیشہ ان مسائل میں یاتواعتدال کی راہ اختیار کی یاسلفِ صالحین کی طرح تحقیق وتدقیق سے گریز کرتے رہے؛ اسی اعتدال اور گریز کا نتیجہ تھا کہ بعض لوگوں نے امام صاحب کی طرح ان پربھی جہمی ومرجی وغیرہ ہونے کا الزام لگایا؛ لیکن یہ الزام صرف غلط فہمی کی بناپ رتھا، اس لیئے ہم ایسی روایتیں نقل کرتے ہیں، جن سے اس الزام کی تردید ہوجائیگی۔ امام محمد رحمہ اللہ قرآن کے قدیم ہونے کے قائل تھے۔[105] ابوسلیمان جوزجانی فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد رحمہ اللہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ : من قال القرآن مخلوق فلاتصلوا خلفه۔[106] ترجمہ: جوشخص قرآن کے مخلوق ہونے کا قائل ہو، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ لیکن قدیم سے ان کی مراد وہی ہے، جس کی اوپر تشریح کی گئی ہے۔ ذات وصفات کے بارے میں جواحادیث صحیح طریقہ سے مروی ہیں، ان کے بارے میں فرماتے تھے کہ: ان بذہ الاحادیث قدرتھا الثقات فنحن نرویھا ونومن بہا والانفسرہا۔[107] ترجمہ:ذات وصفات کے بارے میں جواحادیث صحیح سند سے مروی ہیں، ہم اُن کی روایت کرتے ہیں اُن پرایمان رکھتے ہیں؛ لیکن ان کی تفسیر وتوضیح نہیں کرتے۔ اس بارے میں ایک دوسری روایت اس سے بھی زیادہ صاف اور واضح ہے، فرماتے ہیں: اتَّفَقَ الْفُقَهَاءُ كُلُّهُمْ مِنْ الْمَشْرِقِ إلَى الْمَغْرِبِ عَلَى الْإِيمَانِ بِالْقُرْآنِ وَالْأَحَادِيثِ الَّتِي جَاءَتْ بِهَا الثِّقَاتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صِفَةِ الرَّبِّ عَزَّوَجَلَّ، مِنْ غَيْرِ تَفْسِيرٍ وَلَاوَصْفٍ وَلَاتَشْبِيهٍ، فَمَنْ فَسَّرَ الْيَوْمَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ خَرَجَ مِمَّا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّهُمْ لَمْ يَصِفُوا وَلَمْ يُفَسِّرُوا، وَلَكِنْ أَفْتُوا بِمَا فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، ثُمَّ سَكَتُوا فَمَنْ قَالَ بِقَوْلِ جَهْمٍ فَقَدْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ لِأَنَّهُ قَدْ وَصَفَهُ بِصِفَةٍ لَاشَيْءٍ۔[108]

ترجمہ:مشرق سے مغرب تک تمام فقہا اس بات پرمتفق ہیں کہ قرآن اور ان احادیث پرجن کوثقات نے روایت کیا ہے اور اللہ عزوجل کی صفات پربغیر کسی تفسیر وتشبیہ وتوصیف کے ایمان رکھنا چاہیے، جوشخص ان چیزوں کی تفسیر وتوضیح کرتا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور سلف کے طریقہ سے علیٰحدہ روش اختیار کرتا ہے، اس لیے کہ وہ اس کی توصیف وتفسیر نہیں کرتے تھے، جوکچھ کتاب وسنت میں تھا، اس کے مطابق فتویٰ دیتے تھے؛ پھرخاموش ہوجاتے تھے، جس شخص نے جہم بن صفوان کی طرح بات کی وہ سلف کی جماعت سے خارج ہوگیا، اس لیے کہ جہم اللہ تعالیٰ کوان اوصاف سے متصف کرتا تھا، جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے مسلک کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ: مذہبی ومذہب الامام (ابی حنیفۃ) وابی بکر ثم عمر، ثم عثمان، ثم علی رضی اللہ عنہم واحد۔[109] ترجمہ:میرا اور امام صاحب کا اور خلفائے راشدین سب کا مسلک ایک ہی ہے۔ بلوغ الامانی میں حافظ زاہد الکوثری نے حسن بن زیاد سے جوروایت نقل کی ہے، اس میں امام ابویوسف کا نام بھی ہے۔ ان روایات سے پورے طور پرواضح ہوگیا ہوگا کہ ان کواعمال وعقائد میں کتاب وسنت کے اتباع اور سلفِ صالحین کے اُسوہ کا کتنا خیال تھا؛ لیکن اس اتباع اور سلفیت کے باوجود بعض لوگ امام صاحب اور اُن کے تلامذہ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے، امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کوجب اس کی اطلاع ہوتی تھی توان کے بارے میں یہ شعر پڑھتے اور خاموش رہتے تھے ؎ مُحَسَّدُون وشَرُّ الناسِ مَنْزِلَةً مَن عاش في الناسِ يَوْماً غيرَ مَحْسودِ[110]

ائمہ اور علماء کی رائے[ترمیم]

کسی شخص کی سوانح حیات کی تکمیل کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے متعلق اس کے معاصرین کے خیالات اور رائے معلوم کی جائے؛ تاکہ اس آئینہ خانہ میں اس کی زندگی کے پورے خدوخال دیکھے جاسکیں؛ امام محمد کے فضل وکمال پران کے معاصرین ائمہ اور علماء ہم زبان ہیں؛ اگران کے اقوال کوجمع کیا جائے توایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہوجائے، اس لی ہم صرف چند ممتاز بزرگں کے اقوال نقل کرتے ہیں: امام صاحب اور امام مالک نے ان کے متعلق جورائے دی تھی اس کا ذکر اُوپر آچکا ہے ،امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی بہت سے اقوال نقل کیے جاچکے ہیں، دوچار اور مقولے جونقل نہیں ہوئے ہیں وہ یہاں درج کیے جاتے ہیں، وہ فرماتے تھے کہ اگرفقہا انصاف سے کام لیں تویہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ انہوں نے امام محمد جیسا فقیہ نہیں دیکھا [111] دوسرا مقولہ ہے کہ میں نے محمد بن حسن جیسا فقیہ نہیں دیکھا، ربیع کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام محمد رحمہ اللہ کے بارے میں فرمایا: مارایت اعقل ولاافقہ ولاازھد ولااورع ولااحسن نطقا ولاایراداً من محمد بن الحسن۔[112] ترجمہ: میں نے امام محمد جیسا عاقل، فقیہ، زاہد، متقی، خوش تقریر اور بحث ونقد کرنے والا نہیں دیکھا۔ امام ابراہیم حربی فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا کہ آپ کوایسے دقیق مسائل کہاں سے معلوم ہوئے؟ فرمایا: میں نے محمد بن حسن کی کتابوں سے اخذ کیا ہے۔ (ترجمہ امام محمد ذہبی رحمہ اللہ) مولانا عبدالحئیؒ نے امام احمد کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب کسی مسئلہ میں تین آدمیوں کی رائے متفق ہوجائے توپھر کسی مخالف کاقول مسموع نہ ہوگا؛ لوگوں نے دریافت کیا کہ وہ تین آدمی کون ہیں، آپ نے فرمایا کہ ابوحنیفہ، ابویوسف اور محمد بن الحسن رحمہم اللہ۔[113]

تعدیل[ترمیم]

ابوعبید کا قول ہے کہ میں نے محمد بن الحسن جیسا عالم نہیں دیکھا () علی بن المدینی جوجرح وتعدیل کے امام ہیں، امام محمدکے بارے میں ان کی رائے درفیافت کی گئی توفرمایا کہ صُدُوْقٌ سچے ہیں [114] (یعنی ان کی روایت قابل قبول ہے)۔ محدث ابوسلیمان جوزجانی کوایک بار امام احمد رحمہ اللہ نے لکھا کہ اگرآپ امام محمد کی کتابوں سے روایت کرنا چھوڑ دیتے توہم آپ کے پاس استفادۂ حدیث کے لیے حاضر ہوتے (غالباً اس وقت امام حنبل، امام محمد کے علم وفضل اور ان کی کتابوں سے واقف نہیں ہوئے تھے) انھوں نے ان کے خط کے پشت پرلکھدیا کہ آپ کا آنا نہ توہمیں بلند کردے گا اور نہ، نہ آنا پست کردیگا؛ کاش میرے پاس امام محمد رحمہ اللہ کی کتابوں کا اتنا ذخیرہ ہو؛ تاکہ میں صرف انہی کی روایتیں بیان کرتا۔[115] امام ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے حدیث میں امام محمد سے احتجاج کیا ہے [116] میزان میں لکھتے ہیں: کان محمد بن حسن من جورالعلم والفقہ قویانی مالک۔ ترجمہ:امام محمد علم اور فقہ کے سمندر تھے اور امام مالک کی مرویات میں قوی تھے۔ (امام ذہبی کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے کہ وہ صرف امام مالک کی روایتوں میں قابل استناد ہیں، اس لیے کہ امام مالک جن سے انہوں نے تھوڑی مدت استفادہ کیا ان کے بارے میں وہ قوی ہوسکتے ہیں، توامام صاحب کی جن کی روایت اور علوم کی تفصیل میں انہوں نے اپنی عمرختم کردی ان کے بارے میں کیونکر وہ قوی؛ بلکہ اقویٰ نہ ہوں گے)۔ محدث دارِ قطنی جوامام صاحب اور ان کے تلامذہ کے بارے میں بڑی سخت رائے رکھتے ہیں؛ انہیں بھی امام محمد کے فضل وکمال کا اعتراف کرنا پڑا ہے، غرائب مالک میں رفع یدین عندالرکوع کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: حدث بہ عشرون نفراً من الثقات الحفاظ منہم محمد ابن الحسن الشیبانی یحیی بن سعید القطان وعبداللہ بن المبارک وعبدالرحمن بن مہدی وابن وہب وغیرہم۔[117] ترجمہ: اس حدیث کوبیس ائمہ ثقات نے بیان کیا ہے، ان بیس میں امام محمد یحییٰ بن سعید القطان، عبداللہ بن المبارک، عبدالرحمن بن مہدی اور ابن وہب وغیرہ ہیں۔ دوسری روایت ہے کہ: لایستحق محمد عندی الترک۔[118] ترجمہ: میرے نزدیک امام محمد (روایت میں) چھوڑنےکے قبال نہیں ہیں۔ عبداللہ بن علی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے امام محمد کے بارے میں دریافت کیا توانہوں نے فرمایا: صدوق سچے ہیں [119] امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انتہت الیہ ریاسۃ الفقہ بالعراق بعد ابی یوسف وتفقہ بہ الأئمۃ۔[120] ترجمہ:عراق میں امام ابویوسف کے بعدفقہ کی ریاست امام محمد پرختم ہوگئی او ران سے ائمہ نے تفقہ حاصل کیا۔ خطیب نے امام محمد کے بارے میں جوجرح نقل کی ہے، اس کے متعلق ہم مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی مرحوم کا تبصرہ نقل کردیتے ہیں، اس سلسلہ میں اس سے جامع توجیہ نہیں کی جاسکتی، فرماتے ہیں: خطیب نے امام محمد کی بابت جرح بھی نقل کی ہے، جس میں بعض سخت ہیں؛ مگرقریباً ڈیڑھ ہزار برس کے زمانہ میں اکابر اُمت نے جوفیصلہ امام محمد کی عظمت کے بارے میں کیا ہے، ظاہر ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی جرح قائم نہیں رہ سکتی، خطیب کا قول ہے کہ جوقول میں آخر میں نقلکروں، وہی میری رائے ہے۔[121] چنانچہ محمودیہ کا خواب جوسب سے آخر میں نقل کیا ہے اس سے امام محمد کی تعدیل کا فیصلہ خود ظیب کے اصول کے مطابق بھی ہوجاتا ہے[122]

جرح کی غیرمعتبر روایات[ترمیم]

اس اعتراف فضل وکمال کے باوجود انہی بزرگوں کی سند سے رجال وتذکرہ کی کتابوں میں امام محمد کے بارے میں بعض ایسی روایتیں بھی مروی ہیں جوان کے صحیفۂ زندگی کا بدنما داغ معلوم ہوتی ہیں؛ لیکن اگران روایتوں کواصولِ روایت ودرایت پرپرکھا جائے تومشکل ہی سے کوئی روایت درجۂ استناد تک پہنچے گی، بفرضِ محال کوئی روایت اس معیار پرپوری اُتر بھی جائے تواس کواگردقتِ نظر سے دیکھا جائے گا تواس کی تہ میں کوئی نہ کوئی فقہی وکلامی اختلاف ضرور کارفرما ہوگا؛ اسی فقہی اور کلامی اختلاف کا نتیجہ تھا کہ ائمہ اربعہ تک کونشانۂ ملامت اور سزاوار تحقیر ٹھہرایا گیا اور ان کے متعلق آج تک کتابوں میں ایسی روایتیں موجود ہیں جن کی نسبت ایک معمولی انسان کی طرف بھی نہیں کی جاسکتی، خصوصیت سے امام صاحب اور اُن کے تلامذہ کے بارے میں عام طور پریہ مشہور تھا کہ وہ اہلِ الرائے ہیں، یعنی عقل کونقل پرترجیح دیتے ہیں، وہ مرجی اور جہمی ہیں وغیرہ وغیرہ؛ اِس لیے امام محمد رحمہ اللہ کے بارے میں بھی انہی روایتوں کا مشہور ہوجانا کوئی تعجب خیز نہیں ہے؛ لیکن جن ائمہ کی سند سے یہ روایتیں بیان کی گئی ہیں، ہم اُن کے متعلق یہ خیال نہیں کرسکتے کہ انہوں نے کوئی ایسی بات زبان سے نکالی ہوگی یاان سے کوئی ایسا عمل سرزد ہوا ہوگا جوان کے مرتبہ سے فروتر ہو، اس وجہ سے ہم کوان کے قبول کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ علامہ زاہد الکوثری نے تانیب الخطیب اور بلوغ الامانی میں ان تمام غلط روایتوں پرجوامام صاحب اور اُن کے تلامذہ کے بارے میں مشہور ہیں، بڑی تفصیل سے تنقید کی ہے، جوحصہ امام محمد سے متعلق ہے ہم اس کا خلاصہ یہاں نقل کرتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ کی طرف روایت منسوب ہے کہ ایک روز انہوں نے درس میں تلامذہ سے فرمایا کہ اہلِ عراق کی تکذیب نہ کرو، نہ تصدیق؛ بلکہ ان کواہلِ کتاب کے درجہ میں رکھو، امام محمد بھی اس مجلس میں موجود تھے، جب امام مالک کی نظر اُن پرپڑی تووہ بہت شرمندہ ہوئے [123] علامہ زاہد الکوثری نے اس روایت پرکوئی جرح نہیں کی ہے؛ حالانکہ یہ روایت اس لیے صحیح نہیں ہوسکتی کہ یہ معلوم ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ جب دوبارہ دیارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے توامام مالک رحمہ اللہ نے ان سے استفادہ ومذاکرہ کیا اور جب تک وہ وہاں رہے، بسااوقات رات، رات بھر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ سلسلہ جاری رکھا، قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ لیث بن سعد نے ایک دن امام مالک کونبیذ پیتے ہوئے دیکھا توپوچھا کہ آپ نبیذ پی رہے ہیں، امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے ابوحنیفہ کے ساتھ نبیذ پی ہے؛ پھرلیث سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ اے مصری وہ فقیہ تھے (یہ کتاب چار حصوں میں ہے، کتب خانہ ظاہریہ، دمشق میں اس کا قلمی نسخہ موجود ہے)۔ فضائل ابوحنیفہ میں عبدالعزیز الدراوردی سے روایت ہے کہ : ان ماکان ینظر فی کتب ابی حنیفۃ وینفع ینتفع بہا۔[124] ترجمہ:امام مالکؒ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی کتاب کا مطالعہ کرتے تھے اور اُن سے فائدہ اُٹھاتے تھے۔ اس استفادہ وتعلم اور اعترافِ فضل وکمال کے باوجو داہلِ عراق کے بارے میں جن میں امام صاحب تھی تھے، امام مالک کاکوئی ایسی بات کہنا جس سے امام صاحب یااُن کے تلامذہ کی امانت ہو، مستبعد معلوم ہوتا ہے۔

امام محمد اور امام شافعی کے بارے میں غلط روایات[ترمیم]

امام محمد سے امام شافعی کے استفادہ وتعلم کا ذکر اوپر آچکا ہے اور امام شافعی نے امام محمد کے فضل وکمال کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اور امام محمد نے ان کے ساتھ جوحسنِ سلوک کیا ہے، ان کا تذکرہ بھی بہ تفصیل ہوچکا ہے؛ لیکن اس کے باوجود، ان بزرگوں کے بارے میں تذکرہ وتراجم کی کتابوں میں بعض ایسی روایتیں منقول ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگوں میں استاد وشاگرد اور معلم ومتعلم کا تعلق نہیں تھا؛ بلکہ ان میں آپس میں معاصرانہ چشمک تھی اور دونوں ایک دوسرے کے متقابل تھے؛ اس لیے ضروری ہے کہ ان روایتوں کومعیار تنقید پرجانچا جائے۔ اوپر بیہقی کی سند سے امام رازی رحمہ اللہ نے مناقب الشافعی میں یہ روایت نقل کی ہے کہ جب امام ابویوسف اور امام محمد نے دیکھا کہ امام شافعی کا حلقہ اثر بڑھ رہا ہے اور خلیفہ بھی ان سے متاثر معلوم ہوتا ہے توان کوامام شافعی سے حسد پیدا ہوا اور انہوں نے ہارون کوکسی بہانہ سے ان کے قتل پرآمادہ کیا؛ لیکن ہارون نے ایسا نہیں کیا۔[125] یہ روایت چند وجوہ کی بناپر صحیح نہیں ہے: (1)تمام اہلِ تذکرہ متفقہ طور پرلکھتے ہیں کہ امام شافعی پہلی بار سنہ184ھ میں عراق آئے اور اس سے دوسال پہلے سنہ 182ھ میں امام ابویوسف کا انتقال ہوچکا تھا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس روایت کی کیا حیثیت ہے، اب رہا امام محمد کا حسد کرنا اور ہارون کوان کے قتل پرآمادہ کرنا تویہ بھی درایت اور روایت کسی حیثیت سے صحیح نہیں ہے، حافظ ابنِ حجر جوخود شافعی المسلک ہیں اس روایت کے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ: والذی نقل عن محمدبن الحسن فی حق الشافعی لیس بثابت۔ ترجمہ: جوکچھ سازش وغیرہ امام محمد سے امام شافعی کے متعلق مروی ہے وہ اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ (2)امام شافعی جس وقت عراق تشریف لائے تھے، ان کوفقہ میں کوئی دست رست نہیں تھی، موطا جسے انہوں نے امام مالک سے براہِ راست سماع کیا تھا، اس کی بعض روایتیں بھی وہ اپنی کتاب میں امام محمد کے واسطہ سے نقل کرتے ہیں، اس لیے ان دونوں بزرگوں میں حسد کی کوئی مشترک وجہ نہیں معلوم ہوتی اور نہ بظاہرمعاصرانہ چشمک کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ (3)اور امام محمد کے متعلق معلوم ہے ہے کہ وہ خلفاء وعلماء سے زیادہ ملنا پسند نہیں کرتے تھے، انہوں نے عہدۂ قضا جوایک خالص دینی کام تھا، اس بناپر کہ اس کی وجہ سے دربارِ شاہی سے ان کومنسلک ہونا پڑے گا، قبول کرنے میں تامل کیا تھا، ایسے بے نیاز شخص کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ خلفاء کے یہاں درخور حاصل کرنے کے لیے ایک مسلم اور پھرعزیم شاگرد کے قتل کی سازش کرے گا؛ بالکل ہی مستبعد بات ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ سے مناظرہ[ترمیم]

خطیب نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک بار امام شافعی رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ سے مناظرہ ہوا، امام محمد کے جسم پرباریک کپڑا تھا اور ان کی گردن کی تمام رگیں پھول گئیں تھیں اور وہ غصہ میں زور زور سے چیخ رہے تھے؛ یہاں تک کہ ان کے گریبان کے تمام بٹن کھل گئے۔[126] اس روایت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے، چیخنے، رگ پھول جانے اور گریبان کے تمام بٹن کھل جانے میں کیا مناسبت ہے، اس کے علاوہ یہ روایت سند کے اعتبار سے بھی کمزور ہے، اس میں دوراوی وملج اورآبار ضعیف ہی نہیں بلکہ وضاع ہیں، ان کے یہاں وضاعین حدیث کا جمگھٹ لگا رہتا ہے (مثلاً ابوالحسن عطار علی الرضانی وغیرہ) اور وضع حدیث ان کا خاص کام تھا، آباد امام صاحب اور ان کے تلامذہ کے بارے میں اس قسم کی روایتیں نقل کرنے میں بہت ہی بے باک ہے۔[127] قطع نظر اس سے خود تاریخ خطیب میں دوسری رویات جواسی صفحہ میں درج ہے اس سے پہلی روایت کی تردید ہوجاتی ہے، ربیع فرماتے ہیں کہ مجھ سے امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ماناظرت أحدا إلاتغير وجهه ماخلا محمد بن الحسن۔[128] ترجمہ: بجزامام محمد کے میں نے جس سے بھی مباحثہ کیا اس کے چہرہ کا رنگ بدل گیا۔ لیکن اس روایت میں بھی دوراوی ابن رازق اور ابوعمروبن سماک ضعیف ہیں؛ اس سلسلہ کی صحیح روایتوں میں ناظرت کے بجائے سالت (میں نے پوچھا) یاسل (پوچھا گیا) کا لفظ ہے، صمیری ربیع کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ امام شافعیؒ نے فرمایا ہے کہ: ماسالت احدا عن مسئلۃ الاتبین لی تغیروجھہ الا محمد بن الحسن۔[129] ترجمہ:میں نے جب بھی کسی سے کوئی مسئلہ دریافت کیا تواس کا چہرہ بدل گیا، بجز محمد بن حسن کے۔ حافظ ابن عبدالبر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: سمعت الشافعى يقول ومارأيت أحدا سئل عن مسألة فيها نظر الارأيت الكراهة فى وجهه الامحمد بن الحسن۔[130] ترجمہ: میں نے امام شافعی سے سنا ہے فرماتے تھے کہ جس سے کوی مسئلہ پوچھا گیا میں نے اس کے چہرہ پرایک گھبراہٹ دیکھی؛ بجزمحمد بن حسن کے۔ مناقب کردری میں یہ روایت تقریباً انہی الفاظ میں ہے۔[131] ان روایتوں سے یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ امام محمد اور امام شافعی رحمہ اللہ میں جوعلمی مذاکرے ہوتے تھے ان کی حیثیت مناظرہ نہیں بلکہ ایک مستفید اور مفید کے درمیان سوال وجواب کی ہوتی تھی۔

امام صاحب رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ میں موازنہ[ترمیم]

خطیب نے اپنی تاریخ میں یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ امام محمد اور امام شافعی کے درمیان اس بارے میں بھی گفتگو ہوئی کہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک میں علم کے اعتبار سے کون افضل ہے؟ امام شافعی نے امام محمد سے قسم دے کرپوچھا: ہل تعلم ان صاحبی (مالک) کان اعلم بکتاب اللہ قال نعم! قلت کان عالماً بحدیث رسول صلی لالہ علیہ وسلم وقال نعم قال انما کان عاقلاً قَالَ نعم، قال انما کان صاحبک (ابوحنیفۃ) جاہلاً کتاب اللہِ وَبِمَاجَاءَ رَسُوْلُ اللہِ قَالَ نَعَمْ۔[132] ترجمہ: اس کا توآپ کوعلم ہے کہ میرے استاد امام مالک کتاب اللہ کے سب سے بڑے عالم ہیں، امام محمد نے اثبات میں جواب دیا؛ پھرپوچھا کہ وہ حدیث کے ممتاز عالم ہیں؟ بولے ہاں! پھرکہا: کیا وہ عقل وفہم میں بڑھے ہوئے نہیں ہیں؟ بولے ہاں! پھرکہا: کہ اور آپ کے استاد ابوحنیفہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ دونوں سے ناواقف نہیں ہیں؟ بولے ہاں!۔ اس روایت میں دوراوی وعلج اور علی الابار ہیں، جن کے وضاع ہونے کی طرف ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، حافظ ابن عبدالبر اور اسحاق شیرازی نے بھی اس روایت کواپنی کتابوں میں جگہ دی ہے؛ لیکن ان سے کسی کی روایت میں امام صاحب کے جاہل ہونے کا ذکر نہیں ہے، یہ صرف خطیب کی اپچ معلوم ہوتی ہے؛ اس سلسلہ میں جتنی روایتیں ہیں ان سب کے الفاظ میں بے حد اختلاف واضطراب ہے، جس سے متن کے ضعف کی طرف بھی قوی اشارہ ہوتا ہے اور سند ومتن کے ضعف سے قطع نظر اگرعقل ودرایت کے معیار پراس روایت کوپرکھا جائے تواس کے موضوع ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا؛ اگرامام محمد کویہ علم تھا کہ امام صاحب کتاب وسنت سے جاہل ہیں توپھر امام صاحب سے تلمذ اور تعلم کی کیا وجہ تھی، کیا کسی جاہل کے سامنے بھی زانوے تلمذ تہ کیا جاتا ہے؟۔

امام شافعی کا امام محمد کے مقابلہ میں امام مالک کوصاحبی (میرے اُستاد) کہنا بھی صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ امام شافعی نے صرف آٹھ مہینے امام مالک سے استفادہ کیا تھا؛ لیکن امام محمد مسلسل تین برس تک ان کی خدمت میں رہے اوور سماع حدیث کیا اور پھرامام شافعی کی روایت سے مؤطا کا کوئی نسخہ مروی نہیں ہے؛ لیکن امام محمد کی روایت سے مؤطا کا نسخہ آج بھی موجود ہے؛ نیز امام محمد نے امام شافعی سے ایک روایت بھی امام مالک کی سند سے نہیں کی ہے؛ لیکن امام شافعی نے امام محمد کے واسطہ سے ان کی متعدد روایتیں اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں، ان وجوہ کی بناپر امام مالک کوصاحبی کہنے کا حق توامام شافعی سے زیادہ امام محمد کوتھا، ظاہر ہے کہ یہ راویوں کی خود ساختہ روایت ہے؛ اسی لیے روایت کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔ امام محمد دونوں اماموں کے فیض یافہ تھے، اس لیے ان دونوں بزرگوں کے درمیان صاحبی وصاحبک کے لفظ سے موازنہ کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہے، اس سلسلہ کی سب سے زیادہ صحیح روایت وہ ہے جسے قاضی ابوالعاصم نے اپنی مبسوط میں نقل کیا ہے، روایت ہے: ان الشافعی سأل محمد ایمااعلم مالک وابوحنیفۃ فقال محمد بماذا قال بکتاب اللہ فقال ابوحنیفۃ فقال من اعلم بسنۃ رسول اللہ فقال ابوحنیفۃ اعلم بالمعانی ومالک اھدی للالفاظ۔ ترجمہ:امام شافعی نے امام محمد سے پوچھا کہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک میں کون بڑا عالم ہے؟ امام محمد نے پوچھا کس چیز میں؟ بولے کتاب اللہ کے علم میں، امام محمد نے کہا کہ ابوحنیفہ؛ پھرانہوں نے پوچھا سنت رسول اللہ کوکون زیادہ جانتا ہے؟ بولے ابوحنیفہ سنت کے معانی سے زیادہ واقف تھے اور امام مالک الفاظ سے۔ اس روایت کے الفاظ بتارہے ہیں کہ دونوں اماموں کے بارے میں امام محمد ایسی ہی متوازن اور صحیح رائے دے سکتے تھے، جس کی تائید واقعات سے بھی ہوتی ہے، یہ بات دوست دشمن سب کومعلوم ہے کہ امام صاحب استنباطِ مسائل میں سب سے پہلے قرآن کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان میں اس قدر شدت تھی کہ جب تک تلامذہ حفظ نہیں کرلیتے تھے وہ انہیں اپنی مجلسِ درس میں شریک نہیں کرتے تھے؛ جہاں تک ائمہ حدیث کی روایت وحفاظت کا تعلق ہے، امام مالک یقیناً اس ذخیرہ کے بہت بڑے حافظ وامین تھے اور اس کے جمع کرنے میں انہوں نے بڑی سعی وجہد سے کام لیا تھا؛ لیکن بہرحال یہ بات ماننی پڑے گی کہ امام مالک کی نظر احادیث کے الفاظ پرزیادہ اور معانی پرکم تھی اور امام صاحب کی نظر الفاظ پرکم اور معانی پرزیادہ ہوتی تھی؛ یہی وجہ ہے کہ امام مال کے مستنبط مسائل کی تعداد اتنی نہیں ہے، جتنی امام صاحب کے مستخرج مسائل کی ہے؛ کیونکہ استنباط اور استخراج کے لیے ضروری ہے کہ الفاظ سے زیادہ معانی پرنظر رکھی جائے، امام محمد نے اس کے بارے میں جوبات کہی ہے، اس سے زیادہ کوئی منصفانہ بات نہیں کہی جاسکتی۔ امام شافعی اور امام محمد کے بارے میں بعض اور کزور روایتیں بھی تذکروں میں مذکور ہیں؛ لیکن ان میں سے کوئی بھی معیارِ صحت پرپوری نہیں اُترتی، طوالت کے خیال سے ان کوہم نظرانداز کرتے ہیں۔

امام ابویوسف اور امام محمد کے اختلافات کی حقیقت[ترمیم]

اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ امام محمد عہدۂ قضا قبول کرنے سے گریز کرتے تھے؛ لیکن امام ابویوسف مصلحتا چاہتے تھے کہ وہ اسے قبول کرلیں؛ چنانچہ انہوں نے یحییٰ برمکی کے ذریعہ امام محمد کواس طرح مجبور کردیا کہ انہیں لاچار یہ عہدۂ قبول کرنا پڑا، امام ابویوسف کے اس اقدام سے امام محمد بہت زیادہ کبیدہ خاطر اور ناراض ہوئے اور ان کی یہ کبیدگی اس قدر بڑھی کہ انہوں نے امام ابویوسف سے تقریباً ترکِ تعلق کرلیا؛ لیکن ان کی یہ ناراضگی بے تعلقی، نفسانیت اور حصول اعزاز کے لیے نہیں تھی؛ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ اصول اور مصلحت کی جنگ تھی، یعنی امام محمد اسلاف اور خود امام صاحب کے اتباع کے خیال سے دربارِ شاہی سے منسلک ہونا نہیں چاہتے تھے؛ لیکن امام ابویوسف اپنے مسلک کی اشاعت کے لیے ان کا اس عہدہ پرفائز ہونا مفید سمجھتے تھے، دونوں بزرگوں میں شکررنجی اور وجہ اختلاف اتنی ہی بات پرتھی؛ لیکن اس سلسلہ میں تذکروں اور فقہ حنفی کی کتابوں کے ذریعہ بے بنیاد اور غلط روایتیں رواج پاگئی ہیں؛ اس لیے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ان پرایک ناقدانہ نگاہ ڈال لی جائے؛ تاکہ اصل حقیقت واضح ہوجائے۔ کردری نے مناقب میں اور سرخسی نے شرح السیر الکبیر میں اس اختلاف کی یہ وجہ بتائی ہے کہ امام محمد کی ذکاوت وذہانت اور ان کی طرف عام رحجان اور ان کے درس کی شہرت کی بناپر امام ابویوسف ان سے حسد کرتے تھے اور ان کی شہرت پرپردہ ڈالنے کی کودد کرتے رہتے تھے کہ اگرہارون رشید کوان کے ان اوصاف کی اطلاع ہوگئی اور اس نے امام محمد کودربارِ شاہی سے منسلک کرلیا توان کی عزت کم ہوجائے گی [133] چنانچہ یہی چیز دونوں آدمیوں میں اختلاف اور منافرت کا سبب ہوئی، سرخسی ایک محقق آدمی ہیں، ان کی کتاب میں ایسی غلط روایت کا داخل ہوجانا بہت تعجب خیز معلوم ہوتا ہے؛ لیکن غالباً یہ روایت ان کواس وقت پہنچی تھی جب وہ قید خانہ میں تھے اور قید خانہ کی کھڑکی سے طلبہ کواملا کراتے تھے، اس لیے ان کوتحقیق کا موقع نہ ملا ہو اور روایت کتاب میں داخل ہوگئی ہو، اس روایت کی اگرکوئی بنیاد ہوتی توکم از کم مخالفین کی کتابوں میں اس کا تذکرہ ضرور ہوتا؛ لیکن سرخسی اور کردری کے علاوہ کسی نے اپنی کتاب میں اس روایت کوجگہ نہیں دی ہے؛ اگرذرہ تامل سے کام لیا جائے توخود عقل اس کے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے؛ اس لیے کہ امام ابویوسف اور امام محمد کا تعلق معاصرانہ نہیں بلکہ استاد وشاگرد کا تھا اور اس تعلق میں رشک وحسد خصوصاً برگزیدہ ہستیوں میں بے معنی سی بات ہے اور پھرامام ابویوسف بغداد میں قاضی تھے اور امام محمد کی مجلس درس کوفہ میں تھی، اس کے بعد مسافت کے باوجود امام محمد کی ذکاوت یاان کی طرف عام رحجان کا اثر، امام ابویوسف کی شخصیت پرکیا پڑسکتا تھا، جب کہ دونوں کے فخرواعزاز کی نوعیت بالکل جدا تھی۔

یہ روایت اس نقطۂ نظر سے بھی قابل غور ہے کہ امام ابویوسف کوامام محمد سے رشک وحسد کب پیدا ہوا، عہدۂ قضا قبول کرنے سے پہلے یااس کے بعد؛ اگریہ جذبہ بعد میں آیا توپھرروایت کا یہ ٹکڑا کہ امام ابویوسف، ہارون سے ان کے اوصاف مخفی رکھنا چاہتے تھے، کیسے صحیح ہوسکتا ہے، اس لیے کہ عہدۂ قضا قبول کرنے کے بعد توبارہا امام محمد کوبراہِ راست ہارون سے مسائل پرگفتگو کرنے کا موقع ملا ہوگا؛ جیسا کہ واقعات سے پتہ بھی چلتا ہے اور بعض روایتوں میں ہے کہ خود ہارون ہی نے ان کواس عہدہ کے لیے منتخب کیا تھا؛ اگریہ روایت صحیح تسلیم کرلی جائے تورشک وحسد کی روایت بالکل ہی بے معنی ہوجاتی ہے، اس لیے کہ ہارون کو اس سے پہلے ان کے علم وفضل کی اطلاع مل چکی ہوگی؛ پھراس نے ان کا انتخاب کیا ہوگا توپھراخفا کے کیا معنی ہوئے اور اگرامام ابویوسف کورشک وحسد عہدۂ قضا قبول کرنے سے پہلے پیدا ہوا توپھر انہوں نے ان کے قاضی مقرر کیے جانے کی کوشش کیوں کی جب کہ یہ چیز ہارون سے درخور کا ذریعہ ہوسکتی تھی۔ یہ عجیب بات ہے کہ امام سرخسی اور کردری نے امام محمد کے جن اوصاف کے اخفاء کوامام ابویوسف سے ان کے اختلاف کا سبب قرار دیا ہے، امام ذہبی نے انہی اوصاف کے اظہار واعلان کوان کی رنجش کا سبب بتایا ہے، محمد بن سماعہ کا جوامام محمد کے محبوب شاگرد ہیں، بیان ہے کہ امام محمد اور امام ابویوسف میں رنجش کا سبب یہ ہوا کہ قاضی ابویوسف سے رقہ کے قاضی کے انتخاب کے سلسلہ میں مشورہ کیا گیا، انہوں نے فرمایا کہ میری نگاہ میں امام محمد سے زیادہ بلند مرتبہ اور اس منصب کے لیے کوئی دوسرا موزوں نہیں ہے، ان کے اسی مشورہ پرامام محمد کوکوفہ سے بغداد بلایا گیا، بغداد آنے کے بعد وہ سیدھے امام ابویوسف کے پاس پہنچے اور اُن سے اس انتخاب کی وجہ دریافت کی، امام ابویوسف نے کہا کہ یہ مشورہ میں نے ہی سوچ کردیا کہ کوفہ وبصرہ اور تمام مشرق میں ہمارے مسلک حنفی کی کافی اشاعت ہوچکی ہے؛ اگرآپ قاضی ہوکر شام چلے جائیں گے تووہاں بھی آپ کے ذریعہ اس کی اشاعت ہوگی، امام محمد نے اس کوکچھ زیادہ پسند نہیں کیا اور فرمایا اگرانتخاب کی یہی وجہ ہے توکیا یہ کام اس وقت میں انجام نہیں دے رہا ہوں [134] اور بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے امام ابویوسف رحمہ اللہ سے فرمایا کہ آپ کی عنایت اور استادانہ شفقت سے مجھے توقع ہے کہ آپ مجھے اس آزمائش میں نہ ڈالیں گے [135] اس گفتگو کے بعد امام ابویوسف رحمہ اللہ اُن کویحییٰ برمکی کے پاس لے گئے اور اس سے کہا کہ یہ امام محمد آپ کے سامنے موجود ہیں ان سے (قضا) کے معاملات طے کرلیجئے؛ چنانچہ یحییٰ برمکی نے امام محمد سے کچھ ایسا اصرار کیا اور دباؤ ڈالا کہ وہ عہدۂ قضا قبول کرنے پرمجبور ہوگئے۔[136] امام محمد رحمہ اللہ غالباً امام صاحب کے اتباع کی وجہ سے اس عہدہ کوپسند نہیں کرتے تھے اور چونکہ اس کا وسیلہ امام ابویوسف ہوئے تھے، اس لیے امام محمد ان سے کبیدہ خاطر ہوگئے؛ چنانچہ امام ذہبی رحمہ اللہ یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: وکان ذلک سبب فساد الحال بین ابی یوسف ومحمد بن الحسن۔[137] ترجمہ:امام ابویوسف اور امام محمد کے درمیان اختلاف اور شکررنجی کا سبب یہی واقعہ ہوا۔ یہ تھی واقعہ کی اصل صورت جسے راویوں کی دست اندازیوں نے بالکل مسخ کردیا تھا اور جودونوں بزرگوں کے صحیفۂ زندگی پرایک بدنما داغ معلوم ہوتا تھا۔ امام ابویوسف کے لیے ثقہ کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ اس قسم کی ایک روایت سرخسی نے شرح السیر الکبیر میں یہ بھی نقل کی ہے کہ اس کتاب کی تصنیف کے وقت چونکہ ان دونوں بزرگوں میں اختلاف پیدا ہوچکا تھا، اس لیے انہوں نے اس کتاب میں جہاں ان سے روایت کی ہے، ان کا نام نہیں لیا ہے؛ بلکہ اخبرنی الثقۃ (ایک سچے اور ثقہ راوی نے مجھ سے بیان کیا) کے الفاظ لکھے ہیں۔ یہ روایت بھی اسی نقطۂ نظر سے قابل غور ہے کہ اگرامام محمد کوایسی ہی شدید منافرت تھی کہ ان کی اہمیت کم کرنے کے لیے روایت میں ان کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتے تھے توپھرثقہ کے لفظ کے استعمال کوانہوں نے کیسے پسند کیا؛ جب کہ اس لفظ سے ان کی اہمیت کم ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھ جاتی ہے، اس لیے کہ محدثین کا دستور ہے کہ وہ اکثراحتراماً اپنے مشائخ کا نام لینے کے بجائے ان کے القاب، کنیت یاکسی مخصوص صفت کا تذکرہ کردیا کرتے ہیں، اس لیے امام محمد کے اس لفظ ثقہ کے استعمال کومنافرت یااہانت پرنہیں بلکہ اعزاز واحترام پرمحمول کرنا چاہیے۔ امام ابویوسف کے جنازہ میں کیوں شریک نہیں ہوسکے؟ عام تذکروں میں ہے کہ ان دونوں آدمیوں میں اس قدر شدید اختلاف تھا کہ امام محمد، امام ابویوسف کے جنازہ تک میں شریک نہ ہوئے؛ چنانچہ امام ابویوسف کی لونڈیاں روروکر یہ شعر پڑھ رہی تھیں ؎ الْيَوْمَ يَرْحَمُنَا مَنْ كَانَ يَحْسُدُنَا الْيَوْمَ نَتْبَعُ مَنْ كَانُوا لَنَا تَبَعًا یہ بات معلوم ہے کہ امام ابویوسف کا انتقال بغداد میں ہوا اور اس وقت امام محمدرقہ میں قاضی تھے، ظاہر ہے کہ رقہ (شام) سے بغداد (عراق) کی مسافت کچھ کم نہیں ہے اور وہ زمانہ تاربرقی اور ریل اور ہوائی جہاز کا نہ تھا، اس لیے یہ ممکن بلکہ یقین ہے کہ امام محمد رقہ میں موجود رہے ہوں گے، جہاں دوایک روز میں بھی ان کی وفات کی اطلاع نہیں پہنچ سکتی تھی، اس لیے جنازہ میں شرکت کا کیا سوال ہوسکتا تھا۔ یہ تمام روایات اس تصور کا نتیجہ ہیں کہ ان دونوں بزرگوں میں کوئی نفسانیت یاجاہ واقتدار کی جنگ تھی لیکن اگران کے درمیان اس قسم کی باتیں ہوتیں توارباب رجال ان کی تعدیل وتوثیق کے بجائے ان ہی باتوں کوسبب قرار دے کران پرجرح وتنقید کرتے؛ مگرکسی ایک شخص نے بھی اس حیثیت سے ان پرکوئی جرح نہیں کی ہے۔

تصنیفات[ترمیم]

تدوین وتالیف کے لحاظ سے امام محمد اپنے تمام ہم عصروں میں ممتاز تھے، اُن کے اقران ومعاصرین میں سے کسی ایک شخص نے اتنی کثیر اور مفید تصانیف نہیں چھوڑی ہیں، ان تصانیف کی افادیت واہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہےکہ ائمہ اربعہ کے مسلک کے سلسلہ میں تدوین فقہ کا جوکچھ بھی کام ہوا وہ امام محمد کی کتابوں یااُن کے تفریع کردہ مسائل کی روشنی میں ہوا اور جب تک فقہی تخرب وتعصب نہیں پیدا ہوا تھا اُس وقت تک ہرمسلک کے قہا اور علماء اُن کی کتابوں سے یکساں فائدہ حاصل کرتے رہے۔ اوپر ذکر آچکاہے کہ اسدبن فرات نے امام محمد سے کس جانکاہی اور دلسوزی کے ساتھ فقہ کی تحصیل کی تھی؛ چنانچہ فقہ کا یہ ذخیرہ لے کرعراق واپس جانے لگے توراستہ میں مدینہ منورہ میں اُترپڑے، وہاں امام مالک کے اصحاب وتلامذہ کے سامنے امام محمد کے تفریع کردہ مسائل کوپیش کیا اور امام مالک کے قول سے ان مسائل کی تائید وتطبیق چاہی، اہلِ مدینہ نے انہیں مصرجانے کا مشورہ دیا، باختلاف روایت وہ ابن وہب اور ابن قاسم کے پاس مصر پہنچے، ابنِ وہب نے ان مسائل کے جواب دینے سے معذوری ظاہر کی؛ لیکن ابنِ قاسم جوامام مالک کے تلامذہ میں سب سے زیادہ ان سے مستفید ہوئے تھے؛ انہوں نے اپنی بصیرت کے مطابق جواب دیا؛ چنانچہ اسد نے امام محمد کی فقہی تبویب کے مطابق ساٹھ جلدوں میں ان تمام مسائل کوجمع کیا اور ان کتابوں کا نام اسدیہ رکھا، اسد کے یہی جمع کردہ مسائل مالکی فقہ کی مشہور کتاب مدونہ کی تدوین وتالیف کے لیے مشعلِ راہ ہوئے۔ امام شافعی رحمہ اللہ جس وقت عراق گئے گووہ امام مالک کے درس حدیث میں شریک ہوچکے تھے؛ لیکن فقہ میں اب تک انہیں کوئی دسترس نہیں تھی؛ چنانچہ انہوں نے ساٹھ دینار صرف کرکے امام محمد کی کتابیں نقل کرائیں اور کچھ عاریۃً لے کراستفادہ کیا، اس کے علاوہ ایک مدت تک ان کے درس میں شریک ہوتے رہے، اس کے بعد ان کوفقہ میں درک حاصل ہوا، جیسا کہ ان کا خود بیان ہے کہ فقہ میں امام محمد کا سب سے زیادہ ممون واحسان ہوں؛ گوامام شافعی خود مجتہد ہیں اور ان کی فقہ کا ایک خاص نہج ہے؛ لیکن بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے فقہی اجتہاد اور تدوین میں امام محمد کی ذات کوبڑا دخل ہے۔ امام احمد بن حنبل کے متعلق تمام اہلِ تذکرہ نے لکھا ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے یہ دقیق مسائل کس سے حاصل کیے ہیں توآپ نے فرمایا کہ امام محمد رحمہ اللہ کی کتابوں سے؛ غرض فقہ میں فروع کی جتنی تالیف وتدوین ہوئی ان سب کا سلسلہ کسی نہ کسی حیثیت سے امام محمد رحمہ اللہ کی ذات تک ضرور منتہی ہوتا ہے۔

کثرتِ تصانیف[ترمیم]

امام محمد کی تصنیفات کی صحیح تعداد بتانا مشکل ہے، مولانا عبدالحئی صاحب نے النافع الکبیر میں ایک روایت نق لکی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تصنیفاتکی تعداد 999/ ہے؛ لیکن یہ تعداد مبالغہ سے خالی نہیں معلوم ہوتی، طاش کبریٰ زادہ نے مفتاح السعادۃ میں لکھا ہے کہ امام محمدرحمہ اللہ جوکتابیں لکھنا چاہتے تھے، ان سے ان کی فہرست مانگی گئی توانہوں نے جوفہرست دی، اس میں ایک ہزار کتابوں کے نام درج تھے؛ اگروہ زندہ رہتے تویہ تعداد پوری کردیتے؛ چنانچہ اسی لیے کہا گیاکہ ان کی زندگی بھی رحمت تھی اور موت تھی؛ اس لیے کہ اگروہ زندہ رہتے اور یہ تمام کتابیں مکمل کردیتے تواس سے استفادہ کرنے والے تھک جاتے، اس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے ایک ہزار کتابیں لکھیں نہیں؛بلکہ لکھنا چاہتے تھے۔ عام ارباب تذکرہ اور خصوصاً ابن ندیم نے جن کتابوں کا ذکر کیا ہے، ان کی تعداد 23/سے متجاوز نہیں ہے، اب ہم تفصیل سے ہرکتاب کی اہمیت اور اس کی خصوصیات پربحث کرتے ہیں۔

مؤطائے امام مالک رحمہ اللہ[ترمیم]

دوسری صدی میں حدیث کے جتنے مجموعے مرتب ہوئے ان میں ترتیب وتدوین کے لحاظ سے مؤطا امام مالک سب سے زیادہ جامع اور اہم ہے؛ یہی وجہ تھی کہ اس وقت تمام عالم اسلام سے تشنہ حدیث مؤطا کے سماع کے لیئے امام مالک کی خدمت میں جوق درجوق آتے تھے اور اکثر اہلِ علم امام مالک سے جوکچھ سنتے تھے، اسے تحریر میں لاتے جاتے تھے، ظاہر ہے کہ ہرشخص کے سماع اور تحریر میں کچھ نہ کچھ فرق ہوتا تھا؛ اسی وجہ سے تھوڑی کمی وبیشی کے ساتھ مؤطا کے متعدد نسخے تیار ہوگئے اور ہرصاحب نسخہ نے اپنے حلقہ میں اپنے ہی نسخہ کورواج دیا، سیوطی رحمہ اللہ نے تنویرالحوالک میں ان کی تعداد چودہ اور شاہ عبدالعزیز صاحب نے بستان المحدثین میں سولہ بتائی ہے اور شاہ ولی اللہ صاحب نے 3/نسخوں کا ذکر کیا ہے [138] ان ہی نسخوں میں ایک نسخہ امام محمد کی روایت سے بھی مروی ہے؛ لیکن ان تمام نسخوں میں کچھ نہ کچھ فرق موجود ہے اور خصوصیت سے امام محمد کے مدونہ نسخہ میں اور زیادہ فرق ہے۔

مؤطاے امام محمد رحمہ اللہ[ترمیم]

موطا کے جتنے نسخے موجود ہیں، ان میں یحییٰ بن یحییٰ مصمودی کا مروی نسخہ سب سے زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے، ہندوستان میں یہی نسخہ زیادہ مروج ہے اور زرقانی وغیرہ نے شرح بھی اس کی لکھی ہے؛ لیکن بعض وجوہ سے امام محمد کا روایت کردہ نسخہ اس سے بھی زیادہ معتبر اور افادیت کا حامل ہے، اب ہم ان وجوہ کی تفصیل کرتے ہیں: (1)یحییٰ بن یحییٰ امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں صرف چند ماہ رہے؛ انہوں نے ابھی مؤطا کا سماع ختم بھی نہیں کیا تھا کہ امام مالک دنیا سے رخصت ہوگئے اور امام مالک کے بعد ان کے تلامذہ سے سماع کی تکمیل کی، امام محمد، امام کے مخصوص تلامذہ میں نہیں ہیں؛ لیکن وہ تین برس تک امام کی خدمت میں رہے اور اُن سے 700/سے زیادہ حدیثیں سماع کیں، اس لیے اس اصول کے ماتحت کہ قلیل الملازمت کی روایت سے طویل الصحبت کی روایت قوی ہوتی ہے، امام محمد کے نسخہ کویقیناً ترجیح ہونی چاہیے۔ (2)یحییٰ کے روایت کردہ مؤطا میں کثرت سے مسائل فقہیہ اور امام مالک کے اجتہادات مذکور ہیں، بہت سے تراجم ابواب ایسے ہیں جن کے تحت کوئی حدیث نہیں ہے؛ لیکن مؤطاے امام محمد کی یہ خصوصیت ہے کہ کوئی ترجمہ ایسا نہیں ہے جس کے تحت مرفوع یاموقوف روایت نہ ہو اور ظاہر بات ہے کہ حدیث کی جس کتاب میں رائے واجتہاد کا شمول ہوگا، اس کے مقابلہ میں حدیث کی وہ کتاب جونفس حدیث پرمشتمل ہوگی اس کوضرور افضلیت ہوگی۔ (3)یحییٰ کے نسخہ میں صرف امام مالک رحمہ اللہ کی روایتیں مروی ہیں؛ لیکن امام محمد کے نسخہ میں دوسرے شیوخ کی روایتیں بھی شامل ہیں اور ظاہر بات ہے کہ اس زیادتی میں افادیت کا پہلو زیادہ ہے۔

مؤطاے امام محمد کی فنی خصوصیت اور ان کا طریقہ روایت[ترمیم]

امام محمد نے مؤطا میں جوطریقہ روایت اختیار کیا ہے اور جن فنی خصوصیت کا لحاظ کیا ہے وہ حسب ذیل ہیں: (1)وہ پہلے ترجمۃ الباب یعنی مضمون کی سرخی قائم کرتے ہیں؛ پھراسی کے ذیل میں امام مالک رحمہ اللہ سے کوئی مرفوع یاموقوف روایت درج کرتے ہیں اور وہ لفظِ حدیث کے بجائے عموماً لفظِ اثر استعمال کرتے ہیں اور اس سے مرفوع اور موقوف دونوں طرح کی روایتیں مراد ہوتی ہیں۔ (2)ہرعنوان کی ابتدا باب یاکتاب سے اور کبھی کبھی لفظ ابواب سے کرتے ہیں، جس جگہ نسخوں کا اختلاف دکھلانا مقصود ہوتا ہے وہاں لفظ فضل لکھ دیتے ہیں۔ (3)ایک مضمون کی ایک یاچند حدیثیں نقل کرنے کے بعد یہ ناخذ یا بہذا ناخذ کہہ کر اپنے مسلک کی طرف اشارہ کردیا کرتے ہیں اور جوحدیثیں ان کے مسلک کے مؤافق نہیں ہوتیں ان کی طرف بھی اشارہ کرتے جاتے ہیں۔ (4)عام طور پروہ لفظ اخبرنا اور حدثنا میں کوئی فرق نہیں کرتے، جیسا کہ متأخرین کا طریقہ ہے، وہ اپنے شیوخ سے جتنی روایتیں کرتے ہیں اُن میں زیادہ ترلفظ اخبرنا استعمال کرتے ہیں؛ اگرچہ اُوپر کے لوگ آخری لفظ حدثنا استعمال کرتے ہیں۔ (5)اپنی رائے ظاہر کرنے کے بعد کبھی کبھی امام صاحب کی رائے کا ذکر بھی وھوقول ابی حنیفۃ کہہ کر،کردیا کرتے ہیں،امام صاحب کی رائے کے ساتھ ان کے استاد ابراہیم نخعی اور کبھی کبھی والعامتہ من فقہائنا کہہ کرکوفہ وعراق کے عام فقہا کی رائے کا ذکر بھی کردیا کرتے ہیں۔ (6)وہ بہت سے مسائل کے سلسلہ میں ہذا حسن یاجمیل ومستحسن وغیرہ الفاظ استعمال کرتے ہیں، اس سے ان کی مراد موکدہ یاسنتِ غیرموکدہ ہوتی ہے اور جہاں وہ ینبغی کا لفظ استعمال کرتے ہیں، اس سے ان کی مراد سنتِ موکدہ یاواجب ہوتی ہے اور بسااوقات لاباس کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں، اس سے ان کی مراد اس حکم کا جواز ہوتا ہے۔ (7)غیرمستند احادیث کے لیے وہ لفظ بلغنا استعمال کرتے ہیں ایسی حدیث کواصطلاح میں بلاغیات کہا جاتا ہے، ہرمحدث کی بلاغیات کومحدثین قابل استناد نہیں سمجھتے؛ مگرامام محمد رحمہ اللہ کی بلاغیات کے بارے میں صاحب ردالمختار لکھتے ہیں: ان بلاغاتہ مستندۃ۔ ترجمہ: ان کی بلاغیات مستند ہوتی ہیں۔ (8)مؤطا کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ اس میں کوئی موضوع روایت نہیں ہے؛ البتہ کچھ ضعیف روایتیں ضرور ہیں؛ مگران کا ضعف متابعت کی وجہ سے دور ہوجاتا ہےیعنی وہ روایتیں چونکہ متعدد طریقوں سے مروی ہیں اس لیے اگرکوئی طریقۂاسناد کمزور ہوا تودوسرا قوی طریقہ اسناد اس کے ضعف کودور کردیتا ہے یاپھرایسا ہوتا ہے کہ وہی روایت دوسری کتب حدیث میں کسی دوسرے صحیح طریقے سے مروی ہوتی ہے جس سے اس کا ضعف باقی نہیں رہتا (یہ پوری تفصیل مولانا عبدالحئی فرنگی محلی رحمہ اللہ کے مقدمہ مؤطا سے لی گئی ہے)۔

کتاب الآثار[ترمیم]

حدیث وآثار میں امام محمد رحمہ اللہ کی دوسری تصنیف کتاب الآثار ہے، اس میں احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کم اور آثارِ صحابہ وتابعین کثرت سے ہیں، غالباً اسی لیے اس کا نام کتاب الآثار پڑا ہے، اس کتاب میں کل 66/مرفوع، 27/موقوف ومرسل حدیثیں 12/بلاغیات اور 7/سو اٹھارہ آثارِ صحابہ وتابعین ہیں، ان کے علاوہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور خود امام محمد رحمہ اللہ کے اقوال ہیں، اس کتاب کی چند خصوصیتیں یہ ہیں: (1)اس میں کثرت سے اپنے شیخ الشیوخ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، امام ابوحنیفہ کے علاوہ صرف پندرہ شیوخ سے روایتیں کی ہیں، اس کتاب کی نقل وروایت کا محدثین نے اور خاص طور سے فقہا نے ہمیشہ اہتمام رکھا، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کتاب کے رواۃ کی جرح وتعدیل پرمستقلاً دورسالے لکھے تھے، ایک کا نام الایثار لمعرفۃ الآثار ہے اور دوسرے کا نام معلوم نہ ہوسکا۔

کتاب الحج[ترمیم]

فن حدیث وآثار میں یہ ان کی تیسری تصنیف ہے، اس کا پورا نام کتاب الاحتجاج علی اہل المدینہ ہے۔ امام محمد گوامام مالک رحمہ اللہ کے شاگرد تھے اور ان سے مؤطا کا سماع کیا تھا؛ مگراس کے باوجود ان کوامام مالک رحمہ اللہ اور علمائے مدینہ کے بعض خیالات اور رایوں سے اختلاف تھا، اس کتاب میں انہوں نے انہی باتوں کا جواب دیا ہے اور ان کے خلاف حجت قائم کرنے کی کوشش کی ہے، اس کتاب کے متعدد قلمی نسخے مدینہ منورہ وغیرہ کے کتب خانوں میں ہیں، ہندوستان میں اس کا کچھ حصہ طبع ہوچکا ہے؛ گواس وقت بہت ہی کم یاب ہے سنہ1945ء میں حضرت الاستاد جناب سیدسلیمان صاحب ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ سورت جانے کا اتفاق ہوا تھا، وہاں اس کا مطبوعہ حصہ مفتی مہدی حسن صاحب (موصوف اس وقت دارالعلوم دیوبند کے مفتی ہیں)کے کتب خانے میں موجود تھا راقم کووہیں اس نسخے کودیکھنے کا موقع ملا، جس سے ان کے شیوخ کی فہرست بھی تیار کی تھی، وہ فہرست توگم ہوگئی مگرحافظہ میں اتنی بات محفوظ ہ کہ اس میں انہوں نے تقریباً 108/شیوخ سے روایتیں کی ہیں، اتنے شیوخ سے انہوں نے کسی اور کتاب میں روایت نہیں کی ہے، یہ کتاب دارالمصنفین کے کتبخانہ میں موجود نہیں ہے، اس کے علاوہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مستند روایتوں کا ایک مجموعہ بھی امام محمد رحمہ اللہ نے مرتب کیا تھا جومسندابوحنیفہ اور نسخہ محمد کے نام سے مشہور ہے۔ حدیث وآثار کی مذکورہ بالا کتابوں کے علاوہ فقہ میں ان کی متعدد مبسوط وغیرہ مبسوط کتابیں ہیں؛ انہوں نے فقہ میں جوکتابیں لکھیں یااملا کرائیں وہ دوطرح کی ہیں ایک کوفقہا ظاہر الروایۃ کہتے ہیں، دوسری کوغیرظاہر الروایۃ کہتے ہیں، یعنی پہلی قسم کی کتابوں کی روایتیں عام طور پرمشہور ومعروف ہیں اور دوسری قسم کی کتابوں کی روایتیں غیرمعروف وغیرمشور ہیں، ظاہر الروایۃ میں ان کی چھ کتابوں کا شمار ہوتا ہے، مبسوط، جامع صغیر، جامع کبیر، السیرالصغیر، السیرالکبیر، زیادات۔ (1)مبسوط یہ کتاب اسم بامسمیٰ ہے، یعنی فقہ میں امام محمد کی سب سے ضخیم اور مبسوط کتاب ہے، جوابھی تک طبع نہیں ہوسکی ہے، اس کے متعدد قلمی نسخے استنبول اور مصر کے کتب خانوں میں موجود ہیں، پوری کتاب چھ جلدوں میں ہے جس کی مجموعی ضخامت تین ہزار صفحات سے زیادہ ہے، اس میں دس ہزار سے زیادہ مسائل مذکور ہیں، مسائل کے بیان میں عموماً آثار واحادیث سے ان کے دلائل کا ذکر بھی کرتے جاتے ہیں، ان میں جوآثار واحادیث ہیں اگران کوعلیحدہ کرلیا جائے توایک مختصر مجموعہ حدیث وآثار تیار ہوجائے؛ اس کتاب کے بارے میں بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد حکیم نام کے ایک عیسائی یایہودی نے اسلام قبول کرلیا تھا، اس نے کہا کہ جب تمہارے محمد اصغر کی کتاب ایسی ہے توتمہارے محمداکبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کتاب کیسی ہوگی۔ (2)الجامع الکبیر فقہ میں امام محمد کی یہ دوسری اہم تصنیف ہے، اس کتاب کے متعدد قلمی نسخے استنبول کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں، اس کتاب کے متعدد راوی ہیں، جن میں ایک علی بن معبد بن شداد ہیں، اس میں بہت ہی اہم اورنادرمسائل پرگفتگو کی گئی ہے، یہ کتاب روایت ودرایت دونوں کا بہترین مجموعہ ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ علمائے فقہ کے ان اقوال سے کیجئے، ابن شجاع کہتے ہیں: اسلام میں فن فقہ پرایسی کتاب نہیں لکھی گئی، امام ابوبکرالرازی اس کی شرح میں لکھتے ہیں، فن نحو کے بعض ماہرین جیسے ابوعلی فارسی وغیرہ سے میں جامع کبیر پڑھتا تھا تووہ کتاب کے مصنف کی نحوی مہارت پرحیرت کرتے تھے۔ عربی ادب ولغت کے امام اخفش اور علامہ شریف النقیب وغیرہ نے بھی اس کتاب کی عربیت کی تعریف کی ہے؛ اسی طرح امام ابن تیمیہ نے بھی اس کی عربیت کا اعتراف کیا ہے؛ غرض جمہور علما کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ کتاب جس طرح فقہ میں حجت ہے اسی طرح عربیت میں بھی حجت ہے، اس کتاب کی اہمیت ہی کے پیشِ نظر اس کی متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں جوممتاز فقہائے مجتہدین نے لکھی ہیں۔ (3)الجامع الصغیر فقہ میں امام محمد کی یہ تیسری تصنیف ہے، اس کتاب میں 1532/مسائل ہیں جن میں صرف دوقیاسی مسئلے ہیں، بقیہ تمام کا ماخذ حدیث نبوی وآثار سلف ہیں، یہ کتاب مولانا عبدالحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حیشیہ کے ساتھ چھپ گئی ہے، اس کتاب کی بھی متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں، مولانا عبدالحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب پرحاشیہ کے ساتھ ایک مقدمہ بھی انافع الکبیر لمن یطالع الجامع الصغیر کے نام سے لکھا ہے، جس میں اس کی تمام خصوصیات اور شرأح کے نام تفصیل سے لکھ دیتے ہیں، اس کی وجہ تصنیف یہ ہے کہ جب امام محمد مبسوط کی تالیف سے فارغ ہوگئے توامام ابویوسف نے ان سے یہ فرمائش کی کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھیں جس میں ان روایتوں کوجمع کردیں جومیں نے، امام صاحب کے واسطہ سے ان کوسماع کرائی ہیں؛ چنانچہ انہوں نے یہ کتاب مرتب کرکے امام ابویوسف کے سامنے پیش کردی، امام ابویوسف نے دیکھا توفرمایا کہ میری روایت کوبڑے عمدہ طریقہ سے انہوں نے محفوظ رکھا ہے، صرف تین مسئلوں میں غلطی کی ہے، امام محمد نے جب سنا توفرمایا کہ میں نے غلطی نہیں کی ہے؛ بلکہ وہ خود اپنی روایات بھول گئے ہیں؛ بعض اہلِ تذکرہ کہتے ہیں کہ امام ابویوسف اپنی جلالت علم کے باوجود اس کتاب کوحضروسفر میں برابر ساتھ رکھتے تھے۔ (4)السیرالصغیر فقہ میں ان کی یہ چوتھی کتاب ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے سیرومغازی پراپنے تلامذہ کوجوکچھ املا کرایا تا اس کوان کے متعدد تلامذہ نے کتابی شکل میں جمع کردیا تھا، ان ہی میں امام محمد کی یہ کتاب بھی ہے؛ اسی کتاب کا ردامام اوزاعی نے لکھا تھا، اس کتاب کا جواب امام ابویوسف نے بھی دیا تھا اور امام محمد نے بھی، امام ابویوسف رحمہ اللہ کا جواب کتابی شکل میں الرد علی سیرالاوزاعی کے نام سے چھپ گیا ہے اور امام محمد کا یہ جواب السیرالکبیر کے نام سے اہلِ علم میں متداول ہے۔ (5)السیرالکبیر یہ کتاب امام اوزاعی کے جواب میں لکھی گئی تھی؛ مگراب یہ سیرومغازی کا بہترین ذخیرہ شمار کی جاتی ہے، اس میں آپ کوجہاد وقتال اور صلح وجنگ کے طریقے اس کے مواقع دوسری قوموں سے مسلمانوں کے تعلقات اور تجارتِ اسلام میں ان کے حقوق اور دوسرے معاملات پربحث کی گئی ہے، اسلام کے بین الاقوامی نقطۂ نظر کوسمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔ یہ کتاب امام محمد کی آخری تصنیفات میں شمار ہوتی ہے، قوتِ استدلال اور دقتِ نظر کے اعتبار سے ان کی یہ کتاب سب میں ممتاز ہے، ہارون رشید کواس کتاب سے حددرجہ دلچسپی تھی، اس نے اپنے دونوں لڑکوں امین اور مامون کواس کا سماع کرایا تھا، اس کی متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ مقبول عام امام سرخسی متوفی سنہ490ھ کی شرح ہے، یہ شرح مع متن حیدرآباد میں چھپ گئی ہے، اس کتاب کے متعدد قلمی نسخے استنبول کے کتب خانوں میں موجود ہیں، اس کا سب سے قدیم قلمی نسخہ مکتبۃ الفاتح میں ہے، اس کتاب کا ترکی میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ (6)زیادات فقہ میں ان کی چھٹی کتاب زیادات اور زیادۃالزیادات ہیں، ان دونوں کتابوں کوالجامع الکبیر کا ضمیمہ سمجھنا چاہیے؛ کیونکہ اس میں جن مسائل کا تذکرہ رہ گیا تھا، وہ ان میں پورا کردیا گیا ہے، یہ کتابیں اپنی گہرائی اور دقتِ نظری کے اعتبار سے ان کا بڑا کارنامہ شمار ہوتی ہیں، علمائے فقہ نے ان کی بھی شرحیں لکھی ہیں، غالباً یہ کتاب اب تک چھپی نہیں ہیں، ان کے متعدد قلمی نسخے استنبول کے کتب خانہ میں ہیں؛ بعض لوگ ان دونوں کتابوں کوظاہرالرویۃ میں شمار نہیں کرتے؛ مگریہ صحیح نہیں ہے، ان میں بیشتر کتابیں چھپ گئی ہیں اور جوعلیحدہ سے نہیں چھپی ہیں ان کوبھی مطبوعہ ہی سمجھنا چاہیے، اس لیے کہ امام سرخسی نے ان تمام کتابوں کا خلاصہ اپنی مشہور کتاب مبسوط میں لے لیا ہے۔ غیرظاہرالروایۃ ان مشہور اور معروف الروایہ کتابوں کے علاوہ ان کی متعدد غیرمعروف الروایۃ کتابیں بھی ہیں، ان میں سے: (1)ایک رقیات کے نام سے مشہور ہے، ان میں ان مسائل کوجمع کردیا گیا ہے، جوانہوں نے رقہ کے قضا کے زمانہ میں مستنبط کئے تھے، اس کے راوی اور جامع ان کے مشہور شاگرد محمد بن سماعہ ہیں۔ (2)دوسری کتاب کیسانیات ہے،اس کے راوی شعیب بن سلیمان الکیسانی ہیں، ان ہی کے نام پراس کتاب کا نام پڑگیا ہے، اس کوالامانی بھی کہا جاتا ہے، اس کتاب کا ایک ٹکڑا حیدرآباد کے کتب خانہ آصفیہ میں موجود ہے، دائرۃ المعارف کی طرف سے اس کے چھپ نے کا انتظام ہورہا تھا؛ مگرسقوطِ حیدرآبادکے بعد ان قیمتی ذخائرکے چھپ نے کی کیا اُمید کی جاسکتی ہے: آن قدح بشکست وآں ساقی نماند (3)تیسری کتاب جرجانیات ہے، اس کے راوی ان کے شاگرد علی بن صالح الجرجانی ہیں اور انہی کے نام کی نسبت سے اس کا نام جرجانیات پڑا ہے۔ (4)چوتھی کتاب ہارونیات ہے اس کے بارے میں نام کے علاوہ کچھ نہیں معلوم۔ (5)پانچویں کتاب، کتاب النوادر ہے جس کے راوی ابراہیم بن رستم ہیں۔ (6)ان کی ایک کتاب، کتاب الکسب کے نام سے مشہور ہے، جس کووہ ناتمام چھوڑ کرانتقال کرگئے، کچھ لوگوں نے ان سے خواہش کی کہ زہد وورع پرایک کتاب تصنیف کردیں، اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے کتاب البیوع تصنیف کردی ہے، مقصد یہ تھا کہ اصل زہد وورع توحصولِ رزق میں حلال وحرام کا لحاظ ہے اور یہ سب باتیں بیع وشراء میں بیان کردی گئی ہیں؛ مگرجب ان لوگوں کا اصرار بڑھا توانہوں نے یہی کتاب لکھنی شروع کی مگرتکمیل سے پہلے ہی رفیقِ اعلیٰ سے جاملے، امام سرخسی نے اس کی شرح بھی لکھی ہے۔ (7)ایک کتاب چند سال پہلے کتاب المخارج والحیل کے نام سے مصر سے شائع ہوئی ہے، جس کے بارے میں یہ لکھاہےکہ یہ امام محمد کی تصنیف ہے؛ مگریہ صحیح نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مصر ہی کے ایک کتب خانہ میں ایک کتاب اسی نام سے موجود ہے، جس کوامام ابویوسف کی تصنیف بتایا گیاہے، اصل میں کسی نے بعد میں ان ائمہ کوبدنام کرنے کے لیے ان کے نام سے یہ کتاب لکھ کرمنسوب کردی ہے اور دروغ گورا حافظہ نہ باشد اس لیے اس کوکسی نے امام ابویوسف کی طرف اور کسی نے امام محمد کی طرف منسوب کردیا، یہ کتاب خود ان ائمہ کے زمانہ ہی میں ان کی طر ف منسوب کی جانے لگی تھی؛ چنانچہ امام محمد کے مشہور شاگرد محمد بن سماعہ کا بیان اوپرگذر چکا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد سے خود سنا ہے کہ کتاب المخارج والحیل کے نام سے جوکتاب لوگوں میں متداول ہے: ہذا الکتاب لیس من کتبنا وانما القی فیہا۔ ترجمہ: اس کا شمار ہماری کتابوں میں نہیں ہے، اس کوکسی نے گھڑلیا ہے۔ ان کے علاوہ بھی بعض کتابوں کے نام ابن ندیم نے لکھے ہیں، کتاب اجتہاد الرائے، کتاب الاستحسان، کتاب الخصال، کتاب الردعلما اہل المدینۃ، کتاب اصول الفقہ وغیرہ؛ مذکورہ بالا تفصیل سے یہ اندازہ ہوگیا ہوگا کہ طبقہ تبع تابعین میں سب سے زیادہ تحریری یادگاریں انہی نے چھوڑی ہیں۔

تصنیفات[ترمیم]

امام محمد بن حسن شیبانی ؒ کی تصنیفات بہت زیادہ ہیں ۔ اسلام کی قدیم ترین کتب میں سے سب سے زیادہ کتب ہم تک جو پہنچیں وہ امام محمد ؒ کی کتب ہیں ۔

کتب حدیث[ترمیم]

حدیث میں امام محمد کی مستقل تصنیف

نامور ائمہ سے روایت[ترمیم]

امام محمد بن حسن شیبانی ؒ نے اپنے وقت کے دو عظیم ائمہ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالک بن انسؒ سے اُن کی کتب جو حدیث سے سب سے قدیم اور صحیح کتب ہیں روایت کیں۔

امام محمد ؒ نے ان کتب کو روایت کیا اور اس میں چند روایت کا اضافہ کیا ۔ اور حدیث کے ذیل میں اپنا اور اپنے شیخ امام ابوحنیفہؒ کی موافقت یا عدم موافقت کا بھی بتایا۔

کتب فقہ[ترمیم]

وصال[ترمیم]

189ھ میں جب عمر 58 سال کی ہو گئی رے کے مقام نبویہ نامی بستی میں انتقال ہوا[139]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12990402n — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. عنوان : Шейбани Мухаммад ибн Хасан — اقتباس: Родился в г. Васит в Ираке.
  3. ^ ا ب پ ت عنوان : Шейбани Мухаммад ибн Хасан
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12990402n — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. (کردری:2/146)
  6. (تاریخِ بغداد:2/272، ذیل جواہر مضیہ)
  7. (بلوغ الامانی:5)
  8. (مناقب کردری:2/155)
  9. (مناقب کردری:2/155)
  10. (مناقب کردری:2/155)
  11. (مناقب کردری:2/155)
  12. (جواہرمضیہ:2/44)
  13. (مناقب امام محمد ذہبی:5))
  14. (بلوغ الامانی:35)
  15. (مناقب کردری:2/154)
  16. (کردری:2/160)
  17. (کردری:2/160)
  18. (مناقبر کردری:2/151)
  19. (شرح السیر الکبیر:1/168)
  20. (تاریخ خطیب:2/172)
  21. (کردری:2/164)
  22. (مناقب کردری:2/162)
  23. (مناقب کردری:2/162)
  24. (بلوغ الامانی:55)
  25. (تاریخ بغداد:2/172۔ جواہرمضیہ:2/42)
  26. (بلوغ الامانی)
  27. (بلوغ الامانی:44)
  28. (معالم الایمان:1/5)
  29. (تاریخ بغداد:2/176۔ مناقب کردری)
  30. (تاریخ بغذاد:2/173)
  31. (بلوغ الامانی:15،16)
  32. (معالم الایمان:2/4)
  33. (معالم الایمان:2/5)
  34. (جواہرمضیہ:2/45)
  35. (مناقب کردری:2/150)
  36. (مناقب کردری:2/149)
  37. (کردری:150)
  38. (شذرات الذہب:2)
  39. (تاریخ بغداد:2/174)
  40. (الانتقاء:69)
  41. (کردری:2/157)
  42. (تاریخ بغداد اور مناقب کردری:2/158)
  43. (بلوغ الامانی:48)
  44. (بلوغ الامانی:40)
  45. (ترجمہ محمد بن حسن، امام ذہبی رحمہ اللہ، مطبوعہ:مصر، صفحہ نمبر:55،56)
  46. (ترجمہ محمد بن حسن، امام ذہبی رحمہ اللہ، مطبوعہ:مصر، صفحہ نمبر:55،56)
  47. (کردری:2/165)
  48. (کردری:2/165)
  49. (کردری:2/165۔ بلوغ الامانی:40)
  50. (مناقب کردری:2/162)
  51. (کردری:2/165۔ بلوغ الامانی:40)
  52. (مناقب کردری:2/149)
  53. (مناقب کردری:2/149)
  54. (خطیب بغدادی، جواہر مضیہ:2/42)
  55. (ترجمہ محمد بن الحسن:60)
  56. (کردری:147،148)
  57. (کردری:147،148)
  58. (کردری:2/154)
  59. (کردری:2/154)
  60. (معالم الایمان:1/5)
  61. (مناقب کردری:2/150)
  62. (مناقب کردری:2/150)
  63. (بلوغ:42))
  64. (کردری:2/162)
  65. (بلوغ الامانی:42)
  66. (بلوغ الامانی۔ کردری:2/164)
  67. (کردری:2/164)
  68. (کردری:2/162)
  69. (کردری:2/162)
  70. (کردری:2/162)
  71. (ترجمہ امام محمد، امام ذہبی۔ بلوغ الامانی:42)
  72. (بلوغ الامانی:56)
  73. (جواہرمضیہ:2/524۔ کردری)
  74. (جواہرمضیہ:2/529)
  75. (بلوغ الامانی:55)
  76. (ترجمہ امام محمد:54۔ تاریخ بغداد)
  77. (بلوغ:55)
  78. (کردری:2/152)
  79. (بلوغ الامانی:57)
  80. (بلوغ الامانی:14)
  81. (بلوغ الامانی:55)
  82. (کردری:2/152)
  83. (کردری:2/15)
  84. (کردری:2/159)
  85. (تاریخ بغداد:2/175)
  86. (تاریخ بغداد:2/175)
  87. (کردری:2/156)
  88. (شذرات الذہب، جلد:2)
  89. (کردری:2/157)
  90. (بلوغ الامانی:22)
  91. (بلوغ الامان:44)
  92. (بلوغ الامانی:44)
  93. (کردری:2/152)
  94. (بلوغ الامانی:14)
  95. (ترجمہ امام محمد ذہبی:55۔ کردری:2/150)
  96. (بلوغ الامانی:55)
  97. (تاریخ بغداد:2/176)
  98. (کردری:2/152)
  99. (کردری:2/157۔ بلوغ الامانی:55)
  100. (ترجمہ امام محمد ذہبی:53۔ بلوغ الامانی:46،47)
  101. (جلد:2، صفحہ نمبر:42)
  102. (بلوغ الامانی:63)
  103. (کردری:2/156)
  104. (کردری:2/156)
  105. (بلوغ الامانی:53)
  106. (بلوغ الامانی:53)
  107. (بلوغ الامانی:53)
  108. (بلوغ الامانی:54)
  109. (مناقب کردری:2/162)
  110. (بلوغ الامانی:45۔ ترجمہ امام ذہبی:52)
  111. (بلوغ:55)
  112. (تہذیب الاسماء امام نووی)
  113. (بلوغ الامانی:55)
  114. (تاریخ بغداد وتحلیل المنفعہ)
  115. (مناقب کردری:2/152)
  116. (بلوغ الامانی:56)
  117. (حاشیہ ترجمہ امام محمد:58)
  118. (حاشیہ، ترجمہ امام محمد۔ اصل کتاب:58)
  119. (کردری:2/50)
  120. (ترجمہ امام ذہبی:50)
  121. (تذکرۃ الحفاظ)
  122. (معارف سنہ1933ء اگست)۔
  123. (بلوغ:12)
  124. (بلوغ:19)
  125. (قوالی التاسیس:70۔ بلوغ الامانی:29)
  126. (جلد:2 صفحہ نمبر:771)
  127. (بلوغ الامانی:21)
  128. (2/177)
  129. (بلوغ:25)
  130. (انتقاء:69)
  131. (جلد:2 صفحہ نمبر:156)
  132. (جلد:12 صفحہ نمبر:178)
  133. (مناقب کردری:166۔ بلوغ:38)
  134. (ترجمہ امام محمد ذہبی:56)
  135. (کردری:2/165)
  136. (ترجمہ امام محمد:56)
  137. (ترجمہ امام محمد:56)
  138. (مسوی:12)
  139. کتاب الآثار صفحہ 19مکتبہ اعلی حضرت لاہور