عبد اللہ ابن مبارک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ ابن مبارک
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 736[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مرو  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 نومبر 797 (60–61 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہیت  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاد ابو حنیفہ،  عبد الرحمٰن اوزاعی،  شعبہ بن حجاج،  ہشام بن عروہ،  سلیمان بن مہران الاعمش،  سفیان ثوری  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نمایاں شاگرد یحییٰ بن معین،  ابن ابی شیبہ،  ابو داؤد  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مؤرخ،  فقیہ،  محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[3]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تاریخ،  فقہ،  علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد اللہ ابن مبارک (پیدائش 736ء— وفات: نومبر 797ء) اُمت مسلمہ کے امام، مجاہدین کے سردارزاہد اور محدث ایک یکتائے زمانہ ہستی تھے۔

عبداللہ بن مبارک[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ زمرۂ تبع تابعین کے گلِ سرسید ہیں، ان کی زندگی اسلام کا مکمل نمونہ اور اس کی چلتی پھرتی تصویر تھی، ان کا جذبۂ دینی اور شوقِ جہاد ان کی فیاضی اور نرم خوئی، دنیا سے بے رغبتی اور احساسِ ذمہ داری اور اس کے سوانح حیات کے جلی عنوانات ہیں، ان کے ہاتھ میں کوئی مادی طاقت نہیں تھی؛ مگرانہی اخلاقی صفات کی وجہ سے اسلامی مملکت کے ہرفرد کے دل پران کی حکمرانی تھی، ایک بار وہ رقہ آئے، پورا شہر ان کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑا، اتفاق سے ہارون رشید اپنے خدم وحشم کے ساتھ وہاں موجود تھا، محل سے اس کی بیوی یااس کی لونڈی یہ تماشا دیکھ رہی تھی، اس نے پوچھا کہ یہ ہجوم کیسا ہے، لوگوں نے بتایا کہ خراساں کے عالم عبداللہ بن مبارک آئے ہوئے ہیں، یہ انہی کے مشتاقانِ دید کا ہجوم ہے، اس نے بے ساختہ کہا کہ حقیقت میں خلیفۂ وقت یہ ہیں نہ کہ ہارون رشید کہ اس کے گرد پولیس اور فوج کی مدد کے بغیر کوئی مجمع نہیں ہوتا۔

نسب[ترمیم]

عبداللہ بن مبارک کے والد مبارک ایک شخص کے غلام تھے، ان کی شادی اسی کی لڑکی سے ہوئی تھی، اس وقت تک اسلامی معاشرہ میں عہد سعادت کے آثار باقی تھے، اس لی نسبت نکاح کا معیار حسب ونسب نہیں لکہ لڑکے کی صلاحیت اور اس کا دین وتقویٰ ہوتا تھا، مبارک چونکہ اس حیثیت سے ممتاز تھے، اس لی آقا نے اپنی لڑکی ان سے بیاہ دی؛ گواس کی نسبتیں دوسری بڑی بڑی جگہوں سے بھی آرہی تھیں، مبارک کی جن خصوصیات کی بناپریہ شادی ہوئی، مختصراً ہم اس کا تذکرہ کرتے ہیں: مبارک نہایت دیانت دار ومحتاط شخص تھے، آقا ان کے سپرد جوکام کرتا تھا اس کووہ نہایت دیانت داری اور اطاعت شعاری کے ساتھ انجام دیتے تھے، آقا نے باغ کی نگرانی ان کے سپرد کردی تھی، ایک بار اس نے اُن سے کہا کہ ایک ترش انار باغ سے توڑلاؤ، وہ گئے اور شیریں انار توڑلائے، اس نے دوبارہ اُن سے شیریں انار لانے کے لیے کہا تووہ پھرترش ہی انار توڑ لائے، آقا نے غصہ میں کہا؛ تمھیں ترش وشیریں انار کی بھی تمیز نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، اس نے وجہ پوچھی توبتایا کہ آپ نے مجھے ترش انار کھانے کی اجازت تودی نہیں ہے، اس لیے میں اس کوکیسے پہچان سکتا ہوں، اس نے تحقیق کی تومعلوم ہوا کہ بات صحیح ہے، مبارک کی اس غیرمعمولی دیانتداری اور حق شناسی کا اس پربہت بڑا اثر پڑا اور وہ ان کی بہت قدرومنزلت کرنے لگا۔ مبارک کے آقا کی ایک نیک خدا لڑکی تھی جس کی شادی کے پیغامات ہرطرف سے آرہے تھے؛ لیکن غالباً وہ ان نسبتوں میں کوئی فیصلہ نہیں کرپارہا تھا، اس نے اس بارے میں ایک روز مبارک سے بھی مشورہ کیا کہ مبارک! میں اس لڑکی کی شادی کہاں اور کس سے کروں؟ انہوں نے کہا کہ: عہدجاہلیت میں لوگ نسبت میں حسب یعنی عزت وشہرت اور نسب کوتلاش کرتے تھے، یہودیوں کومالدار کی جستجو ہوتی تھی اور عیسائی حسن وجمال کوترجیح دیتے تھے؛ لیکن اُمتِ محمدیہ کے نزدیک تومعیار دین وتقویٰ ہے، آپ جس چیز کوچاہیں ترجیح دیں، ااقا کوان کا یہ ایمان افروز اور دانشمندانہ جواب بہت پسند آیا، وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ میری لڑکی کا شوہر بننے کے لیے مبارک سے بہتر کوئی دوسرا شخص نہیں ہے، بیوی بھی نیک بخت تھیں انہوں نے بھی اس رائے کوپسند کیا اور آقا کی لڑکی سے اُن کی شادی ہوگئی۔ [4]

ولادت اور تعلیم[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن مبارک اسی باسعادت لڑکیکے بطن سے سنہ۱۱۸ھ میں مرو میں پیدا ہوئے، ان کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے، ان کا اصلی وطن مرو تھا، اس لیے وہ مروزی کہلاتے ہیں، یہ مرو جہاں ان کی ولادت ہوئی، مسلمانوں کا قدیم شہر ہے، افسوس ہے کہ یہ اس وقت روس کے قبضہ میں ہے، اس سرزمین سے جہاں اخلاق وروحانیت کے سینکڑوں چشمے اُبلے اور اسلامی علم وتمدن کے صدہاسوتے پھوٹے، اب وہاں مادیت ہی کا نہیں بلکہ دھریت کا سیلاب رواں ہے، ان کی ابتدائی تعلیم وتربیت کے متعلق بہت کم معلومات ملتے ہیں؛ لیکن امام ذہبی رحمہ اللہ کے بیان سے اتنا پتہ چلتا ہے کہ وہ ابتائے عمر ہی سے طلب علم کے لیے سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے لگتے تھے۔ [5] اس وقت اسلامی مملکت کے کسی قصبہ اور کسی قربیہ میں بھی علماء وفضلاء کی کمی نہیں تھی، مرو جو خراسان کا ایک مشہور شہر تھا، اس کواچھی خاصی مرکزیت حاصل تھی، اس لیے وہاں اہلِ علم کی کیا کمی ہوسکتی تھی، غالباً ابتدائی تعلیم وتربیت وہیں ہوئی، اس کے بعد اس زمانے کے عام مذاق کے مطابق علم حدیث کی طرف توجہ کی، اس کے لیے انہوں نے شام وحجاز، یمن ومصر اور کوفہ وبصرہ کے مختلف شہروں اور قصبوں کا سفر کیا اور جہاں سے جوجواہر علم ملے انہیں اپنے دامن میں سمیٹ لیئے، امام احمد فرماتے ہیں: طلب علم کے لیے عبداللہ بن مبارک سے زیادہ سفر کرنے والا ان کے زمانے میں کوئی دوسرا موجود نہیں تھا؛ انہوں نے دور دراز شہروں کا سفر کیا تھا، مثلاً: یمن، مصر، شام، کوفہ، بصرہ وغیرہ، ابواُسامہ فرماتے ہیں کہ: مارأيت رجلا أطلب للعلم في الآفاق من ابن المبارك۔ [6] ترجمہ: میں نے عبداللہ بن مبارک سے زیادہ کسی کوملک درملک گھوم کرطلب علم کرنے والا نہیں دیکھا۔ یہ سفر آج کل کا نہیں تھا کہ چند لمحوں میں انسان نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے؛ بلکہ اس زمانے کے سفر کا ذکر ہے، جب لوگ پیدل یااونٹ یاگدہوں کے ذریعہ مہینوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے تھے؛ پھرراستو کی دشواریاں توالامان، الحفیظ اور یہ کچھ عبداللہ بن مبارک ہی کی خصوصیت نہ تھی؛ بلکہ سب ہی اکابر ائمہ نے حصولِ علم میں دُور دُور کی خاک چھانی تھی۔

شیوخ کی تعداد[ترمیم]

موجودہ زمانہ کی طرح اس وقت علم وفن نہ اس طرح مدون تھا اور نہ ایک جگہ محفوظ، خصوصیت سے علومِ دینیہ میں علمِ حدیث کا ذخیرہ تقریباً تمام ممالکِ اسلامیہ میں بکھرا ہوا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ حدیث کے سب سے پہلے حامل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگی گوشہ گیری کی نہیں؛ بلکہ مجاہدانہ تھی، اس لیے وہ شوقِ جہاد اور دوسری دینی ضرورتوں کی بناء پرتمام امصاروقصبات میں پھیل گئے تھے، وہ جہاں پہنچتے تھے، وہاں کے باشندے ان سے اکتساب فیض کرتے تھے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل اور آپ کی سیرت کو ان سے معلوم کرکے اپنے سینوں اور سفینوں میں محفوظ کرتے جاتے تھے، اب جن لوگوں کوصرف عملی زندگی کے لیے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذخیرہ کے معلوم کرنے کی خواہش ہوتی تھی ان کوبہت زیادہ کدوکاوش کی ضرورت نہیں تھی، ان کے لیے ان کے دربار کے صحابہ کرام اور ان کے بعدوہاں کے علماء وفضلاء کی زندگی کا دیکھ لینا بھی کافی تھا؛ مگرجولوگ اس تمام بکھرے ہوئے جواہرریزوں اور شہ پاروں کویکجا مدون اور مرتب کردینا چاہتے تھے کہ ان زندہ ہستیوں کے اُٹھ جانے کے بعد کہیں یہ ذخیرہ ضائع نہ ہوجائے، ان کے لیے دور دور کی خاک چھاننی اور شہروں اور قصبوں کے لیئے زحمتِ سفر اُٹھانی ناگزیر تھی، عبداللہ بن مبارک ان ہی بزرگوں میں تھے، خود فرماتے ہیں: حملت من اربع الاف شیخ فردیت عن الف منہم۔ ترجمہ: میں نے چار ہزار شیوخ واساتذہ سے فائدہ اُٹھایا اور ان میں سے ایک ہزار سے روایت کی ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہہ: کتبت عن الف۔ ترجمہ: میں نے ایک ہزار شیوخ کی روایتوں کولکھ لیا ہے۔ یعنی جن لوگوں سے تحصیل علم کیا ان کی تعداد توچار ہزار ہے؛ مگرہرشیخ اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کے علم وروایت کومعیاری قرار دیا جائے، اس لیے غایت احتیاط میں صرف ایک ہزار شیوخ کی روایت کولکھنا پسند کیا اور اسی کوانہوں نے دوسروں تک منتقل کیا۔ عباس کہتے ہیں کہ ان کے آٹھ سوشیوخ سے تومجھے ملاقات کا موقع ملاہے۔ [7] ان کے بعض ممتاز اساتذہ کے نام لکھے جاتے ہیں: (۱)امام ابوحنیفہ، یہ امام صاحب کے خاص شاگردوں میں ہیں، ان کوامام صاحب سے بڑی محبت اور انسیت تھی، فرماتے کہ مجھ کوجوکچھ حاصل ہوا وہ امام ابوحنیفہ اور سفیان ثوری رحمہ اللہ کی وجہ سے حاصل ہوا، ان کے الفاظ یہ ہیں: لَوْلاَأَنَّ اللهَ أَعَانَنِي بِأَبِي حَنِيْفَةَ وَسُفْيَانَ، كُنْتُ كَسَائِرِ النَّاسِ۔ [8] ترجمہ:اگراللہ تعالیٰ امام ابوحنیفہ اور سفیان ثوری کے ذریعہ میری دستگیری نہ کرتا توعام آدمیوں کی طرح ہوتا۔ مناقب کردری میں ابن مطیع کی روایت ہے کہ میں نے ان کوامام صاحب کے پاس کتاب الرائے کی قرأت کرتے ہوئے دیکھا، ان سے اچھی قرأت کرنے والا میں نے کسی کونہیں دیکھا۔ [9] امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی شان میں ان کے بہت سے اشعار منقول ہیں، خطیب نے ان میں سے چند اشعار نقل کئے ہیں۔ [10] (۲)ان کے دوسرے ممتاز شیخ امام مالک رحمہ اللہ ہیں، امام مالک سے انہوں نے مؤطاکا سماع کیا تھا، موطا کے متعدد نسخے ہیں، جن میں ایک کے راوی ابن مبارک بھی ہیں، امام مالک کے مشہور شاگرد یحییٰ بن یحییٰ اندلسی امام مالک کی مجلسِ درس میں ابن مبارک کی ایک آمد کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ ابن مبارک ایک بار امام مالک کی خدمت میں گئے توامام مالک مجلسِ سے اُٹھ گئے اور ان کواپنے قریب بٹھایا، اس سے پہلے امام مالک کسی کے لیے مجلس درس سے نہیں اُ,ھے تھے، جب اُن کوبٹھالیا، تب درس کا سلسلہ جاری کیا، قاری پڑھتا جاتا تھا، جب امام مالک کسی اہم مقام پرپہنچتے توابن مبارک سے دریافت فرماتے کہ اس بارے میں ااپ لوگوں یعنی اہلِ خراسان کے پاس کوئی حدیث یااثر ہوتو پیش کیجئے، عباللہ بن مبارک غایتِ احترام میں بہت آہستہ آہستہ جواب دیتے، اس کے بعد وہ وہاں سے اُٹھے اور مجلس سے باہر چلے گئے (غالباً یہ بات بھی اُستاد کے احترام کے خلاف معلوم ہوئی کہ وہ ان کی موجودگی میں کوئی جواب دیں) امام مالک رحمہ اللہ ان کے اس پاسِ ادب ولحاظ سے بہت متاثر ہوئے اور تلامذہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ یہ ابنِ مبارک خراسان کے فقیہ ہیں۔ [11] یہ واقعہ غابلاً ان کے طالب علمی کے زمانہ کا نہیں ہے؛ بلکہ اس وقت کا ہے جب ان کی شخصیت مشہور ومعروف ہوچکی تھی اور وہ ایک فقیہ اور محدث کی حیثیت سے جانے جاچکے تھے، اس لیے امام مالک ان کا اعزاز اسی حیثیت سے کررہے تھے اور وہ ایک شاگردِ رشید کی طرح ان سے پیش آرہے تھے، ان ائمہ کے علاوہ ان کے چند معروف وممتاز شیوخ کے نام یہ ہیں، جن میں متعدد کبائر تابعین ہیں۔

تابعین[ترمیم]

ہشام بن عروہ، سلیمان التیمی، یحییٰ الانصاری، حمید الطویل، اسماعیل بن ابی خالد، عبدالرحمن بن یزید، امام اعمش، موسیٰ بن عقبہ صاحب المغازی، ان تابعین کے علاوہ بیشمار اتباع تابعین سے استفادہ کیا تھا، چند ممتاز ائمہ کے نام حسب ذیل ہیں: سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، حماد بن سلمہ، مسعربن کدام، شعبہ بن مجاج، امام اوزاعی، ابن جریج، لیث بن سعد، ابن ابی ذیب، سعید بن عروہ، صالح بن صالح، عمروبن میمون، معمربن راشد وغیرہ۔

مسند درس[ترمیم]

خود غبداللہ بن مبارک نہایت ذہین وذکی اور غیرمعمولی قوتِ حافظہ کے مالک تھے؛ پھران کے شیوخ میں ہرفن کے استاد بلکہ امام موجود تھے، اس لیے وہ ان کے فیض صحبت اور اپنی صلاحیت سے جلد ہی ایک ممتاز حیثیت کے مالک ہوگئے اور علم وفن کے صدر نشین بنادیئے گئے اور خلقِ خدا ان سے مستفید ہونے لگی ان کی زندگی بالکل مجاہدانہ تھی اس لیے کہیں مستقل طور سے جم کروہ مجلسِ درس قائم نہیں کرسکے؛ لیکن ان کا علم سفیذ کا مرہونِ منت نہیں تھا؛ بلکہ جوکچھ تھا وہ سینہ میں محفوظ تھا، اس لیے وہ جہاں کہیں اور جس حالت میں بھی رہتے ان کا علم ان کے ساتھ رہتا تھا؛ گویا ان کی ذات ایک رواں دواں چشمۂ فیض تھی، جس سے تشنگانِ علم ہرآن ہور ہروقت استفادہ کرسکتے تھے، کبھی وہ کوفہ میں ہیں توکبھی بصرہ میں کبھی بغداد میں ہیں توکبھی مصر اور رقہ میں؛ غرض وہ جہاں بھی رہے علم وفن سایہ کی طرح اُن کے ساتھ ساتھ رہا، بڑے بڑے شیوخ اور ان کے بعض اساتذہ تک ان سے سماع حدیث کے مشتاق رہتے تھے، حماد بن زید مشہور محدث ہیں، ابنِ مبارک ایک بار ان کی خدمت میں آئے؛ انہوں نے پوچھا کہاں سے آرہے ہو؟ بولے خراسان سے، پوچھا خراسان کے کس شہر سے؟ بولے مرو سے، مرو کا نام سن کرانہوں نے فوراً پوچھا: عبداللہ بن مبارک سے واقف ہو، جواب دیا کہ وہ آپ کے سامنے موجود ہے، حماد نے انہیں اپنے سینے سے لگالیا۔ [12] سفیان ثوری رحمہ اللہ ان کے استاد ہیں، ان سے کسی خراسانی نے کوئی مسئلہ دریافت کیا؛ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے پاس مشرق ومغرب کے سب سے بڑے عالم عبداللہ بن مبارک موجود ہی ہیں، ان سے کیوں نہیں دریافت کرتے۔ [13]

تلامذہ[ترمیم]

گوکسی خاص جگہ ان کی مسندِ درس قائم نہیں تھی؛ مگرایک خلقِ کثیر نے ان سے استفادہ کیا تھا اور جہاں وہ جاتے تھے ان کے ساتھ اکتساب فیض کے لیئے لوگوں کا ہجوم ہوجاتا تھا، ان کے تلامذہ کی صحیح تعداد بتانا مشکل ہے، امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ: حدث عنه خلق لايحصون من أهل الأقاليم۔ [14] ترجمہ: ممالک اسلامیہ کے اتنے لوگوں نے ان سے فائدہ اُٹھایا ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بعض ممتاز تلامذہ کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں ان سے ایک خلقِ کثیر نے استفادہ کیا تھا۔ [15] بعض ممتاز اور سرمایۂ ناز تلامذہ کے نام یہ ہیں: سفیان ثوری رحمہ اللہ یہ ان کے استاد بھی تھے اور ان سے روایت بھی کرتے ہیں (اس زمانہ میں عام دستور تھا کہ اصاغر، اکابر سے اور اکابر اصاغر سے روایت کرتے تھے کہ ایک روایت کسی معمولی شاگرد کے پاس ایسی ہے جس کا علم استاد کونہیں ہے، اس سے استفادہ کرنے میں شیوخ کوئی عار محسوس نہیں کرتے) معمر بن راشد، ابواسحاق انفراری، عبدالرحمن بن مہدی یہ لوگ بھی ان کے استاد تھے، امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، سعید القطان، فضیل بن عیاض، ابوداؤد الطیالسی، سلیمان المروزی وغیرہ۔

علم حدیث سے شغف[ترمیم]

ان کوتمام دینی علوم میں دستگاہ تھی؛ مگرعلم حدیث کے حفظ وروایت سے انہیں خاص شغف تھا، جووقف جہاد اور عبادت سے بچتا تھا وہ اس مبارک کام میں صرف کرتے تھے، بسااوقات حدیث کا ذکرِ خیر چھڑ جاتا توپوری رات آنکھوں میں کٹ جاتی، ایک دن عشا کی نماز کے بعد علی بن حسن سے کسی حدیث کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی، ساری رات مسجد کے دروازے پرکھڑے کھڑے گذرگئی اور ان کواحساس بھی نہ ہوا۔ [16] شغف بالحدیث کا یہ عالم تھا کہ گھر سے باہر بہت کم نکلتے تھے، کسی نے پوچھا کہ آپ ہمہ وقت مکان کے اندر بیٹھے رہتے ہیں، وحشت نہیں ہوتی؟ فرمایا کہ وحشت کی کیا بات ہے؟ جب کہ مجھے اس تنہائی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے شرف صحت کی دولت نصیب ہے، مقصد یہ تھا کہ میں جب ہروقت حدیث نبوی اور ااثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مطالعہ اور غوروخوض میں لگا رہتا ہوں توگویا میں ان کی صحبت میں بیٹھ کراُن سے بات چیت کرتا ہوں اور اُن کی نشست وبرخاست، رفتار وگفتار کا نقشہ ہروقت میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے؛ پھراس سے زیادہ ایک مسلمان کے لی انس اور خوشی کی بات کیا ہوسکتی ہے۔

علم حدیث میں ان کا مرتبہ[ترمیم]

علم حدیث میں ان کا مرتبہ ایک امام حدیث کا تھا، حدیث کی جتنی متداول کتابیں ہیں ان کی روایات کثرت سے موجود ہیں، ان سے جوروایات مروی ہیں، ان کی تعداد بیس، اکیس ہزار بتائی جاتی ہے، ابنِ معین جومشہور حافظِ حدیث اور امام جرح وتعدیل ہیں، فرماتے ہیں کہ انہوں نے جوروایتیں کی ہیں ان کی تعداد بیس، اکیس ہزار ہے۔ [17] لیکن کثرتِ روایت سے ان کی حدیث دانی کا پورا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا؛ بلکہ اس کے لیے ضرورت ہے کہ ان کے معاصر ائمہ حدیث اور بعد کے محدثین اور فقہا اور ائمہ رجال کے خیالات معلوم کئے جائیں اور اسی آئینہ میں ان کی حدیث دانی کے خدوخال دیکھے جائیں، ابواسامہ کا قول ہے کہ وہ فنِ حدیث میں امیرالمؤمنین تھے، عبدالرحمن بن مہدی جوائمہ اسماء الرجال میں ہیں، وہ فرماتے تھے کہ عبداللہ بن مبارک سفیان ثوری رحمہ اللہ سے افضل تھے، لوگوں نے ان سے کہا کہ لوگ آپ کی رائے کوصحیح نہیں سمجھتے، فرمایا کہ عام لوگوں کوان کے علم کا اندازہ نہیں ہے، میں نے ابنِ مبارک جیسا کسی کونہیں پایا؛ پھرکہا: میرے نزدیک ائمہ حدیث چار ہیں، سفیان ثوری رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، حماد بن زید رحمہ اللہ اور عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ۔ ابواسحاق فرازی کا قول ہے کہ وہ امام المسلمین تھے، احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حافظِ حدیث اور اس کے عالم تھے، سفیان ثوری رحمہ اللہ گوابنِ مبارک کے اُستاد ہیں؛ مگران کے علم وفضل کے معترف تھے، ایک بار ان کے سامنے کسی نے ابنِ مبارک کویاعالم المشرق! اے مشرق کے عالم کے لفظ سے مخاطب کیا، سفیان ثوری رحمہ اللہ موجود تھے؛ انہوں نے اُس شخص کوڈانٹا اور فرمایا کہ ان کوعالم المشرق والمغرب کہو، محدثین میں اگرکسی حدیث کے بارے میں اختلاف ہوتا توعبداللہ بن مبارک کی طرف رجوع کیا جاتا تھا، فضالہ فرماتے ہیں کوفہ کے محدثین کی خدمت میں میری آمدورفت تھی، جب کسی حدیث کے بارے میں ان میں اختلاف ہوتا تووہ لوگ کہتے تھے اچھا اس اختلاف کوطبیب حدیث کے پاس لے چلو، وہی اس کا فیصلہ کریں گے، اس طبیب سے مراد عبداللہ بن مبارکؒ تھے۔ [18]

حدیث کا احترام[ترمیم]

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے دل میں بے حداحترام تھا؛ اگرکسی سے اس کے خلاف حرکت سرزد ہوجاتی توخفگی کا اظہار کرتے تھے، ایک بار کوئی شخص دور سے سفر کرکے سماعِ حدیث کے لیے ان کے پاس آیا اور اسی وقت سماع کی درخواست کی؛ انہوں نے انکار کیا، وہ فوراً اُٹھ کرجانے لگا تودوڑ کراس کی سواری کی رکاب تھام لی، اس نے کہا کہ آپ نے حدیث کے سماع سے تومحروم رکھا؛ مگرمیری سواری کی رکاب تھام رہے ہیں، فرمایا کہ ہاں! میں اپنی ذات کوتوذلیل کرسکتا ہوں؛ مگرحدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین مجھے گوارا نہیں۔ [19] غالباً اس نے بے موقع سوال کیا تھا، یا سماعِ حدیث کا وہ اہلِ نہیں تھا، اس لیے سماع نہیں کرایا؛ مگرعام انسانی اخلاق صرف کرنے سے گریز نہیں کیا؛ اسی طرح ایک شخص نے راستہ میں ان سے کسی حدیث کے بارے میں سوال کیا؛ انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور فرمایا: لَیْسَ ھٰذَا مَوْضِعُ حَدِیْث۔ [20] ترجمہ:یعنی یہ موقع حدیث نبوی کی روایت وسماع کا نہیں ہے۔

امام کے بعض اُصولِ حدیث[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن مبارک کا عہد حدیث کی تدوین واشاعت کا خاص عہد تھا، اس لیے اس وقت ہرشخص اس خدمت کواپنے لیے سرمایۂ افتخار سمجھتا تھا، اخبرنا وحدثنا کی آواز گھر گھر گونج رہی تھی، ہرشہربلکہ ہرقصبہ اور ہربڑی بستی میں درس حدیث کی کئی کئی مجلسیں برپا تھیں؛ لیکن جس قدر یہ سلسلہ عام اور وسیع تھا؛ اسی قدر حدیث کی نقل وروایت میں افراط وتفریط شروع ہوگئی تھی؛ خصوصیت سے پیشہ ورواعظوں اور قصہ گویوں نے نہ جانے کتنی حدیثیں وضع کرڈالی تھیں، خلافتِ راشدہ کے زمانہ تک حدیث کی روایت پربڑی پابندی عائد تھی، خصوصیت سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بارے میں بہت سخت تھے اور بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کواس پرتنبیہ کرتے رہتے تھے اور جب تک کوئی اپنی روایت کا دوسرا شاہد پیش نہیں کرتا تھا وہ اسے قبول نہیں کرتے تھے اور نہ اس روایت کوبیان کرنے کی اجازت دیتے تھے؛ مگراس عہدراشد کے بعد جب دینی معاملات میں قانونی گرفت ڈھیلی ہوئی توہرکس وناکس نے روایت وتحدیث شروع کردی، بنواُمیہ کے زمانہ میں اس فتنہ نے کافی بال وپرنکالے، اس لیے اس وقت جوائمہ حدیث اور اس فن کے نبض شناس تھے ان کواس فتنہ کے انسداد کی فکر ہوئی، ظاہر ہے کہ ان کے ہاتھ میں قانون کی طاقت توتھی نہیں اس لیے انہوں نے قرآن وحدیث اور صحابہ کے عمل کی روشنی میں اصول مرتب کئے، جس سے اس فتنہ کا انسداد ہوسکے؛ چنانچہ ان ہی اُصولوں کے تحت بڑے بڑے راوی حدیث کی مرویات جانچی وپرکھی جانے لگیں، جس نے بھی قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ زبان سے نکالا، اس کی روایت کی صحت حتی کہ اس کے ذاتی حالات تک کی تفتیش شروع ہوجاتی تھی، جب تک اس کے ضبط، احتیاط، قوت حافظہ اور اس کی اخلاقی حالت کے متعلق پورا اطمینان نہیں ہوجاتا تھا، ائمہ حدیث نہ تواس کی روایت ہی قبول کرتے تھے اور نہ اس کوقابل اعتماد اور ثقہ سمجھتے تھے، اس وقت اُصولِ حدیث کا فن ہمارے سامنے مدوّن اور مرتب طور پرموجود ہے، ابتداءً اس کی یہ شکل نہیں تھی؛ بلکہ ہرامام اور محدث نے اپنے علم وبصیرت کے مطابق کچھ اُصول بنالیے تھے جنہیں بعد میں مرتب ومدون کردیا گیا، عبداللہ بن مبارک بھی ان بزرگوں میں تھے، جنھوں نے حدیث کی روایت کے کچھ اُصول مرتب کرلیے تھے، ان کے چند اُصول درجِ ذیل ہیں: (۱)حدیث کے صحیح اور قابل حجت ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے تمام رواۃ ثقہ اور فقیہ ہوں، فقیہ کے یہ معنی ہیں کہ وہ الفاظ کی تاثیر، زبان کے قواعد ومحاورات اور مطالب کے طرزِ ادا سے بخوبی واقف ہوں، وہ احادیث جن کے رواۃ ثقہ ہوں مگرفقیہ نہ ہوں، قابل حجت توہیں لیکن قسم اوّل کی حدیثوں سے کم رتبہ ہیں۔ (۲)قرب استاد (یعنی راوی کا کم نہ ہونا) حدیث کی صحت وجودت کی دلیل نہیں ہے، رواۃ کی تعداد خواہ کسی قدر ہو؛ مگریہ ضروری ہے کہ ان میں ہرایک راوی ثقہ اور معتبر ہو۔ (۳)حدیث کے لائق احتجاج ہونے کے لیے یہ بات بھی ضروری ہے کہ راوی نے خود اس کوسنا ہو اور روایت کرتے وقت تک اس نے اس کواچھی طرح محفوظ رکھا ہو۔ (۴)روایت بالمعنی کے قائل تھے، انما المیت یعذب بیکاء الحئی (یعنی میت پراس کے خاندان والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے؛ اس روایت کوحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لفظاً ومعنا کسی طرح بھی تسلیم ہی نہیں کرتی تھی، ان کا استدلال قرآن کی اس آیت سے تھا، وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (الانعام:۱۶۴) وہ فرماتی تھیں کہ اس میں راویوں سے غلطی ہوگئی ہے، واقعہ یہ ہے کہ کچھ لوگ میت پررورہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا توفرمایا کہ میت پرعذاب ہورہا ہے اور یہ رورہے ہیں، رونا عذاب کا سبب نہیں تھا؛ مگرراویوں نے اسے سبب قرار دیا) کوحدیث بالمعنی تسلیم کرتے تھے ۔ (۵)اصولِ درایت کوتسلیم کرتے تھے؛ لیکن بالعموم نہیں؛ بلک ہخاص حالتوں میں۔ (۶)تدلیس یعنی راوی کا اپنے شیخ کو صراحۃ ذکر نہ کرنے کے سخت مخالف تھے۔

فقہ[ترمیم]

فقہ کی مشق وممارست انہوں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی حدمت میں بہم پہنچائی تھی، اس لیے ان میں قدرے تفقہ بھی تھا، امام مالک رحمہ اللہ ان کوخراسان کا فقیہ کہتے تھے؛ اسی طرح بعض دوسرے علماء بھی ان کے تفقہ کے معترف ہیں؛ مگریہ مسلم ہے کہ حدیث میں ان کا جومرتبہ تھا، تفقہ واجتہاد میں ان کووہ درجہ حاصل نہیں تھا، جوامام صاحب کے دوسرے تلامذہ کوحاصل تھا؛ یہی وجہ ہے کہ ان کی شہرت فقیہ کی حیثیت سے کم اور محدث کی حیثیت سے زیادہ ہے، یحییٰ بن آدم جوان کے معاصر اور خاص شاگرد ہیں فرماتے ہیں کہ: كنت إذا طلبت الدقيق من المسائل فلم أجده عندہ أيست منه۔ [21] ترجمہ: جب بھی میں نے اُن سے دقیق مسائل دریافت کیے تواس کا جواب ان سے نہیں پایا، جس سے میں بہت مایوس ہوا۔

دوسرے علوم[ترمیم]

عبداللہ بن مبارک حدیث وفقہ کے ساتھ تفسیر، سیرت، نحو وبلاغت، ادب ولغت شعروشاعری؛ غرض ان تمام اصنافِ علم سے واقف تھے، جن کی ضرورت علومِ دینیہ میں ہوتی ہے، ایک بار ان کے تلامذہ مثلاً فضیل بن عیاض مخلد بن حسین وغیرہ جمع ہوئے اور آپس میں طے کیا کہ عبداللہ ابنِ مبارک کی علمی وعملی لیاقتوں اور صلاحیتوں کوشمار کریں؛ پھران کے بارے میں کہا کہ: جع العلم الفقہ والادب والنحو واللغۃ والشعر والعربیۃ والفصاحۃ۔ [22] ترجمہ:وہ علم وفقہ، ادب ونحو، لغت وشاعری، عربی ادب اور فصاحت کے جامع تھے۔ اس وقت شعروشاعری عام طور پرسرتاسررندی وہوسنا کی کامظہر بن گئی تھی، شعراء یاتوداد وتحسین حاصل کرنے کے لیے غزل کہتے تھے یامادی فائدے سمیٹنے کے لیے امراء وسلاطین کی مدح سرائی وقصیدہ گوئی کرتے تھے؛ مگر اس کے باوجود کچھ لوگ ایسے موجود تھے جواخلاقی شاعری کے دیدبان تھے۔ عبداللہ بن مبارک بھی شعروشاعری کا پاکیزہ ذوق رکھتے تھے اور کبھی کبھی کچھ کہہ بھی لیا کرتے تھے، ان کے جواشعار خطیب بغدادی اور کردری وغیرہ نے نقل کئے ہیں وہ اخلاقی تعلیمات سے پر ہیں، چند اشعار یہاں نقل کیے جاتے ہیں ؎ إذارافقت فى الأسفار قوما فكن لهم كذي الرحم الشفيق جب تم کسی کے رفیقِ سفر ہوتو، اس کے ساتھ اس طرح پیش آؤ جیسے اپنے بھائی بند کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ متی تاخذ تعنفہم تولوا وتبقی فی الزمان بلاصدیق اگرتم اپنے احباب کے ساتھ سخت رویہ رکھو گے تو، اُس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا کوئی دوست نہیں رہ جائے گا۔ قدیفتح المرٔحانوتا لمتجرہ وقد فتحت لک الحانوت بالدین لوگ اسباب تجارت کے لیے دُوکان کھولتے ہیں اور تونے دین فروشی کی دوکان کھول رکھی ہے۔ بین الاساطین حانوت بلاغلق قباغ اموال المساکین یہ دوکان (مسجد کے) کھنبوں کے درمیان ہے جس میں تالا لگانے کی ضرورت نہیں، جس کے ذریعہ غربا کی دولت سمیٹی جارہی ہے۔ صَیَّرت وبینک شاھیناً تصیدیہ ولیس یفلح اصحاب الشواھین تم نے شکار کرنے کے لیے دین کوشاہین بنارکھا ہے؛ مگریاد رکھو کہ ایسے شاہین باز فلاح نہیں پاسکتے۔ اِن اشعار میں ان دنیادار اور علماء اور فقہاء کی زندگی کی تصویر کھینچی گئی ہے؛ جنہوں نے مسندِ درس کودولت ووجاہت کے حصول کا ذریعہ بنارکھا تھا۔

عبادت وتقویٰ اور عادات واخلاق[ترمیم]

عبداللہ بن مبارک عبادت ریاضت زہد وتقویٰ اور اپنے عادات واخلاق میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نمونہ تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے نمونہ تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سب سے بڑی خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ: فی اللیل رہبان وفی النہار فرمان۔ ترجمہ:رات میں راہبوں کی طرح عبادت کرتے تھے اور دن میں شہ سوار بن کرمیدانِ کارزار میں نظر آتے تھے۔ ابنِ مبارک رحمہ اللہ اس خصوصیت کی چلتی پھرتی تصویر تھے؛ اسی بناپرسفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ: نظرت فی امرالصحابۃ فمارایت لہم فقلا علی بن المبارک الالصحبتہم النبیﷺ ترجمہ: میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حالات پرغور کیا توصحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کسی چیز میں ابنِ مبارک کوان سے کم تر نہیں پایا۔ ظاہر ہے کہ صحبتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا اتنا بڑا فضل ہے کہ اس میں نہ توان کا کوئی شریک وسہیم ہے اور نہ اُس میں کوئی ان کی ہمسری کا دعویٰ کرستکا ہے؛ مگراپنے اخلاق وکردار کے لحاظ سے اُمت میں ان کے بعد بہت سے ایسے افراد پیدا ہوتے رہے ہیں جوان کی صحیح تصویر تھے؛ انہی میں ابنِ مبارک رحمہ اللہ بھی تھے، ہم مختلف عنوانوں کے تحت مختصر طور سے اُن کی زندگی کے اُن اخلاقی اوصاف کی یہاں وضاحت کرتے ہیں۔

عبادت وتقویٰ[ترمیم]

عبادت وتقویٰ میں ضروب المثل تھے، ابونعیم نے حلیۃ الاولیاء میں اور امام شعرانی نے طبقات الکبریٰ میں ان کا شمار زہاد تبع تابعین میں کیا ہے سفیان ثوری رحمہ اللہ جن کی جلالت پرایک زمانہ متفق ہے، وہ فرماتے تھے کہ میں نے کوشش کی کہ عبداللہ بن مبارک جیسی محتاط زندگی گزاروں تومیں چند دن بھی نہ گذارپایا [23] تمام اہلِ تذکرہ فرماتے ہیں کہ وہ زہد وورع، عبادت اور قیام لیل میں آپ اپنی مثال تھے [24] اسماعیل بن عیاش فرماتے ہیں کہ کوئی نیک خصلت ایسی نہیں ہے جوان میں موجود نہ رہی ہو۔ [25]

احساسِ ذمہ داری[ترمیم]

ایک بار شام میں کسی شخص سے قلم مستعار لیا، اتفاق سے قلم اس شخص کوواپس کرنا بھول گئے، جب مروپہنچے توقلم پرنظر پڑی، مرو سے شام پھرواپس گئے اور قلم صاحب قلم کوواپس کیا۔ [26] تنہا یہ واقعہ ان کی اخلاقی زدنگی کا بہترین مظہر ہے اور دنیا کی اخلاقی تاریخ کا غیر معمولی واقعہ ہے، مروشام سے سینکڑوں میل دُور ہے اور پھریہ واقعہ اس زمانہ کا ہے جب رسل ورسائل کے ذرائع صرف گھوڑے اُونٹ اور خچر ہوتے تھے۔

خشیتِ الہٰی[ترمیم]

اس زہدوورع کے ساتھ آخرت کی باز پرس سے ہروقت لرزاں رہتے تھے؛ انہوں نے زہد وورع پرایک کتاب لکھی تھی، جب اس کوطلبہ کے سامنے پڑھتے تھے توان پراس قدر رقت طاری ہوجاتی تھی کہ بول نہیں سکتے تھے، قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مبارک کے ساتھ اکثر سفر میں رہتا تھا، میرے دل میں خیال ہوا کہ آخر کس بناء پران کواتنا فضل وشرف اور قبولِ عام حاصل ہے، جس طرح وہ نماز پڑھتے ہیں ہم بھی نماز پڑھتے ہیں، جتنے روزْ وہ رکھتے ہیں ہم بھی اُن سے کم روزہ نہیں رکھتے، وہ حج کرتے ہیں ہم بھی حج کرتے، وہ جہاد میں شرکت کرتے ہیں اس شرف میں ہم بھی اُن سے پیچھے نہیں ہیں، کہتے ہیں کہ ایک بار ہم لوگ شام جارہے تھے، راستہ میں رات کوکہیں ٹھہرے، سب لوگ رات کا کھانا کھارہے تھے کہ یک بہ یک چارغ گل ہوگیا، ایک آدمی چراغ جلانے کے لیے اُٹھا، چراغ جلاکر وہ واپس ہوا توہم نے دیکھا کہ عبداللہ بن مبارک کی ڈاڑھی آنسوؤں سے تر ہے، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اسی (حشیتِ الہٰی کی) وجہ سے ان کویہ فضل وشرف حاصل ہے؛ پھرفرماتے ہیں غالباً چراغ گل ہونے پراندھیرا ہوگیا اور اس سے یک گونہ ہم لوگوں پرجوگھبراہٹ طاری ہوئی اس چیز نے ان کوقبر وقیامت کی یاد دلادی اور ان پررقت کی یہ کیفیت طاری ہوگئی۔ [27] امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے ان کوجورفعت دی تھی وہ ان کی اس باطنی کیفیت کی بناء پرتھی جو اُن کے لیے مخصوص تھی۔ [28]

اخلاق وعادات[ترمیم]

ان کا یہ زہد واتقاء صرف عبادات ہی تک محدود نہیں تھا؛ بلکہ ان کے اخلاق وکردار اور ان کے معاملات میں بھی اس کا پورا اثر نمایاں تھا۔

مہمان نوازی[ترمیم]

مہمان نوازی اسلامی زندگی کی ایک امتیازی خصوصیت ہے اس میں وہ معروف تھے، ان کا دسترخوان ان کے احباب، اعزہ پڑوسی اور اجنبی سب کے لیے خوان یغما تھا، وہ کبھی بغیر مہمان کے کھانا نہیں کھاتے تھے، اس بارے میں کسی نے اُن سے پوچھا توفرمایا کہ مہمان کے ساتھ جوکھانا کھایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کا حساب نہیں لیتا، سال کے بیشتر حصہ میں وہ روزہ رکھتے تھے، جس دن وہ روزہ سے ہوتے اس دن دوسروں کوعمدہ عمدہ کھانا پکواکر کھلاتے، ابواسحاق کا بیان ہے کہ کسی سفرِ جہاد یاحج میں جارہے تھے تواُن کے ساتھ دواونٹنیوں پربھنی ہوئی مرغیاں لدی ہوئی تھیں، یہ سب سامان ان مسافروں کا تھا جوان کے ہمسفر تھے۔ [29]

ادب اور حسن معاشرت[ترمیم]

ادب اور حسن معاشرت کا نمونہ تھے، فرماتے تھے کہ ادب وحسن معاشرت دین کا دوحصہ ہے، حدیث کی مجلس میں ان کا یہ ادب دیکھنے کے قابل ہوتا تھا، یوں توعام مجلسوں میں بھی وہ حلافِ اسلام کوئی فعل نہیں دیکھ سکتے تھے، ایک بار مجلس میں کسی شخص کوچھینک آئی، اُس نے الحمدللہ نہیں کہا، آپ کچھ دیرمنتظر رہے؛ پھراس سے مخاطب ہوکرفرمایا کہ بھائی! جب چھینک آئے توکیا کہنا چاہیے، اُس نے کہا کہ الحمدللہ، آپ نے جواب میں یرحَمُکَ اللہ کہا، اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس شخص کواپنی غلطی کا احساس ہوجائے اور دوسروں کواتباعِ سنت کی ترغیب ہو۔

ذریعۂ معاش[ترمیم]

اسلاف میں بے شمار ایسے لوگ گزرے ہیں، جن کا ذریعہ معاش صنعت وحرفت یاتجارت تھا، جب تک اسلامی زندگی کے نمایاں آثار باقی تھے اس وقت تک اس چیز کوکم درجہ یامعیوب نہیں سمجھا جاتا تھا؛ بلکہ اُمت کے بلند ترافراد حرفہ وپیشہ ہی اختیار کرناپسند کرتے تھے، عبداللہ بن مبارک نے تجارت کواپنا ذریعۂ معاش بنایا تھا، ان کا تجارتی کاروبار بہت وسیع تھا، تجارت کی وسعت کا اندازۃ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک لاکھ درہم سالانہ صرف فقراء پرخرچ کرتے تھے، عموماً وہ خراسان سے سامانِ تجارت حجاز لاتے اور وہیں فروخت کرتے تھے۔ [30]

تجارت کا مقصد[ترمیم]

مگریہ تجارت محض حصولِ زریادنیا طلبی کے لیے نہیں بھی؛ بلکہ اس کا مقصد وہی تھا جواسلام نے مقرر کیا ہے، فضیل بن عیاض نے ایک روز اُن سے کہا کہ آپ ہم لوگوں کوتوزہد وقناعت اور دنیا سے بے رغبتی کی ترغیب دیتے ہیں اور خود قیمتی قیمتی سامانوں کی تجارت کرتے اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں؛ انہوں نے فرمایا کہ:اے فضیل! یہ تجارت اس لیے کرتا ہوں کہ اس سے اپنی ذات کومصائب سے اپنی عزت کوذلت سے بچاسکوں اور خدا کی اطاعت میں اس سے مددلوں اور اللہ تعالیٰ نے جومالی حقوق میرے ذمہ ڈالے ہیں، اُن کی طرف میں سبقت کروں اور انہیں بخوبی پورا کروں۔ [31] لولا انت واصحابک مااتجرت۔ ترجمہ:اگرتم اور تمہارے ساتھی نہ ہوتے تومیں تجارت نہ کرتا۔ یعنی میں تمھیں لوگوں کے لیے یہ پریشانی اُٹھاتا ہوں، ایسے علماء اور طلباء کی ڈھونڈ کرامداد کرتے تھے، جودینی علوم کے حصول یادرس وتدریس میں لگے ہوتے؛ مگرمعاشی حیثیت سے پریشان ہوتے، ان لوگوں کی مدد کووہ سب کاموں پرمقدم رکھتے تھے؛ چنانچہ اس کے لیے وہ ہزاروں روپیے اپنے شہر سے باہر بھیجتے تھے، بعض لوگوں نے ان سے شکایت کی کہ آپ اپنا مال اپنے شہر میں اس فراوانی کے ساتھ نہیں حرچ کرتے جس فراوانی کے ساتھ باہر بھیجتے ہیں، جواب میں فرمایا: میں ان لوگوں پرمال خرچ کرتا ہوں جن کے علم وفضل اور صداقت ودیانت سے بخوبی واقف ہوں وہ علم دین کی طلب واشاعت میں لگے ہوئے ہیں؛ مگران کی ذاتی اور (خانگی) ضرورتیں بھی ہیں؛ اگریہ لوگ ان کے پورا کرنے میں لگ جائیں توعلم ضائع ہوجائے گا اور اگرہم اُن کی مدد کرتے ہیں توان کے ذریعہ علم (دین کی) اشاعت ہوتی رہے گی اور منصب نبوت کے اختتام کے بعد علمِ دین کی اشاعت سے بڑھ کردوسرا کوئی کام نہیں ہے۔ [32]

عام فیاضی[ترمیم]

ان کی سخاوت وفیاضی صرف اہلِ علم ہی تک محدود نہیں تھی؛ بلکہ اس سے ہرخاص وعام فائدہ اُٹھاتا تھا، چند واقعے ملاحظہ ہوں: ایک شخص سات سودرہم کا مقروض تھا، کچھ لوگوں نے ابنِ مبارک سے کہا کہ آپ اس کا قرض اداکردیں؛ انہوں نے منشی کولکھا کہ فلاں شخص کو سات ہزار درہم دے دیئے جائیں، یہ تحریر لے کرمقروض ان کے مشنی کے پاس پہنچا، اس نے خط پڑھ کر حاملِ رقعہ سے پوچھا کہ تم کوکتنی رقم چاہیے، اس نے کہا کہ میں سات سو کا مقروض ہوں اور اسی رقم کے لیے لوگوں نے ابن مبارک سے میری سفارش کی ہے، منشی کوخیال ہوا کہ ابن مبارک سے سبقت قلم ہوگئی ہے اور وہ سات سو کے بجائے سات ہزار لکھ گئے ہیں، منشی نے حاملِ رقعہ سے کہا کہ خط میں کچھ غلطی معلوم ہوتی ہے، تم بیٹھو میں ابنِ مبارک سے دوبارہ دریافت کرکے تم کورقم دیتا ہوں، اس نے ابنِ مبارک کولکھا کہ خط لانے والا توصرف سات سودرہم کا طالب ہے اور آپ نے سات ہزار دینے کی ہدایت کی ہے، سبقتِ قلم تونہیں ہوگئی ہے؟ انہوں نے جواب میں لکھا کہ جس وقت تم کویہ خط ملے اسی وقت اس شخص کوتم چودہ ہزار درہم دے دو، منشی نے ازارہِ ہمدردی اُن کودوبارہ لکھا کہ اگراسی طرح آپ اپنی دولت لٹاتے رہے توجلد ہی سارا سرمایہ ختم ہوجائے گا. منشی کی یہ ہمدردی اور خیرخواہی ان کوناپسند ہوئی اور انہوں نے ذرا سخت لہجہ میں لکھا کہ اگرتم میرے ماتحت اور مامور ہوتومیں جوحکم دیتا ہوں اس پرعمل کرو اور اگرتم مجھے اپنا مامور ومحکوم سمجھتے ہو توپھر تم آکر میری جگہ پربیٹھو، اس کے بعد جوتم حکم دوگے میں اس پرعمل کرونگا، میرے سامنے مادی دولت وثروت سے زیادہ سرمایہ قیمتی آخرت کا ثواب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشادِ گرامی ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ جوشخص اپنے کسی مسلمان بھائی کواچانک اورغیرمتوقع طور پرخوش کردے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا، اس نے مجھ سے سات سودرہم کا مطالبہ کیا تھا میں نے سوچا کہ اس کوسات ہزار ملیں گے تویہ غیرمتوقع رقم پاکر وہ بہت زیادہ خوش ہوگا اور فرمانِ نبوی صلی اللہ علہ وسلم کے مطابق میں ثواب کا مستحق ہوں گا، دوبارہ رقعہ میں چودہ ہزار انہوں نے اس لیے کرایا کہ غالباً لینے والے کوسات ہزار کا علم ہوچکا تھا، اس لیے اب زاید ہی رقم اس کے لیے غیرمتوقع ہوسکتی تھی۔ محمد بن عیسی کا بیان ہے کہ ابن مبارک طرطوس (شام) اکثر آیا کرتے تھے، راستہ میں رقہ پڑتا تھا؛ یہاں وہ جس سرائے میں قیام کرتے تھے، اس میں ایک نوجوان بھی رہا کرتا تھا، جب تک ان کا قیام رہتا یہ نوجوان ان سے سماع حدیث کرتا اور اُن کی خدمت میں لگا رہتا تھا، ایک بار یہ پہنچے تو اس کونہیں پایا، دریافت کرنے پرمعلوم ہوا کہ وہ قرض کے سلسلہ میں قید کردیا گیا ہے، انہوں نے قرض کی مقدار اور صاحب قرض کے بارے میں معلوم کیا توپتہ چلا کہ فلاں شخص کا وہ دس ہزار کا مقروض تھا اس نے دعویٰ کیا تھا اور عدم ادائیگی کی صورت میں وہ قید کردیا گیا، عبداللہ بن مبارک نے قرض خواہ کوتنہائی میں بلایا اور اُس سے کہا کہ بھائی تم اپنے قرض کی رقم مجھ سے لے لو اور اس نوجوان کورہا کرادو یہ کہہ کر اس سے یہ قسم بھی لی کہ وہ اس کا تذکرہ کسی سے نہ کرے گا، اس نے اسے منظور کرلیا، اِدھر آپ نے اس کی رہائی کا انتظام کیا اور اسی رات رختِ سفرباندھ کروہاں سے روانہ ہوگئے، نوجوان رہا ہوکر سرائے میں پہنچا تواس کوآپ کی آمدورفت کی اطلاع ملی، اس کوملاقات نہ ہونے کا اتنا رنج ہوا کہ اسی وقت طرطوس کی طرف روانہ ہوگیا، کئی منزل کے بعد آپ سے ملاقات ہوئی توآپ نے اس کا حال دریاف تکیا، اس نے اپنے قید ہونے اور رہا ہونے کا ذکر کیا، آپ نے پوچھا رہائی کیسے ہوئی، بولا کہ کوئی اللہ کا بندہ سرائے میں آکر ٹھہرا تھا اسی نے اپنی طرف سے قرض ادا کرکے مجھے رہا کرادیا؛ مگرمیں اسے جانتا نہیں فرمایا کہ خدا کا شکرادا کرو کہ اس مصیبت سے تمھیں نجات ملی، محمد بن عیسیٰ کا بیان ہے کہ ان کی وفات کے بعد قرض خواہ نے اس واقعہ کولوگوں سے بیان کیا۔ [33]

ان کی زندگی کا ایک خاص معمول زیارتِ حرمین بھی تھا، قریب قریب ہرسال اس سعادت کوحاصل کرنے کی کوشش کرتے، سفرِ حج کے موقع پران کا معمول تھا کہ سفر سے پہلے اپنے تمام رفقائے سفر سے کہتے کہ اپنی اپنی رقم سب لوگ میرے حوالہ کردیں جب وہ لوگ حوالہ کردیتے توہرایک کی رقم کوالگ الگ ایک ایک تھیلی میں ہرایک کا نام لکھ کرصندوق میں بند کردیتے اور پورے سفر میں جوکچھ خرچ کرنا ہوتا وہ اپنی جیب سے کرتے، ان کواچھے سے اچھا کھانا کھلاتے، ان کی دوسری ضروریات پوری کرتے، جب فریضہ حج ادا کرکے مدینہ منورہ پہنچتے تورفقا سے کہتے کہ اپنے اہل وعیال کے لیے جوچیزیں پسند ہوں خرید لیں، سفر حج تم کرکے جب گھرواپس آتے توتمام رفقائے سفر کی دعوت کرتے؛ پھروہ صندوق کھولتے جس میں لوگوں کی رقمیں رکھی ہوئی تھیں اور جس تھیلی پرجس کا نام ہوتا اس کے حوالہ کردیتے، راوی کا بیان ہے کہ زندگی بھر ان کا یہی معمول رہا۔ ان کے سوانح حیات اس طرح کے واقعات سے پر ہیں، یہ چند واقعات اس لیے نقل کیئے گئے ہیں کہ اندازہ ہوسکے کہ ان کی تجارت اور حصولِ دولت کا مقصد اور مصرف کیا تھا؛ اس علم وفضل، زہدوتقویٰ اور فیاضی اور سیرچشمی کے باوجود طبیعت میں تواضع وخاکساری اس قدر تھی کہ وہ اپنی رفتار وگفتار نشست وبرخاست کسی چیز سے اپنی اس امتیازی حیثیت کوظاہر نہیں ہونے دیتے تھے، مرو میں ان کے پاس اچھا خاصا کشادہ مکان تھا، جہاں ہروقت لوگوں کا ہجوم رہتا، آپ کویہ عقیدت مندی ناپسند تھی اس لیے وہاں سے کوفہ چلے آئے اور ایک نہایت ہی تنگ وتاریک مکان میں قیام پزیر ہوئے، لوگوں نے دریافت کیا کہ اتنا وسیع مکان چھوڑ کراس تنگ وتاریک مکان میں رہتے ہوئے وحشت نہیں ہوتی؟ فرمایا کہ جس بات کوتم پسند کرتے ہو یعنی عقیدت مندوں کا ہجوم وہ مجھے ناپسند ہے؛ اسی لیے تومیں مرو سے بھاگ نکلا اور یہاں تم گمنام زندگی کوناپسند کرتے ہو؛ حالانکہ مجھے یہی پسند ہے۔ [34] ایک بار کسی سبیل (اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت عام جگہوں پرپانی پینے اور پلانے کا انتظام ہوتا تھا) پرپانی پینے کے لیے گئے، اس کے قریب پہنچے توایک ہجوم سے اُن کوایسا دھکا لگا کہ وہ پانی پینے کی جگہ سے دور جاپڑے، جب وہاں سے نکلے توحسن سے جوان کے ساتھ تھے فرمایا کہ: ماالعیش الاھٰکذا یعنی لم تعرف ولم توقر۔ ترجمہ:زندگی اسی طرح گذارنی چاہیے کہ نہ ہم کولوگ پہچانیں اور نہ ہماری توقیر کریں۔

شوقِ جہاد[ترمیم]

اوپرسفیان ثوری رحمہ اللہ کا یہ قول گذرچکا ہے کہ ابنِ مبارک اپنی پوری زندگی میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے نمونہ تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ان کی زندگی کا کوئی لمحہ دعوت وتبلیغ اور اقامت دین کی جدوجہد اور اصلاحِ حال اور جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری سے خالی نہیں ہوتا تھا، کسی وقت وہ اپنے داخلی دشمن کومغلوب کرنے کے لیئے جہاد بالنفس میں مشغول رہتے تھے اور کبھی خارجی دشمن کوزیر کرنے کے لیئے سینہ سپررہتے تھے، ان کی یہ خصوصیت ضرب المثل بن گئی ہے: فی اللیل رہبان وفی النہار فرسان۔ ترجمہ: رات میں وہ یکسوہوکر عبادت میں لگے رہتے ہیں اور دن کومیدان میں شہ سوار نظر آتے ہیں۔ عبداللہ ابن مبارک اس خصوصیت میں صحابہ کرام کا نقشِ ثانی تھے، ایک وقت میں وہ مجلس درس میں رونق افروز ہوتے تودوسرے وقت میں وہ ارشاد واصلاح کی مسند پرمتمکن نظ رآتے اورتیسرے وقت ایک سپاہی کی طرح میدانِ جہاد میں سرگردان دکھائی دیتے؛ انہوں نے سال کوتین حصوں میں تقسیم کردیا تھا، ایک حصہ میں تجارت کرتے، دوسرے حصہ میں درس وتدریس کا کام انجام دیتے اور تیسرے حصہ میں جہاد اور سفرِ حج میں مشغول رہتے تھے، ان کے درس وتدریس اور سفر حج کے واقعات کا ذکر اوپر آچکا ہے، شرکتِ جہاد کے ایک دوایک واقعے نقل کئے جاتے ہیں، اس زمانے میں رومیوں اور مسلمانوں میں برابر آویزش رہتی تھی، کبھی رومی اسلامی سرحدوں پرحملہ کرتے اور کبھی مسلمان پیش قدمی کرتے، ایک بار مسلمانوں نے پیش قدمی کی، عبداللہ بن مبارک بھی جہاد میں (اس وقت تک کرایہ کے سپاہی ہی میدان میں نہیں بھیجے جاتے تھے؛ بلکہ ہرمسلمان شرکتِ جہاد کواپنے لیے سب سے بڑی خوش قسمتی اور سب سے افضل عبادت سمجھتا تھا) رضاکارانہ شریک ہوئے، رومی فوج سے ایک سپاہی نکلا اور اس نے دعوتِ مبازرت دی، سلیمان مروزی کا بیان ہے کہ اسلامی فوج سے بھی ایک شخص اس کے مقابلہ کے لیے نکلا اور پہلے ہی وار میں اس کا کام تمام کردیا؛ پھردوسرا شخص سامنے آیا اس کا حشر بھی وہی ہوا؛ لگاتار اسی طرح یکے بعد دیگرے کئی آدمی مقالبہ میں آئے اور اس مجاہد نے ان سب کوڈھیرکردیا، لوگوں نے یہ بہادری دیکھ کرمجاہد کوگھیرلیا، اس نے اپنا چہر لپیٹ رکھا تھا، جب لوگوں نے چہرے سے کپڑا ہٹایا تودیکھا یہ بہادر مجاہد عبداللہ بن مبارک ہیں۔ [35] اہلِ تذکرہ لکھتے ہیں کہ مصیصہ، طرظوس وغیرہ مقامات میں یہ رومیوں کی سرحد سے قریب پڑتے تھے اس لیے بغرضِ جہاد ان جگہوں پروہ اکثرجاتے رہتے تھے، ایک بار کسی مجوسی سے برسرپیکار تھے کہ اسی اثنا میں مجوسی کی عبادت کا وقت آگیا، اس نے ان سے مہلت چاہی، جب وہ سورج کے سامنے سربسجود ہوا توانہوں نے ارادہ کیا کہ اس کا کام تمام کردیں؛ مگریہ آیت: وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولاً۔ [36] ترجمہ:عہد کی باز پرس ہوگی۔ سامنے آئی تورُک گئے، جب وہ عبادت سے فارغ ہوا اور اس کواس بات کا علم ہوا تووہ یہ کہتا ہوا حلقہ بگوشِ اسلام ہوگیا کہ: نعم الرب ربُّ ایعاتب ولیہ فی عدو۔ ترجمہ:بہترین رب وہ ہے جواپنے دوستوں پردشمن کے معاملہ میں عتاب کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ دوسرے دینی فرائض کے ساتھ انہوں نے فریضہ جہاد کوبھی اپنے اوپر لازم کرلیا تھا۔

امراء اور سلاطین سے گریز[ترمیم]

امراء وسلاطین سے ملنا پسند نہیں کرتے تھے، ہارون رشید نے کئی بار ملاقات کی خواہش ظاہر کی مگریہ گریز کرتے رہے، ابراہیم موصلی جن کا تعلق دربارِ شاہی سے بھی تھا وہ ابن مبارک سے غایت درجہ محبت کرتے تھے، ان کی روایت ہے کہ ہارون نے متعدد بار ابن مبارک سے ملنے کی خواہش ظاہر کی مگر میں کسی طرح ٹال دیتا تھا، اس لیے کہ میں جانتا تھا کہ ابن مبارک کے سامنے دین وشریعت کے خلاف کوئی بات ہوگی تووہ ہارون کوسختی سے روکیں گے؛ بلکہ تنبیہ کریں گے اور یہ بات ہارون جیسے خودپسند خلیفہ کی ناگواری کا سبب بنے گی اور پھرنہ جانے اس کا کیا نتیجہ ہو؛ یہی نہیں کہ وہ خود دربار سے گریز کرتے تھے؛ بلکہ اپنے تمام احباب واقراب کوبھی اس سے روکتے تھے۔ ابن علیہ اس وقت کے ممتاز محدث اور امام تھے وہ عبداللہ بن مبارک کے خاص احباب میں تھے، تجارت میں بھی وہ ان کے شریک تھے، اٹھنا بیٹھنا بھی ساتھ تھا؛ مگرانہوں نے بعض امراء کی مجالس میں جانا شروع کردیا تھا (بعض روایتوں میں ہے کہ صدقات کی وصولی کے انچارج بنادیئے گئے تھے) عبداللہ بن مبارک کوجب اس کی اطلاع ہوئی توانہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا اور ایک روز مجلس میں آئے توان سے مخاطب نہیں ہوئے، ابن علیہ بے حد پریشان ہوئے، مجلس میں توکچھ نہ کہہ سکے؛ گھرپہنچے توبڑے اضطراب کی حالت میں ابن مبارک کویہ خط لکھا: اے میرے سردار! مدتوں سے آپ کے احسانات میں ڈوبا ہوا ہوں، قسم ہے خدا کی ان احسانات کومیں اپنے متعلقین کے حق میں برکت شمار کرتا تھا، آپ نے مجھ کونہ جانے کیوں اپنے سے جدا کردیا اور مجھ کومیرے ہمنشینوں میں کم رتبہ بنادیا، میں آپ کے دولت کدہ پرحاضر ہوا؛ لیکن آپ نے میری طرف توجہ تک نہ کی؛ اسی عدم توجہی سے مجھے آپ کی ناراضگی کا علم ہوا اور مجھے اب تک نہیں معلوم ہوسکا کہ میری کونسی غلطی آپ کے غضب وغصہ کا سبب بنی ہے، اے میرے محترم میری آنکھوں کے نور! میرے استاذ! خدا کی قسم! آپ نے کیوں نہیں بتلایا کہ وہ کیا خطا ہوئی؟ جس کی بناء پرمیں آپ کی ان تمام نوازشوں اور کرم فرمائیوں سے جومیرے غائیت تمنا تھیں محروم ہوگیا۔ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے یہ پراثر خط پڑھا مگر ان پراس کا کوئی اثر نہیں ہوا، یہ چند اور اشعار جواباً ان کے پاس لکھ کربھیج دیئے ؎ يا جاعِلَ العِلمِ لَهُ بازِياً يَصطادُ أَموالَ المَساكينِ اے علم کوایک ایسا باز بنانے والے، جوغریبوں کا مال سمیٹ کرکھاجاتا ہے۔ اِحتَلتَ الدُنيا وَلَذّاتَها بِحيلَةٍ تَذهَبُ بِالدَينِ تم نے دنیا اور اس کی لذتوں کے لیے، ایسی تدبیر کی ہے جودین کومٹاکر رکھ دے گی۔ نَصِرتَ مَجنوناً بِها بَعدَما كُنتَ دَواءً لِلمَجانينِ تم خود مجنون ہوگئے، جب کہ تم مجنونوں کا علاج تھے۔ أَينَ رِوايَاتک في سَردِها عَنِ اِبنِ عَونِ وَاِبنِ سيرينِ وہ تمام روایتیں آپ کی کیا ہوئیں، جوابن عون اور ابنِ سیرین سے آپ بیان کرتے ہیں۔ أَينَ رِوايَاتك وَالْقول فی لزوم ابواب السلاطین وہ روایتیں کہاں گئیںجن میں، سلاطین سے ربط وضبط رکھنے کی وعید آئی ہے۔ إِن قُلتُ أُكرِهتُ فَمَازَا لَذَا زَلَّ حَارُ العِلمِ في العلينِ اگرتم کہو کہ میں اس پرمجبور کیا گیا توایسا کیوں ہوا، ہاں چار پایہ بروکتابے چند، کہ اسی طرح ذلت ہوتی ہے۔ ابنِ علیہ کے پاس قاصد یہ اشعار لے کرپہنچا اور انہوں نے پڑھا توان پررقت طاری ہوگئی اور اسی وقت اپنے عہدہ سے استعفا لکھ کربھیج دیا۔ [37]

مرجع خلائق[ترمیم]

انہی محاسن اور اوصاف کی بنا پروہ مرجع خلائق بن گئے تھے؛ اگرچہ وہ اپنے فضل وکمال کوبہت کم ظاہر ہونے دیتے تھے؛ مگرپھربھی جس مقام پرپہنچ جاتے، لوگ جوق درجوق ان کے گرد جمع ہوجاتے تھے، ان کوجوقبول عام حاصل تھا اس کا اندازۃ اس واقعہ سے کیجئے کہ ایک بار ابنِ مبارک رقہ آئے (خلفائے عباسیہ عموماً رقہ میں گرمی گذارتے تھے، یہ مقام نہایت ہی سرسبز اور شاداب ہے) اس کا علم ہوا تواستقبال کے لیے پورا شہر ٹوٹ پڑا، ہارون رشید کی ایک لونڈی محل سے یہ تماشا دیکھ رہی تھی، اس نے لوگوں سے دریافت کیا یہ کیا ماجرا ہے، لوگوں نے اسے بتایا کہ خراسان کے ایک عالم ابنِ مبارک یہاں آئے ہیں، انہی کے استقبال کے لیے یہ مجمع اُمڈ آیا ہے، اس نے بے ساختہ کہا کہ: ھُوَالمُلْك لامُلْك هارون الذي لايجتمع النّاس عَلَیْہِ إلابشُرَط وأعوان۔ [38] ترجمہ:حقیقت میں خلیفہ وقت یہ ہیں ہارون نہیں، اس لیے کہ اس کے گرد کوئی مجمع بغیر پولیس، فوج اور اعوان وانصار اکٹھا نہیں ہوتا۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ ا ن کومشرق ومغرب کا عالم کہا کرتے تھے۔ [39]

زرین اقوال[ترمیم]

تذکروں میں عبداللہ ابن مبارک کے سینکڑوں قیمتی اقوال ملتے ہیں، جن می سے چند یہاں نقل کئے جاتے ہیں:

معرفتِ الہٰی[ترمیم]

ایک بار فرمایا کہ اہلِ دنیا، دنیا کی سب سے مرغوب اور لذید چیز سے لطف اندوز ہوئے بغیر یہاں سے رخصت ہوجاتے ہیں، لوگوں نے پوچھا کہ سب سے لذیذ چیز کیا ہے؟ فرمایا معرفتِ الہٰی۔

ورع وتقویٰ[ترمیم]

فرمایا کہ اگرآدمی سوباتوں میں تقویٰ اور خوفِ خدا اختیار کرتا ہے اور ایک بات میں نہیں تووہ متقی نہیں ہے، فرمایا کہ اگرکوئی شخص سوچیزوں میں پرہیزگاری اختیار کرتا ہے اور ایک چیز میں اسے ترک کردیتا ہےتو اس کومتورع یعنی پرہیزگارنہیں کہا جاسکتا۔

مشتبہ مال[ترمیم]

فرمایا کہ میں ایک مشتبہ (مال ودولت کی تین صورتیں ہوتی ہیں، ایک حلال، دوسرے حرام اور تیسرے جس کا حلال یاحرام ہونا مشتبہ ہے، آنحضرت صلعم نے فرمایا ہے کہ آدمی جب مشتبہات کے قریب جائے گا توپھرحرام کھائیگا اس لیے مشتبہ سے بچنا چاہئے، یہ اسی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر ہے) درہم کواستعمال نہ کرنے کوسودرہم صدقہ کرنے کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتا ہوں۔

اللہ کے لیے محبت[ترمیم]

فرمایا میں کسی چیز کے تلاش کرنے میں تھکا نہیں بجز ایسے دوست کی تلاش میں جوصرف اللہ کے لیے محبت کرتا ہو۔

شہرت[ترمیم]

فرمایا کہ گم نامی کوپسند کرو اور شہرت سے دور رہو؛ مگریہ ظاہر نہ کرو کہ تم گم نامی کوپسند کرتے ہو اس لیے کہ اس سے بھی نفس میں بلندی اور غرور پیدا ہوگا۔

شاعر اور عوام[ترمیم]

کسی نے پوچھا کہ بازاری لوگ کون ہیں، بولے خزیمہ اور اس کے ساتھی؛ پھرپوچھا کہ سب سے گرے ہوئے کون لوگ ہیں، بولے جوقرض پرزندگی بسرکرتے ہیں اور ہاتھ پیر نہیں ہلاتے۔ [40]

جہل[ترمیم]

فرمایا جس میں جہالت وجاہلیت کی ایک عادت بھی موجود ہوگی اس کوجاہل کہا جائے گا، کیا سنا نہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام نے جب یہ کہا کہ اے اللہ! میرے لڑکے کواس طوفان سے بچاے، اس لیے کہ وہ میرے اہل میں ہے اور تونے میرے اہل وعیال کوبچانے کا وعدہ فرمایا ہے توخدا تعالیٰ نے جواب دیاکہ میں نصیحت کرتا ہوں کہ توجاہلوں میں نہ ہو، تیرا لڑکا جب ایمان کی دولت سے محروم ہوگیا توپھراہل میں کہاں رہا، صاحب زہد وتقویٰ آدمی دنیا میں بھی ایک بادشاہ وقت سے زیادہ معزز ہوتا ہے؛ کیونکہ بادشاہ اگر اپنے گردلوگوں کوجمع کرنا چاہے تواسے جبروکراہ کرنا پڑتا ہے، بخلاف خدارسیدہ آدمی کے کہ وہ لوگوں سے بھاگتا ہے؛ مگرلوگ اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

علم اور علماء[ترمیم]

وہ شخص عالم نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کے دل میں خوفِ خدا اور دنیا سے بے رغبتی نہ ہو۔

تواضع[ترمیم]

ایک شخص نے پوچھا کہ تواضع کیا ہے، آپ نے فرمایا کہ اغنیا کے مقابلہ میں خوددار رہنا، فرمایا کہ شریف وہ ہے جسے اطاعتِ الہٰی کی توفیق ہوئی اور ذلیل وہ ہے جس نے بے مقصد زندگی گذاردی، ایک شخص نے حسن خلق کی تعریف پوچھی توفرمایا کہ ترک الغضب، غصہ نہ کرنا۔

محاسن ومساوی[ترمیم]

فرمایا کہ کسی آدمی کے محاسن اور معائب کا اندازہ اس کی کمیت سے کرنا چاہیے، یعنی اگرکسی کے اندر محاسن زیادہ ہیں تواس کے معائب کوسامنے نہ لانا چاہیے اور اگرکسی میں معائب زیادہ ہیں تومحاسن کا کوئی شمار نہیں۔

حسنِ نیت[ترمیم]

فرمایا کہ بہت سے چھوٹے اعمال ہیں جوحسنِ نیت کی وجہ سے بڑے ہوجاتے ہیں اور بہت سے اعمال ہیں جوسوءنیت کی وجہ سے چھوٹے ہوجاتے ہیں؛ علم کے لیے سب سے پہلے نیت وارادہ؛ پھرفہم، پھرعمل، پھرحفظ او راس کے بعد اس کی اشاعت وترویج کی ضرورت ہے۔

اُمت کے طبقے[ترمیم]

ایک روز مسیب بن واضح سے ابن مبارک نے پوچھا کہ تم کومعلوم ہے کہ عام بگاڑ اور فساد کیسے پیدا ہوتا ہے؟ مسیب نے کہا کہ مجھے علم نہیں، فرمایا کہ خواص کے بگاڑ سے عام بگاڑ پیدا ہوتا ہے؛ پھرفرمایا کہ اُمتِ محمدیہ کے پانچ طبقے ہیں جب ان میں فساد اور خرابی پیدا ہوجاتی ہے توسارا ماحول بگڑ جاتا ہے: (۱)علماء یہ انبیا کے وارث ہیں؛ مگرجب دنیا کی حرص وطمع میں پڑجائیں توپھر کسی کواپنا مقتدا بنایا جائے؟۔ (۲)تجاریہ اللہ کے امین ہیں جب یہ خیانت پراُترآئیں توپھر کس کوآمین سمجھا جائے؟۔ (۳)مجاہدین، یہ اللہ کے مہمان ہیں، جب یہ مالِ غنیمت کی چوری شروع کریں توپھردشمن پرفتح کس کے ذریعہ حاصل کی جائے؟۔ (۴)زیادیہ زمین کے اصل بادشاہ ہیں، جب یہ لوگ برے ہوجائیں توپھر کس کی پیروی کی جائے؟۔ (۵)حکام یہ مخلوق کے نگران ہیں جب یہ گلہ بان ہی بھیڑیا صفت ہوجائے توگلہ کوکس کے ذریعہ بچایا جائے؟۔ غرور اور خود پسندی ابووہب مروزی نے غرور کی تعریف پوچھی توفرمایاکہ لوگوں کوحقیر سمجھنا اور عجب نکالنا غرور ہے؛ پھرعجب یعنی خود پسندی کی تعریف پوچھی توبولے کہ آدمی یہ سمجھے کہ جواس کے پاس ہے وہ دوسرے کے پاس نہیں ہے۔

حقیقی جہاد[ترمیم]

ایک شخص نے جہاد اور اس کی تیاری کے بارے میں سوال کیا توفرمایا کہ اپنے نفس کوحق پرجمائے رکھنا؛ یہاں تک کہ وہ خود اس پرجم جائے، سب سے را جہاد ہے، یہ اس حدیث کا بالکل ترجمہ ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ۔ [41] ترجمہ:مجاہد وہ ہے جواپنے نفس سے لڑے۔

تصنیف[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن مبارک کی زندگی میں مجاہدانہ رنگ غالب تھا اس لیے وہ علم وفن اور تدوین وتالیف کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں کرسکے؛ پھربھی انہوں نے جوکچھ تحریری یادگاریں چھوڑی ہیں وہ ان کے علم وفضل پرشاہد ہیں، امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس سلسلہ میں ان کی صرف ایک کتاب، کتاب الذہب کا تذکرہ کیا ہے اور پھرلکھا ہے: صاحب التصانيف النافعة۔ [42] ترجمہ: بہت سی مفید کتابوں کے مصنف ہیں۔ تذکروں میں کتاب الذہب کے علاوہ ان کی کسی تصنیف کا ذکر نہیں ہے؛ مگرابن ندیم نے متعدد کتابوں کا تذکرہ کیا ہے: (۱)کتاب السنن (۲)کتاب التفسیر (۳)کتاب التاریخ (۴)کتاب الزہد (۵)کتاب البروالصلۃ۔ [43]

وفات[ترمیم]

ان کی وفات جس طرح ہوئی اس میں ہرمؤمن کے لیئے سامانِ بصیرت ہے، ان کی زندگی زہد واتقا کا مرقع تھی؛ مگران کی سب سے نمایاں خصوصصیت جہاد فی سبیل اللہ تھی، اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ ان کی وفات بھی اسی مبارک سفر میں ہوئی، شام کے علاقہ میں جہاد کے لیے گئے ہوئے تھے کہ اثنائے سفر میں طبیعت خراب ہوئی، ستو پینے کی خواہش کی، ایک شخص نے ستو پیش کیا مگریہ شخص ہارون رشید کا درباری تھا، اس لیے اس کا ستوپینے سے انکار کردیا، وفات سے کچھ دیر پہلے آواز پھنس گئی، اس گلوبندی کی وجہ سے ان کوگمان ہوا کہ زبان سے کلمۂ شہادت نکلنا نہ رہ جائے اس لیے انہوں نے اپنے ایک شاگرد حسن بن ربیع سے کہا کہ دیکھو جب میری زبان سے کلمہ شہادت نکلے توتم اتنی بلند آواز سے دہرانا کہ میں سن لوں، جب تم ایسا کروگے تویہ کلمہ خود بخود میری زبان پرجاری ہوجائے گا، چنانچہ اسی حالت میں وہ اپنے خالق سے جاملے۔

سنہ، عمر اور مقام وفات[ترمیم]

یہ حادثۂ عظمیٰ سنہ۱۸۱ء میں مقام ہیت (یہ مقام گوحدودِ کوفہ ہی میں داخل تھا؛ مگرصحرائے شام میں واقع ہے، اس وقت اس کی حیثیت ایک قصبہ کی تھی) میں پیش آیا، وفات کے وقت عمر ۶۳/سال تھی۔

مقبولیت[ترمیم]

وفات گووطن سے سینکڑوں میل دور ہوئی تی، عام مقبولیت کا حیال یہ تھا کہ جب لوگوں کووفات کی اطلاع ملی توجنازہ پراس قدر اژدہام ہوا کہ ہیت کے حاکم کو اس واقعہ کی اطلاع دارالخلافہ بغداد بھیجنی پڑی، زندگی میں وہ ہارون سے ملنا پسند نہیں کرتے تھے؛ مگرجب اس کواس حادثہ کی اطلاع ہوئی تواس نے اپنے وزیرفضل سے کہا کہ آج لوگوں کوعام اجازت دے دو کہ ان کی تعزیت لوگ ہمارے پاس آکر کریں (مقصد یہ تھا کہ ان کی وفات پوری مملکتِ اسلامی کے لیے ایک حادثہ ہے اور میں اس وقت اس کا ذمہ دار ہوں توان کی تعزیت کا میں بھی حقدار ہوں) مگرفضل نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں کی توہارون نے ان کے کچھ اشعار پڑھے اور اس حادثہ کی اہمیت بتلائی، راوی کا بیان ہے کہ ان کی وفات کے بعد مجھے اس آیت کا مفہوم واضح ہوا: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا۔ [44] ترجمہ:جولوگ ایمان لائے اور عملِ صالح کیا ان کی محبت اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں پیدا کردے گا۔

اکابرکے ہاں مقام[ترمیم]

سفیان ابن عیینہ مشہور محدث ہیں، انہوں نے ابن مبارک کی کچھ یوں تعریف کی :میں نے ابن مبارک کے حالا ت پر غور کیا ،اور صحابہٴ کرام کے حالات پر غور کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ابن مبارک میں آپ کی صحبت ومعیت کے علاوہ تمام فضائل موجو د ہیں، صحابہٴ کرام آپ کی صحبت کی برکت سے اعلیٰ وبلند ہیں۔ ابنِ مبارک کی طرز ِزندگی دیکھ کر سفیان ابنِ عیینہ کہتے تھے کہ میری زندگی کا کم از کم ایک سال ابنِ مبارک کی طرح گذر جائے؛ حالانکہ تین دن بھی ایسے نہیں گزرسکتے ۔[45]

امام ابو حنیفہ کے شاگرد[ترمیم]

ابن مبارک، امام ابو حنیفہ کے مشہور شاگردوں میں سے تھے اور ابو حنیفہ کے ساتھ ان کا خاص خلوص تھا۔ ان کو اعتراف تھا کہ جو کچھ مجھ کو حاصل ہوا وہ امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری کے فیض سے حاصل ہوا ہے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ "اگر اللہ نے ابو حنیفہ و سفیان ثوری کے ذریعہ سے میری دستگیری نہ کی ہوتی تو میں ایک عام آدمی سے بڑھ کر نہ ہوتا۔"

تصنیفات[ترمیم]

  • الزهدوالرقائق
  • الجهاد
  • البر والصلۃ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119312034 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/5288 — بنام: عبد الله بن المبارك ابن المبارك، 736‒797
  3. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 6 مارچ 2020
  4. (ابنِ خلکان، شذرات الذہب:۱/۲۹۶)
  5. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۲۵۰)
  6. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۲۰۲، شاملہ،المكتبة الرقمية۔ دیگرمطبوعہ: ۱/۲۵۱)
  7. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۲۵۲)
  8. (سیراعلام النبلاء:۶/۳۹۸، شاملہ، موقع یعسوب۔ تہذیب التہذیب، ترجمہ اجمام ابوحنیفہ)
  9. (کردری:۲/۱۷۹)
  10. (تاریخ بغداد، جلد:۱۱)
  11. (تہذیب التہذیب:۵/۳۸۷)
  12. (خطیب:۱۱/۱۵۷)
  13. (مناقب کردری:۲/۱۷۳)
  14. (تذکرۃ الحفاظ للذھبی:۱/۲۰۲، شاملہ، المكتبة الرقمية۔ دیگرمطبوعہ:۱/۲۵۰)
  15. (تہذیب التہذیب:۵/۳۸۵)
  16. (تہذیب اور مناقب کردری)
  17. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۲۵۱)
  18. (یہ تمام اقوال تہذیب الاسماء اور تہذیب التہذیب سے لیے گئے ہیں)
  19. (مناقب کردری:۲/۱۷۳)
  20. (مناقب کردری:۲/۱۷۳)
  21. (مناقب کردری:۲/۱۷۳۔ تذکرۃ المغاظ:۱/۲۵۱، یحییٰ بن آدم نے اپنی کتاب الخراج میں تقریباً ۶۰/روایتیں ابنِ مبارک سے کی ہیں، اس لیے اس سلسلہ میں ان کا بیان قابل قدر ہے۔)
  22. (تہذیب الاسماء)
  23. (صفوۃ الصفوۃ:۴/۱۱۱)
  24. (تہذیب:۵/۳۸۵)
  25. (تہذیب:۵/۳۸۵)
  26. (کردری:۲/۱۷۹)
  27. (صفوۃ الصفوۃ:۴/۱۲۰)
  28. (صفوۃ الصفوۃ:۴/۱۲۰)
  29. (تاریخ بغداد:۱۱/۱۶)
  30. (تاریخ بغداد:۱۱/۱۶)
  31. (تاریخ بغداد:۱۱/۱۶۰)
  32. (تاریخ بغداد:۱/۱۶۰)
  33. (صفوۃ الصفوہ:۴/۱۱۷)
  34. (صفوۃ الصفوۃ:۴/۱۰۵)
  35. (صفوۃ الصفوۃ)
  36. (الاسرا:۳۴)
  37. (صفوۃ الصفوۃ:۴/۱۱۶)
  38. (کردری:۱۷۳)
  39. (کردری:۱۷۳)
  40. (صفوۃ الصفوۃ:۴/۱۱۵،۱۱۴)
  41. (کردری:۲/۱۷۶)
  42. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۲۵۰)
  43. (ابنِ ندیم:۳۱۹)
  44. (مریم:۹۶)