عبد اللہ ابن مبارک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبد اللہ ابن مبارک
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 736[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مرو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 794 (57–58 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ہیت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاد ابو حنیفہ،عبد الرحمٰن اوزاعی،شعبہ بن حجاج،ہشام بن عروہ،سلیمان بن مہران الاعمش،سفیان ثوری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
نمایاں شاگرد یحییٰ بن معین،ابن ابی شعبہ،ابو داؤد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مؤرخ،فقیہ،محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تاریخ،فقہ،علم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

عبد اللہ ابن مبارک اُمت مسلمہ کے امام، مجاہدین کے سردارزاہد اور محدث ایک یکتائے زمانہ ہستی

نام ونسب[ترمیم]

نام:عبداللہ ، والد کا نام: ابن مبارک تھا، ان کے والد دراصل ترکی النسل تھے ابن مبارک اور عبد اللہ بن مبارک سے شہرت رکھتے ہیں

ولادت[ترمیم]

118ھ میں ابن مبارک کی پیدائش ہوئی ،اصلی وطن مرو ہے اس وجہ سے ان کو مروزی کہتے ہیں ۔مرو خراسان میں مسلمانوں کا بہت پرانا شہر ہے ۔ [2]

بحیثیت محدث[ترمیم]

محدثین انکو امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے پکارتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی روایت سے سینکڑوں حدیثیں مروی ہیں۔
ابنِ مبارک گھر میں زیادہ رہتے تھے ، لوگوں نے پوچھا کیا تمہیں گھر میں وحشت نہیں ہوتی؟ جواباً کہنے لگے کہ مجھے وحشت کیسے ہوگی کہ میں آپ ﷺکے اقوال کے ساتھ رہا کرتا ہوں۔ ابنِ مبارک کی حالت بیان کرتے ہوئے نعیم ابنِ حماد کہتے ہیں کہ ابنِ مبارک جب کتاب الرقاق پڑھتے تو نہایت آبدیدہ ہوجاتے ، کوئی ان سے اس دوران سوال کرنے یا ان کے قریب جانے کی ہمت نہیں کرتا ۔[3]

اکابرکے ہاں مقام[ترمیم]

سفیان ابن عیینہ مشہور محدث ہیں، انہوں نے ابن مبارک کی کچھ یوں تعریف کی :میں نے ابن مبارک کے حالا ت پر غور کیا ،اور صحابہٴ کرام کے حالات پر غور کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ابن مبارک میں آپ کی صحبت ومعیت کے علاوہ تمام فضائل موجو د ہیں، صحابہٴ کرام آپ کی صحبت کی برکت سے اعلیٰ وبلند ہیں۔ ابنِ مبارک کی طرز ِزندگی دیکھ کر سفیان ابنِ عیینہ کہتے تھے کہ میری زندگی کا کم از کم ایک سال ابنِ مبارک کی طرح گزر جائے؛ حالانکہ تین دن بھی ایسے نہیں گزرسکتے ۔[4]

امام ابو حنیفہ کے شاگرد[ترمیم]

یہ امام ابو حنیفہ کے مشہور شاگردوں میں ہیں اور امام صاحب کے ساتھ ان کا خاص خلوص تھا۔ ان کو اعتراف تھا کہ جو کچھ مجھ کو حاصل ہوا وہ امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری کے فیض سے حاصل ہوا ہے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ "اگر اللہ نے ابو حنیفہ و سفیان ثوری کے ذریعہ سے میری دستگیری نہ کی ہوتی تو میں ایک عام آدمی سے بڑھ کر نہ ہوتا۔"

تصنیفات[ترمیم]

  • الزهدوالرقائق
  • الجهاد
  • البر والصلۃ

وفات[ترمیم]

عبد اللہ ابن مبارک کی 181ھ میں بمقام ہیت وفات ہوئی، کل عمر 63 سال تھی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/119312034 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. البدایہ والنہایہ ،ابن کثیر10/191
  3. صفۃ الصفوة،ابن جوزی2/325
  4. البدایہ والنہایہ ،ابن کثیر10/191