لیث بن سعد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اِمام اہل مصر
لیث بن سعد
(عربی میں: الليث بن سعد خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
الليث بن سعد.png 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش مئی 713  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 16 دسمبر 791 (77–78 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
فسطاط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ
Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ ابراہیم بن ابی عبلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص محمد بن ادریس شافعی،  البویطی،  سعید بن منصور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فقیہ،  محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ،  علم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

شیخ الاسلام، الامام الحافظ، العالم[1] ابو الحارث لیث بن سعد بن عبدالرحمٰن الفہمی القلقشندی (پیدائش: مئی 713ء — وفات: 16 دسمبر 791ء) محدث، مفسر، عالم اور فقیہ تھے۔ دوسری صدی ہجری میں امام لیث بن سعد مصر سمیت علمائے اسلام کے استاد تسلیم کیے جاتے تھے۔ علم حدیث اور فقہ میں اپنے عہد کے یکتائے روزگار میں سے تھے۔ اپنے عہد کے تقریباً سبھی علمائے حدیث نے اِن کے سامنے زانوئے تلمذ اختیار کیا۔ امام لیث بن سعد ممتاز تبع تابعین میں شمار کیے جاتے ہیں کہ جن کی مجلسِ درس سے جلیل القدر علما اور محدثین نے اِکتسابِ فیض کیا۔علم و فضل، تفقہ فی الدین، فیاضی و سیر چشمی اور تواضع و مدارات اِن کی سوانح کی روشن کڑیاں ہیں۔

خاندان[ترمیم]

امام لیث کا آبائی وطن تو اصفہان تھا مگر اُن کا خانوادہ کسی جنگ میں قبیلہ قیس کی ایک شاخ فہم کا غلام ہو گیا تھا۔ غالباً اِسی وجہ سے آبائی وطن اصفہان چھوڑ کر اُن کو مصر جانا پڑا۔ اُن کے خاندان کے بزرگوں نے اُن کی پیدائش سے قبل ہی اصفہان چھوڑ دیا تھا۔ لیکن امام لیث کے دِل میں اصفہان کے لیے محبت ہمیشہ باقی رہی، وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ: ’’اصفہان کے رہنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو۔‘‘ [2]

پیدائش اور ابتدائی حالات[ترمیم]

نام لیث، کنیت ابوالحرث تھی۔ والد کا نام سعد اور دادا کا نام عبدالرحمٰن تھا۔ اِن کے والد اور دادا کے ناموں سے پتا چلتا ہے کہ یہ غلام خاندان قدیم الاسلام تھا اور مصر کے قریب ایک بستی قلقشندہ میں امام لیث کا خانوادہ آباد تھا۔ قلقشندہ میں ہی امام لیث پیدا ہوئے۔ یہ بستی مصر کے اُس سرسبز و شاداب مقام پر واقع تھی جس کو اَب ریف مصر کہا جاتا ہے۔ امام ذہبی نے اِن القابات سے یاد کیا ہے: الامام الحافظ، شیخ الاسلام، عالم الدیار المصریۃ۔[1]

سنہ پیدائش[ترمیم]

امام لیث بن سعد کے سنہ پیدائش میں اختلاف پایا جاتا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ اُن کی پیدائش 94ھ میں ہوئی۔ خود فرماتے تھے کہ میرے خاندان کے بعض لوگوں کا بیان ہے کہ میں 92ھ میں پیدا ہوا، لیکن صحیح یہ ہے کہ میری پیدائش 94ھ میں ہوئی کیونکہ جس وقت خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہوا تو میں سات برس کا تھا۔ اِس اعتبار سے امام لیث 94ھ میں پیدا ہوئے کیونکہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا انتقال رجب 101ھ میں ہوا تھا۔ امام لیث بن سعد 94ھ مطابق 713ء میں مصر کی بستی قلقشندہ میں پیدا ہوئے۔[3] امام ذہبی نے امام لیث کا قول نقل کیا ہے کہ: ”میں شعبان 94ھ میں پیدا ہوا۔“[4]

تعلیم و تربیت[ترمیم]

امام لیث کی ابتدائی تعلیم و تربیت کے متعلق تفصیلات نہیں ملتیں مگر اُن کو نحو و ادب اور شعر و سخن سے خاصا دلچسپی تھی۔ اِس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اُس وقت کے عام دستور کے مطابق اُن کی ابتدائی تعلیم اِنہی علوم سے شروع ہوئی مگر بعد میں اُن پر فقہ و حدیث کا اِتنا غلبہ ہوا کہ اُن کی زندگی کے اصل عنوان یہی علوم بن گئے اور دوسرے علوم فقہ و حدیث کے سامنے ماند پڑ گئے۔ سن شعور کو پہنچتے ہی اُنہوں نے فقہ و حدیث کی طرف توجہ دی۔ اولاً مصر کے مشائخ فقہ و حدیث سے استفادہ کیا اور پھر اسلامی ممالک کے دوسرے مقامات کا سفر اِکتیار کیا اور تمام معروف و مشہور اُساتذہ سے مستفیض ہوئے۔ امام لیث کے اُساتذہ میں سے پچاس کبار تابعین ہیں۔

امام نافع بن عبدالرحمٰن[ترمیم]

امام نافع بن عبدالرحمٰن (متوفی 785ء) جو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے اور امام لیث بن سعد کے زمانہ میں مجمع خلائق تھے۔ امام لیث امام نافع بن عبدالرحمٰن کی خدمت میں پہنچے اور جب امام نافع بن عبدالرحمٰن نے اِن سے اِن کا نام و نسب اور وطن پوچھا اور یہ بتا چکے تو عمر دریافت کی تو کہا: بیس سال۔ فرمایا: مگر داڑھی سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری عمر چالیس سال سے کم نہ ہوگی۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام لیث تقریباً 114ھ کے قریب قریب امام نافع بن عبدالرحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ: ’’میں نے لیث بن سعد کا ایک مرتب کردہ حدیث کا ایک مجموعہ دیکھا تھا، جس میں اُنہوں نے 100 کے قریب حدیثیں صرف حضرت امام نافع بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جمع کی تھیں۔ امام نافع بن عبدالرحمٰن کے علاوہ اِن کے چند تابعی شیوخ کے نام یہ ہیں: ابن شہاب زہری (متوفی 124ھ)، سعید المقبری، ابن ابی ملیکہ، یحییٰ الانصاری وغیرہ۔ اِن کے علاوہ بےشمار تبع تابعین سے بھی علمی فیض حاصل کیا۔ امام نووی نے اِن کے چند ممتاز شیوخ کا ذِکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’اِن کے علاوہ اِتنے ائمہ سے اُنہوں نے استفادہ کیا ہے کہ اُن کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے۔‘‘[5]

امام زہری[ترمیم]

بعض تذکرہ نگاروں کے مطابق امام لیث نے امام زہری سے بھی سماع حدیث کیا۔ لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ امام زہری سے بالمُشافہ ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا اور نہ ہی اِس کا ذکر خود امام لیث نے کیا ہے۔ البتہ امام لیث نے چونکہ امام زہری کے فقہی و علمی ذخیرے سے استفادہ کیا تھا اور یہ استفادہ بالواسطہ تھا، بالمُشافہ نہیں تھا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ: ’’امام لیث امام زہری کی روایات کبھی ایک، کبھی دو اور تین اور اِس سے زائد واسطوں سے روایت کرتے ہیں۔ خود امام لیث کا یہ قول متعدد تذکروں میں منقول ہے: ’’میں نے زہری کی روایات کی ایک کثیر مقدار لکھ لی تھی (یعنی دوسرے افراد کے واسطے سے)، پھر میں نے اِرادہ کیا کہ رصافہ جا کر اُن سے بالمُشافہ روایت کروں مگر اِس خوف سے باز آیا کہ ممکن ہے کہ میرا یہ عمل اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو (مقصد یہ ہے کہ پھر وہ بالواسطہ ہی روایت کرتے رہے)۔‘‘ اِس قول سے ثابت ہوا کہ امام لیث کو امام زہری سے سماع حدیث حاصل نہ تھا۔

علم حدیث میں مقام[ترمیم]

علم حدیث میں امام لیث کی حیثیت مسلَّم ہے۔ حدیث کی ایسی کوئی کتاب نہ مل سکے گی جس میں اُن کی مرویات موجود نہ ہوں۔ اُن سے سماعِ حدیث کو بڑے بڑے ائمہ اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے تھے مگر اِس کے باوجود روایتِ حدیث میں حد درجہ تک محتاط تھے۔ ابوالزبیر اِن کے مشائخ حدیث میں سے تھے، مگر وہ جن روایات کو تدلیس کرتے تھے، اُن روایتوں کی تحدیث کو امام لیث ترک کردیتے تھے۔ اِس وجہ سے محدثین نے لکھا ہے کہ ابوالزبیر کی وہ مرویات جو امام لیث سے مروی ہیں، بہت زیادہ قابل اِعتماد ہیں۔ غیر معمولی ذہانت اور قوتِ حافظہ کے باوجود تحدیثِ روایت میں کسی پر اِعتماد نہیں کرتے تھے۔حتیٰ کہ جو روایات اُن کے یہاں لکھی ہوئی تھیں، اُنہیں بھی خود اپنی زبان سے روایت کرتے تھے۔ محدثین کا یہ طریقہ ہوتا تھا کہ وہ اپنی مرویات کی دوسروں کے ذریعے سے تحدیث کرواتے تھے۔ لیکن امام لیث کے فرزند شعیب کا بیان ہے کہ: ایک بار تلامذہ نے اُن سے پوچھا کہ آپ بسا اوقات ایسی روایتیں بھی کردیتے ہیں جو آپ کے مرتب کردہ مجموعوں میں نہیں ہیں؟ فرمایا: کہ جو کچھ میرے سینے میں محفوظ ہے، وہ سب اگر سفینوں میں منتقل کر دیا جاتا تو ایک سواری کا بوجھ ہوجاتا۔[6]

وفات[ترمیم]

امام لیث نے 78 سال شمسی کی عمر میں بروز جمعہ 15 شعبان 175ھ مطابق 16 دسمبر 791ء کو فسطاط میں انتقال کیا۔[7] نمازِ جنازہ موسیٰ بن عیسیٰ الہاشمی نے پڑھائی۔نمازِ جمعہ کے بعد مصر کے ممتاز و قدیمی قبرستان قرافۃ الصغریٰ میں سپردِ خاک کیے گئے۔ جنازے میں بے شمار مجمع تھا، مگر پورا مجمع اِس طرح پیکرِ غم بنا ہوا تھا کہ گویا ہر شخص کے گھر کی میت ہو۔ خالد بن عبدالسلام صدفی کا قول ہے کہ میں اپنے والد عبدالسلام کے ساتھ جنازہ میں شریک تھا، میں نے ایسا عظیم الشان جنازہ نہیں دیکھا، پورا مجمع پیکرِ غم بنا ہوا تھا، ہر ایک دوسرے سے اِظہارِ تعزیت کر رہا تھا، غم کا یہ عالم دیکھ کر میں نے اپنے والد سے کہا کہ مجمع کا ہر شخص ایسا غمزدہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ جنازہ اُسی کے گھر کا ہے۔ والد نے کہا کہ بیٹا یہ ایسے جامع فضل و کمال عالم تھے کہ شاید تمہاری آنکھیں پھر ایسا عالم نہ دیکھیں۔[7]

ائمہ کرام کی آراء[ترمیم]

امام لیث اپنی فطری اور غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے آغازِ شباب میں ہی تابعین اور تبع تابعین دونوں کے علوم کے جامع بن گئے اور ہر طرف اُن کے علم و فضل کا چرچا پھیل گیا ۔ خود اُن کے شیوخ تک اُن کے علم و فضل و کمال کے معترف تھے۔ شرحبیل بن زید کا بیان ہے کہ میں نے ممتاز اور معمر ائمہ حدیث کو دیکھا ہے کہ وہ امام لیث کے علم و فضل کا اعتراف کرتے تھے اور اُن کو آگے بڑھاتے تھے (یعنی روایت کرتے تھے)، حالانکہ ابھی بالکل نوجوان تھے۔ یحییٰ بن سعید بھی امام لیث کے شیوخ میں سے ہیں، کہتے ہیں کہ: اُنہوں نے کسی بات پر امام لیث کو ٹوکا اور پھر کہا: ’’تم امامِ وقت ہو، جس کی طرف نظریں اُٹھتی ہیں۔‘‘[8] محدث عبد اللہ بن وہب فرماتے تھے کہ: ’’اگر امام لیث اور امام مالک نہ ہوتے تو میں گمراہ ہوجاتا۔ ابو اسحاق شیرازی نے لکھا ہے کہ: ’’مصر میں تابعین کا علم امام لیث پر ختم ہو گیا۔ امام ابن حبان کا قول ہے کہ: ’’علم و فضل، تفقہ اور قوتِ حافظہ میں وہ اپنے زمانے کے ممتاز لوگوں میں سے تھے۔‘‘ امام نووی نے لکھا ہے کہ: ’’اُن کی اِمامت و جلالتِ شان اور حدیث و فقہ میں اُن کی بلندیٔ مرتبت پر سب کا اِتفاق ہے۔ وہ اپنے زمانے میں مصر کے امام تھے۔‘‘ یعقوب بن داؤد مہدی کا وزیر تھا، اُس کا بیان ہے کہ جب لیث بن سعد عراق آئے تو مہدی نے کہا: اِس شیخ کی صحبت اِختیار کرو، اِس وقت اِن سے بڑا کوئی عالم نہیں ہے۔‘‘ علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ: ’’ میں نے اِختلاف ائمہ پر نظر ڈالی تو بجز ایک مسئلہ کے لیث بن سعد کو کسی دوسرے مسئلہ میں صحابہ و تابعین سے الگ نہیں پایا۔‘‘ وہ مسئلہ جس میں وہ منفرد تھے، وہ یہ تھا کہ وہ مری ہوئی ٹڈی کو کھانا حلال نہیں سمجھتے تھے، حالانکہ اُس کی تحریم کا کوئی قائل نہیں۔

امام شافعی[ترمیم]

امام شافعی نے اِن کا زمانہ پایا تھا مگر اِن سے اِکتسابِ فیض نہ کرسکے، جس کا اُنہیں زِندگی بھر افسوس رہا۔ امام لیث بن سعد کے مجتہدات اور مسائل فقہ اگر مدون کیے گئے ہوتے تو اُن کا شمار ائمہ مجتہدین میں ہوتا، اِسی بنا پر امام شافعی فرماتے تھے کہ: ’’اُن کے تلامذہ نے اُن کو ضائع کر دیا۔‘‘ یعنی اُن کے افادات کو اُنہوں نے مدون نہیں کیا کہ اُن کی اِمامت و جلالت کا صحیح اندازہ بعد کے لوگوں کو ہوسکتا۔ امام شافعی فرماتے تھے: ’’مجھے امام لیث بن سعد اور ابن ابی ذویب کے علاوہ کسی سے نہ ملنے کا افسوس نہیں ہے۔‘‘

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب امام ذہبی : سیر اعلام النبلاء، جلد 8، صفحہ 136/137۔
  2. الرحمۃ الغیثیہ:  صفحہ 3۔
  3. سیر الصحابہ:  جلد 8،  صفحہ  356۔
  4. امام ذہبی : سیر اعلام النبلاء، جلد 8، صفحہ 137۔
  5. امام نووی: تہذیب الاسماء، جلد 1، صفحہ 74۔
  6. ابن حجر عسقلانی: تہذیب التہذیب، جلد 8، صفحہ 463۔
  7. ^ ا ب امام ذہبی : سیر اعلام النبلاء، جلد 8، صفحہ 161۔
  8. سیر الصحابہ:  جلد 8،  صفحہ  358۔