عبد الرزاق صنعانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الرزاق صنعانی
عبد الرزاق الصنعاني.png
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 744[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 826 (81–82 سال)[4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاد عبد الرحمٰن اوزاعی،  سفیان ثوری،  ابن جریج،  مالک بن انس  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نمایاں شاگرد احمد بن حنبل،  اسحاق بن راہویہ،  علی بن مدینی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث،  مفسر قرآن  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[3]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث،  تفسیر قرآن  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں مصنف عبد الرزاق  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد الرزاق بن ہمام بڑے نامور محدث تھے مفسر اور بہت سے ائمہ حدیث کے استاد ہیں، جو محدث یمن سے مشہور ہیں۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 126ھ بمطابق 744ء صنعاء میں ہوئی۔

نام و نسب[ترمیم]

ابو بكر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحميری اليمانی الصنعانی، صنؑعاء کے حفاظ الحدیث میں سے ہیں۔

علما کی رائے[ترمیم]

صحیح بخاری و مسلم وغیرہ ان کی روایتوں سے مالا مال ہیں۔ امام احمد بن حنبل سے کسی نے پوچھا کہ حدیث کی روایت میں آپ نے عبد الرزاق سے بڑھ کر کسی کو دیکھا؟ جواب دیا کہ "نہیں" بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً امام سفیان بن عیینہ، یحیٰ بن معین، علی بن المدینی اور امام احمد بن حنبل فن حدیث میں ان کے شاگرد تھے۔

تصنیف[ترمیم]

حدیث میں ان کی ایک ضخیم تصنیف موجود ہے۔ جو "جامع عبد الرزاق" کے نام سے مشہور ہے۔ امام بخاری نے اعتراف کیا ہے کہ "میں اس کتاب سے مستفید ہوا ہوں۔" علامہ ذہبی نے اس کتاب کی نسبت میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ "علم کا خزانہ ہے۔"
ان کی مطبوعہ کتابوں میں یہ مشہور ہیں۔

امام ابو حنیفہ کے شاگرد[ترمیم]

ان کو امام ابو حنیفہ سے فن حدیث میں تلمذ تھا۔ امام ابو حنیفہ کی صحبت میں بہت زیادہ رہے چنانچہ ان کے اخلاق و عادات کے متعلق ان کے اکثر اقوال کتابوں میں مذکور ہیں۔ ان کا قول تھا کہ"میں نے ابو حنیفہ سے بڑھ کر کسی کو حلیم نہیں دیکھا۔[6]

وفات[ترمیم]

امام عبد الرزاق کا سنِ وفات 211ھ بمطابق 827ء ہے۔ یہ جہاں دفن ہیں اس حصے کو دار الحيد کہا جاتا ہے جو جامع على تبۃ جبلیۃ پر ایک بلند جگہ واقع ہے۔ اور یہ علاقہ یمن کے دار الحکومت صنعاء کے جوار میں واقع ہے۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://id.loc.gov/authorities/n88179879 — اخذ شدہ بتاریخ: 25 فروری 2021 — مصنف: کتب خانہ کانگریس
  2. http://uli.nli.org.il/F/?func=find-b&local_base=NLX10&find_code=UID&request=987007277426605171 — اخذ شدہ بتاریخ: 25 فروری 2021
  3. ^ ا ب Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 25 فروری 2021
  4. General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/10406 — بنام: ʿAbd al-Razzāq ibn Hammām al-Ṣanʿānī
  5. https://catalog.perseus.tufts.edu/catalog/urn:cite:perseus:author.1821 — اخذ شدہ بتاریخ: 25 فروری 2021
  6. ابو حنیفہ | اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری
  7. اعلام زركلی:خير الدين الزركلی