ابن ہمام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ابن ہمام (Ibn- al- Hammam) فقہ حنفی کے معروف مصنف صاحب فتح القدیر ہیں۔

نام[ترمیم]

محمد بن عبد الواحد بن عبد الحميد ابن مسعود، السيواسی الاسكندری، كمال الدين، المعروف ابن الہمام۔

ولادت[ترمیم]

ابن ہمام کی پیدائش 790ھ بمطابق 1388ء اسکندریہ میں ہوئی۔

وطن[ترمیم]

ان کے والد ترکی میں سیواس کے مقام پر قاضی کے عہدہ پر فائز تھے بعد میں اسکندریہ کی مسند قضا بھی سنبھالی یہ بھی ان کی پیدائش اسکندریہ میں ہوئی۔

تعلیمی مراحل[ترمیم]

بچپن میں ہی اپنے باپ اور شہر کے علماء و فضلا سے علم پڑھنا شروع کردیا چنانچہ فقہ واصول سراج الدین الشہیر بہ قاری الہدایہ اور بساطی سے پڑھی اور جب 813ھ کو قاہرہ میں آئے تو قاضی محب الدین ابن شحنہ سے استفادہ کیا اور ان کے ساتھ حلب کو مراجعت کی۔عربیت کو جمال حمیدی سے اخذ کیا اور حدیث کو ابی زرعہ عراقی اور جمال حنبلی اور شمس شامی سے سنا اور مراعی وابن ظہیرہ سے اجازت حاصل کی شیخونیہ کی مشیخت کے متولی ہوئے پھر کچھ مدت تک افتاء کا کام دیتے رہے مگر آخر الامر ان سب کو یکبار گی چھوڑ دیا اور تصنیف و تالیف اور نشر علوم میں مشغول ہوئے چنانچہ ہدایہ کی شرح فتح القدیر نام ایسی محققانہ لکھی کہ جس کی نظیر آج تک نہیں ملتی اور اس میں نہایت منصفانہ دلائل سے مذہب خفیہ کو ثابت کیا۔اس شرح کو آپ نے کتاب وکالت تک تصنیف کیا تھا کہ اجل کا پیغام آگیا اس لیے اس مقام سے اس کو اخیر کتاب تک مولیٰ شمس الدین احمد بن فور المعروف بہ قاضی زادہ مفتی رومی متوفی 988ھ نے کامل کیا اور اصول میں کتاب تحریر ایسی تصنیف کی کہ اپنا نظیر نہیں رکھتی جس کی شرح آپ کے فاضل تلمیذ ابن امیر حاج حلبی نے کی۔

علمی مقام[ترمیم]

فقہائے حنفیہ میں امامت کا درجہ رکھتے ہیں۔ بعض نے طبقہ اہل ترجیح اور بعض نے اہلِ اجتہاد سے آپ کو شمار کیا ہے مفسر حافظ الحدیث اور علم کلام کے ماہر تھے۔ خانقاہ الشیخونیہ مصر کے شیخ الشیوخ رہے۔ ارباب اقتدار کے ہاں بڑی قدرو منزلت تھی زیادہ قیام قاہرہ میں رہا اورحلب میں بھی رہے۔

تصنیفات[ترمیم]

ابن ہمام کی تصنیفات میں مندرجہ ذیل ہیں

وفات[ترمیم]

ابن ہمام کی وفات 7 رمضان 1457ءبمطابق 861ھ قاہرہ میں ہوئی [1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. موسوعۃ الفقہیہ جلد1،صفحہ441،اسلامی فقہ اکیڈمی دہلی انڈیا
  2. الاعلام للزركلی
  3. الضوء اللامع 8: 127 – 132،الفوائد البہية 180،الجواهر المضيہ 2: 86 فی الحاشيہ۔