محمد سردار احمد قادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد قادری
Sunni Rizwi Masjid.jpg
جامع مسجد سنی رضوی مع مزار محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد قادری

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1906  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیال گڑھ، ضلع گورداس پور میں
وفات 19 دسمبر 1962 (55–56 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیصل آباد
شہریت پاکستانی
مذہب اسلام
فرقہ سنی
فقہی مسلک حنفی
مکتب فکر بریلوی مکتب فکر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ حزب الاحناف لاہور
مؤثر ابو حنیفہ، احمد رضا خان، محمد اقبال
متاثر عبدالقیوم ہزاروی، محمد عبدالحکیم شرف قادری، محمد ارشد القادری، محمد خان قادری

محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد قادری ایک عالم دین تھے جنھوں نے اسلام کی بہت خدمت کی اور تحریک پاکستان میں بھی حصہ لیا ان کے بیٹے حاجی فضل کریم بھی سیاست میں رہے اب ان کے پوتے صاحبزادہ فیض رسول موجودہ سجادہ نشین ہیں

اسم گرامی[ترمیم]

والدین نے آپ کا نام (باقی بھائیوں کے ناموں کی مناسبت سے ) سردار محمد رکھا۔ لیکن جب آپ علم دین کے حصول کے لیے بریلی تشریف لے گئے تو وہاں کے اکابر اساتذہ، احباب اور ہم درس طلبہ آپ کو سردار احمد کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اس صورت حال میں آپ نے والدین کا تجویز کردہ نام بھی ترک نہ فرمایا اور اساتذہ کرام کا عطا کردہ نام بھی استعمال میں رکھا۔ یوں آپ اپنا نام محمد سردار احمد تحریر فرمایا کرتے تھے۔

کنیت[ترمیم]

صاحبزادہ محمد فضل رسول صاحب کی ولادت پر ابو الفضل ہوئی اور بمقتضائے " الاَسْمَاءُ تَتَنَزَّلُ مِنَ السَّمَائِ" اس عظیم المرتبت صاحب علم و فضل کے لیے یہی کنیت موزوں بھی تھی۔

نائبِ دینِ نبی سردار احمد تیرا نام یعنی تو فضل خدا سے قوم کا سردار ہے

بچپن[ترمیم]

محدث اعظم پاکستان مولانا ابو الفضل محمد سردار احمد 1323ھ /1905ء کو موضع دیال گڑھ ضلع گورداسپور (مشرقی پنجاب، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ دیال گڑھ ضلع گورداسپور کا مشہور قصبہ ہے جو بٹالہ سے چار میل کے فاصلے پر ہے۔

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم میٹرک تک گورداسپور سے حاصل کی اس کے بعد پٹوار کورس کیا اور اعلیٰ تعلیم گورنمنٹ کالج یونیورسٹی gcu لاہور سے حاصل کی۔ پھر جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی سےشہزادہ اعلحضرت حجۃالاسلام حضور حامد رضا خان اور مفتیِ اعظم ہند الشاہ مصطفٰی رضا خان اور حضور صدرالشریعہ امجد علی اعظمی علیہالرحمہ کی زیر نگرانی دینی وعلوم میں مہارت حاصل کی۔اورسند فراغت اجازت وخلافت کے بعد وہیں سے درس وتدریس کا اغاز کیا

تنظیم[ترمیم]

انہوں نے تحریک پاکستان کے لیے بھی کام کیا۔ اور آل انڈیا سنی کانفرنس میں بھی شامل ہوئے اپ نے سب سے پہلے پاکستان میں بریلوی فکر کو عام کرنے کے لیے اداروں کی بنیادیں رکھی۔ لوگوں کی اصلاح کے لیے پاکستان میں جمعہ کی نماز سے قبل اردو تقریر کاروج عام کیا ؛اپ نے پاکستان میں سب سے پہلے نبی پاک ﷽کی عظمت کے اظہار کے لیے میلاد النبی کے جلوسوں کا اہتمام کیا ؛اپ ہی وہ شخص ہیں جنھوں نے پوری دنیا میں درود پاک الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ کو پھلایا اور مصطفٰی جان رحمت کی صدائیں ھر طرف بلند ھونے لگیں

تدریس[ترمیم]

اپ بہترین مدرس، عالی شان مناظر، باکمال خطبباعمل شییخ اور عظیم عاشق رسول تھے، پاکستان بن جانے کے بعد فیصل آباد آ کر یہاں ایک دینی جامعہ رضویہ مظہر الاسلام اور سنی رضوی جامع مسجد کی بنیاد رکھی۔ جو ہزاروں تشنگان علم کی پیاس بجھانے کا سبب ثابت ہوئی1۔ریحان ملت مولانا ریحان رضا خان عرف رحمانی میاں 2,فاتح مناظرہ جھنگ مولانا عبدالرشید رضوی اف جھنگ 3,شارح بخاری مولانا غلام رسول رضوی 4,فقہیہ عصرمولانا مفتی محمد امین نقشبندی 5شیخ القرآن مولانا سید زبیر شاہ اف چکوال6 بدر الفقہاءمولانا سید محمد عبد اللہ شاہ ملتان7 امام مدرسین مولانا محمدمنظور جنڈالوی8,، مولانا فیض احمد اویسی بہاولپور 9مولانا عبدالمصطفٰی الازہری کراچی 10مولانا عبدالقیوم ھزاروی لاہور 11مولانا سید جلال الدین شاہ بھکی، 12مولانا ابوداود محمد صادق13 سید یعقوب شاہ پھالیہ14؛سید حسین الدین شاہ راولپنڈی 15؛شہزادۂ حافظ نواب علیؒ پیر محمد عزيز الرحمٰن قادری چاٹگامی 16پیر علامہ محمد ادریس رضوی کے علاوہ اھلسنت کے تمام جید علما کرام بالواسطہ یا بلاواسطہ آپ کے شاگرد ہیں۔

وفات[ترمیم]

یکم شعبان المعظم29 دسمبر 1962ء( 1382ھ) کو وفات پائی۔

مزار[ترمیم]

مولانا سردار احمد قادری کا۔ مزار فیصل آباد میں مرجع خاص و عام ہے۔

اولاد امجاد[ترمیم]

ان کو چھ لڑکے محمد فضل رسول، محمد فضل رحیم، محمد فضل احمد رضااور محمد فضل کریم تھے۔ محمد فضل رحیم کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا تھا۔ جبکہ تینوں صاحبزادگان اور چھ صاحبزادیاں محمد سردار احمد قادری کے وصال کے وقت بقید حیات تھیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Hayat-e-Muhaddis-e-Azam Allama Sardar Ahmed Alaihir Rehma". 24 اپریل 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 مارچ 2013. 

بیرونی روابط[ترمیم]

http://www.panoramio.com/photo/6048307آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ panoramio.com [Error: unknown archive URL]