قمر الدین سیالوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خواجہ محمدقمرالدین سیالوی چشتی نظامی سلسلہ چشتیہ نظامیہ سیال شریف کے سجادہ نشین رہے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

نام خواجہ محمدقمرالدین سیالوی۔لقب:شیخ الاسلام والمسلمین۔سلسلۂ نسب اسطرح ہے خواجہ قمر الدین سیالوی،بن خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی بن خواجہ محمد الدین سیالوی،بن خواجہ محمدشمس الدین سیالوی

پیدائش[ترمیم]

قمرالدین سیالوی کی ولادتِ 15،جمادی الاول،1324ھ،بمطابق 1904ء،کو خواجہ محمد ضیاءالدین سیالوی کے گھرسیال شریف ضلع سرگودھا پنجاب میں ہوئی۔[1]

حصول علم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے دادا خواجہ محمدالدین سیالوی(ثانی لاثانی) کے زیرِ سایہ ہوئی۔ابھی آپ کی عمر مبارک 4سال کی تھی تودادا کا انتقال ہوگیا۔جب آپ چار سال،چارماہ،دس دن کے ہوئے تو قصبہ پوہلا کے معروف حافظِ قرآن،حافظ کریم بخش کی خدمت میں حفظِ قرآنِ مجید کیلئے بٹھادیا گیا۔اپنی خانقاہ کے مدرسہ ضیاء شمس الاسلام کے اساتذہ اور والد ماجد سے اکثر درسی کتب کا درس لینے کے بعد 1346ھ میں مدرسہ عثمانیہ دار الخیر اجمیر پہنچے،اور جامع المنقولِ والمعقول معین الدین اجمیر ی سے شرفِ تلمذ اختیار کیا، اسی سن میں چند ماہ کے بعد آپ کے والد ماجد نے مولانا اجمیری کو سیال شریف آنے کی دعوت دی، تو آپ بھی اُن کے ساتھ وطن آگئے، اور پورے انہماک کے ساتھ اُن سے کسب علم میں مشغول ہوگئے،اور 1351ھ،بمطابق 1932ء میں تکمیل ِدرسیات کر کے سندِفراغت حاصل کی۔1356ھ،بمطابق1938ء میں بموقع حج وزیارت علماء حرمین شریفین سے بھی سندیں حاصل کیں۔مدینہ منورہ میں اندلس کے قاضی شیخ ابوبکر النبائی سے سند حدیث حاصل کی اور مکہ مکرمہ میں مدرسہ صولتیہ کے شیخ الحدیث علامہ عمرو ممدان المکی سے سند حدیث حاصل کی۔

مجاہدانہ زندگی[ترمیم]

آپ کے والد نے مجاہدانہ زندگی کا خوگر بنانے کیلئے گھڑ سواری ،نشانہ بازی اورشمشیر زنی کی بھی اچھی تربیت دی ۔اور جفا کش زندگی کی عادت ڈالی۔

بیعت وخلافت[ترمیم]

والد خواجہ محمد ضیاءالدین سیالوی سے سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت وخلافت حاصل ہوئی۔اور اپنے والد کی وفات پر سیال شریف کی مسند سجادگی کو رونق بخشی اور جانشینی کا حق ادا کیا۔

القابات و خطابات[ترمیم]

مجسمۂ روحانیت ،آفتابِ شریعت،ماہتابِ طریقت،اقلیمِ فقر کے تاجدار، عاشقِ نبی مختار،عارف باللہ ،مردِحقیقت آگاہ ،وارث علوم پیر سیال لجپال، شیخ الاسلام و المسلمین کے خطابات سے نوازے گئے جبکہ انگریز نے انہیں ہز ہولی نیس(تقدس ماب) جو اس زمانے میں بڑا مذہبی اعزاز تھا یہ یہ خط ان کے پاس پہنچا تو اسے پھاڑ دیا اور فرمایا حضورﷺ کی غلامی اور پیر پٹھان ( خواجہ سلمان تونسوی )کی نسبت سے بڑھ کر مجھے کسی اعزاز کی ضرورت نہیں۔

علمی مقام[ترمیم]

محمد قمر الدین سیالوی نے ہزاروں گم کردہ را ہوں کو راہ ِہدایت سے ہمکنار فرمایا۔ آپ سیدھے سادھے مسلمانوں کے ایمان اور خوش عقیدگی کے تحفظ کی خاطر ہمیشہ فرقہائے باطلہ کی تردید میں سینہ سپر رہے۔شیخ الاسلام عربی فارسی اردوسرائیکی اور پنجابی زبانوں میں تسلسل کے ساتھ گفتگو فرمالیا کرتے تھے۔ عربی میں کمال درجے کا شغف رکھنے کے علاوہ آپ اس زبان میں بلا تکلف مضمون لکھنے کی بھی مہارت تامہ حاصل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس غضب کا حافظہ عطا کیا تھا کہ سالوں پہلے پڑھی ہوئی کتابوں کے مضامین آپ کے پیش نظر رہتے تھے۔ آپ کو تقابلِ ادیان پر بھی کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ نے اپنے زور علم اور زور بیان سے عیسائیوں کے ساتھ مناظرے اور مباحثے کئے جس میں بڑے بڑے عیسائی پادرویوں کو منہ کی کھانی پڑی۔

سیاسی خدمات[ترمیم]

آپ حُسن اخلاق کےپیکر اور اپنے بزرگوں کےسچے جانشین تھے۔ علماءومشائخ کے طبقہ میں یکساں مقبول تھے، پاکستان کے مسلمانوں کی عظیم دینی و سیاسی تنظیم جمعیت علماء پاکستان کے 1970کےشدید بُحران اور اختلاف کی فضاء میں باتفاق رائے صدر منتخب کیے گئے۔ آپ کی قیادت میں جمعیت علماء پاکستان نے بہترین کارہائے نمایاںسر انجام دیئےتھے۔ خواجہ سیالوی نے مہاجرین کی آباد کاری میں بھر پور حصہ لیا اور حکومت کا ہاتھ ہٹانے بٹانے کے علاوہ اپنے ذاتی فنڈ سے بے شمار مہاجروں کے گھروں کو آباد گیا۔1965ء کی جنگ کے موقع پر آپ نے اپنی تمام جمع پونجی دفاعی فنڈ میں جمع کرادی اور اپنے مریدین اور معتقدین کو بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حکم دیا۔آپ کے ایثار و قربانی کا عالم یہ تھا کہ آپ نے اپنے اہل خانہ کے زیورات بھی ملک پر قربان کر دیئے اور اپنے احباب کو قنوت نازلہ پڑھنے کا حکم دیا۔آپ بیحدخودداراورغیورتھے۔کبھی بھی ذات مفادات آپ کی رکاوٹ نہ بن سکے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر جسٹس تنزیل الرحمٰن نےبتایا کہ قمر الدین سیالوی نے اسلامی نظریات کونسل کےلیے ہمیشہ تنخواہ کے بغیر کام کیا ہے۔حتیٰ کہ سفر کےاخراجات کےلیے بھی آپ نےکبھی بھی حکومت سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔

تالیفات[ترمیم]

مذہب شیعہ

وفات[ترمیم]

آپ 17 رمضان المبارک 1401ھ،بمطابق20جولائی 1981ء،کواپنے خالق حقیق سے جاملے۔ سیال شریف ضلع سرگودھا میں آپ کا مزار پر انوار مرجع خاص و عام ہے۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ مشائخ چشت ، پروفیسرخلیق احمد نظامی دائرۃ المصنفین اسلام آباد
  2. اولیاء اللہ