ابو الفضل عبدالواحد تمیمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو الفضل عبدالواحد تمیمی
معلومات شخصیت
پیدائش 6 مئی 842  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
یمن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 18 مئی 1034 (192 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاد ابوبکر شبلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابوالفضل عبد الواحد تمیمی سلسلہ چشتیہ اور قادریہ کے اکابر بزرگوں میں سے ہیں۔

نام[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی عبد الواحد تمیمی ہے۔ کنیت ابوالفضل والد ماجد کا اسم گرامی عبد العزیز بن حارث بن اسد تمیمی ہے۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 22 رجب المرجب 342ھ کو یمن میں بوقت عصر ہوئی ۔[1]

نسب[ترمیم]

عبد الواحد بن عبد العزيز بن الحارث بن اسد بن الليث بن سليمان بن الاسود بن سفيان بن يزيد بن اكَینۃ بن عبد الله، کنیت ابو الفضل -اور ایک جگہ کنیت: ابو الحسن ہے - التَّمِيْمِي، البَغْدادي، الفقیہ الحنبلی[2] امام الفقیہ ،رئیس الحنابلہ ابوالفضل عبد الواحد بن عبد العزیز بن الحارث التمیمی البغدادی الحنبلی[3]

بیعت و خلافت[ترمیم]

آپ ابوبکر شبلی کے مریدوخلیفہ ہیں۔ آپ سے بے شمار خلق خدا نے راہ ہدایت پائی۔ ابوالفضل عبد الواحد تمیمی نے حرمین شریفین کے کئی دورے کیے اور بلادعرب و عجم کی سیاحت کی۔ آپ نے اپنے والد ماجدعبدالعزیز تمیمی سے 21 شعبان 241ھ میں سلسلہ قادریہ نظامیہ رزاقیہ میں خلافت حاصل کی۔ پھر 23 رمضان 249ھ میں آپ نے سید داود بن احمد جوزقی ابدالی سے خلافت حاصل کی ۔24 رجب 257ھ کو آپ نے ابو بکر شبلی سے بغداد میں خلافت حاصل کی۔إن أبا الفضل التميمي لبس الخرقۃ من والده عبد العزيز بن الحارث التميمي، وعبد العزيز لبسها من أستاذه أبي بكر الشبلي آپ خود فرماتے ہیں ألبسني والدي عبد العزيز بن الحارث التميمي عن أبي بكر الشبلي[4] آپ ریاضت و عبادت میں اور تقویٰ و طہارت میں یکتائے زمانہ تھے۔ آپ کی عادات و صفات اپنے مرشد کامل حضرت ابوبکرشبلی کی طرح تھیں۔ آپ ہر لمحہ سنت نبویؐ کی حفاظت فرماتے تھے۔ آپ نے سلسلہ قادریہ کو بہت فروغ بخشا اور خلق کثیر کو ہدایت ظاہری و باطنی سے مرصع فرمایا۔ آپ نے شریعت و طریقت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

  1. محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
  2. علی بن ابی طالب
  3. حسن بصری
  4. حبیب عجمی
  5. ابوسلیمان داؤدطائی
  6. معروف کرخی
  7. سری سقطی
  8. جنید بغدادی، بانی سلسلہ جنیدیہ
  9. ابوبکر شبلی
  10. عبدالعزیز بن حارث الاسدی التمیمی
  11. Abu Al Fazal Abdul Wahid Yemeni بنو تمیم

Abdul Wahid Tamimi conferred upon his khilafat to ابوالفرح طرطوسی and he continued the order.

وصال[ترمیم]

آپ 26 جمادی الثانی 410ھ کو انتقال کر گئے۔[1] آپ کا مزار اقدس امام احمد بن حنبل کے مقبرہ بغداد میں دریائے دجلہ کے کنارے تھا۔ دریائے دجلہ کی طغیانی اور کٹاؤ کی وجہ سے اب یہ دونوں مزار ناپید ہوچکے ہیں۔[5][6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب تاريخ بغداد، خطيب البغدادی،دار الكتب العلمیہ بيروت
  2. الرّوض الباسم في تراجم شيوخ الحاكم،مؤلف: أبو الطيب نايف بن صلاح بن علي المنصوري،ناشر: دار العاصمۃ للنشر والتوزيع، الرياض
  3. سير أعلام النبلاء،مؤلف شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد الذَهَبی،ناشر : مؤسسہ الرسالہ
  4. النكت الأثریہ على الأحاديث الجزریہ،مؤلف ابن ناصر الدين ناشر : دار ابن حزم
  5. خزینۃ الاصفیاءجلد اول،غلام سرورلاہوری،صفحہ 148، مکتبہ نبویہ لاہور
  6. حضرت مراد علی خاں رحمتہ اللہ علیہ