شمس الدین ترک پانی پتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیخ شمس الدین ترک پانی پتیچشتیہ سلسلہ کے عظیم بزرگان میں شمار ہوتے ہیں۔

نام[ترمیم]

آپ کا اسم شریف شمس الدین اور لقب '’شمس الاولیاء ’‘ ہے والد گرامی کا نام سید احمد(بسوی) ہے آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے محمد بن علی تک جا پہنچتا ہے جو محمد بن حنفیہ سے مشہور ہیں۔[1]

بیعت و خلافت[ترمیم]

شمس الدین ترک پانی پتی ترکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ علاؤ الدین علی احمد صابر کے خلیفہ تھے۔ سیرالاقطاب کے مصنف کہتے ہیں کہ آپ کو فرید شکر گنج سے بھی خرقہ خلافت ملا تھا اور آپ انہیں کے کہنے پرآپ صابر کلیر کے ساتھ کلیر شریف پہنچے۔ خدمت گزاری کی وجہ سے صابرکلی آپ کو اپنا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ پندرہ سال تک صابر کلیرکے غسل، وضو، کھانا پکانے اور لکڑیاں لانے کی خدمت پر مامور رہے۔ جب صابر کلیرکی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے شیخ شمس الدین ترک پانی پتی کو اپنے پاس بلایا اور خرقہ خلافت عطا کیااور ارشاد فرمایا میرے مرنے کے تین دن بعد پانی پت کو روانہ ہوجانا۔ آپ نے عرض کی کہ حضور پانی پت کی ولایت پر ان دنوں شرف الدین بو علی قلندر فائض ہیں۔ میں وہاں کیسے جا سکتا ہوں۔ صابر کلیر نے فرمایاکہ ان کی ولایت کا دور ختم ہوچکا ہے تم وہاں پہنچوگے تو وہ شہر کے دروازے پر آکر تمہیں ملیں گے علی احمد صابر کلیری کے وصال کے تین دن بعد شمس الدین ترک پانی پتی پانی پت روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو آپ کے رہنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس لیے ایک دیوار کے سائے کے نیچے بیٹھ گئے۔ بو علی قلندرنے نور باطن سے آپ کی حالت کو دیکھ لیا اور حجرے سے باہر آ گئے۔ ایک حلوہ فروش کا بیٹا جوبو علی قلندر کا منظور نظر تھا۔ اس نے بو علی قلندرسے پوچھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ اس پر بو علی قلندر نے کہا کہ بیٹا اس علاقے کی ولایت ایک اور بزرگ کے حوالے ہو گئی ہے اب میرے لیے حکم نہیں کہ اس شہر میں رہ سکوں۔ حلوہ فروش کے بیٹے نے کہا کہ حضور مجھے اس صاحب ولایت سے ملاقات کروائیں۔ بو علی قلندر نے فرمایا کہ فلاں محلے میں دیوار کے سائے میں تم کو ایک مرد درویش ملے گا بس وہی صاحب ولایت ہیں۔ وہ حلوہ فروش وہاں پہنچا تو اس نے آپ کو دیکھا اور واپس آ گیا۔ اس وقت بوعلی قلندر شہر سے نکل چکے تھے۔ اس کے بعد شمس الدین ترک پانی پتی شہر میں داخل ہوئے اور بو علی قلندرکے حجرے میں آئے اور پھر زندگی بھر وہیں قیام کیا۔ اس دوران شمس الدین ترک پانی پتی اور بو علی قلندرآپس میں بڑی محبت اور اتحاد سے رہے۔[2]

کرامات[ترمیم]

سیرالاقطاب کے مصنف لکھتے ہیں کہ پانی پت کے ایک سید شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ آپ کی سیادت کس طریقے سے ثابت ہے۔ شمس الدین ترک پانی پتی نے فرمایا ہم نے اپنے اباؤا جداد سے ایسے ہی سنا ہے اور ہمارے پاس نسب نامہ بھی ہے۔ اس بزرگ نے کہا کہ اس بات کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے ہماری تسلی نہیں ہوئی۔ جب شمس الدین ترک پانی پتی نے یہ بات سنی تو دل میں جوش پیدا ہوااور فرمایا عوام الناس میں یہ بات مشہور ہے کہ جو شخص علیؓ کی اولاد سے ہوگا اس پر آگ اثر نہیں کرتی۔ آؤ ہم دونوں مل کر آگ میں کودجاتے ہیں جسے آگ نہ جلائے گی وہ سید ہوگا۔ یہ کہہ کر آپ خانقاہ کے تنور میں کود گئے اور تھوڑی دیر بعد اس سید کو آواز دی کہ تم بھی اندر آجاؤ تاکہ تمہاری سیاست کا بھی پتہ چل جائے۔ اس شخص نے تنور میں دیکھا آپ بڑے مزے سے تنور میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہوا اور واپس ہوا ہی تھا کہ تنور کے اندر سے ایک شعلہ نکلا اور اس کے کپڑوں پر گرا جس سے اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی۔ وہ چیختا چلاتا ہائے ہائے کرتا دوڑ رہا تھا کہ شمس الدین ترک پانی پتی تنور سے باہر نکلے اور اس کی آگ بجھائی۔ جب اس شخص کی حالت ٹھیک ہو گئی تو اس نے توبہ کی اور آپ کا مرید ہو گیا۔[3]

قتل سے بچ گیا[ترمیم]

شاہ علی چشتی فرماتے ہیں کہ ایک رات میں بستر پر سویا ہوا تھا کہ میرے شریکوں میں سے ایک بھائی میرے قتل کی نیت سے داخل ہوا۔ اس نے تلوار کھینچی مجھے مارنا ہی چاہتا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے فوراً شمس الدین ترک پانی پتی کا تصور کرکے فریاد کی۔ میں نے دیکھا کہ ایک ہاتھ جس میں چاندی کی انگوٹھی تھی اچانک نمودار ہوا اور اس شخص کو گردن سے پکڑ کر باہر پھینک دیا۔ میں اسی وقت اٹھا وضو کیا اور شمس الدین ترک پانی پتی کی روضے کہ طرف چل دیا۔ روضے پر پہنچ کر میں نے دیکھا کہ ایک ہاتھ روضہ اقدس سے باہر نکلا اور میرے سر پر رکھ دیا گیا۔ میں نے اس ہاتھ کو تبرکاً چوما اور آنکھوں کو لگایا۔ شاہ علی چشتی فرماتے ہیں کہ اندھیرے کی وجہ سے میں اس ہاتھ کو دیکھ نہیں سکتا تھا دل میں آرزو ہوئی کاش اندھیری رات نہ ہوتی اور دن ہوتا تو میں اس ہاتھ کی زیارت بھی کر سکتا تھا۔ میرا یہ سوچنا ہی تھا کہ اسی وقت ہاتھ کے ناخن سے روشنی کی کرن نکلی اور میں نے دیکھا یہ وہی ہاتھ ہے جس میں چاندی کی انگوٹھی ہے جو میرے قتل کو ناکام کرنے کے لیے ظاہر ہوا تھا۔ میں نے روضے پر شکرانے کے ہزار نوافل ادا کیے، فاتحہ کا تحفہ پیش کیا اور گھر واپس آ گیا۔[4]

حکومت واپس مل گئی[ترمیم]

صاحب سیرالاقطاب نے لکھا ہے کہ شمس الدین ترک پانی پتی نے ہندوستان میں نہ شادی کی نہ اولاد ہوئی مگر 1050 ہجری میں سید صفدر خاں جو مغل حکمران شاہ جہان کی طرف سے اکبرآباد کا گورنر تھا کسی وجہ سے معزول ہوکر اپنے وطن واپس جا رہا تھا تو پانی پت میں شمس الدین ترک پانی پتی کے روضے کی زیارت کے لیے وہاں رک گیا۔ جب اس نے مجاوروں سے آپ کے حالات زندگی معلوم کیے تو وہ بہت رویا اور کہنے لگا کہ میں شمس الدین ترک پانی پتی کی اولاد میں سے ہوں میں ہندوستان صرف شمس الدین ترک پانی پتی کی زیارت کے لیے آیا تھا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ کا مزار اقدس کہاں واقع ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنانسب نامہ مجاوروں کو دکھایا جوشمس الدین ترک پانی پتی کے ہاتھ سے لکھا ہوا تھا۔ مجاوروں نے لکھائی کا موازنہ کیا تو ویسا ہی پایا۔ سید صفدر خاں نے بتایا کہ آپ نے ترکستان میں شادی کی تھی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے بیٹے کا نام سید احمد تھا۔ ہندوستان میں تشریف آوری کے بعد آپ کے بیٹے کی وہاں بہت اولاد ہوئی۔ جب یہ بات شاہ جہان تک پہنچی تو اس نے صفدر خاں کو دوبارہ واپس بلایا اور صاحب زادگی کے ادب کے پیش نظر قابل اور قندھار کی حکومت سید صفدر خاں کے حوالے کردی۔[4]

وصال[ترمیم]

شمس الدین ترک پانی پتی با اتفاق مورخانِ صادق 10 جمادی الثانی 715،716اور718ہجری میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کی آخری آرام گاہ پانی پت ہندوستان میں ہے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.makhdoom-e-rudauli.org/introu5.html
  2. خزینۃ الاصفیاءجلددوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 165مکتبہ نبویہ لاہور
  3. خزینۃ الاصفیاءجلددوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 167مکتبہ نبویہ لاہور
  4. ^ ا ب خزینۃ الاصفیاءجلددوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 168مکتبہ نبویہ لاہور
  5. تاریخ مشائخ چشت از محمد زکریا المہاجر المدنی صفحہ 184ناشر مکتبہ الشیخ کراچی,http://www.elmedeen.com/read-book-5168&&page=194&viewer=text#page-190&viewer-text