شاہ محب اللہ الہ آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاہ محب اللہ الہ آبادی کی قبر

شاہ محب اللہ الہ آبادی متوفی 1058ھ / 1648ء عہد شاہ جہانی کے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے نامور مشائخ میں سے ہیں۔

آپ کا وطن اصلی صدر پور تھا - علوم ظاہریہ کی تکمیل کے بعد جب علوم حقیقت کے مشتاق ہوئے تو دہلی حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے مزار پر حاضر ہوکر مراقب ہوئے، حضرت نے ارشاد فرمایا کہ سلسلہ صابریہ میں آج کل شیخ ابوسعید گنگوہی ؒ کے یہاں بازار تکمیل گرم ہے وہاں جاؤں اس بنا پر گنگوہ حاضر ہوئے اور بیعت ہوئے - [1]

تالیفات[ترمیم]

عربی میں فصوص الحکم کی شرح لکھی اور 1041ھ / 1631ء میں فارسی زبان میں اس کی دوسری شرح لکھی اور عبد الرحیم خیر آبادی، جو ان کے مکتوب الیہ بھی تھے، کی وساطت سے اس کا ایک نسخہ دارا شکوہ کو بھیجا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہفت احکام اور مناظر اخص الخواص 1050ھ / 1640ء میں مرتب کی اور 1053ھ / 1643ء میں عباد ت الخواص، تفسیر القرآن، المغالطۃ العامہ، تسویہ اور عقائد الخواص وغیرہ قابل ذکر رسائل لکھے۔[2]
شاہ محب اللہ الہ آبادی کے مکتوبات کا ضخیم مجموعہ بھی مرتب ہوا تھا۔ اس میں تمام تر خطوط کا موضوع وحدت الوجود ہے۔ اس مجموعہ میں دارا شکوہ کے نام ان کے طویل مکتوبات موجود ہیں۔ مکتوبات کے نسخہ علی گڑھ میں دارا شکوہ کے نام جو مکتوبات ہیں وہ 46 صفحات کو محیط ہیں۔[3]
دارا شکوہ نے جس طرح صوفیاء کی خدمت میں تصوف سے متعلق سوالات ارسال کر کے ان سے جوابات طلب کیے اسی طرح اس کا ایک سوالنامہ بنام شاہ محب اللہ الہ آبادی بھی موجود ہے۔[4]

متصوفانہ رجحان[ترمیم]

شاہ محب اللہ الہ آبادی نے اپنی تعلیمات کی بنیاد شیخ محی الدین ابن عربی کے افکار پر رکھی۔ وہ شیخ محی الدین ابن عربی کے نظریہ وحدت الوجود کے اس قدر حامی و مبلغ تھے کہ وہ اس میں اجتہاد کے درجہ کو پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے وحدت الوجود کے افکار کو ہندوستانی مزاج کے مطابق اس طرح بیان کیا کہ وحدت ادیان کی مثالوں کے متلاشی افراد کو ان میں بہت سا مواد مل گیا۔[5]

رسالہ تسویہ[ترمیم]

شاہ محب اللہ الہ آبادی کے رسالہ تسویہ نے اس وقت کی ذہنی فضا مکدر اور مذہبی زندگی میں ہلچل مچادی۔ اس رسالہ میں انہوں نے آنحضرت پر نزول وحی کے بارے میں ایسی بحث کی تھی کہ جو علماء کے نزدیک قابل اعتراض تھی۔ اس رسالہ کے خلاف باقاعدہ کارروائی تو ان کی وفات کے بعد اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں ہوئی لیکن معاصر مآخذ معارج الولایت کے ایک اندراج سے معلام ہوتا ہے کہ ان کے حین حیات بھی ان کے نظریات کے خلاف شورش برپا ہوئی تھی اور وہ اس قدر شدید تھی کہ عوام ان کے قتل کے درپے ہو گئے تھے جب شیخ محمد رشید جونپوری کو معلوم ہوا تو وہ برق رفتاری سے جونپور سے آئے اور انہیں عوام کے نرغے سے بچایا اور ان کے کلام کی توجیہ کر کے عوام کے جذبات فرو کیے۔[6]
اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں راسخ العقیدہ علما کی درخواست پر اورنگزیب عالمگیر نے ان کے رسالہ تسویہ کے تمام نسخے جلانے کا حکم صادر کیا بلکہ خود اس کا مطالعہ کیا تو شاہ صاحب کے تمام مریدوں کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا لیکن شاید یہ عملی طور پر ممکن نہ تھا لہذا ان کے صرف دو خلفاء میر سید محمد قنوجی اور شیخ محمدی کے حاضر ہونے کا ذکر ملتا ہے۔[7]
حضرت خواجہ باقی باللہ کے صاحبزادے خواجہ خرد نے اس رسالہ کی تردیدی شرح عہد عالمگیری میں ہی لکھی۔
اس رسلہ کی کئی اور شرحیں بھی لکھی گئیں۔ خود شیخ کلیم اللہ جہاں آبادی نے بھی اسی کی ایک شرح لکھی۔ سلسلہ قلندریہ کے اصحاب نے بھی اس کی ایک ضخیم شرح طبع کروائی تھی۔ شاہ محب اللہ الہ آبادی اپنے مکتوبات میں اس رسالہ کو عام کرنے سے اپنے خلفاء کو منع کرتے رہے کہ اسے اپنے تک محدود رکھیں اور اغیار کو نہ دکھائیں لیکن اس دور کی فضا ہی کچھ ایسی تھی کہ اس قسم کے لٹریچر کا تقاضا کیا جانے لگا تھا۔ اس لیے ان کے مرید اس کے پابند نہ رہ سکے۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ مشائخ چشت, مصنف شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمه الله http://www.elmedeen.com/read-book-5168&&page=240&viewer=text#page-228&viewer-text
  2. تاریخی مقالات، پروفیسر خلیق احمد نظامی، دہلی 1966ء ص48
  3. تاریخی مقالات ،پروفیسر خلیق احمد نظامی، دہلی 1966ء ص51
  4. رقعات عالمگیر، مرتبہ، نجیب اشرف ندوی طبع دارالمصنفین، ص29
  5. حسنات الحرمین، اردو ترجمہ محمد اقبال مجددی ص81
  6. معارج الولایت، عبد اللہ خویشگی عبد ی، قلمی نسخہ، ذخیرہ آزر کتب خانہ دانش گاہ پنجاب نمبر5 ورق32
  7. مراۃ الخیال، شیر خان لودھی، ص228-229
  8. حسنات الحرمین، اردو ترجمہ محمد اقبال مجددی ص82