جلال الدین تھانیسری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جلال الدین تھانیسری سلسلہ چشتیہ کے بزرگ ہیں

نام ونسب[ترمیم]

ان کا نام جلال الدین اور والد کا نام قاضی محمود ہے۔ آپ کا سلسلۂ نسب والد و والدہ دونوں کی طرف سے چند واسطوں کے بعد عمر فاروق سے ملتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

جلال الدین تھانیسری بلخ میں 894ھ میں پیدا ہوئے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ سات سال کی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ تھانیسر ہندوستان آئے اس سے پہلے بلخ میں قرآن شریف حفظ کیا، ہندوستان آکر تحصیلِ علومِ ظاہری میں مشغول ہوئے اور صرف ونحو،تفسیر،حدیث، فقہ، منطق وغیرہ میں دستگاہ حاصل کی۔ سترہ سال کی عمر میں تحصیلِ علومِ ظاہری سے فارغ ہوکردرس ووعظ میں مصروف رہتے تھے۔ آپ فتوی بھی دیکر لوگوں کی شرعی رہنمائی کرتے تھے۔

بیعت وخلافت[ترمیم]

عبد القدوس گنگوہی کے دستِ حق پر بیعت ہوئے۔ انہوں نے کئی اوراد ووظائف کی آپ کو تعلیم فرمائی بعدمیں خرقۂ خلافت سے سرفراز فرمایا۔

اخلاق و عادات[ترمیم]

آپ اپنے وقت کے مشہور عالم، عامل، صاحبِ استقامت، شیخ کامل تھے۔ ابتدائی عمر سے زندگی کے آخری ایام تک اطاعت، عبادت، درس، وعظ گوئی، ذکر سماع اور ذوق و حال میں مشغول رہے۔ اللہ تعالیٰ نے عمر دراز دی تھی۔ آداب و نوافل کی حفاظت اور اوراد و اوقات کی رعایت میں زندگی کے آخری وقت تک ثابت قدم رہے۔ آپ اس طرح یاد الٰہی میں غرق رہتے کہ مرید آپ کے کان میں نماز کے وقت اللہ اکبر اللہ کہتے تو پھر جاکر آپ کو ہوش آتا اور نماز ادا کرتے اگر آپ نعت یا قوالی سُنتے تو وجد کرنے لگتے۔ سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں آپ کے رتبہ والا بزرگ کوئی نہیں ہوا۔ آپ نے ساری عمر اپنے مرشد کی خدمت میں گزار دی اور سلسلۂ چشتیہ صابریہ کی اشاعت میں دن رات ایک کر دیے۔ اسی سال کی عمر تک ایک قرآن روزانہ ختم کرنا آپ کا معمول تھا۔

وفات[ترمیم]

شیخ جلال الدین 14 ذوالحجہ 989ھ/ بمطابق8 جنوری 1582ء میں 95سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ آپ کا مزار تھانیسر میں ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرۂ اولیائے پاک وہند،صفحہ237،ڈاکٹر ظہور الحسن شارب، پروگریسو بکس لاہور