قوالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قوالی موسیقی کی ایک قسم ہے جو ایک بدعت ہے یعنی دین میں لوگوں نے اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے

وجہ تسمیہ[ترمیم]

قوالی اسم مبالغہ ہے، جس کا مصدر ’’قول‘‘ ہے۔ کسی قول (بات) کو بار بار دہرانے کو قوالی کرنا کہتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

قوالی کو سلسلہ چشتیہ میں خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ روایات کے مطابق قوالی کی شروعات حضرت امیر خسرو سے ہوئی۔ قدیم روایتی کلام زیادہ تر قدیم اردو میں ملتا ہے، تاہم آجکل فارسی، اردو، پنجابی، سرائیکی اور دیگر زبانوں میں بھی قوالیاں بکثرت ہوتی ہیں۔

قوالی اور تبلیغ اسلام[ترمیم]

برصغیر میں اسلام کی اشاعت میں قوالی نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ برصغیر میں تبلیغ اسلام کے دوران اس دور کے صوفیاء نے دیکھا کہ موسیقی ہندوؤں کے رگ و پے میں سمائی ہوئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے مختلف قسم کے اسلامی کلام کو موسیقی کے ساتھ پیش کرنا شروع کیا، جو بعد ازاں فن قوالی کے روپ میں ابھرا۔ اللہ اور اس کے رسول کی یاد دلانے والے کلام کو موسیقی کے ساتھ عوام تک پہنچانے کو باعث ثواب سمجھا جاتا ہے۔

قوالی اور حضرہ[ترمیم]

عالم عرب میں بھی اسلامی کلام کو موسیقی کے ساتھ پیش کرنے کا رواج پایا جاتا ہے۔ شرکاء دورانِ سماع اٹھ کر جھومنا شروع کر دیتے ہیں، جسے حضرہ کرنا کہتے ہیں۔ قوال حضرات برصغیر میں رائج قوالی کو ’عجمی حضرہ‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ موسیقی اسلام میں حرام ہے

پاکستان میں قوالی[ترمیم]

پاکستان نے متعدد ایسے قوال پیدا کئے جنہوں نے دنیا بھر میں شہرت پائی۔ بالخصوص نصرت فتح علی خان، عزیز میاں اور صابری برادران کا شمار صف اول میں ہوتا ہے۔

قوال[ترمیم]

ماضی کے قوال[ترمیم]

موجودہ قوال[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]