مندرجات کا رخ کریں

قوالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

قوالی صوفی اسلامی موسیقی کی ایک قسم ہے جو جنوبی ایشیا سے ہے۔ تاریخی طور پر، قوالی برصغیر کے صوفی درگاہوں میں بجائی جاتی تھی،[1] اور پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مقبول ہے۔ آج کل قوالی مختلف زبانوں میں گائی جاتی ہے جیسے کہ اردو، ہندی، پنجابی اور فارسی۔[2]

درگاہ اجمیر شریف میں ایک قوالی

اشتقاقیات

قوالی عربی لفظ "قَوّل" سے ماخوذ ہے۔[2] قَوّل کا مطلب ہوتا ہے "بات"یا "بیان کرنا" اس طرح قوالی کا مطلب ہوا وہ بات جو بار بار دہرائی جائے۔ حالانکہ لفظ قوالی کو بھارت اور پورے برصغیر میں گانے کی ایک خاص صنف کے نام کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔[3]

تاریخ

سلطنت دہلی اور سلسلہ چشتیہ کے صوفی شاعر امیر خسرو کو قوالی کا خالق سمجھا جاتا ہے،[2] جنھوں نے عربی، فارسی، ترک اور ہندوستانی روایات کو بھارت میں یکجا کر کے قوالی بنایا۔[4]

قوالی ایک خاص انداز کے گانوں کو کہتے ہیں جن میں خدا کا ذکر ہوتا ہے، اسلامی نبی محمد کی تعریف ہوتی ہے یا صوفیہ اور خدا والوں کی منقبت بیان کی جاتی ہے۔ اس کے لیے موسیقی لازم سمجھا جا سکتا ہے۔[3] لیکن ابتدائی طور پر، قوالی میں موسیقی آلات کا استعمال منع تھا۔[5] قدیم روایات ،صوفیہ کے تذکروں اور تاریخی کتابوں کے مطابق اس خطے میں پرانے زمانے سے صوفیہ کی خانقاہوں میں قوالی کا رواج رہا ہے۔ اس کی ابتدا اگرچہ نظام الدین اولیاء کے مرید ِ خاص امیر خسرو سے مانی جاتی ہے جو اپنے عہد کے ایک معروف شاعر ہونے کے ساتھ موسیقی کے فن میں بھی مہارت رکھتے تھے مگر سماع کی محفلیں اس سے پہلے بھی رائج تھیں اور باوجود اس کے رائج تھیں کہ علما کا ایک طبقہ موسیقی کو غیر اسلامی مانتا تھا اور اس کی مخالفت کرتا تھا۔ محفل سماع کا ذکر برصغیر کے چشتی مشائخ کے تذکروں میں خاص طور پر ملتا ہے۔ خواجہ معین الدین چشتی خود معروف شاعر تھے اور ان کی خانقاہ میں محفل سماع ہوتی تھی۔ ان کے مرید وخلیفہ قطب الدین بختیار کاکی کی خانقاہ دہلی میں تھی اور کہا جاتا ہے کہ انھیں سماع کا اس قدر شوق تھا کہ اسی حالت میں انھیں حال آ گیا اور وہ بے خودی کی کیفیت میں آ گئے اور اسی کیفیت میں کئی دن رہ کر ان کی موت واقع ہو گئی۔ بعض علما کی مخالفت کے باوجود چشتی مشائخ اس پر اصرار کرتے رہے اور لطف کی بات تو یہ تھی کہ انھوں نے بڑی حکمت عملی سے اس کا استعمال اسلام کی تبلیغ میں کیا کیونکہ یہاں کے باشندے موسیقی سے رغبت رکھتے تھے اور یہاں ہزاروں سال سے موسیقی کی روایت چلی آتی تھی۔ قدیم مذہبی گرنتھ ویدوں میں بھی اس پر بہت کچھ موجود ہے۔ یہاں بھجن میں موسیقی کا استعمال ہوتا تھا۔ ہندوستانی تاریخ میں موسیقی کے حوالے سے حیرت انگیز شہرت کے حامل اکبر کے نورتنوں میں سے ایک تان سین کی پرورش گوالیار کے معروف صوفی محمد غوث گوالیاری کی خانقاہ میں ہوئی تھی۔ آج بھی تان سین کی قبر ان کے پہلو میں موجود ہے۔ اس قسم کے واقعات اس بات کی گواہی کے لیے کافی ہیں کہ یہاں کے صوفیہ کو موسیقی سے خاص لگاؤ تھا اور انھوں نے اس ملک کے سنگیت کو بہت کچھ دیا ہے جس میں سے ایک قوالی بھی ہے۔ اس کی ایجاد اور مقبولیت صوفیہ کی مرہون منت ہے۔ وسط ایشیا کے صوفیہ کا بھی موسیقی سے خاص لگاؤ رہا ہے اور ان کی بھارت آمد سے پہلے بھی ان کا موسیقی سے تعلق خاطر تھا۔حدیث کے مطابق، اسلامی نبی محمد کے سامنے کئی مواقع پر موسیقی بجائی گئی اور انھوں نے اسے منع نہیں کیا۔[6] تاہم حدیث میں موسیقی بجانا منع بھی کیا جاتا ہے۔[7][8] لیکن اس میں بھی علما مختلف تفاسیر پیش کرتے ہیں کہ کون سے آلات موسیقی کی اسلام میں گنجائش ہے۔ عہد نبوی میں دف بجا کر گانے کا رواج عام تھا جس کا ثبوت احادیث میں موجود ہے۔[3][6]

‎قوالی کے موجد امیر خسرو

‎قوالی کے موجد امیر خسرو مانے جاتے ہیں اور یہ ان کے فن کی سچائی کی دلیل ہے کہ صدیاں بیت جانے کے بعد بھی یہ فن زندہ ہے اور اسے پسند کرنے والوں کا ایک طبقہ موجود ہے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ امیر خسرو ،اپنے مرشد نظام الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض گزار ہوئے کہ ان کی شاعری میں وہ شیرینی آجائے جو بے مثال ہو۔ مرشد نے اپنے فرماں بردار مرید کی عرض داشت سنی اور ارشاد ہوا کہ کھاٹ کے نیچے شکر رکھی ہوئی ہے نکالو۔ اسے خود کھاؤ اور حاضرین میں تقسیم کر دو۔ امیر خسرو نے ایسا ہی کیا اور پھر ان کی زبان میں وہ شیرینی آ گئی کہ آج سات سو سال سے زیادہ کی مدت گزرنے کے بعد بھی اس کی مٹھاس میں کمی نہیں آئی۔ خسرو کو ان کے عہد کے ایک بادشاہ نے "ملک الشعرا" کے خطاب سے نوازا تھا مگر وہ کشورِ سخنوری کے ایسے شہنشاہ ثابت ہوئے جس کی سلطنت کو آج تک کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ غالباً یہ اسی شکر کی برکت تھی جو خسروؔ کو بارگاہِ نظامی سے عطا ہوئی تھی۔ وہ شاعری ہی نہیں موسیقی کے فن میں بھی یکتا تھے اور کچھ نئی ایجادات و اختراعات کا سہرا بھی ان کے سر جاتا ہے۔ خسرو نے اپنی شاعری اور موسیقی کو خالص ہندوستانی رنگ دیا جسے کثرت میں وحدت کی مثال کہا جا سکتا ہے اور اسی کی تقلید بعد کے فنکاروں نے کی۔ ‎ امیر خسرو کی ولادت اتر پردیش کے پٹیالی قصبے میں ہوئی،جو متھرا سے ایٹہ جانے والی شاہراہ پہ گنگا کنارے واقع ہے۔651ھ بمطابق 1252ء کو یہاں کے ایک امیر کبیر گھرانے میں انھوں نے جنم لیا۔ یہ ناصر الدین محمود کا دور سلطنت تھا۔ والد کا نام امیر سیف الدین محمود اور والدہ کانام دولت ناز تھا۔ والد ایک مہاجر ترک تھے تو والدہ ایک (ہندو) نومسلم ،سیاہ فام ہندوستانی سیاست دان کی بیٹی تھیں۔ وہ اپنے تین بھائیوں اور ایک بہن میں منجھلے تھے۔ خسرو کا اصل نام ابو الحسن یامین الدین خسرو تھا مگر شہرت انھیں ان کے تخلص سے ملی۔ امیر، ان کا موروثی خطاب تھا۔ انھوں نے اپنی شاعری اور موسیقی میں خالص ہندوستانی انداز کو اپنایا اسی لیے وہ خوب مقبول ہوئے۔ ان کے فن میں اہل وطن نے اسی مٹی کی سوندھی خوشبو محسوس کی۔ ‎امیر خسرو کا نام آج تک علم موسیقی میں ان کے حیرت انگیز تجربات کی وجہ سے زندہ ہے۔ وہ نظام الدین اولیاء کے مرید ہو چکے تھے۔ روایت کے مطابق"فنافی الشیخ" کی منزل پر پہنچ چکے تھے۔ قوالی کی صنف کو امیر خسرو نے اپنے مرشد کی اطاعت اور مرضی سے انمول بنا دیا۔ انھوں نے مختلف نئے راگ ترتیب دیے۔ آج کا ستار اور طبلہ، صرف اس مردِ عظیم کی کاوش اور ایجاد ہے۔ انھوں نے اپنی اکثر قوالیاں بھاگیشری، سوہنی، بہار اور بسنت راگوں میں بنائیں۔ نظام الدین اولیاء کے حکم پر انھوں نے بارہ خوش الحان گائیکوں کی ایک ٹولی ترتیب دی۔ ان تمام کو سماع کی نازک جزئیات سکھائیں۔ اس میں سے آج صرف پانچ نام محفوظ ہیں۔ میاں سمات، حسن ساونت، بہلول، تاتر اور فغانی اس بارہ کی ٹولی میں شامل تھے۔ ‎اس فن نے سلاطین دہلی سے لے کر مغلوں تک کا سفر کیا۔ [9]

قوالی کی بناوٹ

عام طور پر، قوالیاں ہلکے انداز میں شروع ہوتی ہیں اور آہستہ آہستہ توانائی بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ سامعین اور موسیقار دونوں میں ایک تنویمی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر قوالیاں ایک ہندوستانی کلاسیکی راگ کی بنیاد پر پیش کی جاتی ہیں۔

ہم نوا کی بناوٹ

ایک قوالی پارٹی فتح پور سیکری میں

قوالی موسیقار کا گروہ کو ایک "ہم نوا" یا "پارٹی" کہا جاتا ہے جس میں عام طور پر آٹھ یا نو مرد ہوتے ہیں جن میں ایک مرکزی گلوکار، ایک یا دو ضمنی گلوکار، ایک یا دو ہارمونیم (جسے مرکزی یا ضمنی گلوکار بجا سکتے ہیں) اور ایک یا دو ڈھول بجانے والے ہوتے ہیں۔ اگر صرف ایک ڈھول بجانے والا ہے تو دونوں طبلہ اور ڈھولک بجاتا ہے۔ چار یا پانچ ضمنی گلوکار ہوتے ہیں جو اہم نظمیں گاتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں۔[10]

گلوکار زمین پر بیٹھتے ہیں۔ سامنے مرکزی گلوکار، ہارمونیم اور ضمنی گلوکار بیٹھتے ہیں اور پیچھے ڈھول اور تالیاں بجانے والے بیٹھتے ہیں۔

ہارمونیم سے پہلے قوالی میں سارنگی استعمال ہوتی تھی، لیکن سارنگی کو ہر قوالی کے بعد دوبارہ سر میں کرنا پڑتا تھا، تو ہارمونیم زیادہ استعمال ہونے لگا۔[10]

ابتدائی طور پر، خواتین اسلامی موسیقی سے خارج تھے، چونکہ وہ مردوں کے سامنے گانے سے ممنوع ہیں۔[10] تاہم ان روایات میں تبدیلی آئی، خاتون قوالوں، جیسے کہ عابدہ پروین، کی مقبولیت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔ تاہم آج بھی قوالی غالب طور پر مردوں کی جانب سے پیش کی جاتی ہے اور مقبول خاتون قوالوں بہت کم ملتے ہیں۔

قابل ذکر قوالی موسیقار

ماضی کے قوال

موجودہ قوال

حوالہ جات

  1. www.oxfordmusiconline.com۔ DOI:10.1093/gmo/9781561592630.article.52787 https://www.oxfordmusiconline.com/grovemusic/documentID/omo-9781561592630-e-0000052787۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-26 {{حوالہ ویب}}: پیرامیٹر |title= غیر موجود یا خالی (معاونت)
  2. ^ ا ب پ "فنِ قوالی اپنے عُروج پر!!"۔ jang.com.pk۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-27
  3. ^ ا ب پ ویب ڈیسک (8 اپریل 2022)۔ "برصغیر میں‌ قوالی"۔ ARYNews.tv | Urdu - Har Lamha Bakhabar۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-27
  4. "TwoCircles.net". TwoCircles.net (بزبان امریکی انگریزی). Retrieved 2026-01-27.
  5. "Is it permissible to listen to Qawwali?". www.thesunniway.com (بزبان برطانوی انگریزی). Retrieved 2026-01-27.
  6. ^ ا ب Syed Hussaini (23 May 2009). "Sahih Bukhari Volume 5, Book 58, Hadith Number 268". Hadith Collection (بزبان امریکی انگریزی). Retrieved 2026-01-27.
  7. "صحیح بخاری 5590"
  8. "Sahih al-Bukhari 5590 - Drinks - كتاب الأشربة - Sunnah.com - Sayings and Teachings of Prophet Muhammad (صلى الله عليه و سلم)"۔ sunnah.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-27
  9. "قوالی کا فن ہندوستانی تہذیب کی وراثت"۔ ریختہ
  10. ^ ا ب پ "Qawwali and the Art of Devotional Singing | Asia Society". asiasociety.org (بزبان انگریزی). 24 Jul 2017. Retrieved 2026-01-28.

بیرونی روابط