شکیب جلالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شکیب جلالی
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (اردو میں: Syed Hasan Rizvi خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 1 اکتوبر 1934  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
علی گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 نومبر 1966 (32 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سرگودھا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات خود کشی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

اردو شاعر۔ اصل نام۔ سید حسن رضوی۔ یکم اکتوبر 1934ء کو اترپردیش کے علی گڑھ کے ایک قصبے سیدانہ جلال میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے شعور کی آنکھیں بدایوں میں کھولیں جہاں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں تعینات تھے۔ لیکن والدہ کی حادثاتی موت نے سید حسن رضوی کے ذہن پر کچھ ایسا اثر ڈالا کہ وہ شکیب جلالی بن گئے۔ انہوں نے 15 یا 16 سال کی عمر میں شاعر ی شروع کر دی اور شاعری بھی ایسی جو لو دیتی تھی جس میں آتش کدے کی تپش تھی۔ شکیب جلالی پہلے راولپنڈی اور پھر لاہور آ گئے یہاں سے انہوں نے ایک رسالہ ” جاوید “ نکالا۔ لیکن چند شماروں کے بعد ہی یہ رسالہ بند ہو گیا۔ پھر ”مغربی پاکستان“ نام کے سرکاری رسالے سے وابستہ ہوئے۔ مغربی پاکستان چھوڑ کر کسی اور اخبار سے وابستہ ہو گئے۔

خودکشی[ترمیم]

تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی شاعری ویسے ہی شعلہ فشانی کرتی رہی اور پھر احساسات کی اس تپش کے آگے انہوں نے سپر ڈال دی اور محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔ موت کے بعد ان کی جیب سے یہ شعر ملا:

تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ

خودکشی کی ممکنہ وجہ[ترمیم]

شکیب کے باپ کی ذہنی بیماری کے باعث شکیب کی ماں نے ٹرین کے نیچے آ کر خود کشی کرلی۔ 10 سالہ شکیب نے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ یہ منظر دیکھا۔ اس منظر نے ساری زندگی اُن کا پیچھا نہ چھوڑا۔[1]

نمونہ کلام[ترمیم]

آکے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے
جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے
مجھ کو گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں
جس طرح سائہ دیوار پہ دیوار گرے
دیکھ کر اپنے در وبام لرز اٹھتا ہوں
میرے ہم سائے میں جب بھی کوئی دیوار گرے
خموشی بول اٹھے اور ہر نظر پیغام ہو جائے
یہ سناٹا اگر حد سے بڑھے پیغام ہو جائے
ستارے مشعلیں لے کر مجھے بھی ڈھونڈھنے نکلے
میں رستہ بھول جاؤں جنگلوں میں شام ہو جائے
میں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی کے صحرا میں
خود اپنی چاپ سن کر لرزہ بر اندام ہو جائے
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
ہر ا بھرا بدن اپنا درخت جیسا تھا
ستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی
فسانہٴ جگرِ لخت لخت ایسا تھا
کب سے ہیں ایک حرف پہ نظریں جمی ہوئی
میں پڑھ رہا ہوں جو نہیں لکھا کتاب میں
اک یاد ہے کہ چھین رہی ہے لبوں سے جام
عکس ہے کہ کانپ رہا ہے شراب میں
جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے
زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے
دنیا کو کچھ خبر نہیں کیا حادثہ ہوا
پھینکا تھا اس نے سنگ گلوں میں لپیٹ کے{{{2}}}

خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں
کبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میں
یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے
گزر ہوا ہے مرا کس اجاڑ بستی میں

سوچو توسلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں

اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا
زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمیں چلنے لگی

اتر گیا ترے دل میں توشعر کہلایا
میں اپنی گونج تھا اور گنبدوں میں رہتا تھا
میں ساحلوں میں اتر کر شکیب کیا لیتا
ازل سے نام مرا پانیوں پہ لکھا تھا

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]