عید میلاد النبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
میلاد النبی / عید میلاد النبی/ جشن عید میلاد النبی
Maulidur Rasul (8413657269).jpg
ملائشیا سنی مسلمان دار الحکومت پتراجای میں جلوس میلاد النبی، 2013۔
عرفیت عید میلاد النبی ، المولد النبوي[1]
منانے والے اکثر مسلمان گروہ جیسے اہل سنت، اہل تشیع اور مختلف دیگر مکاتب فکر سوائے وہابی/سلفیوں (غیر مقلدوں) وغیرہ کے۔
قسم اسلامی، ثقافتی
اہمیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیدائش کی خوشی میں
رسومات روزہ، عوامی جلوس، نعت خوانی، ذکر و درود، صدقہ، خاندانی اور دیگر سماجی اجتماعات، مساجد، راستوں اور گھروں کی سجاوٹ وغیرہ
تاریخ 12 ربیع الاول (اہل سنت)، 17 ربیع الاول (اہل تشیع)[2]
تکرار سالانہ
بھارت میں عید میلاد النبی کا ایک اجتماع۔

عید میلاد النبی، یا جشن عید میلاد النبی یا صرف میلاد النبی (عربی: مَوْلِدُ النَبِيِّ‎) ایک اسلامی تہوار یا خوشی کا دن ہے جو اکثر مسلمان (سنی و شیعہ سوائے سلفیوں کے) مناتے ہیں۔ یہ دن مسلمان ہر سال اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے مناتے ہیں۔ یہ ربیع الاول کے مہینا میں آتا ہے جو اسلامی تقویم کے لحاظ سے تیسرا مہینا ہے۔ ویسے تو میلاد النبی اور محافلِ نعت کا انعقاد پورا سال ہی جاری رہتی ہیں، لیکن خاص ماہِ ربیع الاول میں عید میلاد النبی کا تہوار پوری مذہبی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔ یکم ربیع الاول سے ہی مساجد اور دیگر مقامات پر میلاد النبی اور نعت خوانی ( مدحِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی محافل شروع ہو جاتی ہیں جن علماءکرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت، آپ کی ذات مبارکہ اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح مختلف شعراء اور ثناء خوانِ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ گلہائے عقیدت اور درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ 12 ربیع الاول کو کئی اسلامی ممالک میں سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، کوریا، جاپان اور دیگر غیر اسلامی ممالک میں بھی مسلمان کثرت سے میلادالنبی اور نعت خوانی کی محافل منعقد کرتے ہیں۔

وجہ تسمیہ اور مختلف ممالک میں دیگر نام[ترمیم]

سیکیتان اجلاس انڈونیشیا، ہفتہ بھر منائے جانے والے عید مولد کے تقاریب۔

لفظ مولید کا مصدر ولد ایک عربی لفظ ہے۔ جس کے معنی تولید، یا جنم دینا، یا وارث کے ہیں۔ [3] عصری دور میں مولد یا مولود لفظ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کو کہتے ہیں۔ [4]

میلاد النبی کے دیگر نام مختلف ممالک میں:

لفظ میلاد و مولد کا اولین استعمال[ترمیم]

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کے احوال کے اظہار و برکات کے سلسلہ میں لفظ میلاد کا اولین استعمال جامع ترمذی میں ہے، جو صحاح ستہ میں سے ایک حدیث کی کتاب ہے۔ اس میں ایک باب بعنوان ماجاء في میلاد النبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔ اس بات سے لفظ میلاد کے اولین استعمال کا نشاندہی ہو جاتی ہے۔ اس باب میں وہ روایات جمع ہیں جن میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش کا ذکر ہے۔[5]

تقریبات و رسومات[ترمیم]

Garebeg جشن میلا یوگیکرتا, جاوا انڈونیشیا

میلاد اکثر اسلامی ممالک میں منایا جاتا ہے، اور دیگر ممالک جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد ہے وہاں پر بھی، جیسے بھارت، برطانیہ، کینیڈا[6] اور روس وغیرہ[7][8][9][10][11][12][13][14][15]۔ لیکن عرب ممالک سعودی عرب کویت اور بحرین میں اس دن سرکاری سطح پر چھٹی نہیں ہوتی[16]۔مقبول اسلامی تعطیلات کی رسمی تقریباًت میں شرکت کو اسلامی احیاء کے اظہار کے طور پر دیکھا جاتا ہے[17]۔میلاد کا جشن منانے کے لیے بظاہر عام مسلمانوں کا کوئی ایک واضح مقصد متعین نہیں ہے، جشن مقدس اور حرمت کے نام پر کیا جاتا ہے[18]۔

روزہ[ترمیم]

اس دن سنی مسلمانوں کی ایک تعداد روزہ رکھتی ہے۔ جس کی وجہ اسلام میں شکر نعمت پر نماز یا روزہ رکھنے کی سنت ہے، خود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ وہ ہر پیر کے دن اپنی ولادت کی یاد میں روزہ رکھا کرتے ( کیونکہ یہی ان کی پیدائش کا دن ہے)۔[19][20][21]

جلوس[ترمیم]

اس دن کئی ممالک میں خاص کر پاکستان، بھارت، ملائشیا، بنگلہ دیش وغیرہ میں عوامی جلوس نکالے جاتے ہیں، سڑکوں، چوراہوں کو سجایا جاتا ہے، جگہ جگہ کھانے پینے کا بندوبست کیا جاتا ہے، اور منچ بنائے جاتے ہیں، جن پر علماء سیرت کا بیان کرتے ہیں جو اس دن عام طور پر معجزات نبوی، ولادت نبوی، میلاد بطور نعمت کے تشکر جیسے عنوانات پر ہوتے ہیں۔ نعت خواں پارٹیاں ٹولیوں کی صورت نعتیں پڑھتی ہیں، اور جلوس مخصوص راستوں سے ہوتے ہوئے منزل پر اختتام پزیر ہوتا ہے۔ یہ جلوس عام طور پر 12 کو نکالے جاتے ہیں، لیکن پورا مہینا ہی شہر کے الگ الگ گوشوں میں چھوٹے پیمانے پر بھی جلوس، ریلیاں اور گھروں میں مجالس میلاد کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

میلاد کی ابتداء (عین ولادت کے دن پیدائش کی خوشی میں کچھ اعمال کا بجا لانا) کی وجوہات میں ربیع الاول میں مکہ شہر میں جائے ولادت پر مسلمانوں کا جانا اور قرآن خوانی کرنا، نعت گوئی کرنا اور درود وغیرہ پڑھنا شامل ہے۔[22] ڈاکٹر این میری شمل نے مجالس میلاد کے انعقاد اور میلاد کی ابتداء اور فروغ کے بارے میں جو رائے دی ہے اس لحاظ سے یا سلسلہ چوتھی صدی ہجری سے شروع ہوا ہے۔[23] امام سخاوی فرماتے ہیں کہ میلاد منانے کا رواج تین صدی بعد ہوا ہے اور اس کے بعد سے تمام ممالک میں مسلمان عید میلاد النبی مناتے چلے آ رہے ہیں۔[24] مروج میلاد کے سلسلہ میں سید سلیمان ندوی اپنی رائے میں لکھتے ہیں[25] کہ جس نے اس مہینے کو ولادت نبوی کی یادگار اور محفل میلاد کا زمانہ بنایا۔ ملک معظم مظفر الدین ابن زین العابدین وہ پہلا شخص ہے، جس نے مجلس میلاد (سرکاری طور پر) قائم کی۔ ابن خلکان نے ملک مظفر شاہ اربل (549ھ تا 630ھ) کے حال میں لکھا ہے مولود شریف بڑی دھوم دھام اور تزک و احتشام سے منایا کرتا تھا، یہ صلیبی جنگوں کا دود تھا۔ اس کے لیے ابن وحیہ (متوفی 633ھ) نے 604ھ میں کتاب التنویر في مولد السراج المنین لکھی تھی اور بادشاہ نے اسے انعام و اکرام سے نوازا تھا، وہ مشاہیر فضلاء میں سے تھا۔

جلال الدین سیوطی کے شاگرد، محمد بن علی یوسف دمشقی شامی نے سیرت شامی (سبل الدی و الدشاد فی سیرۃ خیر العباد) میں لکھا ہے کہ؛ سب سے پہلے مولود عمر بن محمد موصلی نے کیا تھا جو ایک نیک آدمی مشہور تھے اور ان کی پیروی سلطان اربل نے کی۔[26] مگر حسن مثنیٰ کی تحقیق کے مطابق سلطان اربل سے بھی پہلے سرکاری مجلس میلاد شاہ سلجوقی نے منائی؛ سلطان ملک شاہ سلجوقی نے 485ھ میں ایک مجلس مولود دھوم دھام سے بغداد میں منعقد کی۔ اس کا چرچا ہوا کیونکہ یہ سرکاری طور پر تھی اس لیے اس کا تذکرہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ ورنہ عوامی طور پر یہ دن عوام اپنے اپنے انداز میں منا رہی تھی۔[27]

مآخذ میلاد[ترمیم]

قرآن سے استدلال[ترمیم]

قرآن میں ہے: Ra bracket.png وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَئِذَا كُنَّا تُرَابًا أَئِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمْ وَأُوْلَئِكَ الأَغْلاَلُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَأُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدونَ Aya-5.png La bracket.png
اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ ۔ عبداللہ بن عباس کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔جن میں رب تعالیٰ کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو ۔ ( ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ [28]

بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا ، ( بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا)۔ Ra bracket.png لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ Aya-164.png La bracket.png
آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالٰی نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( اے حبیب ! ) تم فرماؤ ( یہ ) اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ( سے ہے ) اور اسی چاہیے کہ خوشی کریں ، وہ ( خو شی منانا ) ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ) ۔Ra bracket.png قُلْ بِفَضْلِ اللّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُواْ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ Aya-58.png La bracket.png
ایک اور مقام پر نعمت کا چرچا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرما یا، (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو)۔ Ra bracket.png وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ Aya-11.png La bracket.png
خلاصہ یہ ہے کہ عید میلاد منانا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دن یا د دلانا بھی ہے، اس کی نعمت عظمی کا چرچا کرنا بھی اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔ اگر ایمان کی نظر سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ذکر میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کی سنت بھی ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی۔

سورہ آل عمران[ترمیم]

Ra bracket.png وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ Aya-81.png La bracket.png
رب ذوالجلا ل نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا ۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللہ تعالٰی نے منعقد فرمایا ۔ اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور فضائل کا ذکر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں موجود ہے۔

رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ کی چند محافل کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔ (جامع ترمذی ج 2 ص 201) آپ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 65) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے (اسد الغابہ ج 2 ص 129)

اسی طرح حضرات کعب بن زبیر ، سواد بن قارب ، عبد اللہ بن رواحہ ، کعب بن مالک و دیگر صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کی نعتیں کتب احادیث و سیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ بعض لوگ یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ اسلام میں صرف دو عید یں ہیں لہذا تیسری عید حرام ہے ۔ ( معاذ ا للہ ) اس نظریہ کے باطل ہونے کے متعلق قرآن کریم سے دلیل لیجئے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے ، ( عیسیٰ بن مریم نے عرض کی ، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک ( کھانے کا ) خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی)۔ (المائدہ ، 114، کنزالایمان)

صدر الافاضل فرماتے ہیں ، ( یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنائیں ، اسکی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لا ئیں ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جس روز اللہ تعالٰی کی خاص رحمت نازل ہو ۔ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں بنانا ، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے ۔ اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالٰی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ) ۔ ( تفسیر خزائن العرفان )۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت (الیوم اکملت لکم دینکم ) تلاوت فرمائی تو ایک یہود ی نے کہا، اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر آپ نے فرمایا ، یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں، عید جمعہ اور عید عرفہ۔ (ترمذی) پس قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللہ تعالٰی کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ چونکہ عید الفطر اور عید الاضحی حضور ﷺ ہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم میلاد بدرجہ اولی عید قرار پایا۔

عید میلاد پہ ہوں قربان ہماری عیدیں کہ اسی عید کا صدقہ ہیں یہ ساری عیدیں

محدثین و علماء اسلام کی حمایت میں آراء[ترمیم]

شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اکابر محدثین کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ شب میلاد مصفطے صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر سے افضل ہے، کیونکہ شب قدر میں قرآن نازل ہو اس لیے وہ ہزار مہینوں سے بہتر قرار پائی تو جس شب میں صاحب قرآن آیا وہ کیونکہ شب قدر سے افضل نہ ہو گی؟ [29]

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

محدث ابن جوزی[ترمیم]

محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597 ھ) فرماتے ہیں، (مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ ، یمن ، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں)۔ [30] امام ابن حجر شافعی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 852 ھ ) فرماتے ہیں ، ( محافل میلاد و اذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں صدقات ذکر الہی اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے)۔ [31] امام جلال الدین سیوطی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 911 ھ ) فرماتے ہیں ، ( میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع تلاوت قرآن ، حیات طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے ۔ جن پر ثواب ملتا ہے ۔ کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ کی ولادت پر خوشی کا ا ظہا ر ہوتا ہے ) ۔ [32]

امام قسطلانی شارح بخاری رحمہ اللہ (م 923ھ) فرماتے ہیں، (ربیع الاول میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔ محفل میلادکی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے سارا سال امن سے گزرتا ہے ۔ اور ہر مراد جلد پوری ہوتی ہے۔ اللہ تعالٰی اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جس نے ماہ میلاد کی ہر رات کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدت کی جس کے دل میں مرض و عناد ہے)۔ [33]

شاہ عبد الرحیم محدث دہلوی رحمہ اللہ ( والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ، م 1176 ھ ) فرماتے ہیں کہ میں ہر سال میلاد شریف کے دنوں میں کھانا پکوا کر لوگوں کو کھلایا کرتا تھا ۔ ایک سال قحط کی وجہ سے بھنے ہوئے چنوں کے سوا کچھ میسر نہ ہو ا ، میں نے وہی چنے تقسیم کرد ئیے ۔ رات کو خواب میں آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو اتو دیکھا کہ وہی بھنے ہوئے چنے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ بیحد خوش اور مسرور ہیں۔ [34]

احادیث[ترمیم]

صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں بہت بری حالت میں دیکھا اور پوچھا ، مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابو لہب نے کہا، تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں کیونکہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔ امام ابن جزری فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی کی وجہ سے ابو لہب جیسے کافر کا یہ حا ل ہے کہ اس کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے ۔ حالانکہ ا س کی مذمت میں قرآن نازل ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن امتی کا کیا حال ہوگا ۔ جو میلاد کی خوشی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سبب مال خرچ کرتا ہے ۔ قسم ہے میری عمر کی ، اس کی جزا یہی ہے کہ اللہ تعالٰی اسے اپنے افضل و کرم سے جنت نعیم میں داخل فرمادے ۔[35]

اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ خالق کائنات نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن عید میلاد کیسے منایا؟ سیرت حلبیہ ج 1 ص 78 اور خصائص کبری ج 1 ص 47 پر یہ روایت موجود ہے کہ (جس سال نور مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ودیعت ہوا وہ سال فتح و نصرت ، تر و تازگی اور خوشحالی کا سال کہلایا۔ اہل قریش اس سے قبل معاشی بد حالی اور قحط سالی میں مبتلا تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی برکت سے اس سال رب کریم نے ویران زمین کو شادابی اور ہریالی عطا فرمائی، سوکھے درخت پھلوں سے لدگئے اور اہل قریش خوشحال ہوگئے ) ۔ اہلسنت اسی مناسبت سے میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی خوسی میں اپنی استطاعت کے مطابق کھانے، شیرینی اور پھل وغیرہ تقسیم کرتے ہیں ۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر شمع رسالت کے پروانے چراغاں بھی کرتے ہیں ۔ اس کی اصل مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ ہیں۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ، (میری والدہ ماجدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے)۔ (مشکوٰۃ)

روایات[ترمیم]

حضرت آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی ) ۔[36] ہم تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں ، خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا ۔حضرت عثمان بن ابی العاص ( رضی اللہ عنہ ) کی والدہ فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی ، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا ۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں ) ۔ [37]

سیدتنا آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( میں نے تین جھنڈے بھی دیکھے ، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا ۔ دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خا نہ کعبہ کی چھت پر لہرارہا تھا )[38] یہ حدیث ( الو فابا حوال المصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) میں محدث ابن جوزی نے بھی روایت کی ہے ۔ اس سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جھنڈے لگانے کی اصل بھی ثابت ہوئی۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس بھی نکالا جاتا ہے اور نعرئہ رسالت بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کی اصل یہ حدیث پاک ہے کہ جب آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہلیان مدینہ نے جلوس کی صورت میں استقبال کیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چرھ گئے اور بچے اور خدام گلیوں میں پھیل گئے، یہ سب با آواز بلند کہہ رہے تھے، یا محمد یا رسول اللہ ، یا محمد یا رسول اللہ ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔[39] جشن عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے بعد اب چند تاریخی حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔ جن سے ثا بت ہو جائے گا کہ محافل میلاد کا سلسلہ عالم اسلام میں ہمیشہ سے جاری ہے ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.lastprophet.info/mawlid-in-africa
  2. http://www.noormags.ir/view/fa/articlepage/52947
  3. عربی: قاموس المنجد – Moungued Dictionary (paper), or online: Webster's Arabic English Dictionary
  4. Mawlid. Reference.com
  5. اردو میں میلاد النبی، تحقیق-تنقید- تاریخ، محمد مظفر عالم، باب، اول، صفحہ 19، فکشن ہاؤس لاہور، مارچ 1998ء
  6. "Mawlid celebration in Russia"۔ Islamdag.info۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 November 2011۔ 
  7. "q News"۔ q News۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 November 2011۔ 
  8. "Arts Web Bham"۔ Arts Web Bham۔ 14 August 1996۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 November 2011۔ 
  9. "Buildings of London"۔ Buildings of London۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 November 2011۔ 
  10. Js Board[مردہ ربط]
  11. Sunni society UK[مردہ ربط]
  12. Bednikoff، Emilie۔ "Montreal Religious Sites Project"۔ Mrsp.mcgill.ca۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 November 2011۔ 
  13. "Muslim Media Network"۔ Muslim Media Network۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 November 2011۔ 
  14. Canadian Mawlid
  15. "Religion & Ethics – Milad un Nabi"۔ BBC۔ 7 September 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 November 2011۔ 
  16. "Moon Sighting"۔ Moon Sighting۔ 20 June 2011۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 November 2011۔ 
  17. "Saudi Islam Politics"۔ Atheism.about.com۔ 16 December 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 November 2011۔ 
  18. Schielke، Samuli (September 2006). "On Snacks and Saints: When Discourses of Rationality and Order Enter the Egyptian mawlid". Archives de sciences sociales des religions 135: 117. doi:10.4000/assr.3765. http://www.jstor.org/stable/30122873. 
  19. مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب استحبابِ صيام ثلٰثة أيام من کل شهر، 2 : 819، رقم : 1162
  20. بيهقي، السنن الکبري، 4 : 286، رقم : 38182
  21. نسائی، السنن الکبری، 2 : 146، رقم : 2777
  22. "میلاد یا مولود"۔ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام، دوسری طباعت۔ بریل آنلائن حوالہ جاتی کام۔ 
  23. And Muhammad Is His Messenger: The Veneration of the Prophet in Islamic Piety (Studies in Religion)m این میری شمل، vanguardbooks, لاہور، صفحہ 145، 1987ء
  24. شیخ محمد رضا مصری، کتاب؛محمد رسول اللہ، صفحہ 33
  25. سید سلیمان ندوی، سیرت النبی، جلد 3، صفحہ 746
  26. حکیم عبد الشکور مرزا پوری، عمران اکیڈمی، لاہور، صفحہ 16
  27. °سیارہ ڈائجسٹ، نومبر 1973ء رسول نمبر جلد دوم، مضمون جشن میلاد النبی، مولانا حسن مثنیٰ ندوی، صفحہ 455، 456
  28. تفسیر خزائن العرفان
  29. ما ثبت بالسنة في أيام السنةشيخ عبد الحق دهلوي
  30. المیلاد النبوی ص 58
  31. فتاوی حدیثیہ ص 129
  32. حسن المقصد فی عمل المولدنی الہاوی للفتاوی ج 1 ص 189
  33. مواہب الدنیہ ج 1 ص 27
  34. الدار الثمین ص 8
  35. مواہب الدنیہ ج 1 ص 27 ، مطبوعہ مصر
  36. طبقاب ابن سعد ج 1 ص 102، سیرت جلسہ ج 1 ص 91
  37. سیرت حلبیہ ج 1 ص 94 ، خصائص کبری ج 1 ص 40 ، زرقانی علی المواہب 1 ص 114
  38. سیرت حلبیہ ج 1 ص 109
  39. صحیح مسلم جلد دوم باب الھجرہ