یوم عرفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یوم عرفہ میں جبل رحمت

9 ذی الحج کو یوم عرفہ کہتے ہیں غیر حاجی کیلئے اس دن روزے کی فضیلت ہے[1] میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنا منع ہے اور دوسری جگہوں میں اس دن روزہ رکھنا کار ثواب ہے اور عیدین میں روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا :[2] ابو قتادہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲﷺسے یوم عرفہ کے بارے دریافت کیا گیا تو فرمایا یہ سال گزشتہ اور آئندہ کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے[3] علامہ شرنبلالی نے لکھا ہے کہ حدیث صحیح میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یوم عرفہ افضل الایام ہے اور جب یہ دن جمعہ کا ہو تو یہ ستر حجوں سے افضل ہے۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. معجم اصطلاحات،ریاض حسین شاہ،صفحہ278،ادارہ تعلیمات اسلامیہ راولپنڈی
  2. سنن ابوداؤد ج 1 ص 331
  3. صحیح مسلم کتاب الصیام 1/368)
  4. مراقی الفلاح ص 445
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔