یرغمالیٔ مسجد حرام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(مسجد الحرام یرغمال سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
مسجد الحرام یرغمال
Saudi soldiers, Mecca, 1979.JPG
سعودی سپاہی مسجد حرام کو چھڑانے کے لیے کوشاں، 1979
تاریخ20 نومبر– 4 دسمبر1979
مقاممکہ، سعودی عرب
نتیجہ

سعودی عرب کی فتح

  • سعودی عرب نے واپس مسجد الحرام کو اپنے کنٹرول میں لیا
  • جہیمان العتیبی اور ساتھیوں کو پھانسی دی گئی
  • سعودی عرب میں وہابی اسلامی قوانین کا نفاذ مزید سخت کیا گیا
محارب

Flag of سعودی عرب سعودی عرب

امداد:[1]

الاخوان[3]
کمانڈر اور رہنما
Flag of سعودی عرب خالد بن عبدالعزیز
Flag of سعودی عرب شاہ فہد
Flag of سعودی عرب شہزادہ سلطان
Flag of سعودی عرب شاہ عبداللہ
Flag of سعودی عرب شہزادہ نایف
Flag of سعودی عرب شہزادہ بدر
Flag of سعودی عرب ترکی بن فیصل
Flag of سعودی عرب جنرل فالح الظاہری
Flag of سعودی عرب جنرل قضیبی  (زخمی)
Flag of سعودی عرب میجر محمد زویدالنفائی
جہیمان العتیبی
عبداللہ القحطانی 
محمد فیصل Surrendered
محمد الیاس Surrendered
طاقت
  • ~10,000 سعودی قومی گارڈ

یرغمالیٔ مسجد الحرام کا واقعہ نومبر اور دسمبر 1979ء میں پیش آیا۔جب باغیوں نے مسجد الحرام سے آل سعود کی حکومت ختم کرنے کے لیے مقدس ترین مسجد پر حملہ کیا۔ حج کے دوراں حملہ آوروں نے اپنے ایک ساتھی محمد عبداللہ القحطانی کو امام مہدی قرار دیا اور کہا کہ تمام مسلمان اس شخص کی پیروی کریں۔

یہ کارروائی دو ہفتوں تک جاری رہی بالآخر دہشت گردوں کی بڑی تعداد کو ہلاک کر دیا گیا اور پھر جہیمان العتیبی اور 60 ساتھیوں کو پھانسی دی گئی۔ اس واقعے کے بعد سعودی حکومت نے سخت اسلامی قوانین نافذ کئے۔

پس منظر[ترمیم]

اس دہشت گرد گروہ کی قیادت جہیمان العتیبی کر رہا تھا، جہیمان نجد کے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتا تھا، اس نے اپنے رشتہ دار کو امام مہدی قرار دیا۔ جہیمان اس سے پہلے سعودی قومی گارڈ کا بھی حصہ رہا تھا، اس کا والد بھی آل سعود کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ اس شخص نے 1400 ہجری، محرم کے مہینے میں حملہ کیا۔ جہیمان ایک وقت میں سعودی مفتی اعظم کا شاگرد بھی رہا۔

حملے کے پیچھے مقاصد[ترمیم]

ان خوارج کے حملے کا مقصد یہ تھا کہ مسجد الحرام پر قبضہ کرکے نقلی امام مہدی کا اعلان کیا جائے تاکہ دنیا بھر سے مسلمان اسکی بیعت کے لیے آئیں اور سعودی عرب پر پریشر ڈالیں کہ "امام مہدی" کو کچھ نا کہا جائے. اس سے یہ ہوتا کہ سعودی عرب کا ذریعہ معاش اور دیگر ملکوں کا اس کی سیکیورٹی سے اعتبار اٹھ جاتا، اگر یہ قبضہ کچھ اور عرصہ رہتا تو دوسرے ممالک لالچ میں مسجد الحرام کو آزاد کرانے بھیجتے لیکن انکے اور سعودی عرب کے مابین بھی جنگ شروع ہوجاتی. یہ ایک پری-پلینڈ سازش تھی تاکہ مسلمانوں کو اور کمزور کیا جاسکے. خلافت ٹوٹنے کے بعد مسلمان دوبارہ کسی جنگ لڑنے کے قابل نہیں تھے لیکن اللہ نے ان تمام کے منصوبے ضائع کردئے اور علماء کرام نے فوری طور پر ہوشیاری سے کام کرتے ہوئے ان خوارج کے خلاف فتوی دیا اور پاکستان نے اپنی بہادر اور بہترین مہارت والی فوج بھیج کر دوسروں کو بولنے کا موقع نہ دیا. یہ اللہ کا خاص کرم تھا کہ نہ دوسرے ملکوں سے خروج ہوا نہ ہی مسلمان ملکوں کی آپس میں لڑائی ہوئی.

علماء سے تعلقات[ترمیم]

حملے کی تیاری[ترمیم]

حملہ کرنے سے پہلے تمام باغیوں کو بڑی اچھی طرح تیار کیا گیا تھا اور چونکہ باغیوں کا قائد جہیمان پہلے سعودی فوج میں بھی رہا تھا تو اس کو اکثر جگہوں کا پتہ تھا، اسلحہ بھی سعودی افواج کے گوداموں سے چرایا گیا اور مسجد الحرام کے نیچے کمروں میں رکھا گیا ۔ پھر جب فریقین میں جنگ چھڑی تو اسلحہ کو استعمال کیا گیا۔

یرغمال[ترمیم]

محاصرہِ مسجد[ترمیم]

بعد کے حالات[ترمیم]

جہیمان اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے بعد کا ایک تصویر

مسجد الحرام کو باغیوں سے چھڑانے میں پاک فوج کا بھی کردار قابل ذکر ہے۔ اس دو ہفتہ مسلسل جاری جنگ کے بعد بالآخر مسجد الحرام کو باغیوں سے چھڑا لیا گیا۔ جہیمان العتیبی اور ساتھیوں کو چھ جرموں کے ارتکاب پر سعودی قاضیوں نے سزائے موت دی۔وہ جرم یہ ہیں:

  • مسجد الحرام کا تقدس پامال کرنا
  • ناحق مسلمانوں کا قتل
  • حاکمِ وقت کی نافرمانی
  • مسجد الحرام میں نماز کے ادائیگی کو روکا
  • امام مہدی کے پہچان کے متعلق جھوٹ
  • معصوم مسلمانوں کو غلط کام کے لیے استعمال کرنا

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Attack on Kaba Complete Video"۔ YouTube۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 جون 2013۔
  2. Olivier Da Lage۔ Géopolitique de l'Arabie Saoudite (French زبان میں)۔ Complexe۔ صفحہ 34۔ آئی ایس بی این 2804801217۔
  3. Lacey 2009، صفحہ۔ 13.
  4. "THE SIEGE AT MECCA"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  5. "Pierre Tristam, "1979 Seizure of the Grand Mosque in Mecca", About.com"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 نومبر 2011۔
  6. Riyadh۔ "63 Zealots beheaded for seizing Mosque"۔ Pittsburgh Post-Gazette۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 نومبر 2010۔