خانہ کعبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کعبہ (خانہ کعبہ)
Mosquée Masjid el Haram à la Mecque.jpg
کعبہ معظمہ، سب سے پہلی مسجد
بنیادی معلومات
مقام Flag of سعودی عرب مکہ، سعودی عرب
ملک سعودی عرب
طرز تعمیر اسلامی معماری
1 - حجر اسود
2 - باب کعبہ
3 پرنالہ
4 - بنیادیں
5 - حطیم
6 - ملتزم
7 - مقام ابراہیم
8 - رکن حجر اسود
9 - رکن یمانی
10 - رکن شامی
11 - رکن عراقی
12 - غلاف کعبہ
13 - سنگ مرمر سے ڈھانپا ہوا حصہ، چاروں طرف سے
14 - مقام جبرائيل
کعبہ کی عمارت، ملتزم، حطیم اور رکن یمانی کا خاکہ

خانہ کعبہ، کعبہ یا بیت اللہ (عربی: الكعبة المشرًفة، البيت العتيق‎ یا البيت الحرام‎) مسجد حرام کے وسط میں واقع ایک عمارت ہے، جو مسلمانوں کا قبلہ ہے، جس کی طرف رخ کرکے وہ عبادت کیا کرتے ہیں۔ یہ دین اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ صاحب حیثیت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے۔

تاریخ[ترمیم]

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قائم کردہ بیت اللہ بغیر چھت کے ایک مستطیل نما عمارت تھی جس کے دونوں طرف دروازے کھلے تھے جو سطح زمین کے برابر تھے جن سے ہر خاص و عام کو گذرنے کی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کے پتھر استعمال ہوئے تھے جبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رکھے تھے۔ خانہ خدا کا یہ انداز صدیوں تک رہا تاوقتیکہ قریش نے 604ء میں اپنے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے اس میں تبدیلی کردی کیونکہ زائرین جو نذر و نیاز اندر رکھتے تھے وہ چوری ہوجاتی تھیں۔

امام مسلم رحمہ اللہ تعالٰی نے عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا سے حدیث بیان فرمائی ہے کہ :

"عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ بیت اللہ کا ہی حصہ ہے؟

تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جی ہاں!، عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے پوچھا کہ اسے پھر بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کيا گيا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا کہ تیری قوم کے پاس خرچہ کے لیے رقم کم پڑ گئی تھی ۔

میں نے کہا کہ بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تیری قوم نے اسے اونچا اس لیے کیا تا کہ وہ جسے چاہیں بیت اللہ میں داخل کریں اورجسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں ۔

اور اگرتیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی اوران کے دل اس بات کوتسلیم سے انکارنہ کرتے تو میں اسے ( حطیم ) کوبیت اللہ میں شامل کردیتا اوردروازہ زمین کے برابرکردیتا"۔

خانہ کعبہ و مسجد حرام

قریش نے بیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ جگہ چھوڑ کر عمارت کو مکعب نما (یعنی کعبہ) بنادیا تھا۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ روپے پیسے کی کمی تھی کیونکہ حق و حلال کی کمائی سے بیت اللہ کی تعمیر کرنی تھی اور یہ کمائی غالباً ہر دور میں کم رہی ہے لیکن انہوں سے اس پر چھت بھی ڈال دی تاکہ اوپر سے بھی محفوظ رہی، مغربی دروازہ بند کر دیا گیا جبکہ مشرقی دروازے کو زمین سے اتنا اونچا کر دیا گہ کہ صرف خواص ہی قریش کی اجازت سے اندر جاسکیں۔ اللہ کے گھر کو بڑا سا دروازہ اور تالا بھی لگادیا گیا جو مقتدر حلقوں کے مزاج اور سوچ کے عین مطابق تھا۔ حالانکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم (جو اس تعمیر میں شامل تھے اور حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنے کا مشہور زمانہ واقعہ بھی رونما ہوا تھا) کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو ابراہیمی تعمیر کے مطابق ہی بنایا جائے۔

1880ء میں کھینچی گئی خانہ کعبہ کی ایک یادگار تصویر

حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بطور احتجاج یزید بن معاویہ سے بغاوت کرتے ہوئے مکہ میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا تھا) نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے685ءمیں بیت اللہ کو دوبارہ اب رہیمی طرز پر تعمیر کروایا تھا مگر حجاج بن یوسف نے693ءمیں انہیں شکست دی تو دوبارہ قریشی طرز پر تعمیر کرادیا جسے بعد ازاں تمام مسلمان حکمرانوں نے برقرار رکھا۔

غلاف کی تبدیلی سے قبل کا منظر

عمارت کی ساخت[ترمیم]

خانہ کعبہ کے اندر تین ستون اور دو چھتیں ہیں۔ باب کعبہ کے متوازی ایک اور دروازہ تھا دیوار میں نشان نظر آتا ہے یہاں نبی پاک صلی اللہ وسلم نماز ادا کیا کرتے تھے۔ کعبہ کے اندر رکن عراقی کے پاس باب توبہ ہے جو المونیم کی 50 سیڑھیاں ہیں جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہیں۔ چھت پر سوا میٹر کا شیشے کا ایک حصہ ہے جو قدرتی روشنی اندر پہنچاتا ہے۔ کعبہ کے اندر سنگ مرمر کے پتھروں سے تعمیر ہوئی ہے اور قیمتی پردے لٹکے ہوئے ہیں جبکہ قدیم ہدایات پر مبنی ایک صندوق بھی اندر رکھا ہوا ہے۔

کعبہ کی موجودہ عمارت کی آخری بار 1996ءمیں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی بنیادوں کو نئے سرے سے بھرا گیا تھا۔ کعبہ کی سطح مطاف سے تقریباً دو میٹر بلند ہے جبکہ یہ عمارت 14 میٹر اونچی ہے۔ کعبہ کی دیواریں ایک میٹر سے زیادہ چوڑی ہیں جبکہ اس کی شمال کی طرف نصف دائرے میں جوجگہ ہے اسے حطیم کہتے ہیں اس میں تعمیری ابراہیمی کی تین میٹر جگہ کے علاوہ وہ مقام بھی شامل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے رہنے کے لیے بنایا تھا جسے باب اسماعیل کہا جاتا ہے۔

حطیم[ترمیم]

حطیم جسے حجر اسماعیلبھی کہا جاتا ہے، خانہ کعبہ کے شمال کی سمت ایک دیوار ہے جس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ اس دیوار کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خانہ کعبہ میں شامل تھی۔ حطیم کی اونچائی 30 اِنچ (90 سینٹی میٹر) ہے اور چوڑائی 1.5 میٹر (4.9 فُٹ) ہے۔

مقام ابراہیم[ترمیم]

خانہ کعبہ سے تقریباً سوا 13 میٹر مشرق کی جانب مقام ابراہیم قائم ہے۔ یہ وہ پتھر ہے جو بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے قد سے اونچی دیوار قائم کرنے کے لیے استعمال کیا تھا تاکہ وہ اس پر اونچے ہوکر دیوار تعمیر کریں۔

1967ءسے پہلے اس مقام پر ایک کمرہ تھا مگر اب سونے کی ایک جالی میں بند ہے۔ اس مقام کو مصلے کا درجہ حاصل ہے اور امام کعبہ اسی کی طرف سے کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھاتے ہیں۔ طواف کے بعد یہاں دو رکعت نفل پڑھنے کا حکم ہے۔

Maqameibrahim.jpg

حجر اسود[ترمیم]

حجر اسود

کعبہ کے جنوب مشرقی رکن پر نصب تقریباً اڑھائی فٹ قطر کے چاندی میں مڑھے ہوئے مختلف شکلوں کے 8 چھوٹے چھوٹے سیاہ پتھر ہیں جن کے بارے میں اسلامی عقیدہ ہے کہ تعمیری اب رہیمی کے وقت جنت سے حضرت جبرائیل علیہ السلام لائے تھے اور بعد ازاں تعمیر قریش کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس جگہ نصب کیا تھا اور ایک بہت بڑے فساد سے قوم کو بچایا۔ یہ مقدس پتھر حجاج بن یوسف کے کعبہ پر حملے میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا جسے بعد میں چاندی میں مڑھ دیا گیا۔ کعبہ شریف کا طواف بھی حجر اسود سے شروع ہوتا ہے اور ہر چکر پر اگر ممکن ہو تو حجر اسود کو بوسہ دینا چاہئے ورنہ دور سے ہی ہاتھ کے اشارے سے بوسہ دیا جاسکتا ہے۔ حج کے دنوں میں ہر کسی کو اس مقدس پتھر کو بوسہ دینا یا استلام کرنا ممکن ہوپاتا۔

کنواں زمزم[ترمیم]

مسجد حرام میں کعبہ کے جنوب مشرق میں تقریباً 21 میٹر کے فاصلے پر تہ خانے میں آب زمزم کا کنواں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہ السلام کے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے بہانے اللہ تعالٰیٰ نے تقریباً 4 ہزار سال قبل ایک معجزے کی صورت میں مکہ مکرمہ کے بے آب و گیاہ ریگستان میں جاری کیا جو وقت کے ساتھ سوکھ گیا تھا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب نے اشارہ خداوندی سے دوبارہ کھدوایا جوآج تک جاری و ساری ہے۔ آب زمزم کا سب سے بڑا دہانہ حجر اسود کے پاس ہے جبکہ اذان کی جگہ کے علاوہ صفا و مروہ کے مختلف مقامات سے بھی نکلتا ہے۔ 1953ءتک تمام کنوئوں سے پانی ڈول کے ذریعے نکالاجاتا تھا مگر اب مسجد حرام کے اندر اور باہر مختلف مقامات پر آب زمزم کی سبیلیں لگادی گئی ہیں۔ آب زمزم کا پانی مسجد نبوی میں بھی عام ملتا ہے اور حجاج کرام یہ پانی دنیا بھر میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

دروازہ[ترمیم]

کعبہ شریف میں داخل ہونے کے لیے صرف ایک دروازہ ہے جسے باب کعبہ کہا جاتا ہے۔ باب کعبہ زمین یا حرم کے فرش سے 2.13 میٹر اوپر ہے۔ یہ دروازہ کعبہ شریف کے شمال-مشرقی دیوار پر موجود ہے اور اس کے قریب ترین دہانے پر حجر اسود نصب ہے جہاں سے طواف کی ابتدا کی جاتی ہے۔ 1942ء سے پہلے پہلے باب کعبہ کس نے تیار کیا اور کیسے تیار کیا اس کا تاریخ میں زیادہ تذکرہ نہیں ملتا۔ تاہم 1942ء میں ابراہیم بدر نے چاندی کا بنایا تھا،اس کے بعد 1979ء میں ابراہیم بدر کے بیٹے احمد بن ابراہیم بدر نے خانہ کعبہ کا سنہرہ دروازہ بنایا۔ یہ سنہرہ دراوزہ تقریباََ 300 کلوگرام سونے سے تیار کیا گیا تھا۔

پرنالہ رحمت[ترمیم]

ارکان کعبہ[ترمیم]

رکن یمانی[ترمیم]

رکن یمانی خانہ کعبہ کے جنوب مغربی کونے کو کہتے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا: رکن یمانی اور حجر اسود دونوں جنت کے دروازے ہیں۔[1]

عن ابن عمر قال علی الرکن الیمانی ملکان یؤمنان علی دعاء من مر بہما و ان علی الحجر الاسود ما لا یحصی۔

ترجمہ: عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رکن یمانی پر دو فرشتے ہیں جو وہاں سے گزرنے والے کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور حجر اسود پر تو بے شمار فرشتے ہوتے ہیں“۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جامع اللطیف، ماخوذ تاریخ مکۃ المکرمۃ ج:2، ص:227
  2. الازرقی، 1/341، فضل الحجر الاسود، ص:4