خضر علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Khader-Name.png

خضر ایک بزرگ شخصیت کا لقب ہے۔ ان کا اصل نام ابو العباس بلیا بن ملکان (انگریزی: Abu Al-Abbas Balya Bin Malkan) ہے۔ جبکہ محمد حسین طباطبائی کے مطابق ان کا اصلى نام تالیا بن ملکان بن عبر بن ارفکشد بن سام بن نوح ہے۔[1] بفتح خ، بکسر ض اور بکسر خ وہ بسکون ض، دونوں صحیح۔ قرآن کی سورۃ کہف میں خدا کے ایک بندے کا ذکر ہے[2] اور مفسرین کی اکثریت کے نزدیک اس سے مراد خضر ہیں۔ قرآن میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے خادم ’’جسے مفسرین نے یوشع لکھا ہے‘‘ کے ساتھ مجمع البحرین جارہے تھے کہ راستے میں آپ کی ملاقات خدا کے بندے سے ہوئی۔ حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ آپ اپنے علم میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں تو میں چند روز آپ کے ساتھ رہوں۔ بندے نے کہا کہ آپ جو واقعات دیکھیں گے ان پر صبر نہ کر سکیں گے۔ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کرنا۔ اس قول و قرار کے بعد دونوں سفر پر روانہ ہوگئے۔ راستے میں خدا کے بندے نے چند عجیب و غریب باتیں کیں۔ کشتی میں سوراخ ، ایک لڑکے کا قتل اور بغیر معاوضہ ایک گرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کرنا، حضرت موسیٰ سے صبر نہ ہو سکا اور آپ ان باتوں کا سبب پوچھ بیٹھے۔ خدا کے بندے نے سبب تو بتا دیا ۔ لیکن حضرت موسیٰ کا ساتھ چھوڑ دیا۔[1]

ایک دوسرا قصہ جو خضر سے منسوب ہے، ان کا سکندر اعظم کے ساتھ سفر کرنا ہے۔ جس میں یہ دونوں آب حیات کی تلاش میں روانہ ہوتے ہیں۔ سکندر ایک گھاٹی میں راہ بھول کر رہ جاتا ہے۔ اور خضر چشمہ آب حیات پی لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔ عام اعتقادات کے مطابق حضرت خضر کا کام سمندر اور دریاؤں میں لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ عوام آپ کو خواجہ خضر کہتے ہیں۔ بعض علما آپ کو پیغمبر نہیں مانتے کیونکہ اس امر کا پتا نہیں چلتا کہ آپ نے کسی قوم کی ہدایت کی ہو۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 الطباطبائی، المیزان فى تفسیر القران، جلد 13،صفحہ 584
  2. القرآن، سورہ کہف آیات 65 اور 82

بیرونی روابط[ترمیم]