اسحاق علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اسحٰق علیہ السلام
مکمل نام اسحٰق بن ابراہیم علیہ السلام
وجۂ وفات طبعی
مقام روضہ [[مسجد خلیل،فلسطین]]
والد کا نام حضرتابراہیم علیہ السلام
والدہ کا نام سارہ
آسمانی صحائف نہیں
انبیاء میں شمار ٩
منسوب دین دین ابراہیمی(اسلام)
ہمعصر انبیاء اسماعیل علیہ السلام
پیشرو نبی [[ابراہیم علیہ السلام]]
جانشین نبی [[یعقوب علیہ السلام]]


مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اسلام
Mosque02.svg
قرآن پاک کے مطابق اسلام میں انبیاءعلیہم السلام

رسول اور نبی

آدم علیہ السلام · ادریس علیہ السلام · نوح علیہ السلام · ہود علیہ السلام · صالح علیہ السلام · ابراہیم علیہ السلام · لوط علیہ السلام · اسماعیل علیہ السلام · اسحاق علیہ السلام · یعقوب علیہ السلام · یوسف علیہ السلام · ایوب علیہ السلام · شعیب علیہ السلام · موسیٰ علیہ السلام · ہارون علیہ السلام · ذو الکفل علیہ السلام · داؤد علیہ السلام · سلیمان علیہ السلام · الیاس علیہ السلام · الیسع علیہ السلام · یونس علیہ السلام · زکریا علیہ السلام · یحییٰ علیہ السلام · عیسیٰ علیہ السلام · محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم


پیغمبر ۔ قرآن مجید کی سورہ ہود، حجر ، زاریات ، انعام،بقرۃ میں آپ کا مجملاً ذکر ہے ۔ سورہ مریم (آیہ 49) اور سورہ الصفت (آیہ 112) کے مطابق آپ اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ بائبل کے مطابق آپ ابراہیم کے چھوٹے بیٹے تھے اور سارہ آپ کی والدہ تھیں۔ آپ پیدا ہوئے تو ابراہیم کی عمر 100 سال اور سارہ کی 90 سال تھی۔ جائے پیدائش و وفات سرزمین شام ہے۔

بائبل نے حضرت اسحاق کو ذبیح اللہ کہا ہے۔ قرآن کی سورہ الصفت میں بھی بھی حضرت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ کا تذکرہ ہے ، مگر ان کا کےکسی فرزند کا نام مذکور نہیں۔ علمائے اسلام کی اکثریت کا نظریہ یہ ہے کہ وہ اسحاق نہیں۔ اسماعیل تھے۔ حضرت اسحاق کی شادی حضرت ابراہیم کے بھائی نحور کی پوتی ربقہ سے ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر چالیس برس کی تھی۔ آپ کی دعا سے بیس سال بعد جڑواں لڑکے عیسو اور حضرت یعقوب پیدا ہوئے۔ عیسو سے بنی ادوم اوریعقوب سے (جن کا لقب اسرائیل تھا ) بنی اسرائیل کی نسل چلی۔ حضرت اسحاق نے 180 سال کی عمر میں انتقال کیا۔ بعض محققین نے آپ کے زمانے کا تعین 23 ویں صدی قبل مسیح کیا ہے۔

واقعات[ترمیم]

آپ(ع) کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ آپ(ع) کے جسم پر بہت سے زخم ہو گئے اور ان زخموں میں کیڑے پر گئے یہ اللہ کی ازمائیش تھی اور آپ نے اسے صبر کے ساتھ برداشت کیا جب بھی آپ(ع) کے زخم سے کوئی کیڑا زمین پر گرتا تو آپ(ع) اسے اٹھا کر واپس زخم پر رکھ دیتے اور فرماتے:

            اے کیڑے !یہ میرے زخم کا گوشت تیرا رزق ہے،میں نہیں چاہتا کہ میری تھوری سی تکلیف کی وجہ سے تیرا رزق تجھ سےچھین جاۓ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]