بھارت میں یہودیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بھارت میں یہودی بہت ہی کم آبادی والا مذہبی گروہ ہے۔حالاں کہ بھارت میں یہودی نہ کبھی اکثریت میں رہے اور نہ ہی انہیں حکومت حاصل تھی، پھر وہ کیرلا، مہاراشٹر اور کچھ ملک کے دیگر حصوں میں قابل لحاظ تعداد میں آباد تھے۔ مگر 1948ء میں مملکت اسرائیل کے قیام کے بعد ان میں سے بیش تر لوگ اسرائیل کا رخ کر گئے۔ کئی جگہوں پر آج بھارت صرف زیادہ عمر کے بزرگ یہودی آباد ہیں، جب کہ ان کی اولاد اور نئی نسل اسرائیل میں بس چکی ہے۔

بھارت میں یہودیوں کے بسنے کی وجہ[ترمیم]

بھارت میں یہودیوں کے بسنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہودی تاریخی طور کئی جغرافیائی حدود میں قتل عام، بے رحمانہ سلوک، امتیازی اور ذلت آمیز قوانین کے تابع کیا گیا تھا۔ وہ ملک در ملک بھٹک رہے تھے، مگر عام طور سے ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوگ روا نہیں رکھا گیا تھا۔ جب یہودی بھارت میں آئے، تو یہاں انہیں پناہ بھی ملی اور عبادات اور مذہبی رسوم کی ادائیگی پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ انہیں بھارت میں کبھی کسی بھی ہندو یا مسلمان حکمران کے تحت مذہب بدلنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ ان کے لیے بطور خاص کوئی امتیازی اور ذلت آمیز قوانین نہیں بنائے۔ بھارت کی تاریخ میں انہیں لوٹے یا بے عزت کیے جانے کا ایک بھی واقعہ درج نہیں ہے۔ اسی وجہ سے بھارت میں یہودیوں صدیوں تک آباد رہے۔ ان کی عبادت گاہیں محفوظ رہی ہیں اور انہیں کبھی بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔

مراٹھی یہودی[ترمیم]

1993ء میں مشہور بھارتی سیاست دان اور اس وقت مرکزی کابینہ میں وزیر شرد پوار نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ انہیں ان کی گھریلو ریاست مہاراشٹر سے آکر اسرائیل میں آباد یہودیوں نے دعوت دی۔ اس موقع پر وہ اپنی تقریر انگریزی میں کرنا چاہتے تھے مگر مقامی لوگوں نے انہیں مراٹھی زبان میں بولنے کے لیے کہا۔ تب انہیں پتہ چلا کہ تقریبًا 85,000 یہودی اسرائیل میں ایسے بسے ہیں جو جدید دور میں نقل مقام کر کے بھی مراٹھی بولتے ہیں اور اپنے ہہودی النسل ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ پونے میں کبھی 20,000 یہودی آباد تھے۔ اب یہ تعداد گھٹ کر 275 ہو چکی ہے۔ پورے بھارت میں جدید دور میں صرف 4,650 یہودی رہ گئے ہیں، جیسا کہ 2011ء کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے۔ ان میں سے بھی 55 فی صدی آبادی مہاراشٹر میں آباد ہیں۔[1]


زمرہ جات[ترمیم]

بھارتی یہودی تین زمرہ جات میں آتے ہیں: بنی اسرائیل، کیرلا یہودی اور بغدادی یہودی۔[2] زیادہ تر یہودی قیام اسرائیل کے بعد وہیں نقل مقام کر گئے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Indian Jews adapt to Israel but hold on to their Marathi links | Pune News - Times of India
  2. “Indian Society: Issues, Policies and Welfare Schemes”, Dr Vinita Pandey, BSC Publishers & Distributors, Hyderabad, P. 1.9.