بھارت میں مسیحیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھارت کے مسیحی
Nasrani cross.jpg
کل آبادی
27,819,588 (2011)[1]
گنجان آبادی والے علاقے
ناگالینڈ (90%)، میزورم (88%) اور میگھالیہ (83.3%) میں اکثریت ہیں جبکہ منی پور (41.3)، گوا (25%)، کیرلا (18.4%)، تمل ناڈو (6.2%)، جھارکھنڈ (4.3%)، اوڈیشا (2.76%)، آندھرا پردیش (1.38) اور مغربی بنگال (1%) میں کم تعداد میں ہیں۔
زبانیں
ملیالم، تمل، تیلگو، کونکنی، کنڑ، بنگالی، انگریزی، ہندی اور مختلف ہندوستانی زبانیں
مذہب
رومی کاتھولک، مقدس توما کے مسیحی، راسخ العقیدہ، یعقوبی، مار تھوما وغیرہ اور مختلف پروٹسٹنٹ فرقے جیسے کہ اصطباغی، کلیسیائے جنوبی ہند، بھارت کی انجیلی کلیسیا، سینٹ تھامس ایونجیلیکل چرچ، بلیورز ایسٹرن چرچ، کلیسیائے شمالی ہند، پریسبیٹیرین کلیسیا، پینتی کاسٹل کلیسیا، رسُولی، لوتھری، ٹریڈیشنل انگلیکان۔
متعلقہ نسلی گروہ
نصرانی، Knanaya، East Indians، کھاسی، Mizos، Kukis، Nagas، اینگلو انڈین، Goan Catholics، Mangalorean Catholics، Garo people، Pnar people

2011ء کی مردم شماری کے مطابق مسیحیت بھارت کا تیسرا بڑا مذہب ہے۔ اور بھارت کی آبادی کے 2.3 فیصد میں سے مسیحیت کے پیروکاروں کی تعداد 28 ملین ہے۔[2] روایت کی رو سے یہ مانا جاتا ہے کہ بھارت میں مسیحیت توما رسول نے متعارف کی۔ اندازے کے مطابق توما رسول کیرلا میں سنہ 52ء میں تشریف لائے تھے۔ اسکالروں میں اس بات کا عام اتفاق رائے ہے کہ بھارت میں مسیحیت کی تشکیل چھٹی صدی عیسوی میں ہوئی۔[3] بشمول کچھ طبقات کے جو سریانی میں عبادت اور دعا کیا کرتے تھے ، اس طرح یہ ممکن ہے کہ وجود مذہب کا دور مزید وسعت اختیار کرتے ہوئے توما رسول کی مبینہ آمد تک جا پہنچے۔[حاشیہ 1]

مسیحی بھارت بھر میں ہر شعبۂ زندگی میں پائے جاتے ہیں۔ مسیحی جنوبی بھارت اور جنوبی کنارے کونکن ساحل اور شمال مشرقی بھارت میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ بھارتی مسیحی ملک کے لیے کئی خدمات بھی سر انجام دے چکے ہیں، ان میں سابقہ او موجودہ وزرائے اعلیٰ، گورنر اور چیف الیکشن کمشنرز شامل ہیں۔[5][6] بھارت میں دوسرے مذاہب کے مقابلے میں بھارتی مسیحیوں کی خواتین کی شرح مردوں سے زیادہ ہے۔[7][8] بھارت میں جینیوں کے بعد مسیحی طبقہ دوسرا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ مذہبی گروہ ہے۔[9]

بھارت میں مسیحیت کے بہت سے فرقے ہیں۔ کیرلا کی ریاست ایک قدیم مسیحی فرقے مقدس توما کے مسیحیوں کا گڑھ ہے۔ اس قدیم فرقہ کے بھی کئی ذیلی فرقے ہیں۔ انیسویں صدی عیسوی میں پروٹسٹنٹ فرقے نے بھارت میں قدم جمائے اور اس کے بھی کئی فرقہ ہیں جن میں سے اہم اصطباغی، کلیسیائے جنوبی ہند، بھارت کی انجیلی کلیسیا، سینٹ تھامس ایونجیلیکل چرچ، بلیورز ایسٹرن چرچ، کلیسیائے شمالی ہند، پریسبیٹیرین کلیسیا، پینتی کاسٹل کلیسیا، رسُولی، لوتھری، ٹریڈیشنل انگلیکان اور کچھ انجیلی گروہ ہیں۔ بھارت کی کلیسیا (مسیحی اُمت) کئی تعلیمی ادارے اور ہسپتال چلا رہی ہے جو قوم کی ترقی کے لیے ایک بڑا کام ہے۔[10]

بھارت میں سب سے پہلے رومی کاتھولک مسیحیت سولہویں صدی عیسوی میں پرتگالی، اطالوی اور آئرش یسوعیوں نے متعارف کی۔ یسوعیوں نے ہندوستانیوں کو یسوع مسیح کی انجیل میں مذکور تعلیمات کے بتا کر تبلیغ کی۔ بہت سے مسیحی اسکول، ہسپتال، بنیادی حفاظتی مراکز رومی کاتھولک تبلیغوں کا نتیجہ تھے۔ بعد میں برطانوی، امریکی، جرمن اور اسکاٹش مبلغوں کی کوششوں سے پروٹسٹنٹ مسیحیت بھارت میں پھیلی۔ ان پروٹسٹنٹ تبلیغوں کی بدولت بھارت میں پہلی بار انگریزی تعلیم متعارف ہوئی[11] اور مقدس بائبل کا مختلف بھارتی زبانوں (تمل، ملیالم، ہندی، اردو اور دیگر) میں ترجمہ ہوا۔[12]

مسیحی بھارت میں اقلیت ہیں اور ان کی تین بھارتی ریاستوںمیگھالیہ، میزورم اور ناگالینڈ میں مجموعی اکثریت ہے اور ریاست تمل ناڈو اور کیرلا میں مسیحی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ بھارت بھر میں مسیحیت دور تک پھیلی ہوئی ہے اور جنوبی بھارت کی تمام ریاستوں میں بڑی تعداد میں موجود ہے۔

بچے یسوع کا گرجا گھر، میسور، بھارت

ریاستوں میں تعداد[ترمیم]

2011ء کی مردم شماری کے مطابق ریاستوں میں مسیحیوں کی تعداد[13]
ریاست آبادی مسیحی (%) مسیحی (تعداد)
Flag of India.svg بھارت 1,210,854,977 2.30 27,819,588
ناگالینڈ 1,978,502 87.93 1,739,651
میزورم 1,097,206 87.16 956,331
میگھالیہ 2,966,889 74.59 2,213,027
منی پور 2,855,794 41.29 1,179,043
اروناچل پردیش 1,383,727 30.26 418,732
گوا 1,458,545 25.10 366,130
جزائر انڈمان و نکوبار 380,581 21.28 80,984
کیرلا 33,406,061 18.38 6,141,269
سکم 610,577 9.91 60,522
پدوچیری 1,247,953 6.29 78,550
تمل ناڈو 72,147,030 6.12 4,418,331
تریپورہ 3,673,917 4.35 159,882
جھارکھنڈ 32,988,134 4.30 1,418,608
آسام 31,205,576 3.74 1,165,867
اوڈیشا 41,974,218 2.77 1,161,708
چھتیس گڑھ 25,545,198 1.92 490,542
کرناٹک 61,095,297 1.87 1,142,647
دادرا و نگر حویلی 343,709 1.49 5,113
آندھرا پردیش 84,580,777 1.34 1,129,784
پنجاب 27,743,338 1.26 348,230
دمن و دیو 243,247 1.16 2,820
مہاراشٹر 112,374,333 0.96 1,080,073
دہلی 16,787,941 0.87 146,093
چندی گڑھ 1,055,450 0.83 8,720
مغربی بنگال 91,276,115 0.72 658,618
گجرات 60,439,692 0.52 316,178
لکشادیپ 64,473 0.49 317
اتراکھنڈ 10,086,292 0.37 37,781
مدھیہ پردیش 72,626,809 0.29 213,282
جموں و کشمیر 12,541,302 0.28 35,631
ہریانہ 25,351,462 0.20 50,353
اتر پردیش 199,812,341 0.18 356,448
ہماچل پردیش 6,864,602 0.18 12,646
راجستھان 68,548,437 0.14 96,430
بہار 104,099,452 0.12 129,247

مزید دیکھیے[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. دیکھیے Jones 2012، صفحہ۔ 93۔ موضوع کے مزید تفصیلی مطالعے کے بعد نیل اس نتیجے پر پہنچا کہ ہندوستان میں مسیحیت چھٹی صدی میں وارد ہوئی تھی اس سے جونز کے دعوی اور سریانی کے استعمال کی تصدیق ہوتی ہے، دیکھیے Frykenberg 2008 ساتھ ہی توما رسول کی روایت کا بھی ممکنہ طور پر درست ہونا سچ ہو۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Census of India :Religion PCA"۔ www.censusindia.gov.in۔ Government of India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جولا‎ئی 2016۔
  2. "India has 79.8% Hindus, 14.2% Muslims, says 2011 census data on religion"۔ Firstpost۔ 26 اگست 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اگست 2016۔
  3. Suresh K. Sharma, Usha Sharma۔ Cultural and Religious Heritage of India: Christianity۔ The earliest historical evidence, however, regarding the existence of a Church in South India dates from the sixth century A.D
  4. Stephen Neill, A History of Christianity in India: The Beginnings to AD 1707 (2004).
  5. Hon'ble Shri P. C. Alexander نسخہ محفوظہ 15 June 2010 در وے بیک مشین
  6. "Govt appoints new Governors, Margaret Alva gets U`khand"۔ Zee News۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مارچ 2015۔
  7. "Christians have best sex ratio in India"۔ The Times of India۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. "Population by religious communities (Census 2001)"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مارچ 2015۔
  9. Muslims least, Jains most literate: Census - The Hindu
  10. Thomas 1974.
  11. http://shodhganga.inflibnet.ac.in:8080/jspui/bitstream/10603/13999/11/11_chapter%204.pdf
  12. Herald of library science Volume 11 Sarada Ranganathan Endowment for Library Science - 1972 "In 1773, Ferguson's Hindoostani dictionary was published from London. According to Dr L.S. Varshaney, the first translation of the Bible in Hindi appeared in 1725 which was translated by Schultze."
  13. "Census of India – Religious Composition"۔ Government of India, Ministry of Home Affairs۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2015۔

کتابیات[ترمیم]

بنیادی مآخذ[ترمیم]

  • Spliesgart, Roland, and Klaus Koschorke, eds. A History of Christianity in Asia, Africa, and Latin America, 1450-1990: A Documentary Sourcebook (2007)

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • Anand Amaladass؛ Gudrun Löwner۔ Christian Themes in Indian Art: From the Mogul Times Till Today۔ Manohar Publishers & Distributors۔ آئی ایس بی این 978-81-7304-945-3۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Jain, Sandhya (2010). Evangelical intrusions: [Tripura, a case study]. New Delhi: Rupa & Co.
  • Goel, S.G. 2016. History of Hindu-Christian encounters, AD 304 to 1996.
  • A. E. Medlycott (1 جنوری 2005)۔ India and the Apostle Thomas: An Inquiry, with a Critical Analysis of the Acta Thomae۔ Gorgias Press LLC۔ آئی ایس بی این 978-1-59333-180-1۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Madhya Pradesh (India)., & Niyogi, M. B. (1956). Vindicated by time: The Niyogi Committee report on Christian missionary activities. Nagpur: Government Printing, Madhya Pradesh.
  • The St. Thomas Christian Encyclopedia of India, Vol.I (India)1982, Vol.II (Kerala)1973, Vol.III(India)2010 Ed. George Menachery
  • Indian Church History Classics"Vol.I (Nazranies)1998 Ed. George Menachery
  • "History of the Syrian Nation and the Old Evangelical-Apostolic Church of the East" By George David Malech, Publisher: Gorgias Press
  • Panikkar, K. M. (1959). Asia and Western dominance. London: Allen & Unwin. ISBN 9781597406017
  • Panikkar, K. M. (1997). Malabar and the Portuguese: Being a history of the relations of the Portuguese with Malabar from 1500-1663. Bombay: D B Taraporevala.
  • S.M. Michael SVD, Dalit's Encounter with Christianity. A Case Study of Mahars in Maharashtra, ISPK – Ishvani Kendra: Dehli — Pune 2010,230 pp., ISBN 978-81-8465-074-7.
  • George Menachery, Ed., various publications incl. The St. Thomas Christian Encyclopaedia of India in 3 vols. and The Indian Church History Classics The Nazranies for some 1500 photos and art reproductions
  • Rowena Robinson (9 اکتوبر 2003)۔ Christians of India۔ SAGE Publications۔ آئی ایس بی این 978-0-7619-9822-8۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Shourie, Arun. (2006). Missionaries in India: Continuities, changes, dilemmas. New Delhi: Rupa.ISBN 9788172232702
  • This article includes material from the 1995 public domain Library of Congress Country Study on India.

بیرونی روابط[ترمیم]