ولادت یسوع مسیح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مضامین بسلسلہ

عشرہ کرسمس


Presepi2003.JPG
عالم بالا میں خدا کی تمجید ہو

تجسمکنواری پیدائش
ولادت یسوع مسیح
بیت اللحم کا ستارہمجوسیچرواہے
ختنہ مسیح
معصومین کا قتل عامسفر مصربچپن
یسوع کا بپتسمہ
کرسمس
شب کرسمسعشائے کرسمس
نیا سالظہور خداوند
کرسمس ٹریسانتا کلازتبادلہ تحائف

ولادت یسوع مسیح یا پیدائش مسیح یا میلاد مسیح سے مراد یسوع مسیح کی پیدائش ہے۔ اس کا ذکر لوقا[1] و متی[2] کی انجیلوں میں ہوا ہے۔

مسیحی علم الٰہیات میں ولادت مسیح سے متعلق عقیدہ ہے کہ یسوع آدم کا اوتار ہیں اور اسی وجہ سے انہیں ایک خطاب آدم ثانی کا دیا جاتا ہے کیونکہ مسیحیوں کے نزدیک یہ مشیت الٰہی تھی کہ یسوع، بشر اول آدم کی جانب سے کیے گئے گناہ[3] کی بھرپائی کریں۔

تاریخ پیدائش[ترمیم]

عام خیال یہ ہے کہ یسوع مسیح سنہ 1ء میں پیدا ہوئے۔ انگریزی حروف A.D. ہے جو Anno Domini کا مخفف ہیں مراد ہے ”ہمارے خداوند کا سال“۔ لیکن جب لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یسوع اس سے چار یا پانچ سال پہلے پیدا ہوئے تو انہیں تعجب ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عیسوی تقویم چھٹی صدی میں مرتب کی گئی۔ راہب ڈایونیسیس اکسی گوس (Monk Dionysius Exiguus) نے 526ء میں حساب لگا کر سنہ عیسوی کا اعلان کیا۔ لیکن بدقسمتی سے اس کے حساب میں چار سال کی غلطی رہ گئی۔ اس نے مسیح کی پیدائش رومی تقویم کے سال 754 میں رکھی۔ لیکن ہیرودیس اعظم جس نے بیت اللحم کے معصوم بچوں کا قتل عام کیا تھا رومی سال 750 میں فوت ہوا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ یسوع مسیح کی پیدائش 750 سے کم از کم چند ماہ پہلے ہوئی ہو گئی۔ غالباً وہ رومی سنہ 749 کے شروع میں پیدا ہوئے تھے یعنی 5 ق م کے آخر میں۔ جب اس غلطی کا پتہ چلا تو یہ ناممکن تھا کہ بے شمار چھپی ہوئی کتابوں میں اس کو درست کیا جائے سو سنہ عیسوی کو یوں ہی رہنے دیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. لوقا باب 2
  2. متی باب 1
  3. کتاب پیدائش باب 3