معصومین کا قتل عام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معصومین کا قتل عام

معصومین کا قتل عام بائبل میں مذکور ایک قتل عام کا واقعہ ہے جس میں یہودیوں کے مقرر کردہ رومی بادشاہ ہیرودیس کے حکم پر طفل کشی کی گئی تھی۔ متی کی انجیل کے مطابق، [1]جب ہیرودیس نے دیکھا کہ نجومیوں نے اُسے دھوکا دیا ہے تو اُسے سخت غصہ آیا اور اُس نے حکم دیا کہ بیت لحم اور اُس کے اِردگِرد کے سارے علا‌قوں میں دو سال یا اِس سے کم عمر کے سب لڑکوں کو مار ڈالا جائے۔‏ اُس نے اِس عمر کا حساب اُس تاریخ سے لگا‌یا جب نجومیوں نے پہلی بار ستارے کو دیکھا تھا۔‏ اِس طرح وہ بات پوری ہوئی جو یرمیاہ نبی نے کہی تھی کہ ”‏رامہ میں رونے دھونے اور ماتم کی آواز سنائی دے رہی ہے۔‏ راخل اپنے بچوں کے لیے رو رہی ہے اور تسلی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ اُس کے بچے نہیں رہے۔‏“‏[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بائبل:عہد نامہ جدید، متی 18–2:16
  2. بائبل:عہد نامہ قدیم، یرمیاہ15:31

بیرونی راوبط[ترمیم]