یوسف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یوسف
Image illustrative de l'article یوسف
یوسف اور اُس کے بھائیوں کا فرعون کے ہاں استقبال۔

معلومات شخصیت
مقامِ پیدائش حاران[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
مقام وفات مصر   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مقام دفن مقبرہ یوسف[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
رہائش یہودیہ
قدیم مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
مذہب یہودیت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
اولاد منسی[1]،افرائیم[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد یعقوب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ راحیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی

یوسف یعقوب کا گیارہواں اور راخیل کا پہلا بیٹا تھا۔ راخیل نے اس کی پیدائش پر کہا تھا کہ ”خداوند مجھ کو ایک اور بخشے“[3]، اس لیے اُس نے اُس کا نام یوسف رکھا۔ وہ شمالی سلطنت کے دو قبیلوں منسی اور افرائیم کا جد امجد تھا۔ اُس کی پیدائش کی کہانی پیدائش باب 30 آیت 22 تا 24 میں بیان ہوتی ہے اور اُس کی باقی زندگی کا بیان پیدائش ابواب 37–50 میں مرقوم ہے:

جب یعقوب 90 سال کا تھا تو فدان ارام میں یوسف پیدا ہوا۔ وہ اپنے باپ کا بڑا چہیتا تھا کیونکہ وہ راخیل سے پیدا ہوا تھا اور اُس کے بڑھاپے کی اولاد تھی۔ باپ کا چہیتا ہونا اُس بوقلمون قبا سے ظاہر ہوتا ہے جو اُس نے اُسے بنوا کر دی تھی۔ یہ اس بات کا نشان تھا کہ وہ کس کو اپنے قبیلے کا سردار بنائے گا۔ لہٰزا بھائیوں میں حسد پیدا ہونا ایک فطری عمل تھا۔ بھائیوں کا حسد اُس وقت اَور بھی بڑھ گیا جب اُس نے ان سے اپنے دو خواب بیان کیے جن سے مستقبل میں اُس کی عظمت اور بھائیوں کی اطاعت ظاہر ہوتی تھی۔ جب وہ 17 برس کا تھا تو اُس کے باپ نے اُسے بھائیوں کی خیرخیریت دریافت کرنے کے لیے سکم بھیجا جہاں وہ اپنی بھیڑ بکریاں چراتے تھے۔ لیکن جب وہ سکم پہنچا تو اُسے معلوم ہوا کہ دو تین چلے گئے ہیں، لہٰزا وہ اُدھر چل دیا۔ جب اُس کے بھائیوں نے اُسے آتے دیکھا تو انہوں نے اُسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے سوچا کہ اس طرح وہ اس کے خوابوں کے پورا ہونے کو ناممکن بنادیں گے۔ لیکن روبن نے انہیں اُسے ہلاک کرنے سے باز رکھا اور کسی گڑھے میں زندہ ڈال دینے کا مشورہ دیا۔ روبن کا خیال تھا کہ وہ بعد میں اُسے نکال کر باپ کے پاس پہنچا دے گا۔ لیکن جب روبن وہاں نہیں تھا تو اُس کے بھائیوں نے اسمٰعیلیوں کا ایک قافلہ دیکھا جو مصر جا رہا تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا وہ یوسف کو سودا گروں کے ہاں بیچ دیں گے۔ پس انہوں نے یوسف کو فروخت کردیا اور ایک بکری زبح کر کے اُس کے قبا کو اس کے خون میں بِھگو دیا کر اپنے باپ یعقوب کے پاس لے گئے گویا کہ اُسے کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہے اور وہ مرچکا ہے۔ عمر رسیدہ باپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور وہ کئی دنوں تک ماتم کرتا رہا۔

دریں اثنا اسمٰعیلی سودا گر یوسف کو لے مصر چلے گئے اور وہاں پہنچ کر مصری افسر فوطیفار کے ہاتھ فروخت کردیا۔ اس نوجوان غلام نے اپنے آپ کو اس قدر ہوشیار اور قابلِ اعتماد ثابت کیا کہ اُس کے آقا نے اپنے گھر کا تمام انتظام یوسف کے سپر کردیا۔ وہ یوسف کی زیرِ نگرانی خوب پھلا پھولا۔ لیکن فوطیفار کی بیوی کے دست درازی کے غلط الزام پر اُسے جیل میں ڈال دیا گیا اور وہ وہاں کئی برس تک رہا۔ پھر یوسف فرعون کی بھی نظروں میں مقبول ہوگیا۔ جب داروغۂ جیل نے یہ محسوس کیا کہ وہ یوسف پر مکمل اعتماد کرسکتا ہے تو اُس نے تمام قیدی اس کی تحویل میں دے دیئے۔ ان قیدیوں میں دو فرعون کے خادم تھے، ایک اُس کا ساقی اور دوسرا نان پَز۔ یوسف نے ان دونوں کی خوابوں کی تعبیر کی اور جیساکہ انہیں بتایا تھا، تین دن بعد بادشاہ کے یوم پیدائش پر نان پَز کو پھانسی دے دی گئی اور ساقی کو اس کے عہدے پر بحال کردیا گیا۔[4]

اس واقعے کے بعد یوسف کے حالات میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ ساقی اپنے وعدے کو کہ وہ فرعون سے یوسف کا ذکر کرے گا بھول گیا۔ لیکن جب فرعون نے دو خواب دیکھے، ایک دُبلی اور موٹی گائیوں کا اور دوسرا ہری بھری اور سُوکھی بالوں کا تو اُسے یاد آیا اور اُس نے فرعون کو یوسف کی خوابوں کی تعبیر کی لیاقت کے بارے میں بتایا۔ فرعون نے یوسف کو قید خانے سے بلوایا۔ یوسف نے بادشاہ کو بتایا کہ دونوں خوابوں کی تعبیر ایک ہی ہے۔ سات سالوں تک خوب اناج پیدا ہوگا اور سات سال قحط کے ہوں گے اور صلاح دی کہ قحط کے سات سالوں کے لیے ارزانی کے سالوں میں غلہ جمع کرلیا جائے۔ فرعون نے فوراً ہی یوسف کو ذخیرہ خانوں کا حاکم مقرر کیا اور اُسے اپنی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کا مکمل اختیار بخشا۔ حکومت کے ایک محکمہ کا انچارج ہونے کے باعث یوسف بادشاہ کا نائب بن گیا۔ [5] اور یہ دکھانے کے لیے کہ وہ بادشاہ کی نظروں میں مقبول ٹھہرا ہے اُسے مصری نام دیا گیا اور اُس کی شادی مصر کے قومی مندر ادن کے بڑے پجاری کی بیٹی سے کردی گئی۔ اب یوسف 30 برس کا تھا۔ ارزانی کے سات سالوں میں اُس نے ہر شہر میں ذخیرہ خانوں میں غلہ جمع کرلیا۔ اس دوران اُس کے ہاں دو لڑکے منسی اور افرائیم پیدا ہوئے۔

جس قحط کی یوسف نے پیشین گوئی کی تھی اُس نے نہ صرف مصر ہی کو بلکہ اُس وقت کی تمام دریافت شدہ دنیا کو لپیٹ میں لے لیا۔ پس ہر ملک کے لوگ یوسف کے پاس غلہ خریدنے آنے لگے یہاں تک کہ یوسف کہ بھائی بھی غلہ خریدنے مصر آئے انہوں نے یوسف کو نہیں پہچانا لیکن ہوسف نے انہیں پہچان لیا اور جب انہوں نے اُسے سجدہ کیا تو اُسے اپنے خواب یاد آئے جن کی وجہ سے وہ اُس سے اِس حد تک جلنے لگے تھے۔ یوسف نے اپنے بھائیوں کو ہر لحاظ سے آزما کر دیکھا کہ وہ اِن سالوں میں تبدیل ہوئے کہ نہیں۔ اور جب اُسے یقین ہوگیا کہ وہ کافی بدل چکے ہیں تو جب وہ دوسری مرتبہ غلہ خریدنے آئے، اُس نے اپنے آپ کو اُن پر ظاہر کردیا۔ اُس نے انہیں یقین دلا دیا کہ اُس کے دل میں بدلہ لینے کا کوئی خیال نہیں اور انہیں کہا کہ اپنے باپ کو ساتھ لائیں اور مصر رہیں۔ اس زمانے کا بادشاہ حیخسوس خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور یوسف کی طرح سامی النسل تھا۔ لہٰزا اُس نے یعقوب اور اس کے خاندان کو خوش آمدید کہا۔ بعد کے سالوں میں یوسف نے مصر کے زمین کی ملکیت کے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کردیا۔ اب تمام زمین فرعون کی ملکیت بن گئی۔ اور اس کے سابقہ مالک بادشاہ کے مزارع ٹھہرے۔ یعقوب 17 برس تک یوسف کے پاس مصر رہا۔ یعقوب نے اپنی وفات سے پیشتر یوسف کے دونوں بیٹوں کو اپنا متبنٰے بنایا اور میراث کی تقسیم میں ان کو وہی حق دیا جو اُس کے اپنے بیٹوں کا تھا۔ یوسف 110 برس تک زندہ رہا۔ اپنی وفات سے پیشتر یوسف نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایک دن خدا بنی اسرائیل کو واپس کنعان لے جائے گا اور وصیت کی کہ اُس کی ہڈیاں وہاں دفن کی جائیں۔ بعد ازاں اُس کی ہڈیاں اُس کی خواہش کے مطابق سکم میں اُس خطۂ زمین میں دفن کی گئیں جو اُس کے باپ یعقوب نے خریدا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مذکور : کتاب پیدائش — مصنف: موسیٰ — باب: 51
  2. مذکور : کتاب پیدائش — مصنف: موسیٰ — باب: 52
  3. پیدائش باب 30 آیت 24
  4. پیدائش باب 40 آیت 5 تا 23
  5. پیدائش باب 41 آیت 39 تا 44