آستر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ملکہ فارس
آستر
ملکہ آستر، 1878 میں ایڈون لونگ کے تخیل کے مطابق.
ملکہ آستر، 1878 میں ایڈون لونگ کے تخیل کے مطابق.

ملکہ فارس
دور حکومت 479 - 465 ق-م
معلومات شخصیت
پیدائشی نام ہداسا
پیدائش 520 ق-م

ہخامنشی سلطنت
وفات 450 ق-م

ہمدان، فارس موجودہ ایران
مذہب یہودیت
شوہر خشیارشا اول[1]
والد ابی خیل (حیاتیاتی)، مردکی (سوتیلا)
خاندان فارس


آستر (انگریزی: Esther; تلفظ: /ˈɛstər/; عبرانی: אֶסְתֵּר، جدید Ester ، طبری ʼEstēr) ایک خدا پرست یہودی خاتون تھی جسے ایران کی ملکہ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ آستر کے چچا مردکی نے آستر کو پالا پوسا تھا اور اُس کی تربیت کی تھی۔ہامان بادشاہ کا مشیر تھا لیکن یہودیوں کا جانی دشمن تھا۔ اُس نے بادشاہ سے یہودیوں کے قتل عام کا فرمان حاصل کر کے تمام صوبوں میں بھجوا دیا۔ مردکی کو اس سازش کا علم ہوا اور اُس نے ملکہ آستر کی مدد سے یہودیوں کو ہامان کی سازش سے بچا لیا۔ ہامان بادشاہ کی نظر میں گر گیا اور پھانسی کی سزا پائی۔مردکی کو ہامان کی جگہ بادشاہ کا مشیر خاص مامور کیا گیا اور اپنی بھتیجی ملکہ آستر کی مدد سے یہودیوں کے قتل عام کو رکوانے میں کامیاب ہوا۔ آستر کے نام سےکتاب مقدس کے عہد نامہ قدیم میں ایک کتاب آستر بھی ہے۔

مزید دیکھے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]