یہود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(یہودیوں سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
یہودی
عبرانی: יהודיםیہودیم
Rembrandt Harmensz. van Rijn 063.jpg
یہودی روایت کے مطابق، یعقوب علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبائل کے باپ تھے۔
کل آبادی
14.5–17.5 ملین

وسیع تر آبادی (بشمول مکمل و جزوی یہودی النسل):

20.5 ملین[1] (2017)
گنجان آبادی والے علاقے
Flag of Israel.svg اسرائیل
6,451,400–6,835,500[1]
Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ5,700,000–10,000,000[1]
Flag of France.svg فرانس456,000–600,000[1]
Flag of Canada.svg کینیڈا390,000–550,000[1]
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ289,500–370,000[1]
Flag of Argentina.svg ارجنٹائن180,500–330,000[1]
Flag of Russia.svg روس176,000–380,000[1]
Flag of Germany.svg جرمنی116,000–225,000[1]
Flag of Australia.svg آسٹریلیا113,200–140,000[1]
Flag of Brazil.svg برازیل93,800–150,000[1]
Flag of South Africa.svg جنوبی افریقا69,300–80,000[1]
Flag of Ukraine.svg یوکرین53,000–140,000[1]
Flag of Hungary.svg مجارستان47,500–100,000[1]
Flag of Mexico.svg میکسیکو40,000–50,000[1]
Flag of the Netherlands.svg نیدرلینڈز29,800–52,000[1]
Flag of Belgium (civil).svg بلجئیم29,300–40,000[1]
Flag of Italy.svg اطالیہ27,300–41,000[1]
Flag of Colombia.svg کولمبیا27,000–30,000[1]
Flag of Switzerland.svg سویٹزرلینڈ18,700–25,000[1]
Flag of Chile.svg چلی18,300–26,000[1]
Flag of Uruguay.svg یوراگوئے16,900–25,000[1]
Flag of Turkey.svg ترکی15,300–21,000[1]
Flag of Sweden.svg سویڈن15,000–25,000[1]

یہودی (جمع: یہود) یہودیت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں جو قدیم بنی اسرائیل کی اولاد ہیں۔ دنیا بھر میں یہودیوں کی موجودہ تعداد کا مکمل اندازہ تو نہیں لگایا جاسکتا تاہم ان کی تعداد 12 سے 14 ملین کے لگ بھگ ہے جن کی اکثریت امریکا اور اسرائیل میں رہائش پزیر ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 1 کروڑ چوالیس لاکھ 35 ہزار نو سو یہودی ہیں۔ اسرائیل میں 30 لاکھ، روس میں 26 لاکھ بیس ہزار اور امریکا میں 58،70،000 آباد ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ یہودی نیو یارک شہر میں جہاں ان کی تعداد 18،30،000 ہے۔ یہودی کی اصطلاح اپنے اندر کثیر مذہبی وظائف اور عقائد کو سمیٹے ہوئے ہے۔ دنیا بھر کے یہودی اپنے وظائف اور عقائد کے لحاظ سے متعدد حصوں میں منقسم ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق یہودیوں کی اکثریت خدا میں یقین نہیں رکھتی اور وہ زیادہ تر ملحد ہیں۔[2]

تاریخ[ترمیم]

ابراہیم کے دو بیٹے تھے۔ اسماعیل اور اسحاق۔ اسحاق کے بھی دو بیٹے تھے ایک یعقوب اور ایک عیسو۔ عیسو پیغمبر نہیں تھے جبکہ یعقوب پیغمبر تھے۔ یعقوب کے بارہ بیٹے تھے جن میں سے ایک کا نام "یہوداہ" تھا۔ "یہودی" کا لفظ اسی سے ہے۔ یعقوب کا لقب تھا "اسرائیل"۔ اسرائیل کا مطلب ہے اللہ کا بندہ۔ یہی بنی اسرائیل یعنی اسرائیل کی اولاد "یہودی" کہلائے۔ آدم سے لے کر ملاکی تک جتنے بھی انبیا گزرے ہیں یہودی ان سب کو انبیا مانتے ہیں۔ یہودی ملاکی کو آخری نبی سمجھتے ہیں۔ اور ملاکی کے بعد جتنے بھی نبی آئے انہیں یہودی نہیں مانتے۔ اور ابھی تک مشیاخ (مسیح) کے انتظار میں ہیں، ان کے نزدیک مسیح ہی آخری پیغمبر ہو گا۔ اس طرح یہودی توریت کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ مانتے ہیں لیکن انجیل اور قرآن کو نہیں مانتے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع World Jewish Population, 2017. Berman Jewish DataBank. 2018. https://www.jewishdatabank.org/content/upload/bjdb/World_Jewish_Population_2017_AJYB_DataBank_Final.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 December 2018. 
  2. Silverman، Herb (16 نومبر، 2015). "The Jew/Atheist Paradox".