ثنویت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ثنویت (Dualism) فلسفے کی ایک اصطلاح جسے پہلی بار تھامس ہائیڈ نے اپنی کتاب ’’تاریخ مذہب ‘‘ میں استعمال کیا۔ اس سے مراد اس نے مذہب کی خیر و شر کی ثنویت لی تھی۔ مابعد الطبعیات کا نظریہ جو بیک وقت دو خودمختار اور ایک دوسرے سے غیر متعلق چیزوں کے وجود کو تسلیم کرتا ہے۔ مثلا حواس کی دنیا اور ادراک کی دنیا کی ثنویت (فلاطونیت) سوچ کا مادہ اور خارجی دنیا کا مادہ (ڈیکارٹ) امسکانی دنیا اور اصل دنیا کی ثنویت (لائینے) مظہری دنیا اور عنصری دنیا کی ثنویت (کانٹ)قدیم ایرانی زرتشی مذہب میں اسی اصولِ خیر و شر کو بالترتیب اھورمزدا اور اھرمن کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہی نظریہ (معمولی اختلاف کے ساتھ) قدیم چینی مذاہب میں ین اور ینگ کی ثنویت میں نظر آتا ہے۔


حوالہ جات[ترمیم]