ملکہ سبا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ملکہ مملکت سبا
بلقیس
بادشاہت
Queen of Sheba0027.jpg
موجودہ:


انداز: منصب شاہی

سبا کی ملکہ کی آمد

this file چلنے میں دشواری؟ دیکھیے میڈیا معاونت۔

نام بلقیس۔ یہ نام توریت سے لیا گیا ہے۔ قرآن شریف میں ان کا تذکرہ بغیر نام کے ہے۔ سلیمان کی ہم عصر تھی۔ اس کی قوم سورج کی پرستش کرتی تھی۔ سليمان علیہ السلام نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے اپنے سرداروں سے مشورہ کے بعد طے کیا کہ سلیمان علیہ السلام کا امتحان لیا جائے۔ اگر وہ سچے پیغمبر ہوں تو اُن کا مذہب اختیار کیا جائے۔ چنانچہ جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ حقیقت میں پیغمبر ہیں تو اس نے خود ان کے پاس جاکر ایمان لانے کا فیصلہ کیا۔ ملکہ سبا کے سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچنے سے قبل سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کا تخت منگوانے کی خواہش کا اظہار کیا تو آصف بن برخیاہ جو سلیمان علیہ السلام کا وزیر تھا اس نے کہا کہ میں آنکھ جھپکنے سے پہلے اس کو لا سکتا ہوں، جسے ان کے پاس دیکھ کر اس کا اعتقاد اور بھی پختہ ہوگیا اور وہ اپنی قوم کے ساتھ ایمان لے آئی۔[1][2]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ملکہ سبا، اردو پوئنٹ
  2. پروفیسر عقیل، قصہ ملکہ بلقیس، قرآن کی روشنی میں، اخذ کردہ تاریخ، 22 مئی 2017