سلیمان علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سليمان علیہ السلام سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مضامین بسلسلہ

اسلامی انبیاء
توسيط
قرآن میں مذکور انبیاء

رسل وانبیاء

آدم·ادریس
نوح·ہود·صالح
ابراہیم·لوط
اسماعیل · اسحاق
یعقوب·یوسف
ایوب
شعیب · موسیٰ ·ہارون
یوشع بن نون
ذو الکفل · داؤد · سلیمان · الیاس
الیسع · یونس
زکریا · یحییٰ
عيسىٰ ابن مريم
محمد بن عبد الله


سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔

سلسلہ نسب

حضرت سلیمان کا سلسلہ نسب یہودا(اولاد یعقوب) کے واسطے سے حضرت یعقوب سے جا ملتا ہے۔ قرآن پاک میں انھیں اولاد ابراہیم میں شمار کیا ہے۔

حافظ ابنِ عساکر نے آپ کے نسب نامے کی تفصیل یوں بیان کی ہے:

سلیمان بن داؤد بن ایشا بن عوید بن عابر بن سلمون بن نحشون بن عیمنا ذب بن ارم بن حصرون بن فارص بن یہودا بن یعقوب بن اسیاق بن ابراہیم۔

معجزے

حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی بہت سے معجزے عطا کر رکھے تھے.

حضرت سلیمان علیہ السلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ

مسجد اقصی اور بیت المقدس کی تعمیر

حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد اقصی اور بیت المقدس کی تعمیر شروع کی جن دور دور سے پتھر اور سمندر سے موتی نکال نکال کر لایا کرتے تھے۔ یہ عمارتیں آج تک موجود ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے جنوں سے اور بھی بہت سے کام لیے۔

ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو آزمائش میں ڈال دیا۔ آپ کے پاس ایک انگوٹھی تھی، جس پر اسم اعظم کندہ تھا، اس انگوٹھی کی بدولت آپ جن وانس پر حکومت کیا کرتے تھے۔ لیکن وہ انگوٹھی کسی وجہ سے گم ہوگئی اور شیطان کے ہاتھ آگئی۔ چنانچہ آپ تخت و سلطنت سے محروم ہوگئے، ایک مدت کے بعد وہ انگوٹھی شیطان کے ہاتھ سے دریا میں گرپڑی، جسے ایک مچھلی نے نگل لیا، وہ مچھلی حضرت سلیمان علیہ السلام نے پکڑ لی، جب اس کو چیرا گیا تو انگوٹھی اس کے پیٹ سے مل گئی اور اسی طرح آپ کو دوبارہ سلطنت اور حکومت مل گئی۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے کہ وہ انگوٹھی کی بدولت حکومت کرتے تھے ۔ حکومت ان کو اللہ نے اپنے فضل خاص سے دی تھی ۔

ملکہ سبا

حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں یمن کے علاقے پر ملکہ سباکی حکومت تھی، ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار لگا ہوا تھا، جس میں تمام جن وانس، چرند، پرند اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوئے تھے، دیکھا کہ ہدہد غیر حاضر ہے آپ نے فرمایا ہد ہد نظر نہیں آتا اگر اس نے اس غیر حاضری کی معقول وجہ بیان نہ کی تو اسے سخت سزا دی جائے گی، ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ ہدہد بھی حاضر ہوگیا، حضرت سلیمان علیہ السلام کے دریافت کرنے پر ہدہد نے بتایا کہ میں اڑتا ہوا یمن کے ملک میں جا پہنچا تھا، جہاں کی حکومت ملکہ سبا کے ہاتھ میں ہے۔ خدا نے سب کچھ دے رکھا ہے اس کا تخت بہت قیمتی اور شاندار ہے لیکن شیطان نے اس کو گمراہ کررکھا ہے، وہ خدائے واحد کی بجائے آفتاب کی پرستش کرتی ہے۔

ملکہ سبا کو خط

حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا تو میرا خط اس کے پاس لے جا، تیرے جھوٹ اور سچ کا امتحان ابھی ہوجائے گا چنانچہ ہدہد آپ کا خط لے کر ملکہ سبا کے پاس پہنچا اور خط اس کے آگے ڈال دیا، ملکہ نے خط پڑھ کر درباریوں کو بلایا اور خط کا مضمون پڑھ کر سنایا، جس میں درج تھا۔

یہ خط سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ہے اور اللہ کے نام سے شروع کیا جاتا ہے جو بڑا مہربان اور رحم والا ہے تم کو سرکشی اور سربلندی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے اور تم میرے پاس خدا کی فرماں بردار بن کر آؤ۔

حضرت سلیمان کا جواب

ملکہ سبا نے بہت سے تحفے تحائف حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں بھیجے۔ آپ نے ان تحائف کو دیکھ کر فرمایا، کہ ملکہ نے میرے پیغام کا مقصد نہیں سمجھا۔ آپ نے ملکہ کے سفیروں کو دیکھ کر فرمایا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میرے پاس کس چیز کی کمی ہے، یہ تحفے واپس لے جاؤ اور اپنی ملکہ سے کہو کہ اگر میرے پیغام کی تعمیل نہ کی تو میں عظیم الشان لشکر لے کر وہاں پہنچوں گا اور تم کو رسوا اور ذلیل کرکے تمہارے شہر سے نکال دوں گا۔
جب قاصد حضرت سلیمان علیہ السلام کا پیغام لے کر ملکہ کے پاس گئے تو اس نے یہی مناسب سمجھا کہ خود حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوجائے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملکہ کی روانگی کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ دربار والوں میں کوئی ایسا ہے جو ملکہ کا تخت یہاں لے آئے۔ ایک جن نے کہا کہ آپ کے دربار برخاست ہونے تک میں تخت لاسکتا ہوں اور میں امین بھی ہوں۔ آپ کے وزیر نے کہا کہ میں آنکھ جھپکتے تک اس کا تخت پیش کرسکتا ہوں۔

ملکہ سبا کا قبول اسلام

اور جونہی حضرت سلیمان علیہ السلام نے مڑ کر دیکھا تو ملکہ کا تخت وہاں موجود تھا۔ اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور فرمایا کہ خدا کا یہ فضل میری آزمائش کے لیے ہے تاکہ وہ دیکھے کہ اس حالت میں بھی اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا نہیں۔ اب آپ نے حکم دیا کہ اس کی شکل بدل دی جائے جب ملکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں پہنچی تو اس سے پوچھا گیا، کیا تیرا تخت بھی ایسا ہی ہے جیسا یہ ہے،اس نے کہا یہ تو وہی ہے۔ ملکہ سبا نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پیغمبرانہ جاہ و جلال کو دیکھ کر دین حق قبول کرلیا۔

ازواج

سلیمان علیہ السلام کے پاس ایک سو زوجات تھیں جس کا ثبوت صحیح بخاری کی مندرجہ ذیل حديث سے ملتا ہے : ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ بیان کرتےہیں :

سلیمان بن داود علیہم السلام نے کہا کہ آج رات میں سو عورتوں کے پاس جاؤں گا ، ہرعورت ایک بچہ جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال کرے گا ، تو فرشتے نے کہا انشاء اللہ کہہ لو ، تو انہوں نے نہ کہا اور ان شاء اللہ کہنا بھول گئے تواس رات سب کے پاس گئے توان میں سے کسی نےبھی کچھ نہ جنا صرف ایک نے آدھا بچہ جنا ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کہ اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو ایسا نہ ہوتا اور ان کی ضرورت کوپورا کرنے کا باعث بن سکتا تھا ۔ [1]


اور صحیح مسلم کی حدیث نمبر ( 1654 ) میں نوے عورتوں کا ذکر ہے ، اور ایک اور روایت جسے امام بخاری نے جہاد کے لیے اولاد طلب کرنے کے باب میں تعلیقا ذکر کیا ہے جس میں ننانوے عورتوں کا ذکر ہے ۔

نبوت

حضرت داؤد علیہ السلام کے انتقال کے وقت، ایک روایت کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر پچیس سال تھی۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت اور حکومت دونوں میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داؤد علیہ السلام کا جانشین بنایا۔ یوں نبوت کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکومت بھی ان کے قبضے میں آ گئی۔

ترجمہ:

اور سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کا وارث ہوا۔

تفسیر

یہاں وراثت سے مراد مال و دولت اور حکومت و سلطنت نہیں ہے، کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کی واحد اولاد نہ تھے۔ ان کی سو بیویاں تھیں ان سے اولادیں بھی تھیں اور حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کے وقت آپ کے انیس بیٹوں کا ذکر ملتا ہے۔ اگر وراثت سے مراد مال و دولت، جائداد اور سلطنت ہے تو پھر انیس کے انیس بیٹے وارث ٹھہرتے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی تخصیص باقی نہ رہتی۔ اب چونکہ یہاں وارث ہونے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر ہے تو وہ علم اور نبوت ہی کی وراثت ہو سکتی ہے۔ (وان العلماء ورثۃ الأنبیاء)بے شک علما ہی انبیا کے وارث ہوا کرتے ہیں (علم کے)پھر دوسری بات یہ بھی ہے کہ انبیا کی وفات کے بعد ان کی اولاد ان کے مال و دولت کی وارث نہیں ہوتی بلکہ تمام مال و اسباب مساکین و فقرا کا حق سمجھتے ہوئے خدا کے نام پر صدقہ کر دیا جاتا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ انبیاء کے مال کی میراث تقسیم نہیں ہوا کرتی۔ رسول پاکﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ

ہم جماعت انبیا ہیں۔ ہمارے ورثے بٹا نہیں کرتے۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں، صدقہ ہے۔

وفات

حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے جنوں کی ایک جماعت ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) بنانے میں مصروف تھی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا وقت آن پہنچا، آپ ایک لاٹھی کے سہارے کھڑے ہو گئے اور انتقال فرما گئے۔ جنوں کو آپ کی موت کی خبر نہ ہوئی اور وہ اپنے کام میں لگے رہے۔ آخر ایک عرصہ کے بعد جب ان کی لاٹھی کو دیمک نے چاٹ لیا تو وہ بودی ہو کر ٹوٹ کر گر پڑی اور حضرت سلیمان علیہ السلام جو لاٹھی کے سہارے کھڑے تھے وہ بھی گر پڑے۔ اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام تو مدت سے انتقال کرچکے ہیں۔

حوالہ جات

  1. صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5242 )

۱۔ القرآن، ۲:۲۴۹

۲۔ تہامی، ص ۴۶

۳۔ ادارہ سیارہ ڈائجسٹ ص ۲۷۲ تا ۲۷۶

۴۔ مہر، غلام رسول، ص ۸۹

۵۔ ادارہ سیارہ ڈائجسٹ ص ۲۷۲ تا ۲۷۶

۶۔ مہر، غلام رسول، ص ۸۲

۷۔ ادارہ سیارہ ڈائجسٹ ص ۲۷۲ تا ۲۷۶

۸۔ القرآن، ص: ۲۰

۹۔ القرآن، البقرہ:۲:۲۵۲

۱۰۔ ا محمد حفیظ الرحمن سینوہاروی، مولانا، ص ۹۲

۱۱۔ القرآن، المائدہ:۷۸

۱۲۔ القرآن، الاعراف: ۱۶۶

۱۳۔ عبد العزیز ہزاروی، مولانا ص ۵۶۸۔ ۵۶۹

۱۴۔ محمد شفیع، مولانا، ص ۴۹۶

۱۵۔ القرآن، ص: ۲۴

۱۶۔ القرآن، ص:۲۶

۱۷۔ قاضی عبد الرزاق، ص۲۰۶

۱۸۔ القرآن، ص: ۲۰

۱۹۔ القرآن، بنی اسرائیل : ۵۵

۲۰۔ القرآن، سبا:۱۱۔ ۱۰

۲۱۔ عبد الرحمن، مولانا، ص ۳۶

۲۲۔ حفیظ الرحمن سیوہاروی، مولانا، ص ۹۳

۲۳۔ مہر، ص ۸۳

۲۴۔ القرآن (۳۸: ۳۰)

۲۵۔ عطا اللہ ساجد مولانا، ص ۵۷۲

۲۶۔ عبد الرحمن، مولانا، ص ۳۷۔ ۳۸

۲۷۔ عطا اللہ ساجد، مولانا، ص ۵۸۷

۲۸۔ عطا اللہ ساجد، مولانا، ص ۵۸۷

۲۹۔ القرآن، ص :۲۵

۳۰۔ مولانا عبد الرحمن، مولانا، ص ۴۱۔ ۴۲

۳۱۔ عطا اللہ ساجد، ص ۵۸۶

۳۲۔ قاضی عبد الرزاق، ص ۲۱۴

۳۳۔ القرآن، النمل: ۱۶

۳۴۔ قاضی عبد الرزاق، حافظ قاضی ص ۲۰۹

۳۵۔ عبد الرحمن، مولانا، ہدایت کے چراغ۔ سیرت انبیائے کرام، ص ۸۴۔ ۸۵

۳۶۔ القرآن، النمل:۲۱۔ ۲۰

۳۷۔ عبد الرزاق، حافظ قاضی، تذکرۃ الانبیا، ص ۲۲۸۔ ۲۲۹

۳۸۔ غلام نبی بن عنایت اللہ، ص ۳۶۹

۳۹۔ القرآن، ص:۳۳۔ ۳۰

۴۰۔ القرآن، ص: ۳۵۔ ۳۴

۴۱۔ القرآن ص:۳۶

۴۲۔ چراغ علی، مولوی، ص ۱۵۶

۴۳۔ ایضاً ص ۱۵۴

۴۴۔ معارف القرآن جلد دوم ص ۱۱۶

۴۵۔ القرآن، الانبیا:۸۲

۴۶۔ القرآن، سبا: ۱۳۔ ۱۲

۴۷۔ چراغ علی، مولوی، ص ۱۵۲۔ ۱۵۳

۴۸۔ قصص القرآن، ص ۱۱۰۔ ۱۱۱

۴۹۔ القرآن، البقرہ:۲۴۸

۵۰۔ تفہیم القرآن، جلد اول ص ۱۸۹

۵۱۔ شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا ص۴۰۹

۵۲۔ معارف القرآن جلد ہفتم‘ ص۔ ۲۷۶

۵۳۔ القرآن، النمل: ۱۹

۵۴۔ تہامی، ص ۵۳