الاعراف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
الاعراف
AL-ARAF.PNG
الاعراف
دور نزول مکی
زمانۂ نزول ہجرت سے قبل
اعداد و شمار
عددِ سورت 7
عددِ پارہ 8 اور 9
تعداد آیات 206
الفاظ 3,344
حروف 14,071
گذشتہ الانعام
آئندہ الانفال

قرآن مجید کی ساتویں سورت، جس میں 206 آیات ہیں۔ یہ مکی سورت ہے۔

نام

اس سورت کا نام اعراف اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس کی آیات 46اور 47 میں اعراف اور اصحاب کا ذکر آیا ہے۔ گویا اسے "سورۂ اعراف" کہنے کا مطلب یہ ہے کہ "وہ سورت جس میں اعراف کا ذکر ہے"۔

زمانۂ نزول

مزید دیکھیں: الاعراف آیت 163 تا 170

اس کے مضامین پر غور کرنے سے بین طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانۂ نزول تقریباًً وہی ہے جو سورۂ انعام کا ہے۔ یہ بات تو یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ یہ پہلے نازل ہوئی یا وہ مگر اندازِ تقریر سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ یہ اسی دور سے متعلق ہے۔ لہٰذا اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے سورۂ انعام کے مضمون پر نگاہ ڈال لینا کافی ہوگا۔

مباحث

اس سورت کی تقریر کا مرکزی مضمون دعوت رسالت ہے ساری گفتگو کا مدعا یہ ہے کہ مخاطبوں کو خدا کے فرستادہ پیغمبر کی پیروی اختیار کرنے پر آمادہ کیا جائے لیکن اس دعوت میں انداز (تنبیہ اور ڈراوے) کا رنگ زیادہ نمایاں پایا جاتا ہے کیونکہ جو لوگ مخاطب ہیں (یعنی اہل مکہ) انہیں سمجھاتے سمجھاتے ایک طویل زمانہ گزر چکا ہے اور ان کی گراں گوشی، ہٹ دھرمی اور مخالفانہ ضد اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ عنقریب پیغمبر کو ان سے مخاطبہ بند کرکے دوسروں کی طرف رجوع کرنے کا حکم ملنے والا ہے۔ اس لیے تفہیمی انداز میں قبولِ رسالت کی دعوت دینے کے ساتھ ان کو یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ جو روش تم نے اپنے پیغمبر کے مقابلے میں اختیار کر رکھی ہے ایسی ہی روش تم سے پہلے کی قومیں اپنے پیغمبروں کے مقابلے میں اختیار کرکے بہت برا انجام دیکھ چکی ہیں۔ پھر چونکہ ان پر حجت تمام ہونے کے قریب آگئی ہے اس لیے تقریر کے آخری حصہ میں دعوت کا رخ اُن سے ہٹ کر اہل کتاب کی طرف پھر گیا ہے اور ایک جگہ تمام دنیا کے لوگوں سے عام خطاب بھی کیا گیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اب ہجرت قریب ہے اور وہ دور جس میں نبی کا خطاب تمام تر اپنے قریب کے لوگوں سے ہوا کرتا ہے، خاتمے پر آلگا ہے۔ دورانِ تقریر میں چونکہ خطاب کا رخ یہود کی طرف بھی پھر گیا ہے اس لیے ساتھ ساتھ دعوتِ رسالت کے اس پہلو کو بھی واضح کردیا گیا ہے کہ پیغمبر پر ایمان لانے کے بعد اس کے ساتھ منافقانہ روش اختیار کرنے اور سمع و طاعت کا عہد استوار کرنے کے بعد اسے توڑ دینے اور حق و باطل کی تمیز سے واقف ہوجانے کے بعد باطل پرستی میں مستفرق رہنے کا انجام کیا ہ۔ے سورت کے آخری میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو حکمتِ تبلیغ کے متعلق چند اہم ہدایات دی گئی ہیں اور خصوصیت کے ساتھ انہیں نصیحت کی گئی ہے کہ مخالفین کی اشتعال انگیزیوں اور چیرہ دستیوں کے مقابلے میں صبر و ضبط سے کام لیں اور جذبات کے ہیجان میں مبتلا ہوکر کوئی ایسا اقدام نہ کریں جو اصل مقصد کو نقصان پہنچانے والا ہو۔

پچھلی سورہ:
الانعام
سورہ 7 اگلی سورہ:
الانفال
[[:File:Sura7

.pdf|عربی متن]]