قیاس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قیاس اندازا لگانایا تخمینہ لگانا اورراۓ دینا.

اصطلاح[ترمیم]

یہ اسلامی اصطلاح میں ادلہ اربعہ میں چوتھا اہم اصولی دلیل و ماخذ ہے، جو اکثر اجتہاد پر بھی بولا جاتا ہے۔

قیاس کی لغوی تعریف[ترمیم]

قیاس، قاس یقیس قیساً وقیاساً، قاس یقوس قوساً وقیاساً، ذوات الیاء اور ذوات الواؤ (یعنی جن کے مادہ میں حرف یاء اور حرف واو ہو) دونوں ہی سے ماخوذ ہے، جس کے معنی "تقدیر" یعنی ایک شئی کااندازہ دوسری شئی کے ذریعہ کرنے یا "تسویہ" یعنی ایک چیز کودوسری چیز کے برابر کرنے کے ہیں۔ [1]

اصولی طور پر قیاس کے لغوی معنی کی تعیین میں تین نظریئے ہیں:

صاحب مسلم الثبوت ملامحب اللہ بہاریؒ کا کہنا ہے کہ لفظِ قیاس تقدیر کے معنی میں اصل اور تسویہ کے معنی میں منقول ہے [2]

دوسرا نظریہ ہے کہ لفظ قیاس تقدیر ومساواۃ ہردو معنی میں مشترک لفظی ہے (مشترک لفظی ایسے لفظ کو کہتے ہیں جس کو یکے بعد دیگر دویازائد معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو، دیکھئے:الموسوعۃ الفقہیہ:۴/۳۱۰) علامہ شوکانی رحمہ اللہ کا طرزِ تحریر اسی جانب مشیر ہے[3]

تیسری رائے محقق ابن الہمام کی ہے کہ قیاس ان معانی کے لیے مشترک معنوی ہے (مشترک معنوی ایسے لفظ کو کہتے ہیں جو اپنے وسیع ترمفہوم کے واسطہ سے کئی معنی کو یکساں طور پر جامع ہو، دیکھئے:الموسوعۃ الفقہیہ:۴/۳۱۰۔ اصول الفقہ لخضری بک:۱۴۴) ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن نے اسی کو اختیار کیا ہے۔

(اصول مذہب الامام احمد بن حنبلؒ:۵۴۹)

قیاس کی اصطلاحی تعریف[ترمیم]

علامہ آمدی نے الاحکام میں قیاس کی تقریباً تمام مشہور تعریفات کے تذکرہ اور بالترتیب ان کے ضعف پر تنبیہ کے بعد جو مختار تعریف بتلائی ہے وہ اس طرح ہے: "فرع" و "اصل" کا حکم منصوص کی علت مستنبطہ میں مساوی ہوجانا، قیاس ہے۔

اس تعریف کے متعلق علامہ آمدی نے کہا: "وهذه العبارة جامعة مانعة وافية بالغرض عرية عمايعترضها من التشكيكات العارضة لغيرها على ماتقدم"۔ (الاحکام فی أصول الاحکام:۳/۲۷۳)

ترجمہ: تعریف مذکور جامع مانع ہے، مفہوم قیاس کی اس کی روشنی میں پورے طور پر وضاحت ہوجاتی ہے اور دیگر تعریفات پرجواعتراضات وارد ہوتے ہیں ان سے یہ محفوظ ہے۔

مگر ڈاکٹر عبداللہ الترکی کو اس تعریف کی جامعیت و مانعیت سے انکار ہے، جامع اس لیے نہیں ہے کہ تعریف مذکورہ علتِ منصوصہ کو شامل نہیں ہے؛ کیونکہ تعریف میں علت مستنبطہ کی قید لگی ہوئی ہے اور مانع اس لیے نہیں کہ تعریف مذکور مفہوم الموافقہ وفحوی الخطاب کو بھی عام ہے (اس کی تعریف یہ ہے کہ بیان کردہ حکم کے محض ظاہر الفاظ پر غور کرنے سے یہ پتہ چل جائے کہ مسکوت عنہ کا حکم بھی یہی ہے، اصولِ مذہب الامام احمد بن حنبلؒ:۱۲۸) کیوں کہ ان پر بھی قیاس کی یہ تعریف صادق آتی ہے؛ لہٰذا قیاس کی صحیح ترین تعریف وہی ہوسکتی ہے جس کو کمال الدین ابن الہمامؒ نے "التحریر" میں اختیار کیا ہے کہ علت کے اندر غیر منصوص مسئلہ کا منصوص مسئلہ کے مساوی ہوجانا ہے۔ (اصول مذہب الامام احمد بن حنبل:۵۵۰)

لیکن آمدی کی کی گئی تعریف پر جامعیت کے لحاظ سے جو اعتراض کیا گیا ہے اس کی یہ توجیہ ممکن ہے کہ علت مستنبطہ کی تخصیص انہوں نے تعریف میں اس بناء پر کی ہے کہ جب علت منصوص ہوتی ہے تو بہت کم لوگ حکم کے متعدی کرنے میں اختلاف کرتے ہیں (دیکھئے، ارشاد الفحول:۲۹۸) اور مانعیت کے لحاظ سے جو مفہوم الموافقہ کو لے کر اعتراض کیا گیا ہے تو اس تعلق سے کہا جاسکتا ہے کہ مفہوم الموافقہ کا قیاس کے تحت داخل ہوجانا آمدی کے مسلک کے اعتبار سے مضر نہیں؛ کیونکہ اکثر شوافع کے نزدیک مفہوم الموافقہ بھی قیاس ہی ہے اور وہ قیاسِ جلی کے اقسام میں سے ہے (البحرالمحیط:۵/۳۷) اس لیے گو فی نفسہ محقق ابن ہمامؒ کی تعریف مختار اور عمدہ ہوسکتی ہے، مگر اس سے آمدی کی تعریف پر زد نہیں پڑتی، اس کی جامعیت ومانعیت اپنی جگہ بدستور باقی ہے۔

قیاس کا موضوع[ترمیم]

رویانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسکوت عنہا فروع کے احکام کو عللِ مستنبطہ کے واسطہ سے اصول منصوصہ سے معلوم کرنا قیاس کا موضوع ہے، یعنی منصوص اور صریحی حکم کی علت تلاش کرکے غیر منصوص مسائل کے احکام دریافت کرنا قیاس کا موضوع ہے۔(البحرالمحیط:۵/۱۴۔ ارشاد الفحول:۲۹۶)

قیاس کی مثال[ترمیم]

خمر (شراب) کے پینے کی حرمت کے بارے میں قران پاک کی یہ آیت نص_صریح ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿المائدہ : ۹۰﴾

اے ایمان والو یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت اور پانسے [۲۲۳] سب گندے کام ہیں شیطان کے سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ [۲۲۴]

قیاس کرنے والے مجتہد نے خمر کی حرمت کی علت (وجہ و سبب) پر غور کیا تو وہ خمر کا نشہ آور ہونا پایا گیا. خمر کے بارے میں تو قرآن میں حکم مذکور ہے، لیکن دیگر منشیات کے بارے میں حکم مذکور نہیں. اب آیا ان دیگر منشیات کا استعمال جائز ہے یا ناجائز ہے؟ مجتہد نے غور کیا تو دیگر منشیات میں بھی نشہ آور ہونے کی وہی علت (وجہ و سبب) پائی تو مجتہد نے دیگر منشیات کے بارے میں بھی حرمت کا حکم لگایا یعنی جو حکم خمر (شراب) کا تھا اس کو دیگر منشیات کی طرف متعدی کیا اور ان میں بھی حرمت کا قول کیا.

تو یہاں خمر "اصل" ہے، دیگر منشیات "فرع" اور حکم حرمت، جو اصل سے فرع کی طرف منتقل کرنے کا قیاس کیا گیا.

قیاس کا مدار علت پر ہے حکمت پر نہیں[ترمیم]

یہ امرمحتاج بیان نہیں کہ قیاس کا دارومدار علت پر ہوتا ہے حکمت پر نہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ حکمت غیرمنضبط، تغیر پزیر اورمختلف ہوتی رہتی ہے ،اشخاص کے اعتبار سے بھی، ماحول اور اطراف کے اعتبار سے بھی، اس لیے حکم کی بنیاد ایسی بے ثبات چیز پر نہیں رکھی جاسکتی، اس کے برخلاف علت ایک منضبط اور مستحکم شئی ہوا کرتی ہے ماحول کے اثر کوقبول نہیں کرتی، مثلاً حق شفعہ کے مسئلہ میں غور فرمائیے کہ یہاں ایک چیز ہے "شرکت فی العقار" اور ایک چیز ہے "دفع ضرر الجوار" یعنی شفیع کو حق شفعہ ملنا چاہیے؛ کیونکہ اُس کو بیچے جانے والے مکان وجائیداد میں کسی نہ کسی طرح کی شرکت حاصل ہے، شفیع کو حق شفعہ اس بناء پر بھی ملنا چاہیے کہ بجائے اس کے اگر کوئی اجنبی اس مکان کو خریدلے توامکان ہے کہ بُرے پڑوسی سے سابقہ پڑجائے، دونوں ہی وصفوں میں ادنی غور وفکر سے یہ ثابت ہوگا کہ وصف اوّل تومنضبط ہے کہ شفیع کی شرکت بہرحال رہتی ہے؛ مگروصف دوم غیرمنضبط ہے، ہوسکتا ہے کہ خرید نے والا مشتری دین واخلاق میں خود اس شفیع سے اچھا نکلے ؛اس لیے مزاج شریعت وصف اوّل پر ہی بناء قیاس کا متقاضی ہے، مقتضائے یسر بھی یہی ہے ؛کیوں کہ ہرفرد کے لیے حکمت کا صحیح انضباط حرج سے خالی نہیں اسی وجہ سے شریعت نے مثال مذکور میں بھی حق شفعہ کا دارومدار علت یعنی شرکت فی العقار پر رکھا ہے، دفع ضرر جوار پر نہیں، گوکہ علت کی وضع وتعیین میں فی نفسہ خود حکمت کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔(اصول الفقہ الأبی زہرہ:۱۸۹،۱۹۷۔ تکملہ فتح الملہم:۱/۵۷)

حجیت قیاس[ترمیم]

اللہ جل شانہٗ نے آیات بدء وخلق اور آیات احکام ہردو کے ذریعہ قیاس کے حجت ہونے کی جانب رہنمائی فرمائی ہے، ارشادِ خداوندی ہے: "إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ"۔(آل عمران:۵۹)

ترجمہ:بے شک حالت عجیبہ عیسی کی اللہ تعالٰیٰ کے نزدیک مشابہ حالت عجیبہ آدم کے ہے کہ ان کو مٹی سے بنایا پھر ان کو حکم دیا کہ ہوجابس وہ ہوگئے۔

اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کی خلق وپیدائش کوآدمؑ کے وجود ونشاۃ پر قیاس کیا گیا، دونوں کے مابین علت جامعہ کمال قدرت خداوندی کے علاوہ دونوں پیغمبروں کا بغیرباپ کے ہونا ہے (مقدمہ اعلاء السنن:۲/۷۹) ایک اور مخصوص پس منظر میں یہ آیات نازل کی گئیں: "وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌo قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ"۔ (یٰسٰین:۷۸،۷۹)

ترجمہ:او راُس نے ہماری شان میں ایک عجیب مضمون بیان کیا اور اپنی اصل کو بھول گیا ،کہتا ہے کہ ہڈیوں کو جب کہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں کون زندہ کردےگا؟ آپ جواب دیجیئے کہ اُن کو وہ زندہ کرے گا جس نے اول بار ان کو پیدا کیا اور وہ سب طرح کا پیدا کرنا جانتا ہے۔

ان آیات میں علتِ مشترکہ کمال قدرت کی بناء پر نشاۃ ثانیہ اور بعث بعدالموت کو نشاۃ اولی پر قیاس کرکے ثابت کیا گیا، آیات احکام میں قیاس کا استعمال اس طرح پر ہوا ہے، سورۂ نور کی آیت ۳۱/میں عورتوں کو بتلایا گیا کہ "اباء واجداد سے پردہ ضروری نہیں" بقیہ چچا اور ماموں کو اس فہرست میں شامل کرنے کی ذمہ داری خود بندوں کے سپرد کی گئی، سورۂ احزاب کی آیت ۴۹/میں یہ احکامات دیئے گئے کہ مطلقہ مومنہ غیرمدخول بہا پر کوئی عدت نہیں، اب لامحالہ قیاساً مطلقہ کافرہ غیرمدخول بہا بھی اس حکم میں داخل ہوں گی کہ مبنی اسقاط عدت ایمان نہیں؛ بلکہ عدم مسیس اور مطلقہ کا غیرمدخول بہا ہونا ہے(مقدمہ اعلاء السنن:۲/۸۰۔۸۳)

ان دلائل کے علاوہ قرآنی تعلیلاتِ احکام بجائے خود ایک مستقل موضوع ہے، جس میں قیاس کے حجت شرعیہ ہونے کے صریح اشارات ہیں، آخراللہ تعالٰیٰ نے "فَاعْتَبِرُوا يَاأُولِي الْأَبْصَارِ" (الحشر:۲) کے امرتکلیفی کے ذریعہ قیاس کی حجت تمام کردی کہ "اے خرد مندو! قیاس وعقل سے بھی توکام لو" (اصول بزدوی:۲۵۰) واضح رہے کہ یہاں اعتبار سے قیاس ہی مراد ہے، تدبروتفکر مراد نہیں، جیسا کہ ابن حزم کاگمان ہے ،وجہ اس کی یہ ہے کہ اعتبار "متعدی بدومفعول" کا متقاضی ہوتا ہے اور اس کا تحقق اسی وقت ممکن ہے جب کہ اعتبار بمعنی قیاس ہو، اعتبار بمعنی "تفکر وتدبر تعدی الی المفعولین" کی مطلق صلاحیت نہیں رکھتا، بالفرض اگرتسلیم کرلیا جائے کہ یہاں اعتبار کے معنی تفکروتدبر ہی کے ہیں، جیسا کہ سیاق وسباق سے واضح ہے توجواب یہ ہے کہ یہاں شئی میں تفکرمحض کے معنی ہرگز مراد نہیں ؛بلکہ اُسے اپنی نظیر سے ملحق کرکے تدبر کرنا مقصود ہے اور قیاس اسی سے عبارت ہے۔ (مقدمہ اعلاء السنن:۲/۸۰۔۸۳) فَاعۡتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿٥٩/سورہ الحشر : ٢﴾

... سو عبرت پکڑو اے آنکھ والو.

مفسر قرآن علامہ ابو سعود رح نے تفسیر کبیر کے حاشیہ میں لکھا ہے:

وقد استدل به على حجية القياس

اس آیت سے قیاس کے حجت ہونے پر قیاس کیا گیا ہے. [تفسیر کبیر : ٦/٣٥١]

اور علامہ آلوسی بغدادی رح لکھتے ہیں:

اس آیت سے "قیاس_شرعی" پر عمل کرنے کا استدلال مشہور ہوگیا ہے. علماء نے کہا ہے کہ الله تعالٰیٰ نے اس کے اندر "اعتبار" کا حکم دیا ہے اور وہ ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف "اشتراک" کی وجہ سے حکم کے منتقل ہونے کا نام ہے، اور یہی قیاس شہریت میں معتبر ہے، اس لئے کہ اس کے اندر بھی حکم اصل سے فرع کی طرف منتقل ہوتا ہے. (روح المعانی : ٢٨/٤٢)

سنت سے قیاس کا ثبوت[ترمیم]

آپؐ کے قول وعمل ہردو سے قیاس کا حجت ہونا ثابت ہے، ذخیرہ احادیث میں ایسے ارشادات عالیہ افراط کے ساتھ ملیں گے جوکسی نہ کسی اعتبار سے علل واوصاف موثرہ سے مربوط ہیں، آپؐ کی نگاہ میں اس کا ایک عظیم مقصد یہ بھی تھا کہ مجتہدین امت اصل علت سے رہنمائی حاصل کرکے جدید پیش آمدہ مسائل کا شرعی حل دریافت کریں، سورہرۃ (بلی کا جھوٹا)کے بارے میں ارشادِ گرامی ہے: "إِنَّهَالَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَامِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ"۔ (ابوداؤد، كِتَاب الطَّهَارَةِ، بَاب سُؤْرِ الْهِرَّةِ، حدیث نمبر:۶۸)

ترجمہ : کہ بلی کا جھوٹا ناپاک نہیں ہے؛ کیونکہ وہ اُن جانوروں میں سے ہے جن کی گھروں میں کثرت سے آمدورفت رہتی ہے۔

ایک نکاح میں عورت اور اس کی پھوپھی یاخالہ کو جمع کرنے کی ممانعت میں فرمایا گیا: "إِنَّكُم إِنْ فَعَلْتُمْ ذَلِکَ قَطَعْتُمْ أَرْحَامَكُمْ"۔ (المعجم الکبیر:۱۱/۳۳۷، حدیث نمبر:۱۱۹۳۱)

ترجمہ : کہ اگرتم ایسا کروگے تورشتہ وتعلقات میں دراڑ کا سبب بنوگے۔

مس ذکر کے عدم ناقض وضو ہونے کو یہ علت بیان کرکے سمجھایا گیا: "هَلْ هُوَإِلَّامُضْغَةٌ مِنْهُ"۔ (ترمذی، كِتَاب الطَّهَارَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ، بَاب مَاجَاءَ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ، حدیث نمبر:۷۸)

ترجمہ : کہ عضوتناسل دیگر اعضاء بدن کی طرح بدن کا ایک حصہ ہی تو ہے (پھراس کے چھونے سے وضو کیوں ٹوٹے گا)۔

بوس وکنار کے مفسد صوم نہ ہونے کو آپﷺ نے تشبیہ دی کلی کرنے سے کہ جس طرح مقدمات اکل (منہ میں پانی لینا کلی وغیرہ کی غرض سے) کواکل نہیں کہاجاتا؛ اسی طرح مقدماتِ جماع (بوس وکنار) کے مرتکب کو مجامع نہیں کہا جائے گا۔ (مقدمہ اعلاء السنن:۲/۸۵)

احادیث احکام اس جیسی تعلیلات سے پُر ہیں، اثبات قیاس کے باب میں حدیث معاذؓ شان امام کا درجہ رکھتی ہے، ابوعون کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے معاذ بن جبلؓ کو جب یمن بھیجنے کا ارادہ فرمایا تومعاذؓ کو بلاکر پوچھا کہ بتاؤ معاذ کوئی قضاء درپیش ہوجائے توکس طرح اس سے نمٹوگے؟ عرض کیا یارسول اللہ! کتاب اللہ کی روشنی میں، آپﷺ نے پوچھا کہ کتاب اللہ میں اس کا حکم نہ ملے تو؟ جواب دیا سنتِ رسولﷺ میں تلاش کرونگا، آپﷺ نے پھرمعلوم فرمایا کہ سنت میں اس کی صراحت نہ ملے تو کیا کروگے؟ دست بستہ عرض کیا کہ یارسول اللہ مقدور بھراجتہاد کرونگا، اپنے فرستادہ معاذؓ کے اس موفق جواب پر فرطِ مسرت میں آپﷺ نے ان کے سینہ پر دستِ شفقت رکھا اور حمدوثنا کے ساتھ ان کے طرزِ اجتہاد کی تصویب فرمائی۔ (ترمذی:۱/۲۴۷)

ابن حزم نے اس حدیث کے بارے میں بہت کچھ کہہ ڈالا ہے، مثلاً یہ حدیث حدِ احتجاج سے گری ہوئی ہے، مجہول اور بے نام رواۃ کے واسطہ سے منقول ہے؛ بلکہ قرائن خارجیہ اس کے موضوع ہونے پر دال ہیں؛ لیکن ابن حزم کے ان ہفوات کا علامہ ابن القیم الجوزیہ کی زبانی بس ایک ہی جواب ہے کہ اس حدیث کا دم بھرنے والے کوئی اور نہیں امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرت شعبۃ بن الحجاج ہیں، جن کے بارے میں محدثین کا یہ معروف تبصرہ ہے کہ جس روایت کی سند شعبہ سے ہوکر گذرتی ہوتو اس حدیث کا صحیح ہونا ثابت بلادلیل ہے، استدلالی جواب یہ ہے کہ اصحاب معاذ کی جہالت صحت حدیث میں قادح نہیں کہ حضرت معاذؓ کے اصحاب اور ان کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والے کوئی جھوٹے اور تہمت زدہ لوگ نہ تھے، اس لیے راوی حدیث حضرت حارث بن عمروکارجال سند کے ناموں کی تصریح نہ کرنا بجائے خود حدیث کی شہرت کی دلیل ہے کہ یہ روایت کوئی ایک دوافراد سے نہیں کہ ان کے ناموں کو گنایا جائے؛ پھرابوبکرخطیبؒ کے مطابق ایک سند میں راوی حدیث کی صراحت عبدالرحمن بن غنم کے نام سے بھی مذکور ہوئی ہے اس لیے جہالت کا حکم لگانا صحیح نہیں (اعلام الموقعین:۱/۱۹۴) جہاں تک حدیث مذکور کی موضوع ہونےپر پر پیش کردہ ابن حزم کے قرائن خارجیہ کا سوال ہے تو نہ وہ فی نفسہ اس قابل ہیں کہ ان کی طرف توجہ کی جائے اور نہ ہی صحت سند کے ساتھ روایت کے ثبوت نے ان کی جوابدہی کی کوئی گنجائش چھوڑی ہے، تفصیل جسے مقصود ہو وہ مقدمہ اعلاء السنن:۲/۱۵۷ کی طرف مراجعت کرے۔

اجماع سے قیاس کا ثبوت[ترمیم]

ابن عقیل حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قیاس سے حجت واستدلال کرنا تواتر معنوی کی حدتک پہنچ چکا ہے، ابن دقیق العیدکا کہنا ہے کہ جمہور امت کے نزدیک عمل بالقیاس ایک ایسی طئے شدہ حقیقت ہے کہ جوزمین کے ہرچپہ میں قرناً بعد قرن مشہور ومعروف رہی ہے (ارشاد الفحول:۳۰۳) مانعینِ زکوٰۃ سے قتال پر اجماع صحابہ ایک معروف بات ہے، احادیث کا ادنی درک رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ اس کی بناء تارکین صلاۃ سے قتال پر تھی، حضرت ابوبکرؓ کی خلافت وامامت کبریٰ پر صحابہؓ کا اجماع ،کیا امامت فی الصلاۃ پر مبنی نہیں تھا؟ انکار ہو تو کیا کتبِ احادیث کے اس ٹکڑے کو: "رَضِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَمْرِ دِينِنَا أَفَلَانَرْضَاهُ لِدُنْيَانًا"۔ (حجیۃ القیاس:۶۶)

ترجمہ: کہ جس شخصیت کا انتخاب رسول اللہ نے ہمارے دین ونماز کے لیے کیا ہے، ہماری دنیا ومعاش کی قیادت کے لیے اس سے موزوں اور کوئی ہوسکتا ہے؟۔

صحابہؓ کے حین حیات حضرت عمرؓ کی حکمت سے معمور بصیرت افروز نگارشات کیا حجیت قیاس کے لیے کافی نہیں، حضرت عمرؓ اپنے ایک مکتوب کے ذریعہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو مقدمات کے فیصلے کرنے کے اصول وطریقہ کار سے متعلق چند نہایت اہم ہدایات دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمہارے قلب میں جب کسی ایسے معاملہ کے متعلق کھٹک ہو جس کا کوئی حکم کتاب وسنت میں موجود نہ ہوتواس تردد واشکال کے وقت اپنے فکرونظر کو کام میں لاؤ اور واقعہ کی نوعیت کے سارے پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھ کر بنظرِغائر جائزہ لوپھر ان کے اشباہ ونظائر کو تلاش کرو،اسکے بعد ان نظائر کوسامنے رکھ کر قیاس کرو اور اس بات کا پورا لحاظ رکھو کہ جوعنداللہ اقرب ہو اور زیادہ سے زیادہ جوحق کے مشابہ ہو اس پر تمہارا اعتماد قائم ہوسکے۔ (چراغِ راہ:۲۶۵۔ اعلام الموقعین:۱/۹۲)

ہم اس بحث کو امام شافعی کے شاگردِ رشید اور ان کے دستِ راست امام مزنی رحمہ اللہ کے چند نہایت بلیغ ونادر کلمات پر ختم کرنا چاہتے ہیں وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ عہد نبوی سے لے کر ہمارے اس دور تک تمام فقہاء نے زندگی کے ان سارے معاملات میں قیاس سے کام لیا جن کے لیے دینی احکام کے اثبات واظہار کی ضرورت پڑی اور اس مدت کے تمام علماء کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ حق کی نظیر حق ہوتی ہے اور باطل کی نظیر باطل؛ لہٰذا کسی شحص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قیاس کا انکار کرے؛ کیونکہ قیاس کا مآل ومفاد اس کے سوا کیا ہے کہ وہ ان امور میں کتاب وسنت کے مشابہ اور اس کے مثل ہے جن سے کتاب وسنت خاموش ہیں اور جب نظیر حق ہوتی ہے تو قیاس جو حق کی نظیر ہے وہ بھی حق ہوگا۔ (چراغِ راہ:۲۶۸۔ اعلام الموقعین:۱/۱۹۷)

قیاس کے مثبتین و منکرین کے بارے میں[ترمیم]

علامہ ابن عبدالبر اپنی مایہ ناز کتاب "جامع بیان العلم" میں رقمطراز ہیں:جمہور امت اور تمام امصار کے علماء کا مسلک یہی ہے کہ مسائل توحید اور عقائد میں قیاس کودخل نہیں ہے اور احکام میں قیاس سے چھٹکارا بھی نہیں ہے، اصحابِ ظواہر کے سرکردہ داؤد بن علی ظاہری کے علاوہ علامہ قاسانی ،علامہ نہروانی اور ظاہریہ کے امام ثانی فخراندلس ابن حزم اندلسی وغیرہ گروہ منکرین کے بڑے ہی نقادلوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ (ارشاد الفحول:۲۹۸)

چنانچہ ابن حزم "الاحکام" میں لکھتے ہیں: "ذهب أهل الظاهر إلى إبطال القول بالقياس جملة، وهو قولنا الذي ندين الله به، والقول بالعلل باطل"۔ (ارشادالفحول،الفصل الثانی فی حجیۃ القیاس،مدخل۲/۹۴۔ احکام فی اصول الاحکام لابن حزم/:۷/۳۷۰،۸/۵۴۶)

یعنی اصحابِ ظواہر کا مذہب قیاس اور علل واسباب کے بطلان کا ہے، ہماری اپنی رائے بھی یہی ہے۔ سرخیل منکرین ابن حزم ظاہری کے انکارِ قیاس کے دلائل کا خلاصہ انکارِ قیاس کے بارے میں ابن حزمؒ کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ ان کے دلائل کا پہلے خلاصہ پیش کردیا جائے، تفصیل کا یہاں موقع نہیں، جسے وقت ہو وہ حضرت مولانا ظفراحمد عثمانی رحمہ اللہ کی "انہاء السکن الی من یطالع اعلاء السنن، جلد دوم" کا مطالعہ کرے یہاں سردست صرف ابوزہرہ کی ذکر کردہ تلخیص پیش کی جاتی ہے۔ ابنِ حزم کے انکارِ قیاس کی بناء اصولی اعتبار سے پانچ دلائل پر موقوف ہے: (۱)احکام تمام ہی منصوص ہیں، فرق اتنا ہے کہ بعض کی تنصیص بالتخصیص ہوتی ہے کہ فلاں چیز فرض یامستحب ہے، فلاں حرام ہے یامکروہ ہے اور جن کی صراحت علی سبیل التخصیص نہ کی گئی ہو وہ امور نص قرآنی: "هُوَالَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَافِي الْأَرْضِ جَمِيعًا"۔ (البقرۃ:۲۹)

ترجمہ:وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے فائدہ کے لیے جو کچھ بھی زمین میں موجود ہے۔

یعنی بالفاظ اصولیین اشیاء میں اصل اباحت ہے، کے عموم میں داخل ہیں؛ لہٰذا قیاس کا کوئی معنی نہیں۔

(۲) قیاس کی حجیت کا قائل ہونا، بالواسطہ شریعت کے کمال کے انکار اور نبی کریمﷺ پر فریضہ تبلیغ کی علی وجہ الکمال عدم ادائیگی کی تہمت کے مترادف ہے؛ اس لیے قیاس کو کیوں کرتسلیم کیا جاسکتا ہے۔

(۳) تمام ہی اصولیین کے لیے اصل وفرع کے درمیان علت مشترکہ ضرورت کوقرار دیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ آیا بیان کردہ علت مشترکہ منصوص ہے یاغیرمنصوص، منصوص ہوتو اثبات حکم کا تعلق براہِ راست نص سے ہوگا، قیاس سے نہیں اور اگرعلت مشترکہ شارع کی جانب سے غیرمنصوص اور انسانی استنباط کردہ ہوتو اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ شریعت کی نظر میں علت مشترکہ کوئی چیز نہیں اور نہ اس کی کوئی وقعت ہے؛ اسی بناء پرتوشریعت نے علت مشترکہ کی رہنمائی ضروری نہیں سمجھی۔

(۴) نبی کریمﷺ کی تعلیم غیرمنصوص احکام کے متعلق یہ ہے:

"ذَرُونِى مَاتَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَااسْتَطَعْتُمْ ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَىْءٍ فَدَعُوهُ"۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی، كتاب الحج، باب وُجُوبِ الْحَجِّ مَرَّةً وَاحِدَةً، حدیث نمبر:۸۸۷۷)

ترجمہ: کہ چوں و چرا ٹھیک بات نہیں کہ اُممِ سابقہ کو یہی لعنت لے ڈوبی ہے؛ اس لیے جوچیز بیان کردی جائے اُسے لے لو اور جس سے روک دیا جائے اُس سے رُک جاؤ اور بس!۔

(۵) ارشادِ باری تعالٰیٰ ہے: "يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَاتُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ"۔ (الحجرات:۱)

ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے تم سبقت مت کیا کرو ۔

"وَلَاتَقْفُ مَالَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ"۔ (الاسرء:۳۶)

ترجمہ:اور جس بات کی تحقیق نہ ہو اُس پر عمل درآمد مت کیا کرو۔

"مَافَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ"۔ (الانعام:۳۸)

ترجمہ:ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی۔

ان جیسی تہدید آمیز نصوص کے ہوتے ہوئے قیاس کی جرأت کوحماقت کے سوا اور کیا نام دیا جاسکتا ہے۔

  • ابنِ حزم کے دلائل کا تنقیدی جائزہ

ابنِ حزم کے مذکورہ دلائل کا تجزیہ کیا جائے توبنیادی طور پر اس کے پیچھے دوہی نظریے کار فرمانظر آتے ہیں:

(۱)نصوصِ قرآنی اور نصوص نبویﷺ تمام ہی احکام کو منتہی اور محیط ہے، ابن حزم کی دلیل اوّل، ثانی، رابع اور خامس میں اسی کی جھلک نظر آتی ہے، ان کا دوسرا نظریہ یہ ہے کہ قیاس کوئی شریعت کی وضع کردہ اصل نہیں؛ بلکہ انسانی ذہنوں کی کارستانی ہے جوشریعت کی نصوصِ کاملہ پر زیادتی کوموجب ومستلزم ہے، تیسری دلیل اسی نظریہ کا شاخسانہ ہے۔

جہاں تک حضرت موصوف کے نظریۂ اوّل کی بات ہے تویہ مسلم ہے، جمہور بھی یہی کہتے ہیں کہ شریعت نے کسی جگہ تشنگی اوراحتیاج غیرکا خانہ نہیں چھوڑا ہے، نصوص وافر مقدار میں موجود ہیں، بات صرف اتنی سی ہے کہ اصحابِ ظواہر لکیر کے فقیر ہوتے ہیں اور جمہور مزاج شریعت کو سمجھتے ہوئے نص کی تہہ تک پہنچتے ہیں اور مدلول میں توسیع کرتے ہیں، ان بزرگان کا کہنا ہے کہ شریعت کے احکام منصوص بھی ہوتے ہیں اور اُن مقاصد شرع کے تابع بھی ہوتے ہیں کہ شریعت، جن کی جملہ نصوص اور عام حالات میں رعایت رکھتی ہے؛ مثلاً قرآن کریم کا ایک حکم ہے کہ "شراب حرام ہے" مگراس حکم میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ ہروہ چیز جس کا ضرر غالب ہو، اس کا استعمال بھی حرام ہے کہ شریعت کے عمومی مزاج کا تقاضا یہی ہے، اس لیے درحقیقت قیاس کوئی الگ چیز نہیں؛ بلکہ اس کا قوام واعتماد نص ہی پر ہے اور اسی میں نص کی کارکردگی مضمر ہے، اس تقریر سے ابن حزم کی بناء ثانی بھی منہدم ہوگئی؛ کیونکہ جیسا کہ بتلایا گیا، قیاس کی حیثیت وحقیقت "اعمالاً للنص" کی ہے "زیادۃ علی النص" کی نہیں اور حق تو یہی ہے کہ تعلیل نصوص ایسی بدیہی المعرفت حقیقت ہے کہ جس کے انکار کا انجام سوائے بچکانہ موشگافیوں کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ انکارِ قیاس کے بطلان پر ظواہر پرستوں کی جگہ یہ خبطگی کیاکچھ کم ہے؟ کہ آدمی کا پیشاب توناپاک ہے کہ اس کی نجاست منصوص ہے اور سور کا پیشاب پاک کہ نص میں اس کے حکم کی تصریح نہیں۔(اصول الفقہ لابی زہرۃ:۱۷۷۔۱۸۰)

آخر میں اس عنوان کوڈاکٹر مصطفی احمد زرقاء کی چشم کشاتحریر پر ختم کیا جاتا ہے کہ:

"یہ صحیح ہے کہ جونصوص عام ہوتی ہیں ان کے احاطہ میں بہت سی انواع واشکال ہوا کرتی ہیں؛ مگریہ صورت انسان کو قیاس سے مستغنیٰ نہیں کرسکتی، اس لیے کہ عام نص اپنے عموم کے دائرہ میں صرف انہی اکائیوں کو لیتی ہے او رلے سکتی ہے جو اس نص کے مفہوم میں داخل ہیں ؛لیکن نئے پیش آمدہ مسائل اور معاملات کے وہ انواع واقسام جواس نص کے مفہوم میں سرے سےشامل ہی نہ ہوں وہ اس نص کے عموم کے دامن میں کس طرح آسکتے ہیں، ایسی صورت میں یہ نصوص براہِ راست اپنے احکام کے دائرہ میں ان انواع واقسام کو لینے کے بجائے ان کے لیے صرف اشباہ ونظائر کا کام دے سکتی ہیں اوران کے لیے احکام کی قفل کشائی اسی قیاس کے ہاتھوں ہوتی ہے"۔

(چراغِ راہ:۲۶۸)

منکرینِ قیاس بھی قیاس سے مستغنی نہیں[ترمیم]

ابن حزم اور داؤد ظاہری وغیرہ اگرچہ بظاہر قیاس کا انکار کرتے ہیں مگردلچسپ بات یہ ہے کہ جدید حالات سے جب ان حضرات کو سابقہ پڑا تویہ منکرین بھی قیاس سے کام لینے پر مجبور ہوئے اور اس کو انہوں نے دلیل سے موسوم کیا؛ چنانچہ ابوالفداء فرماتے ہیں:داؤد شریعت میں قیاس کو مسترد کرتے تھے؛ مگراس کے بغیر کام نہ چلا اور جب خود قیاس کیا تو اس کا نام دلیل رکھا۔ (چراغِ راہ:۲۶۰)

علامہ ظفر احمدعثمانی اپنی وقیع المرتب تصنیف کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ ابنِ حزم کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ مواقع قیاس پر کتاب وسنت کی عمومی نصوص استصحاب حال، اقل ماقیل فیہ یااجماع کی آڑلے کر اپنے کوقیاس سے مستغنی گرداننے کی سعی بے سود کرتے ہیں۔(مقدمہ اعلاء السنن:۲/۹۳)

قیاس کا استعمال کب؟[ترمیم]

علامہ بدرالدین زرکشیؒ لکھتے ہیں کہ قیاسِ شرعی اصول ِشرع کی ایک ایسی مہتم بالشان اصل ہے جس کے ذریعہ "غیرمنصوص مسائل" کا حل تلاش کیا جاتا ہے (البحرالمحیط:۵/۱۶) امام شافعیؒ اپنی مشہور زمانہ تصنیف الرسالۃ میں رقمطراز ہیں کہ جس مسئلہ کی بابت نص کا لازمی حکم موجود نہ ہو وہاں ہم قیاس واجتہاد کے ذریعہ اُسے معلوم کرتے ہیں اور بات تویہی ہے کہ ہم اُسی حق وصواب کی اتباع کے مکلف ہیں جوتحقیق واجتہاد کے بعد ہمارے نزدیک ثابت ہوجائے (الرسالۃ:۴۷۴) خود حضرت امام ابوحنیفہؒ کا طریقہ اجتہاد یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ اولاً میں قرآن کو لیتا ہوں؛ اگراس میں حکم ملے اگراس میں نہ ملے تورسول اللہﷺ کی سنت پر عمل کرتا ہوں اور ثقہ لوگوں کے ذریعہ سے جوصحیح حدیث نبوی ملے اُس کو لیتا ہوں؛ اگران میں باہم اختلاف ہوتو خود کسی ایک کو ترجیح دیتا ہوں؛ لیکن صحابہ اور غیرصحابہ میں اختلاف ہوتو صحابہ کے قول کوہرگز نہیں چھوڑتا، ہاں جب رائے ابراہیم اور شعبی اور حسن بصری اور ابنِ سیرین اور سعید بن المسیب وغیرہ وغیرہ کی ہوتو جس طرح ان کو اجتہاد کا حق ہے مجھے بھی ہونا چاہیے۔ (امام ابوحنیفہؒ کی تدوین قانون اسلامی، از ڈاکٹر حمیداللہ)

کس قدر عادلانہ اورحقیقت پسندانہ طرز اجتہاد ہے اور مخالفین ومعترضین سے کس قدر سادہ اور تشفی بخش تخاطب ہے؛ مگربرا ہوتعصب کا کہ جس کے آگے نہ ہی حق بات کے اعتراف کی توفیق ہوتی ہے اور نہ ہی کسی مسلمان کی مسلمانیت کا احترام۔

قیاس صحیح و قیاس فاسد[ترمیم]

اس کلیہ سے ہرگز اتفاق نہیں ہوسکتا کہ ہرقیاس غلط اور بے بنیاد ہوتا ہے، ہاں یہ سچ ہے کہ ہرقیاس سند اعتبار حاصل نہیں کرسکتا، اس لیے لامحالہ قیاس کو دوخانوں میں باٹنا ہوگا، ایک وہ جونص وشریعت کے مطابق اور صحابہ سے ماخوذ احکام شرعیہ کے موافق ہو ،قیاس صحیح اسی کانام ہے، دوسرا وہ جونص وشریعت کے معارض ہو ،قیاس فاسد اسی کو کہتے ہیں (شیخ الاسلام ابن تیمیہ، از سعد صادق محمد:۹۸،۹۹) اورامام غزالی کی فنی اور منطقی الفاظ میں اس کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے، حکم کے واسطے اگرعلت جامعہ فرع کو اصل سے الحاق کی متقاضی ہوتوقیاس صحیح ورنہ فاسد (المستصفی:۲/۲۲۸) غور کیا جائے تو مآل کے اعتبار سے دونوں تعبیر میں کوئی فرق نہیں ہے۔

علت کے اعتبار سے قیاس کی تقسیم[ترمیم]

علامہ آمدی کہتےہیں کہ جب علت کا مبنی قیاس و مناط حکم ہونا متحقق ہوچکا ہے تو اب اس میں نظر و اجتہاد تین طریقہ پر ہوسکتا ہے: (۱)تحقیق مناط (۲)تنقیح مناط (۳)تخریج مناط۔ (الاحکام للامدی:۳/۴۳۵)

مناط دراصل متعلق کو کہا جاتا ہے،محاورہ ہے "نطت الحبل بالوتد" میں نے رسی کو کھونٹے سے باندھا اوراس سے متعلق کیا، علت بھی چوں کہ متعلق حکم ہوا کرتی ہے، اس لیے اُسے بھی مناط حکم کہا جاتا ہے (شرح الکوکب المنیر:۴/۱۹۹) اسی مناط کو دریافت کرنے کے تین طریقے ہیں۔ تحقیقِ مناط تحقیق مناط یہ ہے کہ حکم تواپنے مدرک شرعی کے ساتھ موجود ہوتا ہے؛ البتہ اس کے محل کی تعین باقی رہ جاتی ہے جیسے فرمانِ خداوندی ہے: "وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ"۔ (الطلاق:۲)

ترجمہ:اور اپنے میں سے دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو عدل والے ہوں ۔

اب بنی آدم میں عادل بھی ہیں، فاسق بھی ہیں، نظرواجتہاد سے عادل وفاسق کی نشاندہی تحقیق مناط ہے (الموافقات للشاطبی:۴/۴۶۴،۴۶۵) ایسے ہی شریعت کا یہ حکم کہ بلی کا جھوٹا ناپاک نہیں کہ گھروں میں اس کی آمدورفت کثرت سے ہوتی رہتی ہے؛ اگراس کے باوجود اس کے جھوٹے کوناپاک قرار دے دیا جائے توحرج لازم آئے گا، اب کیا چوہا اور دیگرگھریلو جانور بھی اس زمرہ میں آتے ہیں؟ اس کی تحقیق، تحقیق مناط کہلاتی ہے اور قیاس میں تحقیق مناط کی بڑی ضرورت ہے؛ اسی لیے علامہ شاطبیؒ کہتے ہیں کہ قیاس واجتہاد کی اس قسم کا ارتفاع تسلیم کرلیا جائے تواحکام شرعی سارے کے سارے دھرے اور تصورِ ذہنی کی نذر ہوجائیں گے۔(الموافقات:۴/۴۶۷)

امام غزالی اور دیگرتمام اصولیین کا بھی یہی تجزیہ ہے؛ یہی وجہ ہے کہ منکرینِ قیاس کو بھی اس کی حجیت تسلیم ہے۔

تنقیح مناط

علامہ شاطبیؒ لکھتے ہیں کہ وصف معتبر کووصف ملغی سے ممتاز کرنا تنقیح مناط کہلاتا ہے۔ (الموافقات:۴/۴۶۷)

علامہ بدرالدین زرکشی نے بھی یہی تعبیر اختیار کی ہے (البحرالمحیط:۵/۲۵۵) حاصل اس کا یہ ہے کہ شریعت نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ حکم چند ایسے اوصاف میں گھرا ہوا ہے کہ جن میں سے ہروصف پر فی الجملہ علت حکم ہونے کا شبہ کیا جاسکتا ہو، تنقیح مناط یہ ہے کہ ان اوصاف میں سے وصف صالح کی تعیین کردی جائے، عموماً اس کی مثال میں یہ واقعہ پیش کیا جاتا ہے کہ زمانۂ رسالت میں ایک اعرابی نے ایامِ رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کرلی تھی جس کو آپﷺ نے کفارہ کا حکم دیا تھا؛ یہاں وصف صالح یعنی قصداً جماع کرنے کے علاوہ دیگر کئی غیرصالح اوصاف جمع ہیں، شخص مذکورہ کا اعرابی ہونا، خاص منکوحہ سے صحبت کرنا، معہود رمضان کا سال ودن ہونا وغیرہ وغیرہ ظاہر بات ہے کہ مکلف کا اعرابی ہونایامخصوص رمضان کا دن ہونا وغیرہ اوصاف کفارہ کی علت نہیں بن سکتے، تنقیح مناط پر پتہ چلا کہ علت کفارہ حالت روزہ میں عمداً صحبت کرنا ہے۔ (دیکھئے المستصفی:۲/۲۳۰۔ ونفائس الاصول:۷/۳۲۳۰۔ والمسودۃ:۵۰۳۸۷۔ المستصفی:۲/۲۳۳)

تخریجِ مناط مناط کی جملہ اقسام میں تخریج مناط ہی معرکۃ الاراء سمجھی جاتی ہے، مثبتین اور منکرین کا اصل نزاع اس کی حجیت میں ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں صرف حکم اور محل حکم کی تشریح ہوتی ہے اور مناط حکم اور علت سے کسی طرح کا تعارض نہیں کیا جاتا ہے؛ بلکہ بتقاضائے حکمت مجتہدین وباحثین ہی کوتلاش علت کی ترغیب دی جاتی ہے؛ تاکہ ان کے اذہان کی تشحیذ ہو، انجماد کی کیفیت دور ہو اور فقہی کارواں اپنے منہج اصلی کے ساتھ رواں دواں رہے۔ (المستصفی:۲/۲۳۳)

تخریجِ مناط کی مثال اللہ تعالٰیٰ نے شراب کی تحریم اور اس سے اجتناب کے احکام تونازل فرمادیئے، مگرعلتِ حرمت کی تصریح نہیں کی، بحث وتمحیص کے بعد علت کا استخراج ہی تخریج مناط کہلاتا ہے؛ چنانچہ مجتہدین کی بڑی جماعت نے اجتہاد کے ذریعہ نشہ اورسکر کو تحریم خمر کی علت قرار دیا ہے، اس کلیہ سے شاید ہی کسی حقیقت پسند کوانکار ہوگا کہ بنیادی طور پر احکامِ خداوندی میں انسانوں کوجان ومال، عقل ونسب اور دین پانچ چیزوں کی بڑی ہی رعایت رکھی گئی ہے (فواتح الرحموت علی ھامش المستصفی:۲/۲۶۲) اس کا بقاء اسی میں ہے کہ قیاس واجتہاد کے ذریعہ اسباب وعلل کی تہہ تک پہنچا جائے؛ ورنہ احکام کا اجراء بے معنی ہوکر رہ جائے گا اور یہ فاسد نتیجہ برآمد ہوگا کہ شراب پینا توحرام ہے کہ اس کی حرمت منصوص ہے بقیہ منشیات ومسکرات بلاجھجک استعمال کی جاسکتی ہیں کہ نص ان سے ساکت ہے۔ مناط کی تینوں اقسام پر سرسری نظر سے یہ بدیہی نتیجہ سامنے آئے گا کہ تحقیقِ مناط قسم اعلیٰ، تنقیح مناط اوسط اور تخریج مناط ادنی قسم ہے کہ اوّل میں علت متعین ہوتی ہے، ثانی میں تعیین کرنی پڑتی ہے اور ثالث میں تخریج کرنی پڑتی ہے، جس میں خطا کا بھی احتمال ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. البحرالمحیط:5/6
  2. فواتح الرحموت:2/246
  3. ارشاد الفحول:295