استصحاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

استصحاب فقہ اِسلامی کی ایک اصطلاح ہے۔ اِسے استدلال کی ایک جزوی قسم سمجھا جاتا ہے۔

فقہی تشریح[ترمیم]

اِستِصحاب کے لغوی معنی ہیں: ’’باقی رکھنا‘‘۔ ازروئے استدلال یہ طے کرنا کہ کسی چیز کا وجود یا عدمِ وجود علیٰ حالہٖ قائم رہے، تا آنکہ تبدیلیٔ حالات سے اِس میں تبدیلی پیدا نہ ہوجائے۔ یہ گویا وہ عقلی دلیل ہے جس کی بنا نہ تو نص پر ہے، نہ اجماع پر اور نہ ہی قیاس پر ہی ہے۔ جیسا کہ علی بن محمد الآمدی (متوفی 631ھ) نے کہا ہے کہ: ’’ھُوَ عِبَارَۃٌ عَنْ دَلِیْلِِ لَا یَکُوْنُ نَصًّا وَ لَا اِجْمَاعًا وَ لَا قِیَاسًا ۔[1]

استدلال کی 2 اِقسام ہیں: اول استدلال منطقی، جس کو مثال سے یوں پیش کیا جاسکتا ہے کہ بیع کا ایک معاملہ ہے اور یہ ہر معاملے کا سب سے بڑا جزو کہلاتا ہے، یعنی رضا مندی۔ جسے اگر تسلیم کر لیا جائے تو یہ ایک ایسا قول ہوگا جس کے ساتھ ایک دوسرا قول بھی تسلیم کرنا پڑے گا اور وہ یہ کہ بیع کا سب سے بڑا جزو رَضا مندی ہے، کیونکہ یہ منطقی نتیجہ ہے قولِ اَول کا، جس پر ازروائے عقل کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا اور جسے اِس لیے من و عن صحیح ماننا پڑے گا۔ استدلال کے دوسری قسم ’’استدلال عقلی‘‘ ہے جسے اصطلاحاً اِستصحاب الحال کہا جاتا ہے اور اِس کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ:’’ یہ وہ دلیل عقلی ہے کہ کوئی اگر اور دلیل (یعنی نص، اجماع اور قیاس کی) موجود نہیں تو پھر اِس (یعنی اِستصحاب) سے کام لیا جائے گا۔مثلاً اِس صورت میں جب کسی چیز کے وجود یا عدمِ وجود کو باقی رکھنا مقصود ہے حتیٰ کہ حالات تبدیل ہوجائیں یا بدل جائیں۔ امام شافعی کے متّبعین میں سے اکثر یعنی المزنی، الصیرفی، امام غزالی اور ایسے ہی امام احمد بن حنبل اور اُن کے اکثر پیرو اور اِسی طرح شیعہ امامیہ بھی خاص خاص صورتوں میں استصحاب کے قائل ہیں۔ البتہ احناف میں سے بعض کو اور متکلمین کی ایک جماعت کو اِس سے اِنکار ہے۔[2]

امام ابن قَیَّم الجوزیہ کا قول[ترمیم]

امام ابن قَیَّم الجوزیہ (متوفی 751ھ) نے اِستصحاب کی تعریف اِن الفاظ میں کی ہے کہ: ’’جو ثابت ہے، اُس کا اثبات اور جس کی نفی ہوچکی ہے، اُس کی نفی کو قائم رکھنا ہے اور اِس کی تین اِقسام ہیں: ’’اسْتِدَامَۃُ إثْبَاتِ مَا کَانَ ثَابِتًا اَوْ نَفْیُ مَا کَانَ مَنْفِیًا وَ ھُوَ ثَلَاثَۃُ اَقْسَامِِ۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد بن علی الآمدی: الاِحکام فی اُصولِ الاَحکام، جلد 4، صفحہ 161۔
  2. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد دؤم، صفحہ 112/113۔
  3. امام ابن قَیَّم الجوزیہ: إعلام الموقعین، جلد 1، صفحہ 294۔ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ، قاہرہ، مصر۔