مباح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مضامین بسلسلہ

فقہ

ائمہ فقہ

امام ابو حنیفہ · امام مالک
امام شافعی · امام احمد بن حنبل
امام جعفر صادق

فقہ خمسہ

فقہ حنفی · فقہ شافعی
فقہ مالکی · فقہ حنبلی
فقہ جعفری

تقسیم بلحاظ تقلید

احناف · شوافع
مالکی · حنابلہ
مجتہدین · غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلافِ اولی
مباح


مباح عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اباحت یعنی جواز کے ہیں۔

مباح کی تعریف[ترمیم]

مباح وہ کام ہے جس میں فعل (کرنا) اور ترک فعل (نہ کرنا) دونوں مساوی ہوں اور کسی ایک کی دوسرے پر ترجیح نہ ہو کبھی کسی کام کا مباح ہونا منصوص (نص سے ثابت) ہوتا ہے اور کبھی اس کی اباحت پر صاف تصریح نہیں ہوتی بلکہ جس فعل کی شریعت میں طلب یا ممانعت نہ ہو وہ مباح ہوتا ہے، وہ کام جو شرعاً حلال ہو نہ حرام اسے مباح کہتے ہیں۔ مثلاً لذیذ کھانے کھانا اور نفیس کپڑے پہننا، وغیرہ

مباح کی مثال[ترمیم]

مباح کی مثال یہ آیت ہے : لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم (البقرہ : 198) (اگر تم سفر حج میں) تجارت کے ذریعہ اللہ کا فضل تلاش کرو تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ فان خفتم الایقما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما اقتدت بہ (البقرہ : 229) اگر تم دونوں (میاں بیوی) کو یہ خطرہ ہو کہ تم اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکو گے تو تم دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ بیوی شہر سے نجات حاصل کرنے کے لئے اس کو کچھ دے ڈالے (یعنی خلع کرلے) فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف (البقرہ : 234) پھر جب بیوہ عورتوں کی عدت ختم ہوجائے تو وہ رواج کے مطابق جو اپنی زیب وزینت کریں تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس آیت میں عدت ختم ہونے کے بعد سوگ ختم کرنے اور بیوہ کے عقد ثانی کی اباحت ہے۔ ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النسآء او اکنتم فی انفسکم (البقرہ : 235) اگر تم دوران عدت عورتوں سے اشارہ کنایہ سے منگنی کا پیغام دو یا اس کو پانے دل میں پوشیدہ رکھو تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ یہ چند مثالیں ہیں جن میں مباح کی تصریح کی گئی ہے ان کے علاوہ قرآن مجید اور احادیث میں اور بہت مثالیں ہیں اور جن کاموں کی اباحت کی تصریح نہیں وہ اس حدیث سے مستبط قاعدہ میں داخل ہیں : حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گھی، پنیر اور جنگلی گدھے کو کھانے کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا حلال وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کردیا اور حرام وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حرا م کر دیا اور جس کے متعلق اللہ نے سکوت فرمایا وہ معاف ہے (یعنی مباح ہے) [1]

فقہاء کا استنباط[ترمیم]

اس حدیث سے فقہاء نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ اصل اشیاء میں باحت ہے، یعنی جب کسی چیز کی ممانعت کی کوئی دلیل نہ ہو تو وہ اپنی اصل کے مطاق مباح ہے، علماء اہل سنت نے میلاد شریف، سوم، چہلم اور عرس وغیرہ کے جواز پر اسی حدیث اور اسی قاعدہ سے استدلال کیا ہے۔

مباح مستحب ہوگا یا مکروہ[ترمیم]

مباح کی تعریف اسی طرح کی گئی ہے کہ اس پر کوئی ثواب اور عقاب نہیں لیکن اس کا تعلق بھی نیت کے ساتھ ہے مثلاً رات کو سونا مباح ہے لیکن اگر آدمی اس نیت سے سوئے کہ وہ رات کے دو تہائی حصہ میں سو کر بقیہ ایک تہائی میں تہجد پڑھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت پر عمل کرے گا یا اس نیت سے سوئے کہ دن کو عبادت کی مشقت یا تبلیغ دین اور کتب دینیہ کی تدریس، دینی تصنیف و تالیف سے جو تھکاوٹ ہوتی ہے رات کو آرام کر کے اس تھکاوٹ کو زائل کرے گا تاکہ صبح کو ترو تازہ ہو کر پھر دینی خدمات کرے، یا اپنی اور اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے اور رزق حلال کے لئے کمائی کرنے سے جو تھکاوٹ ہوئی ہے رات کو سو کر اس تھکاوٹ کو دور کرے گا تاکہ صبح پھر تازہ دم ہو کر زق حلال کی طلب کی جدوجہد میں مصروف ہو، تو اس کا یہ سونا بھی عبادت ہے اور کار ثواب ہے، اور اگر اس نیت سے رات کو آرام کرتا ہے کہ دن بھر گانے بجانے یا ناچنے اور ادا کاری اور صدا کاری کرنے یافوٹو گرافری کرنے یا ڈاڑھیاں مونڈنے یا اسمگلنگ کرنے، جعلی ادویات اور نقلی اشیاء فرخت کرنے، ناجائز بھتے جمع کرنے، ڈاکے ڈالنے، لوٹ مار کرنے، قتل و غارت گری کرنے اور تخریب کاری کرنے سے جو تھکاوٹ ہوئی ہے اس کو رائل کر کے صبح پھر نئی توانائی سے ان ناجائز دھندوں پر لگ جائے گا تو اس کا سونا بھی گناہ ہے اور باعث عذاب ہے۔ اسی طرح عمدہ اور لذیذ کھانے کھانا بھی مباح ہے لیکن یہ کھانا اگر اس نیت سے ہو کر اس کھانے سے جو طاقت حاصل ہوگی اس کو نیک کاموں میں صرف کرے گا تو اس کا کھانا بھی عبادت ہے اور کار ثواب ہے اور اگر یہ کھانا اس نیت سے ہو کر اس سے جو طاقت حاصل ہوگی اس کو برائی کے راستہ میں خرچ کرے گا تو اس کا کھانا بھی گناہ ہے اور باعث عذاب ہے، اسی طرح قیمتی اور خوبصورت لباس پہننا مباح ہے لیکن اگر اس نیت سے قیمتی کپڑے پہنے کہ اللہ کی نعمت کا اظہار ہو، لوگ اس کو برے حال میں دیکھتے تو اس کی غیبت اور بدگوئی کرتے وہ اچھے کپڑے پہن کر ان کو غیبت اور بدگوئی سے بچاتا ہے تو اس کا قیمتی اور خوبصورت کپڑے پہننا بھی عبادت ہے اور اگر وہ قیمتی کپڑے اپنی برتری کے اظہار اور تکبر کرنے اور اترانے کے لئے یا پرائی عورتوں کو لبھانے کے لئے پہنے تو اس کا قیمتی کپڑے پہننا بھی گناہ ہے اور باعث عذاب ہے۔ غرض ہر مباح کام کے دو پہلو ہیں اگر وہ کام نیک نیت سے ہو تو وہ مستحب اور سنت ہے اور اگر وہ مباح کام برائی کی نیت سے ہو تو مکروہ یا حرام ہے، اس لئے محققین نے کہا ہے کہ مباح الگ سے کوئی حکم شرعی نہیں ہے وہ ان ہی دس قسموں میں سے کوئی ایک قسم بن جاتا ہے، اور مومن کامل کا کوئی فعل مباح نہیں ہوتا ہر فعل مستحب یا سنت ہوتا ہے اور فاسق اور بدچلن کا بھی کوئی فعل مباح نہیں ہوتا اس کا ہر فعل مکروہ یا حرام ہوتا ہے۔

مباح کا حکم[ترمیم]

کسی مباح عمل کو اپنی مرضی سے کرنے یا نہ کرنے پر ثواب یا گناہ نہیں ہوتا۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سنن الترمذی رقم الحدیث، 1726
  2. بہارشریعت ،ج1،حصہ2،ص283