گناہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

گناہ کے کئی معنی ہیں
1. خطا، قصور، لغزش۔ 2. ایسا فعل جس کا کرنے والا مستحق سزا ہو، جرم، ناپسندیدہ فعل، فعل ممنونہ، بری بات۔ 3. {{شرع}} ایسا فعل کرنا جو شرعا ممنوع ہو اور کرنے والا عذاب کا مستوجب ہو، اوامر اور نواہی کی خلاف ورزی کرنا، نافرمانی کرنا۔ 4. {{طریقت}} اپنے آپ کو دنیا میں منہمک رکھنا اور حق سے غافل ہونا۔[1] مذاہب میں غیر اخلاقی کام انجام دینے کو گناہ کہا جاتا ہے۔ قدیم مذاہب میں گناہ کا تصور نہیں تھا اس لیے کہ اچھائی اور برائی اور پھر اس دنیا کے بعد کی ابھی کوئی واضح تصویر ذہنوں میں قائم نہیں ہوئی تھی۔ ان مذاہب میں جہاں خدا کا تصور ہے اور اس کی بندگی افضل ہے مثلاْ یہودیت، عیسائیت یا اسلام ان میں گناہ کا تصور واضح ہے۔ خدا کے احکام کی ذرا سے سرتابی یا عدول حکمی گناہ کا سبب بنتی ہے، لیکن ایسے مذاہب جن میںخدا کا تصور نہیں ہے مثلاْ بدھ مذہب وغیرہ وہاں گناہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہودی مذہب کے ابتدائی دور میں شخصی گناہ کے علاوہ اجتماعی یا قومی گناہ بھی ہوتے تھے۔ مثلاْ اگر قوم بت پرستی کا شکار ہوجاتی تو پوری قوم کو کفارہ ادا کرنا ہوتا اور اسے پاک کیا جاتا۔ چند آدمیوں کےجرائم کا عذاب پوری قوم پر نازل ہوسکتا تھا لیکن مجرموں کو سزا دے کر اس سے بچا جا سکتا تھا۔ عیسائیت اور اسلام میں اجتماعی گناہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اسلام میں گناہ کے بارے میں واضح تصورات اور احکامات موجود ہیں لیکن عیسائیوں میں اس پر کافی اختلافات ہیں۔ بعض عیسائی انسانی اعمال کی تقسیم اس طرح کرتے ہیں۔ نیک، نیک نہ بد، بد۔ بعض کا خیال ہے کہ وہ تمام اعمال جو نیکی کی تعریف میں نہیں آتے لازم نہیں کہ وہ برے ہوں۔ مثلاْ جوئے کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ اس وقت تک برا نہیں ہے جب تک کوئی فرض متاثر نہ ہو لیکن بعض دوسرے جوئے کو بذات خود برا سمجھتے ہیں۔ عیسائی صوفیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ان باتوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جو نیکی یا بدی کے زمرے میں نہیں آتیں اس لیے کہ خدا اس سے خوش ہوتا ہے۔ مغربی دینیات میں وہ گناہ، گناہ کبیرہ ہے جو جان بوجھ کر اور اردہ کے ساتھ کیا جائے۔ رومن کیتھولک کے نزدیک سات گناہ کبیرہ ہیں: غرور، لالچ، پیٹوپن، ہوس، غصہ، حسد اور کاہلی اور وہ گناہ جو قہر الہی کی دعوت دیتے ہیں وہ ہیں جان بوجھ کر قتل، امردپرستی، غریبوں پر ظلم، محنت کش کو اجرت ادا کرنے میں فریب کرنا۔ ابلیس کا سب سے بڑا گناہ اس کا غرور تھا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]