گناہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

گناہ کے کئی معنی ہیں

  1. خطا، قصور، لغزش۔
  2. ایسا فعل جس کا کرنے والا مستحق سزا ہو، جرم، ناپسندیدہ فعل، فعل ممنونہ، بری بات۔
  3. شرع ایسا فعل کرنا جو شرعا ممنوع ہو اور کرنے والا عذاب کا مستوجب ہو، اوامر اور نواہی کی خلاف ورزی کرنا، نافرمانی کرنا۔
  4. طریقت اپنے آپ کو دنیا میں منہمک رکھنا اور حق سے غافل ہونا۔[1]

مذاہب میں غیر اخلاقی کام انجام دینے کو گناہ کہا جاتا ہے۔ قدیم مذاہب میں گناہ کا تصور نہیں تھا اس لیے کہ اچھائی اور برائی اور پھر اس دنیا کے بعد کی ابھی کوئی واضح تصویر ذہنوں میں قائم نہیں ہوئی تھی۔ ان مذاہب میں جہاں خدا کا تصور ہے اور اس کی بندگی افضل ہے مثلاْ یہودیت، مسی یا اسلام ان میں گناہ کا تصور واضح ہے۔ خدا کے احکام کی ذرا سے سرتابی یا عدول حکمی گناہ کا سبب بنتی ہے، لیکن ایسے مذاہب جن میں خدا کا تصور نہیں ہے مثلاْ بدھ مذہب وغیرہ وہاں گناہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہودی مذہب کے ابتدائی دور میں شخصی گناہ کے علاوہ اجتماعی یا قومی گناہ بھی ہوتے تھے۔ مثلاْ اگر قوم بت پرستی کا شکار ہوجاتی تو پوری قوم کو کفارہ ادا کرنا ہوتا اور اسے پاک کیا جاتا۔ چند آدمیوں کے جرائم کا عذاب پوری قوم پر نازل ہو سکتا تھا لیکن مجرموں کو سزا دے کر اس سے بچا جا سکتا تھا۔ مسیحیت اور اسلام میں اجتماعی گناہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اسلام میں گناہ کے بارے میں واضح تصورات اور احکامات موجود ہیں لیکن مسیحیوں میں اس پر کافی اختلافات ہیں۔ بعض مسیحی انسانی اعمال کی تقسیم اس طرح کرتے ہیں۔ نیک، نیک نہ بد، بد۔ بعض کا خیال ہے کہ وہ تمام اعمال جو نیکی کی تعریف میں نہیں آتے لازم نہیں کہ وہ برے ہوں۔ مثلاْ جوئے کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ اس وقت تک برا نہیں ہے جب تک کوئی فرض متاثر نہ ہو لیکن بعض دوسرے جوئے کو بذات خود برا سمجھتے ہیں۔ مسیحی سینٹ کا یہ عقیدہ ہے کہ ان باتوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جو نیکی یا بدی کے زمرے میں نہیں آتیں اس لیے کہ خدا اس سے خوش ہوتا ہے۔ مغربی دینیات میں وہ گناہ، گناہ کبیرہ ہے جو جان بوجھ کر اور اردہ کے ساتھ کیا جائے۔ رومن کیتھولک کے نزدیک سات گناہ کبیرہ ہیں: غرور، لالچ، پیٹوپن، ہوس، غصہ، حسد اور کاہلی اور وہ گناہ جو قہر الہیٰ کی دعوت دیتے ہیں وہ ہیں جان بوجھ کر قتل، امردپرستی، غریبوں پر ظلم، محنت کش کو اجرت ادا کرنے میں فریب کرنا۔ ابلیس کا سب سے بڑا گناہ اس کا غرور تھا۔[2]

گناہ کی اقسام[ترمیم]

غرور[ترمیم]

اپنی طاقت، دولت اور عہدے، کی وجہ سے خود کو دوسروں سے بڑا سمجھنا اور دوسرے لوگوں کو خود سے کم تر اور حقیر سمجھنا یا خود کو خدا سمجھنا کہ وہ اپنی طاقت اور دولت سے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا غرور کہلاتا ہے۔ یا آپ اس بات کو اس طرح بھی بیان کر سکتے ہیں کہ غرور ایک ایسی انسانی حالت کا نام ہے جس میں انسان خود کو دوسروں سے فوقیت اور فضیلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غرور اور تکبر کو ناپسند فرماتا ہے۔ غرور کا گناہ سب سے پہلے شیطان نے کیا تھا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو تمام فرشتوں کو اور شیطان (ابلیس) کو اللہ تعالیٰ نے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو شیطان نے یہ کہہ کر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا گیا ہے اور میں آگ سے بنا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے اس غرور کو سخت ناپسند فرمایا اور شیطان کو قیامت تک مہلت دے کر اپنی بارگاہ سے نکال دیا۔ اس دنیا میں لوگ اپنی طاقت دولت اور عہدے کے نشے میں اپنے اندر اس قدر غرور اور تکبر پیدا کرلیتے ہیں کہ خود کو خدا سمجھنے لگتے ہیں دنیا میں اس کی مثالیں نمرود، شداد اور فرعون کی ہیں جو اپنی دولت اور طاقت کی وجہ سے اس قدر غرور میں مبتلا ہو گئے کہ خود کو خدا کہلوانے لگے اور وہ لوگوں پر اپنے غرور کی وجہ سے ظلم کے پہاڑ توڑتے تھے لیکن اللہ نے ان کے نام نشان بھی دنیا سے مٹا دیے اور انہیں دنیا کے لوگوں کے لیے عبرت بنا دیا۔ بڑائی صرف اللہ کے لیے ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں عاجزی کو پسند فرماتا ہے وہ انسان میں غرور جیسے کبیرہ گناہ کی بالکل اجازت نہیں دیتا لیکن لوگ ایسے بھی ہیں جو ذرا سی دولت، طاقت اور عہدہ حاصل کرتے ہیں تو ان میں غرور جیسا کبیرہ گناہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اور وہ دوسرے لوگوں کو کم تر اور اپنے سے حقیر سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور عاجزی چھوڑ دیتے ہیں ان کے لہجے، چال ڈھال، رہن سہن میں غرور نمایاں نظر آنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ اپنی طاقت، دولت اور عہدے کو استعمال کرتے ہوئے کمزوروں کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے ہیں۔

شرک[ترمیم]

شرک کے معنی ہیں حصہ یا ساجھا اور شریک کے معنی ہیں حصہ دار یا ساجھی دار۔شرک داراصل کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹہرانا یا اللہ جیسا سمجھنا یا اللہ کومانتے ہوئے کسی اور کو اللہ ماننا۔ہے۔ اللہ ایک ہے اور اس کی خدائی میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے یعنی وہ واحدہ لا شریک ہے۔ اسلامی نکتہ نظر سے شرک کبیرہ گناہ ہے اور شرک کے متعلق اسلامی نکتہ نظر ہے کہ اللہ اور گناہ تو معاف فرما دے گا لیکن شرک کا گناہ معاف نہیں فرمائے گا۔خدا کو کسی کا شریک یا خدا کے برابر ماننے کی کچھ صورتیں ہیں۔ جیسے مسیحیوں کا تثلیث کا عقیدہ کہ اللہ تین میں کا ایک ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام اور بی بی مریم علیہ السلام یہ خدا کی خدائی میں شراکت رکھتے ہیں یا کسی کو خدا کا ہم جنس اور اس کے برابر مانا جائے جیسے مسیحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مان کر شرک کا گناہ کرتے ہیں اور یہودی حضرت عزیز علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مان کر شرک کا گناہ کرتے ہیں اور اسی طرح مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مان کر شرک کا گناہ کرتے تھے۔اولاد باپ کی ملک نہیں ہوتی بلکہ ہم جنس اور مساوی ہوتی ہے اس لیے خدا کی اولاد ماننے والا شرک جیسے عظیم گناہ کا مرتکب ہوگا۔ اسی طرح غیر خدا کو خدا کے برابر ماننا بھی شرک ہے جیسے مشرکین عرب لات، منات اور عزٰیٰ کو خدا کے برابر کا درجہ دیتے تھے اور ان کو اللہ کا شریک ٹہراتے تھے۔ اسی طرح ہندو گائے کو خدا کا درجہ دیتے ہیں اور خدا کا شریک ٹہراتے ہیں۔ ہندو دیوی، دیوتائوں کو خدا کے برابر مانتے ہیں اور شرک کا گناہ کرتے ہیں۔ اسی طرح پارسی، مجوسی اور دیگر بہت سے مذاہب کے لوگ غیر خدائوں کو اللہ کا شریک ٹہراتے ہیں اور شرک جیسا عظیم گناہ کرتے ہیں شرک کرنے والوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اکیلا ساری کائنات کے نظام کو نہیں چلا سکتا (ںعوذو باللہ) اسی لیے وہ خدا کے شریک بناتے ہیں اور شرک کرتے ہیں۔ جبکہ اگر اللہ ایک نہ ہوتا اور اس کے شریک ہوتے تو ان میں آپس میں جھگڑا ہوتا اور ساری کائنات کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ اس لیے اللہ واحداہ لاشریک ہے اور ساری کائنات اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ شرک گناہ عظیم ہے جس کی کوئی معافی نہیں ہے۔

بت پرستی[ترمیم]

بت پرستی بہت ہی بڑا اور عطیم گناہ ہے۔ بت پرستی کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی ظاہری شکل و صورت کو اللہ کا درجہ دنیا، اللہ کے برابر ماننا، اسے اپنا خدا ماننا۔ بت پرستی میں عام طور پر پتھر، لکڑی یا دھات کی ہاتھوں سے بنائی ہوئی شبیہ کو پوجا جاتا ہے۔ قوم نوح علیہ السلام میں بت پرستی عام تھی اور اس کی وجہ سے قوم نوح پر اللہ کی طرف سے پانی کا عذاب نازل ہوا پوری قوم نوح علیہ السلام سوائے چند لوگوں کے اللہ کے اس عذاب میں ختم ہو گئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں بتوں کی پوجا کی جاتی تھی ۔ ایک روز جب قوم کے لوگ میلے میں گئے ہوئے تھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے سارے بتوں کو توڑ دیا اور بڑے بت کے گلے میں کلہاڑا ڈال دیا اس زمانے میں نمرود بادشاہ تھا جس نے خود خدائی کا دعویٰ کر رکھا تھا۔اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کیا تم نے ان بتوں کو توڑا ہے؟ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا خود ان بتوں سے پوچھ لو اس نے کہا کہ یہ بول نہیں سکتے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ جو بول نہیں سکتے، دیکھ نہیں سکتے، سن نہیں سکتے اور خود کو بچا نہیں سکتے وہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں۔ نمرود لاجواب ہو گیا لیکن اس نے طاقت اور غرور کے نشہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکنے کا حکم دیا لیکن اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بچا لیا اور آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے گلزار بن گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہ طور پر اللہ سے احکامات خداوندی لینے کے لیے گئے تو لوگوں نے سونے کا بچھڑا بنا لیا اور اس کی پوجا شروع کر دی اور عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب واپس آئے تو قوم کو بچھڑے کی پوجا کرتے ہوئے پایا جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم سے ان کے اس گناہ پر بہت سخت ناراض ہوئے۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے تو عرب میں بت پرستی یعنی بتوں کی پوجا عام تھی خانہ کعبہ میں 360 بت تھے۔ لات، منات اور عزیٰ کی پوجا کی جاتی تھی اس کے علاوہ ہر قوم اور قبیلے کا اپنا الگ بت تھا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار عرب اور مشرکین عرب کو کہا کہ اللہ ایک ہے اور یہ بت کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتے کیونکہ یہ نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ بول سکتے ہیں، نہ ہی سن سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی جگہ سے خود حرکت کرسکتے ہیں۔ تو کافر اور مشرکین آپ کے دشمن ہو گئے۔ جب مکہ فتح ہوا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا، اس طرح سرزمین عرب سے بت پرستی جیسے عظیم گناہ کا خاتمہ ہوا اور لوگ اللہ کو ایک مان کر اس کی عبادت کرنے لگے۔ ہندو دنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہے جس میں بتوں کی آج بھی پوجا کی جاتی ہے اور بت پرستی کا گناہ کیا جاتا ہے۔ ہندوئوں میں دیوی، دیوتائوں کے بتوں کی پوجا عام کی جاتی ہے اس کے علاوہ مختلف جانوروں کے بت بھی بائے جاتے ہیں جن کی عام پوجا کی جاتی ہے اور بت پرستی جیسا گنا عام کیا جاتا ہے۔ ہندوئوں کے مندروں میں بت عام نظر آتے ہیں جن پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔ محمود غزنوی نے جب سومنات کا مندر فتح کیا تو وہاں موجود بتوں کو گرایا اور مندر سے بتوں کو ختم کیا۔ لیکن ہندوستان میں آج بھی بتوں کی پوجا کی جاتی ہے اور بت پرستی کا گناہ کیا جاتا ہے۔

قتل[ترمیم]

کس کو غیر قانونی یا ناجائز طور پر ہلاک کردینے، جان سے مار دینے کے عمل کو قتل کہتے ہیں۔ دنیا میں سب سے پہلا قتل قابیل نے ہابیل کا کیا۔قتل کرنا دنیا کے ہر مذہب میں ناجائز اور گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام میں قتل کو گناہ عطیم تصور کیا جاتا ہے اور اس کی سزا دنیا میں بھی دی جاتی ہے اور آخرت میں اس کی سزا جہنم ہے۔ قتل انفرادی بھی ہوتا ہے اور اجتماعی طور پر بھی قتل ہوتے ہیں۔ انفرادی طور پر کسی دشمنی کی بنا پر یا کسی سے رقم لے کر کسی کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ اجتماعی طور پر کچھ لوگ مل کر اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے کے لیے اپنے دشمنوں کے قتل کا گناہ کرتے ہیں۔ یا بعض اوقات دو گروہوں میں آپس میں کوئی جھگڑا یا تنازع پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے دونوں اطراف کے لوگ ایک دوسرے کا قتل کردیتے ہیں اور قتل کا گناہ کرتے ہیں۔ اقتدار اور حکمرانی کی ہوس ایسی بری چیز ہے جس کے حصول کے لیے اس دنیا میں بے شمار قتل ہوئے ہیں۔ لوگوں کو علم ہے کہ قتل گناہ عظیم ہے لیکن پھر بھی ایک دوسرے کا قتل کرتے ہیں اور آج کل تو وہ دور آگیا ہے کہ قاتل کو علم نہیں ہوتا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور نہ ہی مقتول جانتا ہے کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا۔ دہشت گردی کے نتیجہ میں پوری دنیا میں لاکھوں افراد قتل ہو چکے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ نشانہ پاکستان بنا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کا گناہ علحیدہ ہوتا ہے اور اس کی تعداد بھی پاکستان میں بہت زیادہ ہے۔ انسان غصہ کی حالت میں بھی قتل کا گناہ کرتا ہے اور بعد میں پشیمان ہوتا ہے۔ قتل کا گناہ مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ کہیں گولی مار کر قتل کا گناہ کیا جاتا ہے تو کسی کو گلا گھونٹ کر مار دیا جاتا ہے تو کوکسی کو تیز دھار آلے، چھری، چاقو،گنڈاسے اور کلہاڑی کے وار سے قتل کر دیا جاتا ہے تو کسی کو زہر دے کر موت کی نیند سلا دیا جاتاہے۔ دنیا میں بڑے بڑے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کا قتل کیا گیا ہے۔ قتل کا گناہ اکثر اپنے ذاتی فائدے کے لیے کیا جاتا ہے۔ پولیس بھی اکثر ملزموں کو عدالت میں پیش کیے بغیر قتل کا گناہ کرتی ہے۔ چھوٹے بچوں اور بچیوں کو اغوا کیا جاتا اور ان کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل جیسے گھناونے گناہ کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ قتل کا گناہ ایسا گناہ ہے جس میں قاتل اور مقتول دونوں کا نقصان ہوتا ہے اس گناہ میں انسان دنیا میں بھی نقصان اٹھاتا ہے اور آخرت میں بھی نقصان ہی اٹھائے گا۔

جھوٹ[ترمیم]

کسی بات کو حقیقت کے خلاف بیان کرنا جھوٹ کہلاتا ہے یا یوں کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا کہ کسی بات کو اپنے مطلب کے حصول کے لیے غلط بیان کرنا جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے اس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ امتحان میں بچے کے نمبر کم آتے ہیں لیکن گھر والے انہیں زیادہ بتاتے ہیں یعنی غلط بیانی سے کام لیتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں تاکہ ان کا بچہ لوگوں کی نظر میں اچھا سمجھا جائے۔ جھوٹ کبیرہ گناہ ہے اس کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ میں بہت سی برائیاں ہیں اور میں سب برائیاں چھوڑ نہیں سکتا تو آپ فرمائیں میں ایک برائی چھوڑ دوں آپ نے فرمایا جھوٹ بولنا چھوڑ دو اس نے وعدہ کیا کہ وہ جھوٹ بولنا چھوڑ دے گا اور آئندہ اس گناہ کا ارتکاب نہیں کرے گا جب وہ واپس گیا اور اس نے دوسری برائیاں کرنا چاہیں تو اس نے سوچا کہ اللہ کے رسول نے پوچھا کہ تم نے یہ برائی کی ہے تو میں کیا جواب دوں گا جھوٹ بول نہیں سکتا اس طرح اس نے سب برائیاں چھوڑ دیں اس نے نبی کریم کو بتایا کے جھوٹ چھوڑنے کی وجہ سے اس کی سب برائیاں ختم ہوگئیں آپ بہت خوش ہوئے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جھوٹ کتنا بڑا گناہ ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ جھوٹ کبیرہ گناہ ہے لیکن جھوٹ بولتے سب ہی ہیں خواہ وہ کم بولیں یا زیادہ، سیاستدان سے لے کر عام عوام سب ہی جھوٹ کو دھڑلے سے بولتے نظر آتے ہیں اور اب تو وہ دور آگیا ہے کہ یہ گناہ ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے اور انسان کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتا، کہیں ٹی وی پر تبصروں میں جھوٹ کا گناہ ہوتاہے تو کہیں عدالتوں میں جھوٹ بولا جاتا ہے اور گناہ کیا جاتا ہے تو کہیں پارلیمنٹ میں جھوٹ کا گناہ نظر آتاہے۔ تو کہیں ڈاکٹر مریضوں سے زیادہ فیس کے لالچ میں مرض کی شدت زیادہ بتا کر جھوٹ بولنے کا گناہ کر رہے ہوتے ہیں تو کہیں باپ گھر میں رہ کر بیٹے سے کہہ رہا ہوتا کہ درواز ے پر آئے ہوئے شخص کو کہہ دو کہ ابو گھر پر نہیں ہیں تو کہیں امتحان میں بچے کے نمبر کم ہوتے ہیں لیکن گھر والے ان نمبروں کو زیادہ بتا کر جھوٹ کا گناہ کرتے نظر آتے ہیں، کہیں ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کی جارہی ہوتی ہے اور پکڑے جانے پر جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ہم نے تو ملاوٹ نہیں کی۔ ہر سیاسی پارٹی کہہ رہی ہوتی ہے کہ پاکستان کے بیس کڑور لوگ اس کے ساتھ ہیں لیکن کوئی احساس اور ندامت نہیں ہوتی کہ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ہر ٹی وی چینل دعویٰ کررہا ہوتا ہے کہ یہ خبر سب سے پہلے اس نے نشر کی ہے لیکن کوئی ضمیر نہیں جاگتا کہ جھوٹ کا گناہ کیا ہے۔ جھوٹ ہے تو کبیرہ گناہ لیکن اس گناہ کو ہر جگہ اور ہر مقام پر کیا جاتا ہے کوئی شرمندگی، کوئی ندامت اور کوئی احساس نہیں کہ کتنا عظیم گناہ ہورہا ہے۔اس دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو جھوٹ نہیں بولتے لیکن یہ ایک کڑوی سچائی اور تلخ حقیقت ہے کہ ان کی تعداد انگلیوں پر گننی جا سکتی ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے جھوٹ کا گناہ ہو رہا ہے اور شاید ہوتا رہے گا اللہ سب کو ہدایت دے۔

بقول شاعر

بازار میں جھوٹ کے خریدار تو بہت تھے

افسوس سچ کا خریدار کوئی نہ تھا

ظلم[ترمیم]

کسی فرد یا گروہ پر ناجائز طور پر اسے اپنے سے کمزور پاکر تشدد کرنا، قتل کردینا، اس جائداد ہتیا لینا، برہنہ کرکے سڑکوں پر گھمانا، چھوٹی بچیوں سے اور خواتین سے اجتماعی یا انفرادی زیادتی کرنا ظلم کہلاتاہے۔ ظلم بھی بہت بڑا گناہ ہے حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے کہ کفر پر تو حکومت قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم پر حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ فرعون نے طاقت کے نشہ میں بنی اسرائیل پر اتنے ظلم کے پہاڑ توڑے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ظلم کے خاتمے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا اور اس کے ظلم کا انجام اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کی فوج سمیت سمندر میں غرق کر دیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ظلم کتنا بڑا گناہ ہے۔ بعض حکمران اور حکومتیں طاقت کے نشہ میں عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑتی ہیں اور عوام میں جو لوگ کمزور ہوتے ہیں وہ حکمرانوں اور حکومتوں کے ظلم کو سہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ طاقت کے نشہ چور حکمران یہ نہیں سوچتے کہ وہ ظلم کا گناہ کر رہے ہیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر کربلا میں یزید نے ظلم کی انتہا کر دی ان کا پانی بند کر دیا اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ظلم سے شہید کر دیا اور گناہ عظیم کیا۔ ہندوستان کے حکمران اور فوج مقبوضہ کشمیر میں عوام پر ظلم کا گناہ کر رہے ہیں وہاں نوجوانوں کو قتل(شہید) کیا جا رہا ہے، خواتین کی عزتیں لوٹ لی جاتی ہیں۔ فلسطین میں اسرائیل فلسطینی عوام پر ظلم ستم کے پہاڑ توڑ کر ظلم کے گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے۔دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور میں معصوم بچوں کو قتل (شہید) کر کے ظلم عظیم کا گناہ کیا۔ بلدیہ ٹائون کراچی میں 250 افراد کو زندہ جلا دیا گیا یہ ظلم کا گناہ نہیں تو اور کیا تھا۔ ماڈل ٹائون لاہور میں 14 افراد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا اور ظلم کا گناہ کیا گیا۔ چھوٹے بچوں اور بچیوں کو اغوا کر کے ان کو زیادتی کا نشانہ بنا کر اور تشدد کر کے قتل کر دیا جاتا ہے یہ ظلم کا گناہ ہی تو ہے۔ طاقتور لوگ اپنے سے کمزور لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ کر کے ظلم کا گناہ کرتے ہیں۔ خواتین کو سرعام سڑکوں پر برہنہ کر کے ظلم کا گناہ گیا جاتا۔ زمیندار کمزور افراد پر کتے چھوڑ دیتے ہیں اور ظلم کا گناہ کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ظالم کی رسی دراز ہوتی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ ظالم کی رسی کو کھینچتا ہے تو ظالم کو اپنے ایک ایک ظلم کا حساب اس دنیا میں بھی دینا پڑتا ہے اور آخرت میں بھی اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔

رشوت[ترمیم]

کسی سے نقد رقم یا تحفے وصول کر کے اس کے جائز اور ناجائز کام کو کردینا رشوت کہلاتا ہے۔ یہ بد عنوانی کی ایک قسم ہے۔ رشوت کو دنیا کے ہر معاشرے میں برا سمجھا جاتا ہے۔ اسلام میں رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے اور اسے گناہ عظیم تصور کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث ہے کہ الراشی والمرتشی فی النار ( رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں)۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ رشوت کتنا بڑا گناہ اور جرم ہے۔ دنیا میں لوگوں کو علم ہے کہ رشوت لینا اور رشوت دینا دونوں گناہ اور جرم ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا میں رشوت لینے اور دینے کا گناہ اور جرم کیا جاتا اور کسی قسم کی کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔ہاں یہ ضرور ہے کہ کہیں رشوت کم ہے تو کہیں بہت زیادہ۔ جو جتنے بڑے عہدے پر ہوتا ہے اتنی ہی بڑی رشوت لینے کا گناہ کرتا ہے یا یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ بڑا آدمی بڑی رشوت لیتا اور دیتا ہے اور چھوٹا آدمی چھوتی رشوت لیتا اور دیتا ہے بس ہاتھ پڑے کی دیر ہے اور رشوت کا گناہ شروع ہوجاتا ہے۔سیاستدان ہوں یا سرکاری اہلکار، ڈاکٹرز ہوں یا وکلا، عدالتیں ہوں یا تھانے، استاد ہو یا بینکار غرض کوئی شخص، ادارہ یا محکمہ رشوت کے گناہ سے محفوظ نہیں ہے۔ رشوت کا گناہ خاص طور پر ان ممالک میں بہت زیادہ کیا جاتا ہے جہاں قانون کو پیر کی جوتی اور گھر کی لونڈی سمجھا جاتا ہے۔ لوگ بڑے بڑے منصوبوں میں کمیشن (رشوت کی ایک قسم) حاصل کرتے ہیں اور اس رقم سے بیرون ممالک میں اربوں روپے اور ڈالروں کی جائدادیں خریدتے ہیں۔ جوں جوں انسان رشوت لینے اور دینے کا گناہ کرتا ہے اس کی ہوس بڑھتی جاتی ہے اور وہ اور زیادہ رشوت لینے اور دینے کا گناہ کرتا ہے اور اس گناہ کی دلدل میں ایسا اترتا ہے کہ اس کا پھر باہر نکلنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ سیاست دان کڑوروں روپے الیکشن پر خرچ کرتے ہیں اور پھر منتخب ہو کر رشوت کے گناہ کا بازار گرم کرتے ہیں اور الیکشن میں خرچ کی گئی رقم سود کے ساتھ وصول کرتے ہیں۔ پولیس قیدیوں کو رشوت لے کر جیلوں میں ہونے والے ناروا سلوک سے بچاتی ہے۔ بہت سے ملکوں میں رشوت کے لیے تھانے بکتے ہیں اور رشوت کا گناہ دھڑلے سے کیا جاتا ہے۔ بہت سے ممالک میں یہ تصور عام ہے کہ ان کا کوئی بھی کام رشوت کے بغیر ہو نہیں سکتا۔ اگر محکموں میں فائل کو پر لگانے ہوں تو رشوت کے گناہ کی ہڈی بھینک دی جاتی اور فائل تیزی کے ساتھ حرکت کرتی ہے اور اس گناہ کے طفیل کام جلدی ہوجاتا ہے۔ ورنہ فائل کہیں کسی الماری میں دبی رہتی ہے۔۔ قانون میں ابہام اس وجہ سے رکھا جاتا ہے کے رشوت کے گناہ کا راستہ کھل سکے۔ انسان کی جرات پر حیرانی ہے کہ رشوت جرم اور گناہ ہونے کے باوجود لی اور دی جاتی ہے اسلام نے رشوت لینے اور دینے والے کے لیے جہنم کی وعید سنائی ہے لیکن لوگ پھر بھی رشوت لیتے اور دیتے ہیں۔

اغوا[ترمیم]

اغوا ایک ایسا گناہ ہے جس میں کوئی انسان یا کچھ افراد کسی بھی شخص کو زبردستی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اغوا کا گناہ اسے لیے کیا جاتا ہے کہ جس فرد کو اغوا کیا جاتا ہے اس سے بہت بڑی رقم تاوان کے طور پر وصول کی جائے۔ اغوا کا گناہ سیاسی مقاصد کے لیے بھی کیا جاتا ہے کہ کسی نامور شخسیت کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور پھر حکومتوں سے اپنے افراد کی رہائی کے لیے اپنے مطالبات پیش کیے جاتے ہیں یا اغوا کیے گئے فرد کی رہائی کے عوض اور دوسرے مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ خواتین کے اغوا کا گناہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ اجتماعی یا انفرادی زیادتی کی جاتی ہے اور بعض اوقات پہلے انہیں اغوا کیا جاتا ہے اس کے بعدانہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر قتل کر دیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں اپنے دشمن کی بیٹی، بیوی، بہن یا ماں کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور پھر انہیں آگے فروخت کر دیا جاتا ہے اور ان سے غلط کام کروایا جاتا ہے۔ کم سن بچوں اور بچیوں کو بھی اغوا کرنے کا گناہ کیا جاتا ہے اور ان سے زیادتی کی جاتی ہے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور انہیں اکثر اوقات قتل بھی کر دیا جاتا ان کی ویڈیو بنائی جاتی ہے اور انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔ اغوا کے گناہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کسی جہاز کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کچھ بھی سہی اغوا ایک گنٓاہ ہے اور گناہ ہی رہے گا اس کی سزا اس دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی۔

ناپ تول میں کمی[ترمیم]

ناپ تول میں کمی کا مطلب ہے چیزوں کو کم ناپنا اور کم تولنا جیسے دودھ، گندم چاول، چینی، گڑھ وغیرہ انسان تھوڑے سے فائدے کے لیے ناپ تول میں کمی کا گناہ کرتا ہے وہ اپنے گاہکوں کو کم ناپ کر اور کم تول کردیتا ہے جس سے اس کا منافع بڑھ جاتا اور گاہک کا نقصان ہوتا ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے افراد ناپ تول میں کمی کا گناہ کرتے تھے جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب نازل ہوا۔ابن ماجہ میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے کہ جب بھی وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں ان کو قحط سالی، روز گار کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے سزا دی جاتی ہے [3]

ْقرآن مجید کی سورۃ المطففین میں ناپ تول میں کمی کے بارے میں چھ آیات نازل ہوئی ہیں۔

1- وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ ﴿١﴾ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ﴿٢﴾ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُ‌ونَ ﴿٣﴾ أَلَا يَظُنُّ أُولَـٰئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ ﴿٤﴾ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿٥﴾ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٦﴾

ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے (1)جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں (2)اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم کر دیں (3)کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے (4) (یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں (5)جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (6) ٰ[4]

رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث اور قرآن مجید کی سورۃ المطففین کی آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کی ناپ تول میں کمی بہت بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ روز قیامت ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو سخت سزا دے گا۔

منافقت[ترمیم]

منافقت ایسے طرز عمل کا نام ہے جس میں دل میں کچھ ہو اور زبان پر کچھ ہو۔ یہ ایسا گناہ ہے جس سے انسان کو بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقت کا گناہ کرنے والے کے لیے جہنم کا سب سے نچلا درجہ مقرر کیا ہے۔ سورۃ النساء کی آیت ہے۔ إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ترجمہ: یقینأ منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے [5] قرآن مجید کی اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ منافقت ایسا گناہ ہے جس کا ٹھکانہ جہنم کا سب سے نچلا درجہ ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے۔ ا ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِیهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَ حَجَ وَ أعتمَرَ وَقَالَ إنی مُسْلِمٌ: مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ترجمہ: جس میں تین (خصلتیں، صفات، نشانیاں) ہوں تو وہ منافق ہے۔ خواہ وہ نماز (بھی) پڑھتا ہو اور روزہ (بھی) رکھتا ہو اور حج (بھی) کرتا ہو اور عمرہ (بھی) کرتا ہو اور یہ (بھی) کہتا ہو کہ میں مسلمان ہوں۔ (یہ وہ شخص ہے) جو (1)بات کرے تو جھوٹ بولے (2) وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (3) جب اسے امانت دار بنایا جائے تو خیانت کرے۔[6] اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ منفاقت کرنے والا صرف ایک منافقت کا ہی گناہ نہیں کرتا بلکہ وہ جھوٹ بولنے، عہد شکنی اور امانت میں خیانت کا گناہ بھی کرتا ہے۔

منافقت ایسا گناہ ہے جو شاید ہی کسی معاشرے، مذہب، قوم اور ملک میں قابل قبول ہو اسے ہر معاشرے، مذہب، قوم اور ملک میں بہت ہی برا سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت اور کڑوی سچائی ہے کہ لوگ اس گناہ کو دیدہ دلیری سے کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ کسی بھی شخص کے قول و فعل میں تضاد منافقت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ جس کا مظاہرہ ٹیلی ویژن سکرین سے لے کر دنیا کے معاشروں، حکمرانوں، ملکوں، سیاست دانوں اور خواص و عوام میں نظر آتا ہے لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ منافقت کا گناہ دیدہ دلیری سے ہو رہا ہے۔ جس کا ٹھکانا جہنم کا سب سے نچلا درجہ ہے۔ اللہ سب کو ہدایت دے اور منافقت کے گناہ سے محفوظ رکھے۔

زنا[ترمیم]

شادی شدہ مرد یا عورت اپنی بیوی یا شوہر کے علاوہ، یا نکاح کے بغیر مرد یا عورت اپنے اختیار یا مفاہمت اور مرضی سے جماع (جماع) کرے زنا کہلاتا ہے۔ زنا کے لئے ضروری ہے کہ مرد کا آلہ تناسل (Penis) عورت کی اندام نہانی میں داخل ہو۔ زنا ایک کبیرہ گناہ ہے اوراسلام میں اس کی سخت ترین سزا سو کوڑے، سنگسار کرنا رجم مقرر ہے۔

اللہ تعلیٰ کافرمان ہے:

وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاء سَبِيلاً
زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے [7]

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ
زانیہ اور زانی، کوڑے مارو ہر ایک کو ان دونوں میں، سوسو کوڑے [8]

ْْقرآن مجید کی ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ زنا کتنا بڑ ا جرم اور گناہ ہے کہ اس کی سزا سو کوڑے ہے۔ زنا کے گناہ کی سزا رجم یا سنگسار کرنے کا ذکر احادیث میں آتا ہے قرآں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔ رجم یا سنگسار کی سزا کے لئے ضروری کہ کہ چار صالح اور مقتدر گواہ ہوں جو زنا کے واقع کا مفصل اور آنکھوں دیکھا حال بیان کر کے اس کی شہادت دے سکتے ہوں اس کے علاوہ ادخال کا دیکھنا رجم یا سکنسار کی گواہی کی لازمی شرط ہے اور اگر کسی بھی گواہ کی گواہی غلط ثابت ہو جائے تو خود گواہ پر سخت سزا عائد ہوتی ہے۔ مسلم دنیا میں آج بھی زجم یا سنگسار کرنے پر متنازع افکار پائے جاتے ہیں۔ سنگسار کرنے یعنی پتھروں سے مارنے کی سزا (رجم) کا ذکر مسلم دنیا کے علاوہ غیر مسلموں، قدیم یونانی، یہودی اور مسیحی دستویزات میں بھی ملتا ہے۔ اسلام میں زنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ تصور کیا جاتا ہے اور اسلام میں زنا کے مرتکب کے لئے سخت ترین سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زنا کے بارے میں حدیث۔

کان نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا انزل علیہ کرب لذلک وتربد لہ وجہہ قال فانزل علیہ ذات یوم فلقی کذلک فلما سری عنہ قال خذوا عنی فقد جعل اللّٰہ لہن سبیلًا: الثیب بالثیب والبکر بالبکر، الثیب جلد ماءۃ ثم رجم بالحجارۃ، والبکر جلد ماءۃ ثم نفی سنۃ.[9]

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ کو تکلیف ہوتی اور اس کی شدت سے آپ کا چہرہ کسی قدر سیاہ ہو جاتا۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی اور یہی کیفیت آپ پر طاری ہو گئی۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے راہ پیدا کر دی ہے۔ شادی شدہ زانی شادی شدہ زانیہ کے ساتھ ہے اور کنوارا زانی کنواری زانیہ کے ساتھ۔ شادی شدہ کو سو کوڑے مارنے کے بعد سنگسار کیا جائے، جبکہ کنوارے کو سو کوڑے مارنے کے بعد ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے۔‘‘

زنا کے گناہ کے بارے میں مسلم علماء کے کچھ اور بھی نظریات ہیں جن کے مطابق ایسا فعل جس سے جنسی تسکین حاصل ہو زنا کے گناہ میں شمار کیا جاتا ہے، اسی طرح جنس مخالف کو چھونا بھی زنا کے گناہ میں شمار ہوتا ہے اسے چھونے کا گناہ سمجھا جاتا ہے۔جنسی خیالات رکھتے ہوئے جنس مخالف کی طرف بری نظر سے دیکھنا آنکھوں کے زنا کا گناہ کہلاتا ہے۔ایسا لباس پہنا جس سے جنسی مخالف کو جنسی تسکین کی ترغیب ملے یا جنس مخالف کے لئے کشش پیدا ہو تو یہ بھی زنا کے گناہ میں شمار ہوتا ہے۔ زنا کے ان گناہوں پر عام حالات میں کوئی سزا مقرر نہیں ہے۔اس قسم کے زنا کے گناہوں میں انسانی نیت کا بھی بہت بڑا عمل دخل ہے کہ انسان کی نیت کیا ہے۔

امرد پرستی[ترمیم]

غصہ[ترمیم]

حسد[ترمیم]

شراب[ترمیم]

منشیات کا استعمال[ترمیم]

جوا[ترمیم]

چوری[ترمیم]

لوٹ مار[ترمیم]

فساد فی الارض[ترمیم]

قومی دولت کو لوٹنا[ترمیم]

دہشت گردی[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اردو_لغت
  2. اردو دائرۃ معارف العلوم
  3. (رواہ ابن ماجة فی الفتن، رقم الحدیث: ۴۰۹۱،اٴبو نعیم فی الحلیة، ج۳، صفحہ۳۲۰، رواہ الطبرانی فی معجم الاوسط، ج۱، صفحہ ۲۸۷، مسند الشامین، ج۲، رقم الحدیث: ۱۵۵۸، الصحیحة للاٴلبانی، رقم: ۱۰۶، قال البوصیری: رواہ الحاکم اٴبو عبداللہ الحافظ فی کتابہ المستدرک فی آخر کتاب الفتن مطولا من طریق عطاء بن ابی رباح، وصححہ البوصیری، ولہ شواھد کثیرة۔۔۔)
  4. سورۃالمطففین
  5. (سُورت النِساء (4)/آیت145)
  6. (صحیح الجامع الصغیر /حدیث 3043)
  7. قرآن؛ سورت 17 آیت 32
  8. قرآن؛ سورت 24 آیات 1 تا 2
  9. (مسلم، رقم ۳۲۰۰)